Saturday, 8 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





آئی ایس آئی ایس کے تین مشتبہ دہشت گرد گرفتار، گجرات اے ٹی ایس کی کارروائی
آئی ایس آئی ایس کے تین مشتبہ دہشت گردوں کو گجرات اے ٹی ایس نے گرفتار کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تینوں دہشت گرد کئی مہینوں سے گجرات اے ٹی ایس کے ریڈار پر تھے۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ مشتبہ دہشت گرد ہتھیاروں کے تبادلے کے لیے گجرات گئے تھے۔ وہ ملک بھر میں دہشت گردانہ حملوں کی سازش کر رہے تھے۔ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف مسلسل کارروائی جاری ہے۔

یوپی سے کنکشن
گجرات کے گاندھی نگر میں گرفتار کئے گئے تین مشتبہ آئی ایس آئی ایس دہشت گردوں میں سے دو کاتعلق اتر پردیش سےہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں مغربی اتر پردیش کے رہنے والے ہیں، جب کہ تیسرا دہشت گرد حیدرآباد کا رہنے والا ہے۔اطلاعات کے مطابق تینوں دہشت گردوں کی عمریں 30 سے ​​35 سال کے درمیان ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تینوں مشتبہ دہشت گرد تربیت یافتہ ہیں۔

واضح رہے کہ،اس سے قبل گجرات اے ٹی ایس نے القاعدہ کے پانچ دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا جن میں ایک خاتون کو بنگلورو سے پکڑا گیا تھا۔اس کے علاوہ،جولائی میں گجرات اے ٹی ایس نے القاعدہ سے وابستہ 4دہشت گردوں کو دبوچا تھا۔آئی ایس آئی ایس کی شروعات 2011-2003عراق جنگ کے دوران ہوئی۔ 2006 میں زرقاوی کی موت کے فوراً بعد، یہ گروپ کئی چھوٹے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ ضم ہو گیا تاکہ خود کو اسلامک اسٹیٹ آف عراق (ISI) کے طور پر دوبارہ قائم کر سکے۔ تاہم، 2007 کے اوائل تک، گروپ کی سرگرمیاں نمایاں طور پر کم ہو چکی تھیں۔












روس۔یوکرین جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ، روسی فوجی کی پوکروسک میں پیش قدمی
روسی فوج کی گرفت مشرقی یوکرین کے اہم ترین شہر پوکروسک کے گرد سخت ہوتی جارہی ہے۔یوکرین کسی قیمت پر،اسے اپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دینا چاہتا لیکن حالیہ دنوں میں یہاں روسی حملوں میں تیزی آئی ہے۔ اگرچہ ، اسٹرٹیجک نقطہ نگاہ سے اس علاقے کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے لیکن یہ روس کے لیے علامتی جیت ہوگی۔

یوکرین کے فوجیوں نے روس کے محاصرے کے دعوے کی تردید کی ہے تاہم زمینی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے ایک کمانڈر نے کہا کہ ہم تقریباً ہر طرف سے گھرے ہوئے ہیں۔ گولہ باری مسلسل جاری ہے۔ یوکرین کے فوجیوں کا کہنا ہے کہ، روسی افواج بڑے گروپوں کی شکل میں پیش قدمی کر رہی ہیں جن میں سے کئی ڈرون حملوں سے تباہ ہو گئے ہیں تاہم کچھ فوجی شہر تک پہنچنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ یہ حکمت عملی روسی فوجیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، لیکن کریملن ہر قیمت پر شہر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔روس کی پیش قدمی
پوکروسک کا علاقہ کسی زمانے میں یوکرین کے لیے لاجسٹک کا ایک اہم مرکز تھا، جس میں متعدد شاہراہیں اور ریل لائنیں ڈونیٹسک، کوسٹیانتینیوکا، زاپوریزیہ اور دنیپرو کو جوڑتی تھیں۔ تاہم روس کی محاصرے کی کارروائیوں اور ڈرون حملوں نے ان راستوں کو پہلے ہی غیر فعال کر دیا ہے۔ جنگ اب علامتی نہیں اسٹریٹجک بن گئی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈی آف وار کے ماہر جارج باروس کا کہنا ہے کہ پوکروسک پر قبضہ کرنے سے روس کو کوئی خاص فوجی فائدہ نہیں ملے گا۔ یہ محض سیاسی پروپیگنڈے کی فتح ہے۔

یوکرین کی مزاحمت

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق، روس نے اس خطے میں تقریباً 170,000 فوجی تعینات کیے ہیں۔ شہر میں صرف 1,200 شہری باقی ہیں، جبکہ باقی فرار ہو چکے ہیں۔ یوکرین کے ایک فوجی نے کہا کہ ہمارے پاس کافی فوجی نہیں ہیں اور نہ ہی بکتر بند گاڑیاں۔ ہمیں پیچھے ہٹنے کے احکامات نہیں ملے ہیں، حالانکہ نتیجہ سب جانتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پوتن پوکروسک کی فتح کو ڈونیٹسک اور لوہانسک پر مکمل کنٹرول کی طرف دھکیلنے کی سیاسی علامت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ روس اسے ایک انتہائی ضروری فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن یوکرین کے لیے، یہ ایک ایسی جنگ ہے جہاں تاخیر سے واپسی کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا۔

پوکروسک کی اہمیت
پوکروسک ڈونباس کے علاقے میں یوکرین کا سب سے اہم سپلائی اور ٹرانسپورٹ کا مرکز ہے۔ مشرقی محاذ پر فوج اور اسلحہ یہاں سے سپلائی کیا جاتا ہے۔ اگر روس اس شہر پر قبضہ کر لیتا ہے تو وہ ڈونیٹسک کے پورے علاقے کو کنٹرول کرنے کے قریب پہنچ جائے گا۔ روس بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے پیادہ فوج کو آگے بڑھا رہا ہے جس سے انہیں روکنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔پوکروسک میں شکست کا مطلب Kramatorsk، Sloviansk، Kostyantynivka، اور Druzhkivka جیسے شہروں کا نقصان ہوگا، جو یوکرین کا دفاعی قلعہ تصور کیا جاتا ہے۔ زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ چین کے صدر شی جن پنگ پر روس کی مدد بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ تاہم، ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات میں یوکرین مسئلہ نہیں تھا۔ انہوں نے صرف ایک کاروباری معاہدہ کیا۔















شندے کی شیو سینا یا پوارکی این سی پی، دیویندر فڑنویس کے لیے بڑا سردردکون؟
مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی قیادت میں مہاوتی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے 11 ماہ ہو چکے ہیں۔ تاہم گزشتہ 11 مہینوں میں اس حکومت کو ایک کے بعد ایک پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شائد ہی کوئی مہینہ ایسا ہوجس میں مہاوتی کی داخلی رسہ کشی کی خبرنہ آئی ہو۔

بی جے پی کی دو حلیف پارٹیاں شیوسینا اور این سی پی اس کا سبب ہیں ۔ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور اجیت پوار، جو حکومت میں ایک ساتھ بیٹھے ہیں، میٹنگ روم سے نکلتے ہی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے چیف منسٹر دیویندر فڑنویس کی پریشانی بڑھ جاتی ہے۔
دراصل ،اس حکومت کو شندے کی شیوسینا اور پوار کی این سی پی کی وجہ سے بار بار تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے وزراء پر بدعنوانی، گھوٹالے اور عدالتی مقدمات کے الزامات ہیں، جس سے بی جے پی کو مسلسل دفاع اور کرائسس مینجمنٹ کرناپڑرہا ہے۔ حال ہی میں، اجیت پوار کے بیٹے پارتھ پوار کے خلاف پونے میں ایک مبینہ زمین گھوٹالہ میں الزامات سامنے آنے کے بعد، سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ این سی پی نے شیو سینا سے زیادہ بی جے پی کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔

این سی پی کے وزراء پر الزامات
گزشتہ 11 مہینوں میں این سی پی کے وزراء نےبی جے پی کو سب سے زیادہ مشکل میں ڈالا ہے۔ مارچ میں، این سی پی کے وزیر دھننجے منڈے کو بیڈ کے سرپنچ سنتوش دیش مکھ کے قتل سے ان کے قریبی ساتھی والمک کراڈ کو جوڑنے کے الزامات کی وجہ سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ جولائی میں، وزیر زراعت مانیکراؤ کوکاٹے کو اسمبلی میں مبینہ طور پر رمی کھیلتے ہوئے ایک ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد استعفیٰ دینا پڑا۔ یہ ویڈیو این سی پی (SP) کے ایم ایل اے روہت پوار نے جاری کیا ہے۔ اب، پونے میں زمین گھوٹالے میں پارتھ پوار کے خلاف الزامات نے این سی پی کے تیسرے وزیر اجیت پوار کو تنازع میں لا کھڑا کیا ہے۔ پونے کے سرپرست وزیر کے طور پر، اجیت پوار کی پوزیشن مزید مشکل ہوگئی ہے جس سے بلدیاتی انتخابات سے قبل بی جے پی کے لیے مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔

شیوسینا کے تنازعات
شیوسینا کےوزراءسنجے شرسات، بھرت گوگاوالے اور یوگیش کدم کو بھی سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یہ این سی پی وزراء کے خلاف الزامات سے کم سنگین تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، دھننجے منڈے کو بی جے پی کے دباؤ میں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا جو حکومت کے 11 مہینوں میں واحد وزارتی استعفیٰ ہے۔ این سی پی نے شیو سینا سے زیادہ بی جے پی کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔

پونے اراضی گھوٹالہ کا اثر
پارتھ پوار پر زمین گھوٹالہ کے الزامات کی آنچ اجیت پوارتک پہنچ رہی ہے۔ اجیت پوار پر پہلے بھی 70,000 کروڑ روپے کے آبپاشی گھوٹالہ کا الزام ہے، جس کی وجہ سے انہیں ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اب، ان کے بیٹے کے خلاف نئے الزامات نے پونے کے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی۔این سی پی اتحاد کے لیے چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دی ہے۔ پونے میں بی جے پی اور این سی پی کے درمیان اصل مقابلہ ہے، اور بی جے پی اس تحقیقات کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہے۔

این سی پی کا پرانا بوجھ
این سی پی کے دامن پرپہلے ہی 70,000 کروڑ کے آبپاشی گھوٹالہ کے داغ ہیں۔ اجیت پوار اس اسکینڈل کے مرکز میں تھے، اور اب ان کے بیٹے کے خلاف الزامات نے پارٹی کی شبیہ کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پونے اراضی گھوٹالہ بلدیاتی انتخابات میں ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ اتحاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والی بی جے پی کو اس معاملے میں محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ اس سے اس کی ساکھ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
بی جے پی کی حکمت عملی 
مہایوتی میں بی جے پی کواپنے اتحادیوں کے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔ جہاں بی جے پی بلدیاتی انتخابات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں این سی پی اور شیو سینا کے وزراء کے خلاف الزامات اسے بیک فٹ پر ڈال رہے ہیں۔ پونے جیسے اہم حلقے میں بی جے پی اور این سی پی کے درمیان مقابلہ ہونے کے باوجود اتحاد کی مجبوریوں کی وجہ سے بی جے پی اجیت پوار کا دفاع کرنے پر مجبور ہوسکتی ہے۔ تاہم، جانچ کمیٹی کی تشکیل بی جے پی کی جانب سے عوام میں اپنی صاف شبیہ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام ہوسکتا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...