بہاراسمبلی انتخابات، دوسرے اورآخری مرحلے میں 20 اضلاع کی 122 سیٹوں پر ووٹنگ
بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے آج (11 نومبر) کو 20 اضلاع کی 122 سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہورہی ہے ۔آزادانہ و منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ان اضَلاع میں 400,000 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں3.7کروڑ ووٹر 1,302 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ یہ مرحلہ سیاسی طور پر بہت اہم ہے، کیونکہ تین پارٹیوں ریاستی صدور، 12 وزراء، ایک سابق نائب وزیر اعلیٰ اور ایک سابق اسمبلی اسپیکر سمیت کئی اہم شخصیات کا وقارداؤ پر ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 45 ہزار 399 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (CAPF ) کی تقریباً 1,000 کمپنیاں پہلے ہی سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، بہار پولیس کے 60,000 سے زیادہ اہلکار اور ہوم گارڈز سمیت 150,000 دیگر اہلکار تعینات ہیں۔اکھاڑے میں کئی قدآور لیڈران
اس مرحلے میں کئی اہم شخصیات کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ تین بڑی پارٹیوں کے ریاستی صدور بھی میدان میں ہیں، جن میں گووند گنج سے ایل جے پی (رام ولاس) کے صدر راجو تیواری، کٹمبا سے کانگریس صدر راجیش رام اور ٹیکاری سے ایچ اے ایم کے ریاستی صدر انل کمار شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، سابق نائب وزیر اعلیٰ ترکیشور پرساد یادو بھی کٹیہارسے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ جبکہ سابق اسمبلی اسپیکر ادے نارائن چودھری سکندرا میں اکھاڑے میں ہیں۔ نتیش حکومت کے کئی وزراءبھی میدان میں ہیں، جن میں سپول سے بجیندر پرساد یادو، جھانجھر پور سے نتیش مشرا، چھتہ پور سے نیرج سنگھ ببلو، پھول پراس سے شیلا منڈل، اور بتیا سے رینو دیوی شامل ہیں۔دہلی دھماکے کے بعد سیکورٹی سخت
دہلی میں لال قلعہ کے قریب دھماکے کے بعد بہار پولیس نے ریاست بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ڈی جی پی ونے کمار نے تمام ایس پیز کو حساس علاقوں، پولنگ اسٹیشنوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس ٹرمینلز پر سیکورٹی سخت کرنے کی ہدایت دی ہے۔
سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں۔ ڈی جی پی نے کہا کہ مرکزی فورسز اور ریاستی پولیس کی مشترکہ ٹیمیں گشت بڑھا رہی ہیں۔ سرحدی علاقوں اور نکسل سے متاثرہ علاقوں میں ڈرون نگرانی کی جا رہی ہے۔ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو ہوگی۔
لال قلعہ دہلی کے قریب خوفناک کار دھماکہ، 9 افراد ہلاک ،کئی زخمی،دھماکہ سے کئی کاروں میں لگی آگ
لال قلعہ دہلی کے قریب خوفناک دھماکہ، 9 افراد ہلاک، علاقے میں سراسیمگی
دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب آج شام ایک زوردار دھماکے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکہ لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے نزدیک اس وقت ہوا جب وہاں ایک سفید رنگ کی کار کھڑی تھی۔ اچانک اس گاڑی میں زوردار دھماکہ ہوا جس سے نہ صرف وہ کار مکمل طور پر جل گئی بلکہ قریب کھڑی دو دیگر گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اردگرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، سڑک پر ملبہ پھیل گیا اور لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ فضا میں دھوئیں کے بادل چھا گئے اور کچھ دیر کے لیے علاقے میں کہرام برپا ہوگیا۔
مقامی لوگوں نے فوراً پولیس اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس اور فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ فائر فائٹرز نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔ تاہم، جائے وقوعہ پر تباہی کے مناظر انتہائی خوفناک تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جن میں کچھ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ دہلی پولیس کے سینئر افسران نے موقع کا معائنہ کیا اور بم اسکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ فی الحال دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم سیکیورٹی ایجنسیاں دہشت گردانہ زاویے سے بھی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔
دھماکے کے بعد لال قلعہ اور اس کے اطراف کے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ دہلی میٹرو انتظامیہ نے لال قلعہ اسٹیشن کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
دہلی حکومت نے ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے واقعے کی مکمل انکوائری کا حکم دیا ہے۔
دھماکے کے وقت علاقے میں کافی رش تھا، اس لیے اگر فائر بریگیڈ فوری طور پر نہ پہنچتی تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
زہران ممدانی کی ٹیم میں شامل پاکستانی نژاد پروفیسر لینا خان کون ہیں؟
نیو یارک کے نومنتخب میئر زہران ممدانی نے اپنی ٹرانزیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے جس کی کو چیئرز میں پاکستانی نژاد امریکی پروفیسر لینا خان سمیت چار خواتین شامل ہیں۔
ٹرانزیشن ٹیم کا کام زہران ممدانی کے لیے نیو یارک کی نئی انتظامیہ تشکیل دینا ہو گا۔
زہران ممدانی کی ٹرانزیشن ٹیم میں لینا خان کے علاوہ سابق ڈپٹی میئر ماریا ٹوریز سپرنگر، یونائیٹڈ وے آف نیو یارک کی سربراہ گریس بونیلا، ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کی سابق ڈپٹی میئر میلانی ہرٹزوگ اور پولیٹیکل کنسلٹنٹ ایلانا لیوپولڈ شامل ہیں۔
زہران ممدانی کی ٹرانزیشن ٹیم کی کو چیئر بننے پر لینا خان کا کہنا ہے کہ ’ٹرانزیشن ٹیم کا حصہ بننا ایک اعزاز کی بات ہے اور میں دیگر کو چیئرز کے ساتھ مل کر ایسی انتظامیہ تشکیل دینے کے لیے پُرجوش ہوں جو پہلے ہی دن سے اپنا کام شروع کر سکے اور نیو یارک کے تمام لوگوں کے لیے کام کر سکے۔‘
36 سالہ پاکستانی نژاد قانون کی پروفیسر لینا خان سابق صدر جو بائیڈن کی حکومت میں فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔لینا خان کون ہیں؟
لینا خان برطانیہ میں آباد ایک پاکستانی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔ جب وہ 11 برس کی ہوئیں تو ان کا خاندان امریکہ ہجرت کر گیا تھا۔
امریکہ میں ہی ان کی تعلمیم مکمل ہوئی اور کچھ عرصہ قبل انھوں نے ٹیکساس کے ایک کارڈیالوجسٹ شاہ علی سے شادی کی۔ وہ ولیمز کالج اور ییل لا سکول سے فارغ التحصیل ہیں۔
لینا خان نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے شعبہِ قانون میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے چکی ہیں، جہاں وہ اجارہ داریوں کو کنٹرول کرنے کے قوانین (اینٹی ٹرسٹ لا)، صنعتوں کے بنیادی ڈھانچے کے قانون، اور اجارہ داریوں کی روک تھام کی روایات کے بارے میں پڑھاتی ہیں اور تحقیقی مقالے لکھتی رہی ہیں۔ان کے اینٹی ٹرسٹ قوانین پر تحقیقاتی مقالے کو معتبر حلقوں میں بہت زیادہ سراہا گیا ہے اور اُن پر انھیں کئی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ اور یہ تحقیقاتی مقالے ییل لا جرنل، ہارورڈ لا ریویو، کولمبیا لا ریویو اور شکاگو یونیورسٹی لا ریویو میں شائع ہونے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
اس سے قبل لینا خان امریکی کانگریس کی ہاؤس جوڈیشل کمیٹی کی ذیلی کمیٹی برائے اینٹی ٹرسٹ قوانین، کمرشل اور انتظامی قانون کے وکیل کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں، جہاں انھوں نے ڈیجیٹل مارکیٹوں میں ذیلی کمیٹی کی تحقیقات میں رہنمائی کی۔
پروفیسر لینا خان فیڈرل ٹریڈ کمیشن میں کمشنر روہت چوپڑا کے دفتر میں قانونی مشیر اور اوپن مارکیٹس انسٹیٹیوٹ میں قانونی ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں۔ماضی میں لینا خان کو امریکی میگزین ٹائم کی 100 متاثر کن رہنماؤں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔
ٹائم کی سرِفہرست 100 رہنماؤں کی فہرست میں ان ابھرتے ہوئے لیڈروں کی خدمات کا ذکر کیا گیا تھا جو مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
زہران ممدانی کی ٹرانزیشن ٹیم میں لینا خان کی شمولیت پر سوشل میڈیا صارفین بھی تبصرے اور تجزیے کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
بینا رضا نامی ایک صارف نے ایکس پر لوگوں کو یاد دلایا کہ بطور فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی سربراہ لینا خان ’کورپوریٹ اجارہ داریوں کے خلاف سخت مؤقف‘ رکھتی تھیں اور ’صارفین کے حقوق‘ کے تحفظ کے لیے ایک توانا آواز تھیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جب ایک صارف نے انھیں ’پاکستانی نژاد سوشلسٹ‘ کہہ کر مخاطب کیا تو کئی صارفین نے اس پر اعتراض اُٹھایا۔
لی فینگ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’وہ ایک امریکن ہیں۔ ان کی پالیسیوں یا آئیڈیاز سے اختلاف کرنے میں مضائقہ نہیں لیکن ان کی قومیت پر بات کرنا یا خاندان کی ذاتی معلومات شائع کرنا غلط کام ہے۔‘