لال قلعہ دھماکے میں سامنے آیا 'فدائین' اینگل ، جانئے کون ہے جیش محمد کی یہ خونخوار خاتون کمانڈر ؟
دہلی: پیر کی رات دارالحکومت دہلی میں ہونے والے کار دھماکے کو اب جیش محمد کے خواتین ونگ سے جوڑا جا رہا ہے۔ بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد کے ساتھ پکڑی گئی لکھنؤ کی ڈاکٹر شاہین شاہد کی گرفتاری کے بعد یہ شک مزید گہرا ہوگیا ہے۔ یہ گرفتاری دہلی دھماکے سے ٹھیک پہلے ہوئی تھی ۔ دہلی پولیس کے ذرائع نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا ہے کہ شاہین کا جیش محمد کے خواتین ونگ سے تعلق ہونے کا شبہ ہے اور دہلی دھماکے سے اس کے تعلق کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر شاہین شاہد کو پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد کے خواتین ونگ جامعۃ المومنات کی کمان سونپی گئی تھی، جسے مسعود اظہر کی بہن سعدیہ اظہر چلاتی ہیں۔ سعدیہ کا شوہر مسعود آپریشن سندور کے دوران ہلاک ہونے والے خاندان کے 10 افراد میں شامل تھا۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ شاہین جیش محمد (JeM) اور انصار غزوات الہند (AGuH) سمیت کئی پاکستان میں مقیم دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی ۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان سے کئی بھارت کے کئی ریاستوں میں دہشت گردانہ حملے کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے تھے۔
جیش خواتین ونگ کیا ہے؟
واضح رہے کہ دہشت گرد شوہروں کی بیواؤں اور معاشی طور پر کمزور خواتین کو جیش محمد کی خواتین کی شاخ جامعۃ المومنات میں شامل ہونے کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے پاکستان میں قائم اس تنظیم میں خواتین کو بھارت مخالف سرگرمیوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔انہیں ڈیجیٹل کلاسز میں ہیٹ اسپیچ دی جارہی تھی ۔ یہی نہیں مرد دہشت گردوں کی طرح خواتین کو بھی خودکش بمبار بننے کی جسمانی تربیت دی جا رہی تھی۔
آپریشن سندورکے دوران دہشت گرد مسعود اظہر کے خاندان کے 10 افراد مارے گئے تھے ۔ یہ تمام دہشت گرد کیمپوں میں موجود تھے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ اس کے بعد مسعود اظہر کا روتے ہوئے ایک بیان وائرل ہوا تھا ، جس میں اس نے کہا تھا کہ بہتر ہوتا کہ میں بھی اس حملے میں مارا جاتا۔
عالمی یوم اردو 2025: لکھنؤ کی سرزمین سے پھیلا الفاظ کا جادو، اردو نے یہاں پایا اپنا رنگ اور انداز
لکھنؤ: عالمی یوم اردو آج 9 نومبر کو منایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد اردو زبان کو عوام کے لیے قابل رسائی بنانا ہے، تاکہ نہ صرف اردو بولنے والے بلکہ غیر اردو داں طبقے بھی اس زبان کو سیکھ اور سمجھ سکیں۔ یہ دن اردو کے عظیم شاعر اور مفکر ڈاکٹر علامہ اقبال کا یوم پیدائش بھی ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اردو کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے دنیا بھر میں ایک نئی پہچان بھی دی۔ اردو ماہرین کا کہنا ہے کہ اس زبان نے لکھنؤ میں اپنا رنگ اور انداز پایا۔
لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جانثار عالم نے کہا کہ آج کے دور میں اردو سیکھنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ آج کے نوجوانوں میں اردو سیکھنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ ادب، اداکاری، شاعری یا صحافت کی دنیا کے خواہشمندوں کو اردو میں حقیقی سہارا ملتا ہے۔ اردو سیکھے بغیر ان شعبوں میں کامیابی مشکل ہے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ ہندی صحافت میں بھی اردو کا اثر بڑھ گیا ہے۔ آج 50 سے 60 فیصد سرخیاں اردو الفاظ پر مشتمل ہیں۔ اردو ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھی نظر آتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ علامہ اقبال کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر عالم نے وضاحت کی کہ اقبال نے اردو کو صرف ایک زبان نہیں بلکہ قومی جذبہ بنا دیا۔ "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" ان کا ترانہ ہے جس نے ہندوستان کو اتحاد کا پیغام دیا۔ یہاں تک کہ 1984 میں جب ہندوستان کا پہلا خلاباز خلا میں گیا تو اس نے بھی یہی کہا تھا ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘۔
لکھنؤ کی اردو کا ایک اسلوب اور ایک شناخت ہے: جانثار عالم بتاتے ہیں کہ اردو کی بنیاد دہلی میں پڑی، دکن تک پھیلی، اور پھر لکھنؤ میں اس کا اپنا ذائقہ اور اسلوب پایا۔ لکھنؤ کی اردو کا لہجہ، ثقافت اور مٹھاس کو آج بھی دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔اردو مذہب سے بالاتر ہے: معروف شاعر اظہر اقبال کہتے ہیں کہ آج اردو کسی مذہبی شناخت تک محدود نہیں رہی۔ ہم بہت سے ہندو نوجوانوں کو جانتے ہیں جو اردو میں شاعری کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے زبان کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ آج نوجوان آن لائن اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور دنیا میں پہچان بنا رہے ہیں۔
اردو میں مٹھاس ہے: لکھنؤ کی نوجوان شاعرہ سائرہ روبینہ ایاز کہتی ہیں، " عالمی یوم اردو ہمارے لیے صرف ایک تاریخ نہیں ہے، بلکہ ایک احساس ہے۔ مجھے بچپن سے ای ٹی وی اردو کے مشاعرے سن کر شاعری کا شوق پیدا ہوا تھا۔ میں نے اپنا پہلا مشاعرہ دہلی میں سنایا، اور اب ملک بھر میں سنا رہی ہوں۔ سوشل میڈیا نے نئی نسل کی حوصلہ افزائی کی ہے۔" لوگ کہتے ہیں کہ اردو کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج معاشرے کا ہر طبقہ اس زبان کی مٹھاس کی طرف مائل ہے۔مشاعرے ایک ایسا پلیٹ فارم ہیں جو اردو کی روح کو زندہ رکھتا ہے: نوجوان شاعر یاسر صدیقی کہتے ہیں، "مشاعروں نے اردو کو زندہ رکھا ہے۔ آج بھی ہندوستان اور بیرون ملک منعقد ہونے والے مشاعروں میں ہندوستانیوں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ اردو ہماری ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ اردو شاعری کے چاہنے والے بیرون ملک بھی موجود ہیں۔"
دانش محل: ایک کتاب، ایک جذبہ: دانش محل، لکھنؤ کے امین آباد میں کتابوں کی مشہور دکان ہے، جس نے 1939 سے اردو کی خدمت کی ہے، اب مولوی گنج منتقل ہو گئی ہے۔ دکان کے مالک محمد نعیم جذباتی انداز میں کہتے ہیں، "یہ صرف ایک دکان نہیں، یہ ایک جذبہ ہے۔ میرے والد محمد نسیم نے اسے شروع کیا تھا۔ یہاں ادیب، شاعر اور پروفیسر بیٹھا کرتے تھے۔ اب جب ہم دکان خالی کر رہے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ایک دور ختم ہو گیا ہے۔ لیکن اگر میں زندہ ہوں تو دانش محل زندہ رہے گا۔" اب دانش محل ایک نئے مقام پر دوبارہ کھلے گا اور اس بار مذہبی کتابوں کے ساتھ اردو ادب کی نئی کتابیں بھی وہاں دستیاب ہوں گی۔اردو کا سفر: مورخین کے مطابق، اردو کی ابتدا 12ویں صدی میں ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے ہوئی۔ یہ ایک رابطہ زبان تھی، جسے اس وقت ہندوی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ زبان مختلف ناموں سے جانی جانے لگی، جیسے ہندوی، ریختہ، دکنی، ہندوستانی، دہلوی، زبان ہندوستان اور دکنی جیسے کئی ناموں سے جانا جاتا ہے۔ مغلوں کی راجدھانی دہلی کو اس زبان کی ترقی کے لیے ایک اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔
دل کی بیماری کی تین خاموش علامات جنہیں نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے
دل کی بیماری دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے اور اکثر یہ بغیر کسی علامت کے خاموشی سے جسم میں سرایت کر جاتی ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر اس بیماری کی چند ابتدائی علامات کو پہچان لیا جائے تو بڑے خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔
دل کے امراض پر تحقیق کرنے والے معروف سائنس دان اور ’آئی ایم ایٹ ہیلتھ‘ کے چیف نیوٹریشن آفیسر ڈاکٹر جیمز ڈی نیکولانٹونیو نے 24 اکتوبر کو انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں دل کی بیماری کی تین ابتدائی علامات کی نشاندہی کی ہے جنہیں ہر شخص کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔جنسی کمزوری
ڈاکٹر جیمز کے مطابق ’تقریباً نصف افراد جو دل کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں، انہیں جنسی کمزوری کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ علامت دل کی بیماری سے پانچ برس قبل ظاہر ہو سکتی ہے۔‘
یہ مسئلہ دراصل خون کی روانی میں کمی اور شریانوں میں چربی جمنے کی وجہ سے ہوتا ہے بالخصوص ان شریانوں میں جو جنسی اعضاء کو خون فراہم کرتی ہیں۔
اکثر افراد اس علامت کو نظرانداز کر دیتے ہیں حالانکہ یہ دل کے نظام میں خرابی کی ابتدائی نشانی ہو سکتی ہے۔ہلکی سرگرمی پر سانس پھولنا
ڈاکٹر جیمز ڈی نیکولانٹونیو کے مطابق ’اگر آپ چند سیڑھیاں چڑھنے یا ہلکی ورزش کرنے پر غیرمعمولی طور پر سانس پھولنے کا تجربہ کرتے ہیں اور خاص طور پر اگر اس کے ساتھ سینے میں درد یا گھٹن محسوس ہو تو یہ دل کی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے۔‘
یہ علامت دل کی کارکردگی میں کمی یا کورونری آرٹری بیماری کے ابتدائی مراحل کی نشاندہی کرتی ہے اور اسے ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
پاؤں، ٹخنوں یا ٹانگوں میں سوجن
ڈاکٹر جیمز خبردار کرتے ہیں کہ ’پاؤں، ٹخنوں یا نچلی ٹانگوں میں سوجن دل کے ناکارہ ہونے یا پھر گردوں کی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔‘
جسم میں پانی جمع ہونا ایک عام مگر اکثر نظرانداز کی جانے والی علامت ہے جو دل کے مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اگر یہ سوجن مسلسل رہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ دل یا گردوں کی بیماری کو بروقت پہچانا جا سکے۔
احتیاط ہی علاج ہے
ڈاکٹر جیمز ڈی نیکولانٹونیو کا مزید کہنا ہے کہ ’ان چھپی ہوئی اور عام علامات کو پہچاننا دل کے بڑے مسائل سے بچنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘
ابتدائی علاج، طرزِ زندگی میں تبدیلی اور طبی رہنمائی دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر جیمز ڈی نیکولانٹونیو نے ان میں سے کوئی علامت محسوس کرنے کی صورت میں فوراً اپنے معالج سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔