کنسٹرکشن کے کاموں میں جدت ضروری، شہرمالیگاؤں میں CEDAM اور گو گرین کمپنی کے مشترکہ تعارفی پروگرام کا کامیابی سے انعقاد
مالیگاؤں: ( رضوان احمد) مالیگاؤں شہر میں "سول انجینیئرز اینڈ ڈرافٹس مین ایسوسی ایشن مالیگاؤں"(CEDAM) کے صدر انجینئرعرفان احمد صاحب کی رہنمائی میں اور " گو گرین کنسٹرکشن سولوشن" کے تعاون سے شہر کے تمام سول انجینئر کے لیے ایک گیٹ ٹوگیدر پروگرام میں منعقد ہوا۔
مورخہ 8 نومبر 2025 شام 7 بجے سے شروع ہونے والے اس پروگرام میں کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر بھوشن کھیرنار صاحب اور مالیگاؤں زون کے ذمہ دار آبھاصاحب جادھو اور گوپال جادھو نے خصوصی شرکت کی۔
سیڈم کی جانب سے نمائندگی کے لئے صدر انجینئر عرفان احمد صاحب، انجینئر شاہد محمود صاحب، نائب صدر مسعود گلنارصاحب،سیڈم سیکرٹری امتیاز احمد صاحب چمڑے والے، انجینئر امتیاز احمد صاحب، انجینئر راشد صاحب، انجینئر حفظ الرحمن صاحب، انجینئر عمران صاحب اور خصوصی طور پر منصورہ پولیٹیکنک کے پرنسپل پرفیسر یعقوب سرموجود رہے۔
پروگرام کے دوران گو گرین کمپنی کے ذمہ داران نے بتایا کہ کمپنی 11 سال سے بلاک اینٹ کی فیلڈ میں کام کر رہی ہے اور آج 100 کروڑ سے زیادہ کا ٹرن اور رکھتی ہے۔ یہ بلاکس وزن میں ہلکے، مضبوط، ماحول دوست ، آگ سے بچاؤ کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس کے استعمال سے 30 پرسنٹ تک خرچ کی بچت کی جا سکتی ہے اس لیے اس کے اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
انجینیئر شاہدمحمود صاحب نے اپنی مخاطبت میں نئے ڈگری ہولڈرز کو بڑے شہروں کا رخ کر کے تجربہ حاصل کرنے پر زور دیا۔
انجینئر عرفان احمدصاحب نے شہریان کے تعمیر اور ڈیولپمنٹ کی جانب بدلتے رجحان کی ستائش کی اور شہر کی تعمیر ترقی پر زور دیا۔
پروگرام میں گو گرین کمپنی کے مقامی ہیڈ آبھا صاحب جادھو نے اپنی باتوں میں کمپنی کے AAC بلاک اینٹ کے تعلق سے بتایا کہ بہت سارے انجینئر نے ہم پر بھروسہ دکھایا، ہمارے بلاک کا استعمال اپنی تعمیرات میں کیا، اوراس کے استعمال سے 25 سے 30 فیصد تک خرچ ، وقت اور سمنٹ کی بچت کی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ بلاک کی دیواریں خوبصورت ہوتی ہیں اور ان پر آسانی سے "وال پٹی" کا استعمال کر کے فوری تعمیرات کی جا سکتی ہیں۔ شہریان کی جانب سے کمپنی کے بلاک کی ڈیمانڈ پر کمپنی بتائی ہوئی جگہ پر وقت پرمہیا کرائے گی۔ آخر میں انہوں نے سیڈم کا اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کمپنی کے منیجنگ ڈائرکٹربھوشن کھیرنار صاحب نے گوکرین کمپنی کے بلاک کی افادیت بتائی اور حاضرین کے سوالات کا اطمینان بخش جواب دیا۔
پروگرام کی نظامت عبدالرحمن پرنس سے کی۔ ٹائٹانک بزنس ہب کے مینیجر مزمل احمد، انجینئر امتیاز احمد، انجینئر راشد احمد، رضوان سر (اے۔ٹی۔ ٹی) اورٹائٹانک ٹیم کے ممبران نے پروگرام کے تمام انتظامات کئے اور پروگرام کو کامیابی کے ساتھ ہمکنار کیا ۔ میڈیا کے نمائندگان کثیر تعداد میں موجود رہے۔ تمام حاضرین کے لیے بہترین ضیافت کا انتظام کیا گیا۔
ڈاکٹر منظور حسن ایوبی کالج آف ایجوکیشن بی ایڈ میں طلباء و طالبات کو خوش آمدید و استقبالیہ
سٹیزن کیمپس میں جاری ڈاکٹر منظور حسن ایوبی کالج آف ایجوکیشن بی ایڈ (چار سالہ سیمسٹر پیٹرن کورس) ایف واۓ بی ایڈ فرسٹ سیمسٹر میں طلباء و طالبات کو خوش آمدید کہا گیا اور سبھی کا استقبال کیا گیا اس موقعے پر سٹیزن کیمپس کے رکن ڈاکٹر ایوبی معاذ احمد صاحب نے تمام ہی طلباء و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے استقبالیہ کلمات ادا کیے- کالج کے پرنسپل ڈاکٹر انصاری شاہد لطیف سر و سردار پرائمری اسکول کی ہیڈ مسٹریس محترمہ ایوبی پروین میڈم نے بھی آۓ ہوۓ طلباء و طالبات کا ویلکم کیا اس موقعے پر کالج کے اسٹاف ممبران بہ نفس نفیس موجود تھے-
ش ن الف ڈاکٹر منظور حسن ایوبی کالج آف ایجوکیشن مالیگاؤں
22 سال مکمل ہونے پر سیف نیوز کی جانب سے صدر و اراکین ادارہ نثری ادب شاندار کا استقبال
مورخہ 25 اکتوبر 2025ء بروز سنیچر کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس میں ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(229) میں ادارہ نثری ادب کو تسلسل سے اردو زبان و ادب کی ترقی ترویج و اشاعت میں اپنا کردار ادا کرنے ہوۓ 22 سال مکمل ہونے پر سیف نیوز کی جانب سے صدر و اراکین ادارہ نثری ادب کا شاندار استقبال کیا گیا اس نشست کی صدارت کے فرائض محمد رضا سر (چئیرمین ایم ایس ای) نے انجام دیۓ قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی نے (کہانی صبح کا بھولا) رشید آرٹسٹ نے (افسانہ زندگی) ہارون اختر نے(افسانہ روبوٹ) منصور اکبر نے(افسانہ کالا سلام)اور عزیز اعجاز نے (افسانہ خوشبو کا سفیر) پیش کیں- پیش کی گئی تخلیقات پر تنقید و تبصرے ہوۓ- سیف نیوز کی جانب سے صدر و اراکین کا استقبال کیا گیا اور ایک خوبصورت میمنٹو بھی پیش کیا گیا نشست میں ڈاکٹر اقبال برکی صاحب کی کہانی کی کتاب روبوٹ کا اجراء بھی عمل میں آیا- نشست میں خیال انصاری(مدیرخیراندیش)جاوید انصاری (جلگاؤں آکاش وانی) پرنسپل احمد ایوبی سر کے علاوہ اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ و عوام الناس شریک رہے- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر نے انجام دیۓ ڈاکٹر اقبال برکی صاحب نے شکریہ ادا کیا -
مولاناآزادؒ کو فراموش کرنے پر سابق طلبہ نے احتجاجاً
مالیگائوں ہائی اسکول انتظامیہ کو امام الہند کا فوٹو فریم تحفہ دیا
مالیگائوں ، ۱۱؍ نومبر ، نامہ نگار
قومی یومِ تعلیم اور مولانا ابوالکلام آزاد ؒکے یومِ پیدائش کے موقع پر مالیگائوں ہائی اسکول کے سابق طلبہ کی تنظیم OSOکی جانب سے آج مالیگائوں ہائی اسکول انتظامیہ کو مولانا آزاد کا فوٹو فریم تحفتاً پیش کیا گیا ۔ جسے انجمن کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر عرفان احمد رحمانی نے قبول کیا اور وعدہ کیا کہ میں اس فریم کو سینئرکالج آفس میں لگوا دوں گا ۔ واضح رہے کہ ایک سال قبل خطیر سرمایہ سے تعمیر شدہ مالیگائوں سینئرکالج کے پرنسپل آفس میں نریندر مودی سے لے کر گاندھی جی ، ڈاکٹر امبیڈکر ، اور ساوتری بائی پھلے تک کے ایک درجن قومی راہ نمائوں کی تصاویر آویزاں تھی لیکن امام الہند اورآزاد ہند کے اولین وزیرِ تعلیم مولانا آزاد کی تصویر نہیں لگائی گئی تھی ۔ اس لئے احتجاجاً آج سابق طلبہ نے ایک فوٹو فریم انجمن کو ہدیہ دیا۔ نیز قومی یومِ تعلیم کی مناسبت سے کیمپس میں جگہ جگہ مولانا آزاد کی تصویر چسپاں کی گئی اور ہورڈنگ آویزاں کی گئی ۔ جونیئر کالج کی ملنسار پرنسپل راشدہ انصاری صاحبہ نے سابق طلبہ کو اپنا اسٹیج فراہم کیا جہاں OSOکے کنوینر عبدالحلیم صدیقی نے کالج کے طلبہ کے روبرو مولانا آزاد اور قومی یومِ تعلیم کے موضوع پر اظہار خیال کیا ، اور پرنسپل صاحبہ کو بھی مولانا آزاد کی فوٹو فریم کا تحفہ پیش کیا گیا۔ یاد رہے کہ سابق طلبہ کو آج یہاں مولانا آزاد ڈے منانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور گذشتہ بیس سالوں میں پہلی بار بڑی مالیگائوں ہائی اسکول کیمپس میں یومِ آزاد مجبوراً منایا گیا ۔
اس موقع پر چیئرمن محمد اسحق سیٹھ زری والاکےفرزند محفوظ الرحمن سیٹھ زری والاسے انکے آفس میں ملاقات کرکے ایک ماہ قبل دیئے گئے دس نکاتی مطالباتی میمورنڈم پر رائونڈ ٹیبل میٹنگ کے وعدہ کو یاد دلایا اور کہا کہ سابق طلبہ انجمن کی طرف سے مذاکرات کیلئےمدعو کئے جانے کے منتظر ہیں ۔ قومی یوم تعلیم کی اس سرگرمی میں پروفیسر رضوان خان، ڈاکٹر محمد مصطفی ہندوستان والا، ایڈوکیٹ ہدایت اللہ نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کی ۔ دیگر شرکا میں ظفر قادری ، نہال ملک ، اظہر کامریڈ،ظہیر انصاری ، عروج ہاشمی ، الطاف نوبل ، اشعر لال املی اور عبداللہ مبارک وغیرہ شامل تھے ۔