سکندر اعظم سے امریکی حملے تک: افغانستان ’سلطنتوں کا قبرستان‘ یا ’فتح کی شاہراہ‘؟
پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں افغانستان اپنی ناقابلِ شکست حیثیت کو اجاگر کرنے کے لیے خود کو ’سلطنتوں کا قبرستان‘ قرار دے رہا ہے جبکہ پاکستان کا موقِف ہے کہ ’افغانستان کبھی سلطنتوں کا قبرستان نہیں رہا، بلکہ ہمیشہ ان کا کھیل کا میدان رہا۔‘
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے انڈیا کے اپنے ایک حالیہ دورے کے دوران ایک پریس کانفرنس میں افغانستان میں غیر ملکی طاقتوں بشمول 19ویں اور 20ویں صدی میں برطانیہ اور سوویت یونین اور حالیہ دور میں امریکہ کے ’حشر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اسی بیانیے کو دہرایا۔
دوسری جانب، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان یقیناً خود کو کوئی سلطنت نہیں سمجھتا مگر افغانستان بلاشبہ ایک قبرستان ہے اور وہ بھی اپنی ہی قوم کے لیے۔‘
ایسے بیانات کے تناظر میں، آئیے دیکھتے ہیں کہ تاریخ کس بیانیے کی تائید کرتی ہے۔
’سلطنتوں کا قبرستان‘ کی اصطلاح کب اور کیسے وجود میں آئی
نیو یارک ٹائمزکے نامہ نگار راڈ نارڈ لینڈ نے سنہ 2017 میں اپنے ایک مضمون ’دی ایمپائرسٹاپر‘ میں لکھا تھا کہ افغانستان کو طویل عرصے سے ’سلطنتوں کا قبرستان‘ کہا جاتا ہے، اتنے طویل عرصے سے کہ یہ بھی واضح نہیں کہ اس متنازع اصطلاح کو سب سے پہلے کس نے استعمال کیا۔
لیکن عرب اور اسلامی مطالعات کے ادارے یونیورسٹی آف ایکسیٹرکے محقق الیگزینڈر ہینی خلیلی کے مطابق افغانستان کے لیے یہ اصطلاح بظاہر سنہ 2001 میں ’فارن افیئرز‘ جریدے میں سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) پاکستان کے سابق سٹیشن چیف ملٹن بیئرڈن کے ایک مضمون سے پہلے استعمال میں نہیں آئی جس کا عنوان ہی ’افغانستان: گریو یارڈ آف ایمپائرز‘ تھا۔
ایک اور روایت کے مطابق یہ اصطلاح پہلے میسوپوٹیمیا کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ اسی طرح ایک نہایت مشابہ لقب ’قوموں اور سلطنتوں کا قبرستان‘ علامتی طور پر عہد نامہ عتیق کی کتابِ یسعیاہ کو بھی دیا گیا۔
ماہرِ بشریات تھامس بارفیلڈ کے مطابق افغانستان کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بیانیہ افغانوں نے خود بیرونی حملہ آوروں کو روکنے کے لیے استعمال کیا۔اکتوبر 2001 میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان کے بانی اور رہنما ملا محمد عمر نے اسے وہی انجام بھگتنے کی دھمکی دی جس کا سامنا برطانوی سلطنت اور سوویت یونین کو ہوا تھا۔‘
سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی سنہ2021 میں کابل کے سقوط کے بعد ایک عوامی خطاب میں اسی اصطلاح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی مزید فوجی موجودگی سے افغان حکومت کو طالبان کے خلاف مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔
کیا افغانستان ناقابلِ شکست رہا؟
کتاب ’افغانستان: واٹ ایوری ون نیڈز ٹو نو‘ میں بارنیٹ آر روبن لکھتے ہیں کہ ’یہ تصور دراصل نسبتاً حالیہ ہے کہ افغانستان ہمیشہ سے ناقابلِ تسخیر سرزمین ہے جو ہر اُس طاقت کو شکست دیتی ہے جو اس میں داخل ہو۔‘
اپنی کتاب ’دی اسینڈنسی آف افغانستان: اے نیو ڈان اِن دی ہارٹ آف ایشیا‘ میں پاسکوالے ڈی مارکو لکھتے ہیں کہ وسطی، جنوبی اور مشرقی ایشیا کے سنگم پر افغانستان کا محلِ وقوع اسے تاریخ بھر میں سلطنتوں کے لیے ایک مطلوب انعام بناتا رہا ہے۔
’صدیوں تک دنیا بھر کی افواج اس کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے گزرتی رہیں اور اپنی موجودگی کا ایسا نقش چھوڑ گئیں جو آج بھی اس سرزمین اور اس کی ثقافت پر نمایاں ہے۔‘
بارفیلڈ لکھتے ہیں کہ سنہ 1840 تک افغانستان کو ’سلطنتوں کا قبرستان‘ نہیں بلکہ ’فتح کی شاہراہ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پچھلے ڈھائی ہزار برسوں تک یہ ہمیشہ کسی نہ کسی سلطنت کا حصہ رہا، جس کی ابتدا پانچویں صدی قبلِ مسیح میں فارسی سلطنت سے ہوئی۔
عدنان خان کاکڑ کی تحقیق ہے کہ افغانستان ڈھائی ہزار سال پہلےایرانی بادشاہ سائرس (کوروش اعظم) کی ہخامنشی سلطنت کا ایک صوبہ تھا۔
پھر سکندر اعظم اور ان کے مشرقی جانشین سلیوکس اور دیگر یونانی بادشاہوں اوران کے بعد ٹیکسلا اور پاٹلی پتر کے موریا بادشاہوں چندر گپت موریا اور ان کے جانشینوں کی سلطنت میں موجودہ افغانستان ایک مفتوحہ علاقہ تھا۔ چند سو سال بعد ساسانی بادشاہ بھی افغانستان پر قابض دکھائی دیتے ہیں۔
اسلام کے ظہور پر خلفائے راشدین کے دور ہی میں خراسان فتح ہو گیا۔ اموی خلافت میں بھی افغانستان ایک مفتوحہ علاقہ تھا۔
پھر سمرقند اور بخارا کے سامانی بادشاہ، ترک نسل کے غزنوی، وسطی ایشیا کے سلجوق ترک اور پھر 50 برس کے لیے دور افتادہ افغان علاقے غور سے غوری یہاں حکمران رہے۔ محققین کا عمومی اتفاق ہے کہ غوری تاجک النسل ایرانی تھے۔ خود کو شنسبانی کہتے تھے۔
’پھر شہر سبز اور سمرقند سے امیر تیمور نامی تاتاری اٹھے اور افغانستان ان کی سلطنت کا صوبہ بن گیا۔ ازبک سلطان شیبانی خان بھی اس پر قابض رہے‘۔
روبن کے مطابق کابل، بلخ، قندھار اور ہرات جیسے شہر اور خطے بارہا مختلف سلطنتوں کے زیرِ اقتدار آئے اور کبھی کبھار خود بھی اقتدار کا مرکز بنے۔
ہینی خلیلی لکھتے ہیں کہ سکندرِ اعظم اور چنگیز خان نے نہ صرف افغانستان کو فتح کیا بلکہ ان کے جانشینوں نے صدیوں تک یہاں حکومت کی اور خود کو اس کی ثقافت اور مذہب کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا۔
روبن نے لکھا ہے کہ بلخ جسے یونانی ’باختر‘ کہتے تھے زرتشتی اور بدھ مت کے زمانے کا ایک نمایاں مذہبی و ثقافتی مرکز تھا۔
’سکندرِ اعظم نے جب اس کے عظیم مندر کو لوٹا تو اُنھوں نے مقامی بادشاہ کی بیٹی روکسانہ یا رخسانہ سے شادی کی۔قندھار لفظ ’سکندریہ‘ (الیگزینڈریا) کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جو سکندرنے 329 قبلِ مسیح میں قائم کیا تھا۔
’یونانی حکومت تقریباً دو صدیوں تک قائم رہی اور اسی دوران میں مجسمہ سازوں نے ’گندھارا‘ کے نام سے معروف یونانی فنِ تعمیر (گریکو-بدھ آرٹ) کو فروغ دیا، جس کا مرکز موجودہ پشاور کے قریب ایک قدیم ریاست تھی‘۔
روبن ہی کے مطابق ہرات، سمرقند کے ساتھ، تیموری دور میں فارسی تہذیب و فنون کا مرکز رہا۔
’پہلے مغل بادشاہ بابر آج کے ازبکستان کی وادیِ فرغانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے کابل فتح کیا اور اسے مغل سلطنت کا پہلا دارالحکومت بنایا۔ کابل سے واقف ہر شخص ’باغ ِبابر‘ کے بارے میں جانتا ہے۔‘
یہاں بابر کے علاوہ ان کی بڑی بہن خانزادہ بیگم، ان کی بیٹیاں فخر النسا اور ہمایوں نامہ کے مصنف گل بدن بیگم، ان کے بیٹے ہندل مرزا، اکبر کی بیوی رقیہ سلطان بیگم اور ہمایوں کے بیٹے مرزا محمد حکیم دفن ہیں۔
یہ بتاتے ہوئے کہ بابر سے اورنگزیب عالمگیر تک مغل اس پر حکمران رہے، کاکڑ لکھتے ہیں کہ مغلوں کے کمزور پڑنے پر ایرانی بادشاہ نادر شاہ افشار نے افغانستان پر تسلط جمایا۔
’نادر شاہ افشار کے قتل کے بعد افغانستان نامی ملک پہلی مرتبہ وجود میں آیا جب نادر شاہ افشار کے سردار احمد شاہ ابدالی نے 1747 میں افغان علاقوں پر حکمرانی کا دعوی کر دیا۔‘
اس سے پہلے کابل اور قندھار عام طور پر ہندوستانی تخت کا حصہ رہتے تھے۔ ہرات وغیرہ ایرانی سلطنتوں کا اور مزار شریف وغیرہ کے علاقے وسطی ایشیائی سلطنتوں وغیرہ کے صوبے ہوا کرتے تھے۔ ’احمد شاہ ابدالی کی سلطنت میں ایرانی شہر نیشا پور، موجودہ افغانستان، موجودہ پاکستان اور راجستھان کے کچھ علاقے شامل تھے۔‘’سلطنتیں افغانستان میں فنا نہیں ہوئیں بلکہ پروان چڑھیں‘
ہینی خلیلی کے مطابق افغانستان کسی ایسی سرزمین کے بجائے، جہاں سلطنتیں آ کر فنا ہو جاتی ہیں، ہزاروں سال تک وہ مقام رہا جہاں سلطنتیں پروان چڑھتی اور پھلتی پھولتی رہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ اس کا ایشیا کے سنگم پر واقع ہونا تھا۔
تاریخ کی کئی عظیم سلطنتیں افغانستان ہی سے ابھریں اور انھوں نے دنیا کی تاریخ پر گہرا نقش چھوڑا۔
مثلاً کشانی سلطنت جو 30ء سے 350ء تک قائم رہی، نے افغانستان، وسطی ایشیا اور شمالی ہندوستان کے وسیع علاقے پر حکومت کی۔ ان کا دارالحکومت بگرام تھا۔ کشانی سلطنت نے روم، ہندوستان اور چین کے ساتھ تجارت کے راستے قائم کیے۔
ان کے دور میں افغانستان ایک ایسی زرخیز تہذیب کا مرکز تھا جس نے یونانی اور ہندوستانی اثرات کو بدھ مت کی روح کے ساتھ جوڑ کر ایک نادر اور جامع فنِ تعمیر و مصوری کو جنم دیا۔
بدھ کی انسانی شکل میں بنائی گئی ابتدائی ترین مجسمہ نگاری اسی دور کی پیداوار سمجھی جاتی ہے۔
خلیلی لکھتے ہیں کہ کشانی محض ان کئی تاریخی تہذیبوں میں سے ایک تھے جو آج کے افغانستان میں پروان چڑھیں۔غزنوی سلطنت جو 977ء سے 1186ء تک غزنی میں قائم رہی، ایک ترک النسل مسلم سلطنت تھی جو فنِ تعمیر اور فنونِ لطیفہ کی سرپرستی کے لیے مشہور تھی۔
ان کے دور میں فارسی زبان اسلامی مشرق میں شاعری اور اعلیٰ ادب کی زبان بن کر ابھری۔ فردوسی نے اپنی شہرۂ آفاق مثنوی شاہ نامہ جو فارسی دنیا کا قومی رزمیہ ہے، سلطان محمود غزنوی کے نام معنون کی۔
اسی طرح تیموری سلطنت جو 1370ء سے 1526ء تک قائم رہی، اپنی شاندار عمارات اور علمی سرپرستی کے لیے معروف تھی۔ تیموری دارالحکومت ہرات اُس زمانے میں فنکاروں، کاریگروں اور اہلِ علم سے گونجتا رہتا تھا۔ بابر، جو بعد میں مغل سلطنت کے بانی بنے، کا یہ کہا مشہور ہے کہ ’ہرات میں اگر کوئی اپنے پاؤں پھیلائے تو لازماً کسی شاعر کو ٹھوکر مار بیٹھے گا۔‘
افغان درّانی سلطنت، جو آج کے افغانستان کی پیشرو تھی، نے 1747 میں قندھار کو اپنا دارالحکومت بنایا اور 1775 میں کابل منتقل ہو گئی۔
خلیلی کے مطابق پہلی اینگلو-افغان جنگ (1839–1842) میں برطانوی افواج کو سخت سردیوں میں جلال آباد کی برفانی وادیوں میں پسپا ہونا پڑا اور یہی واقعہ ’سلطنتوں کے قبرستان‘ کے تصور کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اکثر یہ بات نظرانداز کی جاتی ہے کہ برطانوی بعد میں دوبارہ کابل لوٹے، شہر کے بازاروں کو مسمار کیا، اپنے قیدی چھڑائے اور اپنی شرائط پر افغانستان سے انخلا کیا۔
دوسری اینگلو افغان جنگ (1878-80) میں فتح کے باوجود برطانیہ نے افغانستان پر براہ راست حکمرانی کرنے کے بجائے وہاں اپنی پسند کا حکمران یا امیر مقرر کرکے افغانستان کو تقریباً ایسی دست نگر ریاست یا ’کلائنٹ سٹیٹ‘ میں تبدیل کردیا جو برطانیہ کے مفادات کا تحفظ کرسکے۔
سنہ 1879میں گندمک معاہدے کے تحت امیر یعقوب خان نے افغانستان کی خارجہ پالیسی کا کنٹرول برطانیہ کے حوالے کر دیا۔ مشرقی افغان صوبے برطانوی ہند کے زیرِ اثر آئے اور ’سرحدی قبائل‘ کے لیے ایک بفر زون قرار پائے۔سنہ 1893میں سر مارٹیمر ڈیورنڈ نے امیر عبدالرحمٰن خان کے ساتھ معاہدہ کر کے برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان سرحد یعنی ’ڈیورنڈ لائن‘ طے کی۔ سنہ 1919میں امیر امان اللہ خان نے سرحد پر ایک مختصر جھڑپ کے بعد آزادی حاصل کی لیکن 1921 کے معاہدہ راولپنڈی میں اسی نوآبادیاتی لکیر کو تسلیم کیا گیا۔‘
’افغانوں نے اکیلے سوویت یونین کو شکست نہیں دی، ان کی مزاحمت کو سرد جنگ کے تناظر میں عالمی طاقتوں کی بھرپور پشت پناہی حاصل تھی۔‘
سی این این کے لکھاری بیری نیلڈ نے لندن کے کنگز کالج کے دفاعی امور کے لیکچرر پیٹرک پورٹر کے حوالے سے لکھا ہے کہ افغانستان لڑنے، فتح کرنے اور حکومت کرنے کے لیے ایک مشکل جگہ ہے اور اسی لیے اس ملک کا ’سلطنتوں کا قبرستان‘ ہونے کا افسانہ سمٹ نہیں پا رہا۔
لیکن پورٹر کہتے ہیں کہ اگرچہ سلطنتیں افغانستان میں اپنی مہمات کے بعد زوال کا شکار ہوئیں لیکن برطانوی سلطنت کے لیے یہ زوال زیادہ تر دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں آیا، سوویت یونین کے لیے مشرقی یورپ میں نظریاتی بحران اس کی وجہ بنا اور سکندرِ اعظم کے لیے یہ ان کی ایشیائی سلطنت میں مستحکم جانشینی قائم نہ کر سکنے کا نتیجہ تھا۔
نیلڈ نے برطانوی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے عسکری علوم کے ڈائریکٹر مائیکل کاڈنر کے حوالے سے لکھا کہ افغانستان کی خودمختاری کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا دعویٰ تاریخی شواہد سے متصادم ہے۔
وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ اٹھارویں صدی میں فارسی سلطنت نے افغان سرزمین پر اپنی عملداری قائم کی تھی اور دو صدی قبل کابل پر مبنی مغلیہ سلطنت کے زوال میں حصہ ڈالا تھا۔
نارڈلینڈ کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ کوئی عظیم سلطنت صرف افغانستان کی وجہ سے تباہ نہیں ہوئی۔
خلیلی لکھتے ہیں کہ ’سلطنتوں کا قبرستان‘ کا بیانیہ یہ وضاحت کرنے میں بھی ناکام رہتا ہے کہ بادشاہت کی پانچ دہائیوں یعنی 1929 سے 1978 کے دوران میں باوجود عالمی طاقتوں کے درمیان جاری مقابلہ بازی کے افغانستان میں امن کیوں قائم رہا؟
’سنہ 1920 میں امان اللہ خان کی بادشاہت سے شروع ہونے والی شاہی حکومتیں نہ صرف افغانستان کو آزاد رکھنے میں کامیاب رہیں بلکہ ساتھ ہی اسے ایک ’ماڈل نیشن سٹیٹ‘ بنانے میں بھی کوشاں رہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں جب ہمسایہ ملک ایران میں برطانوی اور روسی فوجیں قابض تھیں، افغانستان آزاد اور غیر جانبدار رہنے میں کامیاب رہا‘۔
سنہ 1973 میں ہونے والی بغاوت، جس کے نتیجے میں بادشاہت کا خاتمہ اور جمہوریہ افغانستان کی بنیاد رکھی گئی، کے دوران میں بھی کوئی خون خرابہ نہیں ہوا۔ ہاں مگر 1978 کے مارکسی ثور انقلاب اور بعد ازاں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد سے افغانستان جنگوں اور تنازعات کے باعث تباہی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا‘۔
بارنیٹ آر روبن لکھتے ہیں کہ آج کے افغانستان کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ ملکی پیداوار ملکی اخراجات پوراکرنے کے لیے ناکافی ہے۔
’افغانستان کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی معیشت کو بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرے‘۔
ماجد نظامی نے بھی خواجہ آصف کے بیان کو موثر ہونے کی بجائے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس قسم کی بیانات کی بجائے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کو ایک وسیع البنیاد افغان پالیسی بنانے پر زور دیا۔
ان کے مطابق مختلف ادوار میں فوجی آمروں اور ریاست کے طاقتور افراد کی خواہشات پر خارجہ پالیسی، خصوصاً افغان پالیسی، ترتیب دی گئی اور شخصیات کے تبدیل ہوتے ہی ریاستی پالیسی بھی نیا رخ اختیار کر لیتی ہے۔
’اس لیے جب تک پارلیمان، سیاست دانوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی وسیع البنیاد مشاورت سے افغان پالیسی ترتیب نہیں دی جائے گی، مسئلہ جوں کا توں رہے گا بلکہ اس کی خرابی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔‘
جموں و کشمیر میں پاکستان سے جڑے دہشت گرد نیٹ ورکس پر بڑا کریک ڈاؤن، کولگام، ڈوڈہ اور راجوری میں چھاپے
جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر کارروائی، پاکستان اور PoK سے جڑے دہشت گرد نیٹ ورکس پر چھاپے ۔ کولگام، ڈوڈہ اور راجوری میں آپریشن
جموں و کشمیر پولیس نے ہفتے کے روز( آج ) جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پاکستان اور مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے منسلک دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔ یہ قدم وادی میں سرگرم دہشت گردی کے خفیہ ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد شروع کی گئی، جس میں خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس کی بنیاد پر کئی اہم مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
کولگام میں بڑے پیمانے پر چھاپے
پولیس نے بتایا کہ کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز (CASO) کے تحت کولگام کے مختلف علاقوں میں بیک وقت کارروائیاں کی گئیں۔ ان آپریشنز کا مقصد ان افراد کی نشاندہی اور گرفتاری تھی جو مبینہ طور پر پاکستان میں بیٹھے اپنے رشتہ داروں اور ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں رہ کر دہشت گردی کو مالی یا لاجسٹک مدد فراہم کر رہے تھے۔
پولیس نے کئی گھروں پر چھاپے مارے، اوورگراؤنڈ ورکرز (OGWs) سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے ڈیجیٹل آلات، موبائل فونز، لیپ ٹاپس، اور مشکوک دستاویزات برآمد کیں جو دہشت گرد نیٹ ورکس کے استعمال میں لائی جا رہی تھیں۔
ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق،
’’یہ آپریشن جنوبی کشمیر میں دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر ختم کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔ جو بھی شخص کسی بھی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی یا مدد میں ملوث پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘
جیلوں میں خفیہ کمیونیکیشن کے خلاف کریک ڈاؤن
اسی دوران، کاؤنٹر انٹیلیجنس کشمیر (CIK) نے بھی جیلوں میں اچانک چھاپوں اور معائنوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے تاکہ قیدیوں کے درمیان غیر قانونی موبائل فونز یا کمیونیکیشن چینلز کے استعمال کو روکا جا سکے۔
ایک سی آئی کے اہلکار نے تصدیق کی کہ :
’’مخصوص انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر جیل کے بیرکوں اور قیدیوں کے سامان کی تلاشی لی گئی تاکہ کسی بھی غیر مجاز موبائل فون، سم کارڈ، یا دیگر مواد کو ضبط کیا جا سکے جو تخریبی سرگرمیوں میں استعمال ہو سکتا ہو۔‘‘
اس اقدام کا مقصد اندرونی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا اور جیلوں کو کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ رابطہ کاری سے پاک رکھنا ہے۔
ڈوڈہ اور راجوری میں بھی کارروائیاں
کولگام کے علاوہ، ڈوڈہ اور راجوری اضلاع میں بھی سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔
ڈوڈہ پولیس نے ان علاقوں میں تلاشی مہم چلائی جہاں حالیہ مہینوں میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں، اور ان کے مارے گئے ساتھیوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان آپریشنز کا مقصد علاقے میں سرگرم سلیپر سیلز، ہمدردوں اور مالی معاونین کا سراغ لگانا ہے تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر توڑا جا سکے۔دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کے خاتمے کی مہم
یہ کارروائیاں دراصل 2023 کے بعد سے جاری اُس وسیع کریک ڈاؤن کا تسلسل ہیں جس کا مقصد پاکستان سے چلائے جانے والے دہشت گرد نیٹ ورکس اور فنڈنگ چینلز کو ختم کرنا ہے۔ بھارتی سیکیورٹی اداروں کے مطابق، پچھلے چند مہینوں میں وادی میں سرگرم کئی پاکستانی ہینڈلرز اور کالعدم تنظیموں کے رابطہ نیٹ ورکس کا پردہ فاش کیا گیا ہے، جو سوشل میڈیا اور حوالہ چینلز کے ذریعے فنڈنگ اور بھرتی مہم چلا رہے تھے۔
حکام کا عزم
سیکیورٹی ایجنسیوں نے واضح کیا ہے کہ ’’یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وادی کے اندر اور باہر موجود دہشت گردی کے ہر سپورٹ نیٹ ورک کی مکمل شناخت اور خاتمہ نہیں ہو جاتا۔‘‘
یہ تمام اقدامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت جموں و کشمیر میں امن کی بحالی اور کراس-بارڈر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر سنجیدہ اور پرعزم ہے۔
کشمیر کی پہلی خاتون افسانہ نگار "واجدہ تبسم گورکو" سے خصوصی گفتگو
سرینگر، (پرویز الدین): جموں وکشمیر کے نسائی ادب میں جب ہم اردو افسانے کی بات کرتے ہیں تو افسانہ نگاری میں واجدہ تبسم گورکو کا نام سر فہرست آتا ہے۔ واجدہ تبسم اپنی منفرد اور جداگانہ تحریروں کے ذریعے بہت کم عرصے میں افسانہ نگاری میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں اور حال ہی میں ان کی چوتھی کتاب "سکوت گم ہے" کے نام سے منظر عام پر آئی۔ یہ اپنی نوعیت کی ایسی پہلی کتاب ہے جو کہ کسی خاتون افسانہ نگار نے منی افسانچوں پر تحریر کی ہے۔
"سکوت گم ہے" میں 75 کہانیاں ہیں۔ جن کے موضوعات الگ الگ تو ہے لیکن ایک ایک کہانی سماجی معاملات و مسائل کی بھر پور طریقے سے عکاسی کرتی ہے۔ واجد تبسم گورکو کہتی ہیں کہ یہ میری چوتھی کتاب ہے لیکن اس کو تحریر کرتے وقت میں نے اس بات کو دھیان میں رکھا ہے کہ آج کل کے تیز رفتار دور میں قاری تک کم از کم وقت میں بات پہنچائی جائے اور نہ صرف قارئین کو پڑھنے میں مزا آئے بلکہ ہر کوئی اسے آسانی سے سمجھ بھی پائے۔واجدہ تبسم بیک وقت کئی اوصاف کی حامل
واجدہ تبسم گورکو نے مزید کہا کہ اس میں ان موضوعات کو چھوا گیا جو کہ میں نے خود محسوس کیے ہیں اور جن سے بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر معاشرے کا ہر فرد گزرتا ہے۔ جموں و کشمیر کے نسائی ادب میں اردو افسانہ کی تاریخ میں واجدہ تبسم گورکو کا نام سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بیک وقت ایک کامیاب شاعرہ، افسانہ نگار، مضمون نگار، کالم نگار اور بہترین صحافی کی حیثیت سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔افسانوں میں عورتوں کے مسائل کی مکمل عکاسی
واجدہ تبسم گورکو کا پہلا افسانہ ’’آہ کے اثر ہونے تک‘‘ اس وقت کے مشہور و معروف اخبار ’’چنار‘‘ میں 1972 میں شائع ہوا۔ اس طرح سے انہوں نے اردو افسانہ نگاری میں قدم رکھا۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’ ڈولتی نیا‘‘ 1983ء میں منظر عام پر آیا ہے۔ ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’ دل آج بھی روتا ہے‘‘ 2019ء میں شائع ہوکر قارئین سے داد ِتحسین وصول کر چکا ہے۔ واجدہ تبسم گورکو نے اپنے افسانوں میں عورتوں کے مسائل کی مکمل عکاسی کی ہے۔ عورت کے جذبات، خوشیاں، درد و غم، محبت اور نفرت، آرزوئیں، عداوت، حسرت، مظالم، جہیز، طلاق، سماجی حیثیت، عزت وقار، قربانیاں، ممتا، بغاوت، وفا اور جفا وغیرہ جیسے موضوعات کو اپنے افسانوں میں جگہ دے کر سماج میں ان مسائلوں کو اُجاگر کیا۔
افسانوں میں گھریلو ماحول اور معاشرے کا عکس مخفی
عورتوں کے ساتھ جو معاشرے میں ناانصافیاں ہو رہی ہیں اس کے خلاف واجدہ تبسم نے اپنے افسانوں کے ذریعے آواز بلند کی ہے۔ ان کے افسانوں میں ہمیں گھریلو ماحول اور معاشرے کا عکس دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس خاتون افسانہ نگار کے افسانے، مضامین، کالم، سیریل، ٹیلی فلمیں، شارٹ فلمیں، ڈیکو ڈرامہ، غزلیں، گیت اور نظمیں وغیرہ ملکی اور بین الاقوامی سطح کے رسالوں، جریدوں اور اخباروں میں شائع ہوتے ہیں۔ اسی پسِ منظر میں ای ٹی وی بھارت کے نمائندے پرویز الدین نے واجدہ تبسم گورکو کے ادبی سفر اور ان کے منفرد افسانوی تحریروں سے متعلق خصوصی گفتگو کی۔معاملات و واقعات کو بڑی باریکی سے قلم کے سہارے کاغذ پر اتارنے کا فن
شہر سرینگر کے رعناواری علاقے کی رہنے والی واجدہ تبسم گورکو نے کہا کہ بچپن سے ہی انہیں لکھنے پڑھنے کا شوق رہا ہے، وہیں مزاج زیادہ حساس ہونے کی وجہ سے آس پاس کے معاملات و واقعات کو بڑی باریکی پر غور و فکر کرکے قلم کے سہارے کاغذ پر اتارنا پہلے سے ہی ایک عادت رہی ہے۔ ایسے میں جب بچپن میں دل کے غبار کو باہر نکالنے کے لیے بھی میں قلم اور کاغذ ہی کا سہارا لیتی تھی۔ تاہم لکھنے کا یہ شوق اور مزاج کی حساسیت کب کسی فن کی شکل اختیار کرے گا اس کی کوئی علمیت نہیں تھی۔
خواتین افسانہ نگاروں کے مقابلے واجدہ تبسم کا انداز مختلف اور جداگانہ
واجدہ تبسم سرکاری نوکری سے حال ہی سبکدوش ہوئی ہیں۔ مطالعے اور مشاہدات پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے اس خاتون افسانہ نگار کی تحریریں یہاں کی دیگر خواتین افسانہ نگاروں کے مقابلے میں موضوعات اور کردار کے اعتبار سے بالکل مختلف اور جداگانہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ یہاں کی خوبصورتی، حسن و جمال، رومانیت اور خواتین پر گزرنے والے واقعات سے بھرپور اپنی تحریریں سامنے لاتی ہیں۔کردار اپنی طرف کھینچتے اور لکھنے پر مجبور کرتے ہیں
بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ مطالعے، مشاہدے اور دلائل پر مبنی میری تحریریں ہوتی ہیں۔ جو کہ میرے افسانوں کو دوسروں سے الگ بناتے ہیں۔ واجدہ کہتی ہیں کہ میں ہر ایک انسان کی کہانی جاننے کی کوشش کرتی ہوں، جو کہ اس کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ سطحی طور پر کئی انسان ایسے ہوتے ہیں جو کہ باہر سے تو بڑے خوش نظر آتے ہیں لیکن اندر سے ان کی کہانیاں کچھ الگ ہی ہوتی ہیں۔ ویسے کردار مجھے اپنی طرف کھینچ لاتے ہیں اور لکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔