جب آپ ذخیرہ شدہ پُھوٹے ہوئے آلو کھاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
ہمارے اکثر کھانے آلو کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ یہ سبزی نہ صرف سستی ہے بلکہ اس سے مختلف اقسام کے کھانے بنائے جا سکتے ہیں جیسے فرنچ فرائز، سالن اور دیگر اشیا۔ اسی لیے لوگ انہیں بڑی مقدار میں خرید کر ذخیرہ کرتے ہیں۔
لیکن کیا آپ نے دیکھا ہے کہ آلو ذخیرہ کرنے سے پُھوٹ جاتے ہیں اور ان پر سفید رنگ کی آنکھیں نکل آتی ہیں؟ تو آج ہم بات کریں گے کہ آیا یہ آلو کھانا محفوظ ہے یا نہیں۔
کیا پھوٹنے والے آلو کھانے چاہییں؟
ہیلتھ لائن کی رپورٹ کے مطابق پھوٹے ہوئے آلو دو گلیکوالکلائیڈ مرکبات سولانین اور چاکونین پر مشتمل ہوتے ہیں، جو کم مقدار میں لینے پر کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم اگر یہ مرکبات زیادہ مقدار میں لیے جائیں تو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
ہیلتھ لائن کے مطابق کم مقدار میں زیادہ گلیکوالکلائیڈ لینے سے قے، دست اور پیٹ میں درد ہو سکتا ہے۔ جبکہ زیادہ مقدار میں لینے سے سر درد، بخار، دل کی دھڑکن میں تیزی، کم بلڈ پریشر اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
زہریلا پن
گلیکوالکلائیڈز آلو کے پتوں، پھولوں اور آنکھوں میں ہوتے ہیں اور انسانوں کے لیے زہریلے ہوتے ہیں، جو معدے اور اعصابی نظام کی خرابیوں کا باعث بنتے ہیں۔ علامات میں متلی، سر درد، پیٹ میں مروڑ، دست، قے اور دیگر سنگین مسائل شامل ہیں۔
تلخ ذائقہ
پھوٹے ہوئے آلو تلخ ذائقہ رکھتے ہیں کیونکہ ان میں گلیکوالکلائیڈز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے انہیں کھانا ناخوشگوار ہو جاتا ہے۔
غذائیت میں کمی
آلو میں موجود غذائی اجزا کم ہو جاتے ہیں جس سے ان کی غذائیت کم ہو جاتی ہے۔
کیا پُھوٹے ہوئے آلو کا زہریلا پن کم کیا جا سکتا ہے؟
آلو کی آنکھیں، سبز چھلکا اور خراب حصے نکال دینا زہریلا پن کم کر سکتا ہے، لیکن پھر بھی خطرہ باقی رہتا ہے۔ چھلکا اتارنا اور تلنا گلیکوالکلائیڈز کی سطح کم کر سکتا ہے، لیکن انہیں ابالنا، بیک کرنا یا مائیکروویو کرنا ان زہریلے مرکبات پر زیادہ اثر نہیں ڈالتا۔
نتیجہ
نیشنل کیپیٹل پوائزن سینٹر کے مطابق سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان آلوؤں کو پھینک دیا جائے جو پُھوٹ گئے ہوں یا سبز ہو گئے ہوں۔ بہتر ہے کہ انہیں ذخیرہ نہ کریں۔ صرف اتنے آلو خریدیں جو ایک یا دو ہفتے کے لیے کافی ہوں اور انہیں ٹھنڈی، تاریک اور خشک جگہ پر رکھیں۔ بہتر ہے کہ خریدنے کے چند دنوں میں ہی انہیں پکا لیا جائے۔
میٹا کا جعلسازی کے اشتہارات سے اربوں ڈالر کمائی کا انکشاف
نئے دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا ہر سال فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر دھوکا دہی اور ممنوع اشیاء سے متعلق اشتہارات چلا کر اربوں ڈالر کما رہی ہے۔
نئے دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا ہر سال فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر دھوکا دہی اور ممنوع اشیاء سے متعلق اشتہارات چلا کر اربوں ڈالر کما رہی ہے۔بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق گزشتہ برس کے آخری میں ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے اندرونی طور پر تخمینہ لگایا گیا کہ کمپنی اپنی سالانہ آمدنی کا تقریباً 10 فی صد (16 ارب ڈالر) جعلی ای-کامرس اور سرمایہ کاری کی اسکیمز، غیر قانونی آن لائن کیسینو اور ممنوع طبی اشیاء کی فروخت سے کمائے گی۔
ماضی میں سامنے نہ آنے والے دستاویزا میں یہ بھی بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کمپنی گزشتہ کم از کم تین برسوں میں ایسے جعلسازی اور غیر قانونی اشیاء کی فروخت کے اشتہارات کی نشان دہی کرنے اور فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے اربوں صارفین کو ان سے بچانے میں ناکام رہی ہے۔
دسمبر 2024 کے ایک دستاویز کے مطابق کمپنی اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کو ایک اندازے کے مطابق روزانہ اوسطاً 15 ارب انتہائی خطرناک جعلسازی کے اشتہارات (ایسے اشتہارات جن میں جعلسازی کے واضح اشارے موجود ہوتے ہیں) دکھاتی ہے۔
2024 کے ایک اور دستاویز میں بتایا گیا کہ میٹا سالانہ جعلسازی کی اس کیٹگری سے تقریباً 7 ارب ڈالر کماتا ہے۔
’یہ خاتون کون ہیں، انھوں نے 22 مرتبہ ووٹ ڈالا‘: انڈیا میں مبینہ الیکشن فراڈ جس میں برازیلین ہیئر ڈریسر کی تصویر استعمال ہوئی
انڈیا میں الیکشن فراڈ کے حوالے سے شہہ سرخیوں میں جب برازیل کی ایک ہیئر ڈریسر لریسا نیری کا نام آیا تو وہ سمجھیں کہ شاید کوئی غلطی ہے یا پھر کسی قسم کا کوئی مذاق ہے۔
لیکن جلد ہی سوشل میڈیا پر انھیں نوٹیفکیشن موصول ہونا شروع ہو گئے اور لوگوں نے انھیں انسٹاگرام پر ٹیگ کرنا شروع کر دیا۔
لریسا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلے پہل تو ایسے ہی کچھ پیغامات موصول ہوئے۔ میں سمجھی کہ لوگ مجھے غلطی سے کوئی اور فرد سمجھ رہے ہیں۔‘
’پھر مجھے ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں ایک بڑی سکرین پر میرا چہرہ نمودار ہوا۔ میں سمجھی کہ شاید یہ کوئی مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی چیز یا پھر کوئی مذاق ہے لیکن پھر بھی بہت سارے لوگوں نے مجھے میسجز کرنا شروع کر دیے اور مجھے تب سمجھ آیا کہ یہ حقیقت ہے۔‘
لریسا کا تعلق برازیل کے شہر بیلو ہوریزونتے سے ہے اور وہ کبھی انڈیا نہیں گئی ہیں۔ اس لیے انھیں تمام معاملہ سمجھنے کے لیے گوگل کا سہارا لینا پڑا۔
دراصل لریسا کا نام اور چہرہ انڈین نیوز چینلز پر اس وقت نمودار ہونا شروع ہوا تھا جب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور انڈیا کے الیکشن کمیشن پر گذشتہ برس ہریانہ کے انتخابات میں فراڈ کا الزام لگایا۔
بی جے پی نے ان تمام الزامات کی تردید کی۔
اس پریس کانفرنس کے چند ہی گھنٹوں بعد ہریانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر نے ایکس پر ایک خط شیئر کیا جو انھوں نے اگست میں راہل گاندھی کو ارسال کیا تھا۔ اس میں راہل گاندھی سے حلفیہ طور پر ان ووٹرز کے نام دینے کو کہا گیا تھا جو ان کے مطابق ہریانہ میں انتخابات کے دوران ووٹ دینے کے اہل نہیں تھے۔تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے لریسا کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ بی بی سی نے ان کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ بھی کیا تھا۔
راہل گاندھی رواں برس اگست سے الیکشن کمیشن پر ’ووٹوں کی چوری‘ کا الزام لگا رہے ہیں۔
اپنے تازہ ترین الزامات میں راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ دیکھی اور دو کروڑ ووٹرز میں 25 لاکھ انٹریز یا تو ڈپلیکیٹ ہیں یا پھر ان ووٹرز کے پتے غلط دیے گئے ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ہریانہ میں ان کی جماعت کو شکست ووٹر لسٹ میں مبینہ چھیڑ خانی کے سبب ہوئی۔
اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے راہل گاندھی نے بڑی سکرین پر کچھ سلائیڈز دکھائیں۔ ایک سلائیڈ میں راہل گاندھی کو لریسا کی ایک بڑی تصویر کے ساتھ کھڑا ہوا دکھایا گیا جبکہ دوسری سلائیڈ پر 22 ووٹرز کے نام اور ان کے مختلف پتے درج تھے لیکن ان سب کے ساتھ لریسا کی تصاویر تھیں۔
اس موقع پر راہل گاندھی نے سوال کیا کہ ’یہ خاتون کون ہیں؟ ان کی عمر کیا ہے؟ انھوں نے ہریانہ میں 22 مرتبہ ووٹ ڈالا۔‘انھوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ برازیلین فوٹوگرافر میتھیس فریرو کی جانب سے لی گئی ایک تصویر متعدد ووٹرز کے لیے استعمال کی گئی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ لریسا ایک ماڈل ہیں جن کا اندراج ووٹر لسٹ میں متعدد ناموں سے کیا گیا۔ ان ناموں میں سیما، سویٹی اور سرسوتی جیسی شناختیں بھی شامل ہیں۔
29 سالہ لریسا نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ راہل گاندھی کی طرف سے دکھائی گئی تصویر ان ہی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جی، یہ میں ہی ہوں لیکن اس میں میں جوان ہوں۔ یہ تصویر میری ہی ہے۔‘
تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ وہ کوئی ماڈل نہیں بلکہ ایک ہیر ڈریسر ہیں اور انڈیا میں دکھائی گئی تصویر مارچ 2017 میں ان کے گھر کے باہر ہی لی گئی تھی جب ان کی عمر 21 برس تھی۔میں ڈر گئی تھی۔ میں نہیں بتا سکتی کہ یہ میرے لیے خطرناک ہے یا نہیں، یا کہیں میرے اس حوالے سے بات کرنے سے کسی کو کوئی نقصان تو نہیں ہو گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ کیا غلط ہے کیا صحیح کیونکہ میں فریقین کو نہیں جانتی۔‘
’مجھے اپنی پروفائل سے اپنے سیلون کا نام حذف کرنا پڑا کیونکہ لوگ مجھے تنگ کر رہے تھے۔ میرے باس نے بھی مجھ سے بات کی۔ کچھ لوگ بس اسے ایک میم سمجھتے ہیں لیکن اس سے میرا کام متاثر ہوا ۔‘
اسی طرح لریسا کی تصویر کھینچنے والے فوٹوگرافر میتھیس فریرو بھی اچانک اتنی توجہ ملنے کے سبب تھکے ہوئے نظر آتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا سے کچھ لوگوں نے ان سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ ان کی تصویر میں لڑکی کون ہے۔
میتھیس کہتے ہیں کہ ’میں نے کسی کو جواب نہیں دیا، میں کسی کا نام نہیں لوں گا۔ مجھے لگا جیسا کہ یہ کوئی فراڈ ہے، میں نے انھیں بلاک کر دیا۔‘
’لوگ مجھے انسٹاگرام اور فیس بُک پر کالز کر رہے تھے۔ میں نے اپنا انسٹاگرام اکاونٹ ڈی ایکٹویٹ کر دیا اور سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔‘برازیلین فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ کچھ ویب سائٹس نے لریسا کی تصاویر کے ساتھ ان کی تصویر بھی بغیر اجازت کے شائع کی۔
’لوگ میمز بنا رہے تھے، اسے کوئی کھیل یا مذاق سمجھ رہے تھے۔‘
سنہ 2017 میں میتھیس نے بطور فوٹوگرافر کیریئر کا آغاز کیا تھا اور لریسا کا فوٹو شوٹ کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے لریسا کی تصاویر فیس بُک اور ان سپلیش پر ان کی مرضی سے شیئر کی تھیں۔
’اس تصویر پر 57 کروڑ ویوز آ چکے ہیں۔‘
اب انھوں نے ان سپلیس نامی ویب سائٹ سے یہ تصاویر ڈیلیٹ کر دی ہیں۔
برازیلین فوٹوگرافر کہتے ہیں کہ ’میں نے یہ تصاویر خوف کی وجہ سے ڈیلیٹ کی ہیں کیونکہ ان کا غلط استعمال کیا جا رہا تھا۔ میں یہ سوچ کر ڈر رہا تھا کہ جن دیگر لوگوں کی تصاویر میں نے لی ہیں کہیں ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا نہ ہو جائے۔‘
میتھیس اور لریسا دونوں ہی آج تک انڈیا نہیں گئے اور سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا کے دوسرے کونے میں ہونے والے ایک واقعے سے کیسے ان کی زندگیاں پلٹ کر رہ گئی ہیں۔
ہم نے میتھیس سے پوچھا کہ ان تصاویر سے اگر کسی الیکشن فراڈ کا پردہ فاش ہوتا ہے تو کیا یہ ایک مثبت چیز ہو گی؟
انھوں نے جواب دیا کہ ’میرے خیال میں یہ ایک مثبت چیز ہو گی لیکن مجھے ایسی کسی تفصیل کا علم نہیں۔‘
لریسا جو کبھی اپنے ملک سے باہر نہیں گئیں، کہتی ہیں کہ ’میں تو برازیل کے انتخابات پر توجہ نہیں دیتی، کسی اور ملک کے انتخابات تو دور کی بات ہے۔‘