دہلی دھماکہ کیس میں عمرکا ساتھی شعیب گرفتار، پوچھ تاچھ میں ہوسکتے ہیں نئے انکشافات
دہلی دھماکہ کیس میں تفتیشی ایجنسی کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ این آئی اے نےعمر نبی کے ایک ساتھی کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس کی شناخت شعیب کے طور پر ہوئی ہے۔ دہلی کار بم دھماکہ کیس میں اب تک سات ملزمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
دہلی کار بم دھماکے نے پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر تفتیشی اور خفیہ ایجنسیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ جموں کشمیر پولیس نے ایک پوسٹر کی جانچ شروع کی۔ یہ معاملہ بعد میں فرید آباد پہنچا، جہاں ایک نئے، وائٹ کالر دہشت گردی کے ماڈیول کا پردہ فاش ہوا۔ تقریباً 3000 کلو گرام دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی سے دہشت گردوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بتایا جا رہا ہے کہ یہ دھماکہ دہلی کے لال قلعہ کے قریب جلد بازی میں کیا گیا۔قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے دہلی کار بم دھماکوں سے کچھ دیر پہلے دہشت گرد عمر کو پناہ دینے اور اس کی مدد کرنے کے الزام میں فرید آباد کے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ فرید آباد کے دھوج کے رہنے والے شعیب کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔اس کیس میں اب تک سات ملزمین گرفتار کیے جاچکے ہیں ۔
تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ اس نے 10 نومبر کو لال قلعہ کے باہر کار بم دھماکے سے قبل عمر کو پناہ اور لاجسٹک مدد فراہم کی تھی، جس میں متعدد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ این آئی اے نے پہلے کیس نمبر RC-21/2025/NIA/DLI میں عمر کے چھ دیگر ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے۔ ایجنسی خودکش حملے کے پیچھے پوری سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے کئی سرغ پر کام کر رہی ہے۔
ملزمین کی تلاش جاری
دہلی کار بم دھماکہ کیس میں، تفتیشی ایجنسی مختلف ریاستوں میں مقامی پولیس کے ساتھ مل کر چھاپے ماری کررہی ہے۔ این آئی اے نے ایک بیان جاری کیاہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے پوری سازش کا پردہ فاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور جلد ہی مزید اہم انکشافات ہو سکتے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی اب شعیب سے پوچھ تاچھ کرے گی تاکہ دہلی لال قلعہ دھماکے کے پیچھے سازش کے بارے میں مزیدمعلومات حاصل کی جا سکے۔شعیب پر الزام
شعیب کی گرفتاری سے کئی راز افشا ہوسکتے ہیں ۔ این آئی اے کی ٹیم نے شعیب کو فرید آباد سے گرفتار کیا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق شعیب نے عمر کو گاڑی فراہم کی۔ مزید یہ کہ کہا جاتا ہے کہ شعیب وہ شخص تھا جو عمر کو لال قلعہ لے گیا۔ مزید، شعیب نے فرید آباد دہشت گردی کے ماڈیول کی میٹنگوں میں بھی سہولت فراہم کی۔ گرفتار ملزم شعیب کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا جائے گا اور اس کے ریمانڈ کی درخواست کی جائے گی۔
افغانستان نے دیا بڑا آفر، ہندوستانی سرمایہ کاروں کو گولڈ مائننگ پر 5 سالوں تک ملے گی ٹیکس چھوٹ
India-Afghanistan Relations : ہندوستان میں افغانستان کے وزیر تجارت و صنعت الحاج نورالدین عزیزی نے پیر کے روز اپنا چھ روزہ ہندوستان کا دورہ مکمل کیا، جس کے دوران کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ ہندوستان ایک کمرشل اٹیچی یعنی تجارتی نمائندہ افغانستان میں تعینات کرے گا جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید آسان بنائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی کمپنیاں یا سرمایہ کار جو افغانستان کی سونے کی کانوں میں سرمایہ لگائیں گے، انہیں پانچ سالوں تک مکمل ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔
سب سے خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان ایک ایئر کارگو کوریڈور کے ذریعے نیا راستہ کھلے گا۔ یہی وہ بنیادی نکات ہیں جن پر افغانستان کے وزیرِ تجارت الحاج نورالدین عزیزي نے اپنے چھ روزہ ہندوستان کے دورے کے اختتام پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ
گزشتہ ہفتے ہندوستان آئے افغانستان کے وزیر عزیزي نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور وزیر مملکت برائے تجارت جتن پرساد سے ملاقات کی اور ہندوستانی تاجروں سے بھی بات چیت کی۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ روز دہلی میں افغان سفارتخانے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عزیزي نے کہا کہ ایک مہینے میں افغانستان کا تجارتی نمائندہ ہندوستان آئے گا اور کابل چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کی تجارت ایک ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری کے معاملے میں ہندوستان اور افغانستان دونوں جانب سے مضبوط امکانات موجود ہیں۔
عزیری نے ہندوستانی کمپنیوں کو افغانستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی اور کہا کہ کان کنی، زراعت، ادویات و صحت، آئی ٹی، بجلی اور ٹیکسٹائل جیسے کئی شعبوں میں بڑے مواقع ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو پانچ سال تک ٹیکس نہیں دینا پڑے گا، خاص طور پر سونے کی کانوں میں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بے شمار امکانات ہیں، وہاں مقابلہ کم ہے، ہندوستان کو زمین بھی دی جائے گی، ٹیرف میں چھوٹ بھی ملے گی اور پانچ سال تک ٹیکس معافی بھی تاکہ ہندوستانی کمپنیاں آسانی سے کاروبار شروع کر سکیں۔
افغانستان کی ہندوستان سے درخواست
عزیری نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستانی کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے مشینیں افغانستان لائیں گی تو صرف ایک فیصد ٹیرف لگے گا، یعنی تقریباً مفت میں سامان داخل کیا جا سکے گا۔ سونے کی کانوں کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ پہلے ہندوستانی تکنیکی ٹیمیں اور پروفیشنل کمپنیاں آئیں، سروے کریں، تحقیق کریں اور پھر کام شروع کریں، لیکن سونے کی پراسیسنگ افغانستان میں ہی ہوگی تاکہ مقامی روزگار پیدا ہو۔ انہوں نے ہندوستان سے درخواست کی کہ چھوٹی رکاوٹیں جیسے ویزا، ایئر کوریڈور اور بینکنگ کے مسائل جلد دور کیے جائیں تاکہ دونوں ممالک کی تجارت اور سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ سکے۔تجارت میں مزید اضافہ ہوگا
ہندوستانی حکام نے بتایا کہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان ایئر کارگو کوریڈور کی سروس بہت جلد شروع ہو جائے گی۔ وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری آنند پرکاش نے تاجروں کی میٹنگ میں کہا کہ کابل-دہلی اور کابل-امرتسر روٹ پر ایئر کارگو کوریڈور شروع ہو چکا ہے اور پروازیں جلد ہی چلنے لگیں گی۔ عزیزي بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت دونوں ممالک کی تجارت تقریباً ایک ارب ڈالر ہے لیکن اس میں مزید اضافہ ممکن ہے، اسی لیے تجارت و سرمایہ کاری کے لیے پرانے جوائنٹ ورکنگ گروپ کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ عزیزي کا ہندوستان کا سرکاری دورہ مکمل ہو چکا ہے اور وہ استنبول واپس لوٹ چکے ہیں ۔
'بنگلہ دیش بھیجے گئے لوگوں کو واپس لائیں'، سپریم کورٹ کی مرکز کو ہدایت
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو مرکز کو ایک عبوری اقدام کے طور پر ان لوگوں کو ملک واپس لانے کی ہدایت دی جنہیں مبینہ طور پر غیر ملکی ہونے کے شبہ میں بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے، تاکہ ان کے کیس کی سماعت کی جا سکے۔ یہ معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے آیا جس میں جسٹس جوائے مالیا باغچی بھی شامل ہیں۔
اس کیس میں سینئر وکلاء کپل سبل اور سنجے ہیگڑے کچھ پارٹیوں کی طرف سے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ایک وکیل نے بنچ کے سامنے دلیل دی کہ مرکز نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ متاثرین کی طرف سے پیش ہوئے وکیل نے دعویٰ کیا کہ یہ بھارتی شہری ہیں جنہیں ادھر ادھر پھینک دیا گیا ہے۔
سی جے آئی نے سالیسٹر جنرل سے کہا کہ اب بہت سا مواد ریکارڈ پر آرہا ہے جس میں برتھ سرٹیفکیٹ اور خاندان کے قریبی ارکان کی زمین بھی شامل ہے۔ سی جے آئی نے کہا، "یہ ایک طرح کا ثبوت ہے، الزام یہ ہے کہ ملک بدر کیے گئے لوگوں کی کبھی سنوائی بھی نہیں ہوئی اور آپ انہیں وہاں بھیج دیتے ہیں!"آپ انہیں واپس کیوں نہیں لاتے؟"
سی جے آئی نے مزید پوچھا، "آپ انہیں عارضی اقدام کے طور پر واپس کیوں نہیں لاتے اور انہیں ایک موقع کیوں نہیں دیتے، آپ ان کی سماعت کیوں نہیں کرتے، اور آپ ان تمام دستاویزات یا حقائق کی تصدیق کیوں نہیں کرتے، اور آپ ایک جامع نقطہ نظر کیوں نہیں اپناتے؟"
سی جے آئی نے کہا کہ اگر کوئی بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہے تو مرکز کی ملک بدری درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں "یہ 100 فیصد درست ہے، اور کوئی بھی اس سے بحث نہیں کرے گا... لیکن اگر کسی کے پاس آپ کو یہ بتانے کے لیے کچھ ہے کہ میں بھارت کا ہوں، میں یہاں پیدا ہوا اور یہیں پرورش پائی... تو اسے آپ کے سامنے دلیل رکھنے کا حق ہے..."
سی جے آئی نے کہا، "ان کی بات سنیں، انہیں اپنا کیس پیش کرنے دیں، اور تصدیق کے لیے دستاویزات طلب کریں۔ آپ کی ایجنسیاں ان کی تصدیق کریں گی، اور آپ خود فیصلہ کریں گے، لیکن انہیں سننے کا موقع دیں اور پھر ان کی اچھی طرح جانچ کریں۔" سی جے آئی نے مرکزی حکومت کے وکیل سے پیر تک اس معاملے پر ہدایات طلب کرنے کو کہا۔ہائی کورٹ کے حکم کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا
ستمبر میں کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا، جس میں ملک بدر کیے گئے افراد کو چار ہفتوں کے اندر واپس لانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے ہیبیس کارپس (حبس بے جا) کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پایا کہ ڈی پورٹ ہونے والوں کی قومیت سے قطع نظر ملک بدری کے لیے اپنایا گیا طریقہ غلط ہے۔
بھودو شیخ نام کے شخص نے اپنی بیٹی، داماد اور پوتے کو پیش کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ شیخ نے دعویٰ کیا کہ وہ مغربی بنگال کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کی بیٹی اور داماد پیدائشی طور پر ہندوستانی شہری ہیں۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ مغربی بنگال میں مستقل طور پر مقیم ایک خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ملازمت کے لیے نئی دہلی منتقل گئے تھے جہاں سے انہیں اٹھا کر بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔