Sunday, 9 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*






دہشت گردحملے کی سازش ناکام، ہریانہ میں ڈاکٹرکی رہائش گاہ پرپولیس کاچھاپہ، 300 کلوگرام آر ڈی ایکس برآمد
دہشت گردحملے کی سازش کوپولیس نے ناکام کردیا ہے۔



 پولیس نے دہشت گردوں سے سازباز رکھنے کے شبہ میں ایک ڈاکٹر کی رہائش گاہ چھاپے ماری کی ۔ جموں کشمیر پولیس نےبڑی مقدار میں آر ڈی ایکس،دو AK-47 رائفل اور گولہ بارود ضبط کرلیاہے۔اس پورے آپریشن کو خفیہ طریقے سے انجام دیا گیا ۔ادھر، اس معاملے میں ہریانہ پولیس کی جانب سے کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔اس معاملے میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔

دراصل ، جموں کشمیر پولیس نے اننت ناگ میں دہشت گرد تنظیم جیش محمد سے مبینہ روابط کے الزام میں اتر پردیش کے سہارنپور سے ایک ڈاکٹر کو گرفتار کیا تھا۔ اس سلسلے میں پولیس نے فرید آباد میں کرائے پر رہنے والے ایک ڈاکٹر کے کمرے پر چھاپہ مار کر 300 کلو آر ڈی ایکس برآمد کیا۔کب کیا ہوا؟
سہارنپور میں برسرخدمت تھے ڈاکٹر عدیل احمد راٹھور

پرائیویٹ اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے

27 اکتوبر 2025 کی شب سرینگر کے مختلف مقامات پر دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد دہشت گرد کے پوسٹر ملے

28 اکتوبر 2025کو سری نگر پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کے دوران ڈاکٹر عدیل احمد راتھر کو پوسٹرچسپاں کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

سہارنپور میں ان کا سراغ لگانے کے لیے موبائل فون ٹریکنگ کی گئی۔

سری نگر پولیس کی ٹیم نے مقامی سہارنپور پولیس کی مدد لی۔

خصوصی آپریشن گروپ (SOG) کی مدد سے امبالہ روڈ پر واقع نجی اسپتال پر چھاپہ مارا گیا۔

6 نومبر 2025 کو ڈاکٹر عدیل کو گرفتار کر لیا گیا۔

اسی ہفتے پولیس نے جی ایم سی اننت ناگ میں بھی چھاپہ مارا،

جہاں ڈاکٹر عدیل کے لاکر سے ایکAK-47 رائفل برآمد ہوئی۔

اس کے بعد پولیس نے اسی مقدمے میں ڈاکٹر مزمل کو بھی گرفتار کیا اور تحقیقات میں ان کا کردار سامنے آیا۔

اب پولیس نے فرید آباد، ہرِیانہ میں ڈاکٹر شکیل کے کرایہ کے مکان پر بھی چھاپہ مارا ہےپولیس کی کارروائی
اطلاعات کے مطابق جموں کشمیر پولیس ٹیم اتوار کو فرید آباد پہنچی تھی۔ ایک کشمیری ڈاکٹر مجاہد شکیل وہاں کرائے کے کمرے میں رہتا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ، ملزم ڈاکٹر وہاں نہیں رہتا تھا اور اس نے صرف اپنا سامان رکھنے کے لیے کمرہ کرائے پر لیا تھا۔

پولیس نے کمرے سے 14 بیگ برآمد کیے جن میں 300 کلوگرام آر ڈی ایکس، دو اے کے 47 رائفل، 84 کارتوس اور کیمیکل تھے۔ ڈی سی پی این آئی ٹی محمود احمد نے اس معاملے کے حوالے سےکوئی بھی معلومات دینے سے انکار کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: پہلگام دہشت گردحملے کے پیچھے’غازی‘ کاہاتھ ، تین دہائیوں سے سرگرم ہےآئی ایس آئی کی خصوصی اکائی

 کرائے لیا گیا کمرہ
بتایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر نے یہ کمرہ تین ماہ قبل ہی کرائے پر لیا تھا اور چھاپے کے دوران 10 سے 12 گاڑیاں جائے وقوع پر پہنچیں۔ فی الحال، ملزم ڈاکٹر کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے اور پورے معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ چار ریاستوں جموں کشمیر، اتر پردیش، ہریانہ اور گجرات سے اس معاملے کے کنکشن کے متعلق تحقیقات کی جارہی ہے ۔








اسپائس جیٹ کا انجن فیل، طیارے کی کولکاتا ایئرپورٹ پرایمرجنسی لینڈنگ، تمام مسافرمحفوظ


ممبئی سے کولکاتہ جانے والی اسپائس جیٹ کی پرواز کو اتوار دیر رات دیر گئے اس کے انجن میں تکنیکی خرابی کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ فلائٹ ایس جی 670 رات کے قریب 11:38 بجے نیتا جی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بحفاظت اتری ۔ طیارے پر 170 سے زیادہ مسافر سوار تھے۔

ایئرپورٹ حکام نے بتایا کہ تمام مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔کولکاتہ ہوائی اڈے کے حکام کے مطابق، طیارے نےممبئی کے چھترپتی شیواجی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اڑان بھری تھی ۔ کولکاتا کے قریب پائلٹ نے انجن میں خرابی کی اطلاع دی۔

پائلٹ نے فوری طور پر ہوائی اڈے کے حکام کو مطلع کیا۔ اطلاع ملنے پر ہوائی اڈے کے حکام نے فوری طور پر ایمرجنسی کا اعلان کر دیا اور ہنگامی لینڈنگ کے لیے راستہ صاف کیا گیا۔موقع پرکیوآرٹی ٹیم موجود
ہوائی اڈے کے حکام نے بتایا کہ، ایمرجنسی رسپانس ٹیم لینڈنگ کے مقام پر موجودتھی۔ ایئرپورٹ حکام کے مطابق طیارے پر 170 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔ طیارہ 11:27 بجے بحفاظت لینڈ کر گیا۔
مسافر اورعملہ محفوظ
حکام نے تصدیق کی ہے کہ تمام مسافر اور عملہ محفوظ ہے۔ اس سے قبل، ستمبر میں، پونے سے دہلی جانے والی اسپائس جیٹ کی پرواز کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے ٹیک آف کے فوراً بعد درمیانی فضا میں یو ٹرن لینا پڑا تھا۔ تاہم، ایئر لائن نے کہا کہ پرواز ہنگامی حالات میں نہیں اتری۔تحقیقات جاری
احمد آباد حادثے کے بعد سے، متعدد پروازوں میں تکینکی خرابی کی شکایتیں ملیں ، کئی کو ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے انجن کی خرابی کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔















پہلگام دہشت گردحملے کے پیچھے’غازی‘ کاہاتھ ، تین دہائیوں سے سرگرم ہےآئی ایس آئی کی خصوصی اکائی

احمد آباد میں تین مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد پاکستانی اسپانسرڈ دہشت گردی کی جانب دھیان جانا فطری ہے۔اس بیچ،ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے پاس S-1 نامی ایک انتہائی خفیہ یونٹ ہے۔ یہ اکائی S-1 یونٹ بھارت میں دہشت گردحملوں کی سازش کوحتمی روپ دیتی ہے۔

این ڈی ٹی وی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی ایک خفیہ اکائی ہے جسے S-1 کہا جاتا ہے، یہ اکائی بھارت میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں سرگرم ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اکائی 1993 کے ممبئی بم دھماکوں سے لے کر جموں کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے دہشت گرد حملے کو انجام دینے میں سرگرم رہی ہے۔ S-1 کا مطلب Subversion-1 ہے ۔پاک فوج کے کرنل کے ہاتھ میں اکائی کی کمان
ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ، اس اکائی کی کمان پاکستانی فوج کے کرنل کےہاتھوں میں ہے ، جبکہ دو سینئر افسران، جن کا کوڈ نام غازی-1 اور غازی-2 ہے، فعال کارروائیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہے، اس یونٹ کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم سے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ اکائی اتنی خفیہ ہے کہ بہت سی دہشت گرد تنظیمیں بھی اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان کے ٹرینرز S-1 سے ہیں۔ S-1 کے اہلکار اور ٹرینر ہر قسم کے بم اور آئی ای ڈی بنانے کے ماہر ہیں۔ وہ مختلف قسم کے چھوٹے ہتھیاروں کو سنبھالنے میں بھی ماہر ہیں۔

بھارتی ایجنسیوں نےکیا ڈی کوڈ
ذرائع کے مطابق ،اس یونٹ کے پاس بھارت کے زیادہ تر مقامات کے تفصیلی نقشے موجود ہیں جو ان کی سازش کو مزیدخطرناک بنا رہے ہیں۔ ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے حال ہی میں اس یونٹ کی سرگرمیوں کی مکمل تفصیلات حاصل کی ہیں، جو گزشتہ 25 برسوں سے سرگرم ہے۔ S-1 کا بنیادی مقصد ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کرنا ہے۔

یہ اکائی ، پاکستان میں سرگرم تمام بڑی دہشت گرد تنظیموں جیسے جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین سے وابستہ ہے۔ اس کے اہلکار ان تنظیموں کے تربیتی کیمپوں میں شرکت کرتے ہیں، جہاں وہ لمبی داڑھیاں بڑھا کر اور مقامی، روایتی لباس پہن کر اپنا بھیس بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے حربے اتنے مؤثر ہیں کہ بہت سی دہشت گرد تنظیمیں بھی ان کی شناخت سے لاعلم رہتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق S-1 نے گزشتہ دو دہائیوں میں ہزاروں دہشت گردوں کو تربیت دی ہے۔ ان تربیت یافتہ دہشت گردوں کو پھر مختلف دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے لیے ہندوستان بھیجا جاتا ہے۔ اس یونٹ کی خفیہ نوعیت اور وسیع نیٹ ورک اسے بھارت کے لیے ایک اہم خطرہ بنا تے ہیں ۔ بھارتی سیکورٹی ایجنسیاں اب اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسے بے اثر کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...