Sunday, 9 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*






*سنی مسجد بلال،ممبئ میں وقف املاک کی رجسٹریشن پر اہم اجلاس:*
علما اور متولیان کا فوری عمل کی اپیل۔ 
سنی مسجد بلال، چھوٹا سوناپور، ممبئ میں ایک آج (اتوار 9 نومبر) کو وقف املاک کی رجسٹریشن کے سلسلے میں ایک انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت پیر طریقت رہبر شریعت شہزادہ حضور شہید راہ مدینہ حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید معین الدین اشرف (مولانا معین میاں) اشرفی جیلانی سجادہ نشین آستانہ عالیہ درگاہ کچھوچھہ مقدسیہ وصدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما نے فرمائی۔ اجلاس کی قیادت قائد اہل سنت، اسیر مفتی اعظم ہند، محافظ ناموس رسالت عالی جناب الحاج محمد سعید نوری (بانی رضا اکیڈمی، نائب صدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما) نے کی۔
یہ اجلاس آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما اور رضا اکیڈمی ممبئی کی مشترکہ کاوش سے منعقد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد وقف املاک کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کی وضاحت، عوامی رہنمائی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا تھا۔ اجلاس میں اوقاف کے ماہر وکلاء نے تشریف لا کر امید پورٹل پر رجسٹریشن کے مراحل کی تفصیلی روشنی ڈالی۔
*معین المشائخ کا اہم پیغام*
صدر اجلاس حضرت مولانا معین میاں اشرفی جیلانی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ "مہاراشٹر میں کل 18,369 وقف املاک ہیں، جن میں سے صرف 3,500 کی دستاویزات ہی امید پورٹل پر اپ لوڈ ہو سکی ہیں، جبکہ 14,869 املاک کے کاغذات اب تک جمع نہیں ہوئے۔" انہوں نے واضح کیا کہ "5 دسمبر 2025 تک کاغذات کی اپ لوڈنگ اور رجسٹریشن مکمل کرنا محض قانونی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک دینی فریضہ ہے۔ وقف جائیداد کا تحفظ اسی پر منحصر ہے۔"
*قائد ملت کا انتباہ*
الحاج محمد سعید نوری نے متولیان اور ٹرسٹیان کو ہدایت کی کہ رجسٹریشن کا عمل فوراً شروع کیا جائے۔ انہوں نے فرمایا کہ "تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ عوام میں یہ پیغام عام کیا جائے کہ وقف قوانین پر عمل قانونی اطاعت کے ساتھ امت کے مال کی حفاظت ہے، یہ محض سرکاری کارروائی نہیں۔ متولیان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ وقت سے پہلے قانونی اور تکنیکی مدد حاصل کریں تاکہ آخری تاریخ سے قبل رجسٹریشن مکمل ہو جائے۔"
*وقف بورڈ کے سابق ممبر کا انتباہ*
جالنہ سے تشریف لائے وقف بورڈ کے سابق ممبر جناب سید جمیل صاحب نے کہا کہ "اگر مقررہ تاریخ تک امید پورٹل پر رجسٹریشن نہ کی گئی تو متعلقہ جائیداد سے وقف کا اطلاق ختم کر دیا جائے گا۔" انہوں نے خبردار کیا کہ بعض ٹرسٹی جان بوجھ کر تساہل برت رہے ہیں تاکہ وقف جائیداد کو زمرے سے باہر کر کے خرد برد میں آسانی ہو۔
*ایڈوکیٹ ضیاء المصطفی اورنگ باد کی قانونی وضاحت*
اوقاف کے ماہر ایڈوکیٹ ضیا سر نے امید پورٹل کے استعمال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "رجسٹریشن نہ کرنے پر سیول ) Civil) اور کرمنل(Criminal)دونوں طرح کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سیول معاملے میں جائیداد وقف سے خارج ہو جائے گی، جبکہ کرمنل معاملے میں چھ ماہ قید اور جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔" انہوں نے بتایا کہ "پورٹل آف لائن نہیں، صرف آن لائن ہے اور اسے عام آدمی خود بھر نہیں سکتا؛ اس کے لیے کمپیوٹر اور اوقاف کی ماہرانہ معلومات درکار ہیں۔"
اپنوں سے نقصان کا المیہ
*مفتی ابراہیم آسی صاحب نے اپنی استقبالیہ تقریر میں* میٹنگ غرض و مقصد بتاتے ہوئے کہا "وقف جائیداد کو غیروں سے اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا اپنوں سے پہنچا ہے۔" انہوں نے سنی مسلم چھوٹا قبرستان ٹرسٹ کی مثال دی، جو چار ایکڑ پر مشتمل ہے، جس میں 13 درگاہیں اور دو عظیم الشان مساجد ہیں۔ معین المشائخ اور جناب اسلم لاکھا صاحب گزشتہ دس سال سے اس کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں، جبکہ اپنے ہی لوگ مفادات کے لیے کروڑوں روپے خرچ کر کے اسے وقف سے خارج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
*آئندہ اجلاس کا اعلان*
اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ اس سلسلے میں ایک بڑے پیمانے پر میٹنگ 12 نومبر بروز بدھ کو سنی مسجد بلال میں منعقد ہوگی، جہاں مزید عملی اقدامات طے کیے جائیں گے۔
*شرکاء*
اجلاس میں کثیر تعداد میں علما، ائمہ، متولیان اور ٹرسٹیان نے شرکت کی، جن میں مفتی زبیر برکاتی (سنی بڑی مسجد مدنپورہ)، مفتی نعیم اختر (ناریل واڑی)، مولانا اعجاز کشمیری (ہانڈی والی مسجد)، مولانا غلام معصوم (غوثیہ مسجد)، مولانا نور العین (نور باغ مسجد)، مولانا ظفر الدین، قاری مشتاق احمد تیغی، قاری الیاس احمد، مولانا خلیل نوری، مفتی مجتبی شریف ناگپور، قاری عبدالرحمن ضیائی، مولانا صوفی محمد عمر، مولانا منت اللہ، قاری نظام الدین، مولانا شاہ نواز، مولانا عارف، قاری نوشاد، ابو بکر عطاری وغیرہ شامل تھے۔
یہ اجلاس وقف ترمیمی بل 2025 کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا، جہاں شرکاء نے متفقہ طور پر رجسٹریشن کو فوری اور لازمی قرار دیا۔ 
_@rRahim_










*ٹائٹانک بزنس ہب ، مالیگاؤں میں 13واں مفت سولار ٹریننگ بیچ کا آغاز*
شہر مالیگاؤں میں *انجینئر عرفان احمد صاحب* کے زیرسرپرستی اور ماہرسولار ٹرینر *عبداللہ انصاری صاحب* کے زیر تربیت *ٹائٹانک بزنس ہب، مالیگاؤں* پر *مفت 13واں سولار کلاس کا آغاز*، *10 نومبر 2025*، بروز *پیر* سے ہونے جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اب تک کے تمام بیچ مکمل طور سے مفت رکھے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی طالب علم بلاجھجک اس میں حصہ لے سکے۔ جن طلباء نے اپنے فارم ٹائٹانک آفس پرجمع کردئے ہیں ان کو اطلاع دی جاتی ہے کہ ان کا ایڈمیشن ہو گیا ہے وہ دوبارہ فارم نہ بھریں۔ اس بیچ میں جو نئے افراد سیکھنا چاہتے ہیں وہ جلد از جلد ٹائٹانک بزنس ہب پر، آفس ٹائم میں رابطہ کریں۔

*رابطہ نمبر*: *مزمل احمد (آفس منیجر)*
*8999849990*

*آفس کا وقت:* ‌
*صبح 11 بجے سے 2 بجے*
 *شام 6 بجے سے 11 بجے*

*کلاس کا وقت:*
 *رات 9 سے 10 بجے تک*

*آفس اورکلاس کا پتہ:*
*ٹائٹانک بزنس ہب، نزد امن چوک، مالیگاؤں، ناسک، مہاراشٹر، انڈیا*
   
https://maps.app.goo.gl/2Z37oSYNGEHRLhmu6











*🕌 مسلمانوں کا تعلیمی میدان میں عملی حصہ اور اس میں مذہبی و سائنسی تعلیم کی اہمیت*

✍️ از قلم : مصباح انجم ✍️

اسلام علم و حکمت کا دین ہے۔ قرآنِ مجید کی پہلی وحی کا آغاز ہی لفظ "اقرأ" (پڑھ) سے ہوتا ہے۔ یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ علم صرف عبادت نہیں بلکہ ترقی، بیداری، اور بقاء کی بنیاد ہے۔ مگر افسوس کہ آج امتِ مسلمہ وہی قوم ہے جس نے کبھی دنیا کو علم دیا، مگر اب خود تعلیمی زوال اور بے عملی کا شکار ہے۔

📖 علم — روحانی و سائنسی توازن کا نام

اسلام میں علم کا مفہوم صرف دینی علوم تک محدود نہیں۔ قرآن بارہا انسان کو آفاق و انفس میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے — یعنی سائنس، فطرت، زمین، آسمان، اور تخلیق کے نظام میں تحقیق کرنا بھی عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔
مذہبی علم انسان کو مقصدِ حیات سے روشناس کراتا ہے جبکہ سائنسی علم اس مقصد کے حصول کے لیے وسائل فراہم کرتا ہے۔

اگر مسلمان دینی تعلیم کے ساتھ سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کر لیں، تو وہ امتِ وسط بن کر دنیا میں عدل، امن، اور ترقی کا نمونہ بن سکتے ہیں۔

🧠 تعلیم میں عملی حصہ کیوں ضروری ہے؟

آج دنیا میں ترقی ان قوموں کے قدم چومتی ہے جو علم کو عمل میں ڈھالتی ہیں۔
مسلمانوں کے لیے محض مدرسوں یا اسکولوں کا قیام کافی نہیں، بلکہ ان اداروں میں ایسا نصاب ضروری ہے جو ایمان، اخلاق، سائنسی سوچ اور سماجی خدمت — چاروں پہلوؤں کو یکجا کرے۔

اساتذہ کو علم کے ساتھ کردار سازی کا ہنر سکھانا ہوگا۔ والدین کو صرف گریڈ نہیں بلکہ بچے کے اخلاقی و ذہنی توازن پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ اور تعلیمی اداروں کو روحانیت، سائنسی تحقیق، اور سماجی خدمت کے سنگم پر استوار ہونا ہوگا۔

🌍 مذہبی و سائنسی تعلیم کا امت پر اثر

دینی تعلیم انسان کو اللہ کا بندہ اور خلقِ خدا کا خیر خواہ بناتی ہے۔

سائنسی تعلیم اسے دنیا کا معمار اور تحقیق کا علمبردار بناتی ہے۔

دونوں کا امتزاج ہی ایسا نظام پیدا کرتا ہے جو ایمان و عقل، روح و مادہ، اور علم و عمل کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔

اسلامی تاریخ میں ابنِ سینا، الرازی، ابنِ الہیثم، اور الخوارزمی جیسے عظیم سائنسدان اسی توازن کی زندہ مثال ہیں — جنہوں نے علمِ دین کے ساتھ سائنس و طب میں دنیا کو نئی جہتیں دیں۔

اس جدید دور میں جہاں تعلیم کی اہمیت اور ضرورت انتہائی مسلم ہے،
NEW ERA International PreSchool
نے "Modern & Islamic Schooling" کا ایک نیا اور مثالی نظام متعارف کروایا ہے۔

یہ ادارہ نہ صرف سائنسی و تخلیقی تعلیم فراہم کررہا ہے بلکہ بچوں کے دلوں میں ایمان، اخلاق، شکرگزاری، اور کردار کی روشنی بھی جگارہا ہے۔
اسکول کا نصاب Chromotherapy، Child Psychology، اور Qur’anic Values پر مبنی ہے — جو بچوں کے ذہن، دل، اور روح تینوں کو متوازن ترقی دیتا ہے۔

NEW ERA International PreSchool Franchise Model اب پورے ہندوستان میں پھیل رہا ہے، تاکہ ہر شہر میں ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم ہو جہاں اسلامی اقدار اور جدید تعلیم کا حسین امتزاج موجود ہو۔
مزید معلومات اور اپنے شہروں میں اس اسکول کی برانچ قائم کرنے کیلئے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
اخیر میں اللہ کے حضور دعا ہیکہ مولائے کریم ہمیں دنیاے علم کے افق کا روشن ستارہ بنائے، دنیا و آخرت کی کامیابی، سرخروئی اور دنیا جہاں میں باوقار زندگی عطا فرمائے۔ آمین

📍 NEW ERA International PreSchool
"Modern & Islamic Schooling"
🌐 www.NewEraInternationalPreSchool.com
📞 +91-9373736600
02554 -222 222

Facebook.com/NewEraiPS

Instagram.com/NewEraiPS
*ٹائٹانک بزنس ہب ، نزد امن چوک، مالیگاؤں، ناسک*

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...