آج بھاجپ مخالف مسلمان۔کل پھر سے کانگریس مخالفت کریگا۔
ملک کامسلمان آج بھاجپ کا سخت ترین مخالف ھوچکا ہے۔ہر کسی کی یہ تمنا ہے کہ کسی بھی طرح بھاجپ کا اقتدار ختم ہو۔جبکہ کانگریس پارٹی کو کل مسلمانوں سے ہمدردی تھی نہ آج ہے۔بھاجپ مَخالف ذہنیت کی وجہ خود بھاجپ کا مسلم۔۔ مخالف رویہ اور برتاؤ ہے۔اگربھاجپ مودی سرکاریں مسلم مخالفت نہیں کی ہوتیں تومسلمان آج بھی کانگریس سے دوری بنائے رکھتا۔ویسے فرقہ پرستی موجد کانگریس پارٹی آج بھی مسلمانوں کی ھمدرد قطعی نہیں ہے جس کا ثبوت بھی وہ دیتے رہتی ہے
کانگریس کی مسلم مخالف ذہنیت کا اندازہ اسی سے لگ جاتا ہے کہ جب کانگریس رہنمائی میں۔انڈیا۔محاذ بنا تو اسمیں ایک بھی مسلم لیڈر کو شامل نہیں کیا گیا آور تو اور مختلف اوقات میں کانگریس نے۔۔۔سافٹ۔۔۔ھنوتوا پر عمل بھی کیا جبکہ سافٹ ھندوتوا فرقہ پرستی سے بھی زیادہ خطرناک ہے
ملک کے ہر مسائل پر آواز اٹھانے والی کانگریس قیادت نے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھایا بھاجپ مودی سرکاریں مسلمانوں پر ہر طرح کے ظلم و ستم کرتی رہیں مگر کانگریس قیادت خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ دوسری جانب دیگر ذاتوں پر ہونے والےمظالم کے خلاف آواز بھی اٹھاتی رہی ہے اور دوڑ دوڑ کرانکی خبر گیری بھی کرتی رہی ہے
گذشتہ دنوں اترپردیس کے ضلع رائے بریلی کے ۔۔اونچا ھار۔میں 38 سالہ دلت رام موہن کی۔۔ھجومی تشدد۔کے ذریعے موت ہوگئی ۔کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے اس قتل پر فورا آواز اٹھایا۔مقتول کے گھر فون کرکے تسلی دی ساتھ دینے کا وعدہ کیا یوپی کانگریس صدراجئے رائے مقتول کے گھر گٰئے سرکار کو جھنجھوڑے جسکے نتیجہ میں۔۔یوگی۔پولس نے 5 ملزمین کو گرفتار کیا جبکہ 3 ملزمین کو فرار قرار دیا ۔یوگی سرکار نے 3 پولس والوں کو معطل کیا۔۔مقتول کو انصاف ملے یہ ھم بھی چاہتے ہیں اسکے اہل خانہ کی ڈھارس بندھانا ھم بھی چاہتے ہیں ۔ہر مظلوم کو انصاف ملے یہ ھم بھی چاہتے ہیں۔مگر کانگریس قیادت مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے وقت خاموش تماشائی کیوں بن جاتی ہے کانگریس قیادت کے اسی دوغلے رویہ نے سوچنے پر مجبور کردیا ہیکہ کہیں بھاجپ مخالفت میں کانگریس کی حمایت مسلمانوں کی مہنگی نہ پڑ جائے کل پچھتانا نہ پڑے
کانگریس دور حکومت میں مسلمانوں پر جتنے مظالم ہوئے اسے لکھنے کیلیئے ایک ضخیم کتاب بھی کم پڑسکتی ہے جبکہ 1992 کے بعد تو اسمیں تیزی آگئی تھی مسلم کش فسادات کے بعد۔۔بم۔بلاسٹ۔کا دور شروع ھوا بم دھماکوں میں زیادہ تر مسلمانوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور الزام بھی مسلمانوں پر ہی لگایا جاتارہا۔برسہا برس بے گناہ مسلم ملزمین قید کیئے جاتے رہےکانگریس دور کے اسی مسلم دشمن رویے نے ملک کے مسلمانوں میں کانگریس کے تعلق سے نفرت پیدا کردیا تھا اسوقت مسلمان ۔۔کھلا دشمن چھپا دشمن ۔۔کے تحت کانگریس سے دور ہوتا گیا اور اخر 2014 میں کانگریس کی حالت یہ ھوگئی کہ۔2024 تک اسے حزب اختلاف کا درجہ تک نہیں مل سکا۔بھاجپ مودی سرکار کے عوام مخالف فیصلوں اور حد سے زیادہ بڑھے بھرشٹاچار اور عنانیت نے 2024 کے لوک سبھا چناؤ میں 100 سیٹیں حاصل کرکے کانگریس کو حزب اختلاف کا درجہ مل گیا ۔حزب مخالف لیڈر بنتے ہی کانگریس قیادت پھر سے پرانی ڈگر پر چلنے لگی جسے۔۔سافٹ ھندوتوا۔۔کا نام دیا جانے لگا
ملک کے مسلمانوں کیساتھ کانگریس۔بھاجپ۔سماج وادی۔راشٹریہ جنتادل ۔اور لگ بھگ تمسم پارٹیوں نے سوتیلا سلوک کیا ہے ملک کے مسلمانوں نے ہر پارٹی کو آزماتے آزماتے زندہ باد کرتے ہوئے آج تیسری نسل کو ۔فرقہ پرستی۔کی بھینٹ چڑھا بیٹھے ہیں پھر مسلم لیـڈروں پر بھروسہ کیوں نہیں کرتے مسلم لیڈر شپ کی اگر حمایت شروع کردیئے تو ممکن ہے حالات میں کچھ تبدیلی آجائے اس لیئے ملکی سطح پر کسی ایک یا ایک سے زائد لیڈروں کی حمایت شروع کردیں ممکن ہے نتیجہ کچھ بہتر نکل جائے
( عبدالخالق صدیقی ) صدر جنتادل سیکولر مالیگاؤں 7066280898
( پریس نوٹ) کئی برسوں سے مالیگاؤں میں گنٹھے واری خرید فروخت پر پابندی لگی ہے۔اسلیئے بہت سارے افراد پلاٹ مالک ہوتے ہوئے خریدی سے محروم رہے۔جسکی وجہ سے ان کو نیا بجلی کنکشن نہیں ملتا تھا اگر غلط ڈھنگ سے بجلی کا استعمال کرتے تو ہزاروں روپیئے کا جرمانہ لگایا جاتا رہا ہے
اس تعلق تاریخ 21 جولائی کو جنتادل سیکولر نے کمپنی کے نوڈل آفیسر۔۔کھیروڈکر صاحب کو ایک مطالباتی میمورنڈم دیا جسکی کاپی وزیر اعلئ مہاراشٹر۔۔وزیر بجلی مہاراشٹر اور سکریٹری کو بھی میمورنڈم بھیجا گیا جس پر دھیان دیتے ہوئے کمپنی نے آج ایک لیٹر دیا ہے جس میں کہا گیا ہیکہ اب اگر کسی کے نام کا 7/12 اتارہ نہ ہوگا تو اسے بھی نیا بجلی کنکشن ملیگا 7/12 نہ ہونے کی صورت میں 200 روپیوں کے اسٹامپ پر افیڈیویٹ کرنا ہوگا ساتھ میں۔ووٹر شناختی کارڈ۔۔یا۔۔آدھار کارڈ۔۔یا۔پین کارڈ ۔یا۔ڈرائیونگ لائسنس۔یا ۔۔پاسپورٹ ۔داخل کرنے پر نیا گھریلو دکان یا دھندہ بیوپار کا بجلی کنکشن مل جائیگا مزید معلومات اور رہنمائی کیلیئے جنتا دل سیکولر نائب صدر عبدالغفار 9270616010 سے رابطہ کریں یارضوان بھائی اور جنتادل سیکولر آفس انڈسٹریل کمپاؤنڈ قدوائی روڈ روم نمبر 401 پر ملاقات کریں اس طرح کی پریس نوٹ عبدالودود سالکی اشرفی نے اور صدر jds عبدالخالق صدیقی نے رونہ کی ہے
عوام و صحافی برادری مسرور،حق بہ حقدار رسید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مالیگاٶں(احتشام انصاری) قلم قدرت کی وہ عظیم نعمت ہے جسے نصیب ہو جاۓ اس سے بڑا خوش قسمت شاید ہی دنیا میں کوٸی ہوتا ہو۔ایک قلمکار اپنے قلم سے قوم و ملت کی وہ بے بہا خدمت انجام دیتا ہے جس کا ایک زمانہ معترف ہوتا ہے۔در اصل یہی اعتراف ایک قلمکار کے لیۓ گنج گراں مایہ کی حيثيت رکھتا ہے۔جو عوامی ستاٸش،اعزاز و اکرام کی صورت میں اسے حاصل ہوتا ہے۔ایسی ہی ایک شخصیت شہر عزیز کے سینیٸر ہی نہیں بلکہ اب تو بزرگ صحافی جناب انصاری احسان الرحیم صاحب کی ہے۔جنہیں حکومت مہاراشٹر نے گذشتہ روز خصوصی صحافتی ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق اردو اکیڈمی مہاراشٹر کے زیر اہتمام منعقدہ ایک باوقار تقریب میں انصاری احسان الرحیم صاحب کو یہ ایوارڈ جو پندرہ ہزار روپیہ نقد اور توصيفی سند پر مشتمل ہے،تقویض کیا گیا۔حالانکہ حکومت مہاراشٹر کی نظر انتخاب کافی تاخیر سے ان پر ہوٸی تاہم ایک مستقل مزاج،غير متنازعہ اور محنت کش صحافی کو اس اعزاز کے ملنے پر عوام اور صحافتی حلقوں میں انتہائی خوشی و مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔اور اس کو حق بہ حقدار رسید کے مصداق حکومت مہاراشٹر اور اردو ساہتیہ اکیڈمی کی ستاٸش کی جا رہی ہے۔
جناب انصاری احسان الرحیم کے قلمی سفر کے اب تک پچاس برس مکمل ہو رہے ہوں گے۔کیونکہ انہوں نے نوعمری سے ہی قلم کا دامن تھام لیا تھا۔ابتدا میں شہر اور ممبئی کے اخبارات میں مراسلے تحریر کرکے ایک بہترین مراسلہ نگار کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت اخبار بین طبقہ کے درمیان قاٸم کرنے میں کامیاب رہے۔عوامی مساٸل پر جس بے باک انداز میں انگشت نماٸی کرتے جس کی وجہ سے ان کی شہرت کا ڈنکا نو عمری میں ہی بجنے لگا تھا۔اس سے تحریک پاکر انہوں نے بطور صحافی اپنے آپ کو ملت کے حوالے کر دیا۔نامساعد حالات میں بھی قلم کاساتھ نہیں چھوڑا۔
غور طلب ہے کہ گذشتہ دو برس قبل ہی انصاری احسان الرحیم کی زندگی بھر کی کاوش کا مجموعہ آٸینہ صحافت کے عنوان شاٸع ہو چکا ہے۔جو بلا شبہ اس کہنہ مشق صحافی کی قلمی جدوجہد کا آٸينہ دار ہے۔موصوف شہر کے روزنامہ ڈيلی کے بانیان میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ شہر سے شاٸع ہونے والے مختلف روزنامہ اخبارات میں بھی اپنے قلم کے جوہر دکھا چکے ہیں۔فی الحال روزنامہ نشاط نیوز کے کارگذار مدیر کی حيثيت سے صحافتی سفر جاری ہے۔
زندگی میں نشیب و فراز کی بھرمار رہی لیکن انہوں نے ان صبرآزما لمحات میں بھی قرطاس و قلم سے اپنا رشتہ استوار رکھا اور استقلال کے ساتھ ان کا رخش قلم تیز گامی کا مظہر رہا۔ایک طرف خانگی ذمہ داریاں دوسری طرف ملت کی آبیاری ان دونوں کے مابین توازن کے ساتھ زندگی کی صبح و شام ہوتی رہی۔اس دوران بچوں کی تعلیم و تربیت سے بھی کبھی غافل نہیں رہے۔جس کا ثمرہ ہے کہ ان کے فرزندان میں ممبئی ہاٸی کورٹ کے نامور قانون داں ایڈوکیٹ شاہد ندیم جمیعتہ علماء لیگل ایڈ کمیٹی کے حوالے سے ملک گیر شہرت کے مالک ہیں۔دوسرے پروفیسر ساجد ندیم منصورہ انجینرنگ کالج سے منسلک ہیں اس کے ساتھ ہی اپنے والد کی صحافتی وراثت بھی نباہ رہے ہیں۔نیز تیسرے فرزند زاہد ندیم طبی میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اور یہ تمام اپنے اپنے شعبہ حيات میں کامیاب و کامران ہیں۔جو انصاری احسان الرحیم کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔
جناب موصوف کی زندگی سماج و معاشرے کے سامنے کھلی کتاب کے مانند ہے۔ایک علمی گھرانے کے غربت زدہ ماحول میں پرورش پانے کے باوجود اپنی محنت اور لگن سے سماج میں ایک باعزت و پروقار مقام حاصل کیا۔زندگی کی ساتویں دہاٸی میں قدم رکھ چکے ہیں اس طویل صحافتی سفر میں کبھی تنازعات کا شکار نہیں ہوۓ۔متوازن قلم نگاری نے انہیں قبول عام کی سند عطا کردی۔
درحقیقت عوام نے تو انہیں بہت عرصہ قبل ہی اپنی ستاٸش کے اعزاز سے نواز کر بہترین صحافی کے مقام و مرتبہ پر فاٸز کر دیا تھا۔لیکن اب حکومت مہاراشٹرنے ان کی صحافتی خدمات کا اعتراف کر کے اس عوامی احترام پر اپنی تصدیق مہر ثبت کر دی ہے۔جو اس صحافتی ایوارڈ کی صورت میں جناب انصاری احسان الرحیم صاحب کی انتھک،بے لوث اور بےغرض صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
ایک کہنہ مشق بزرگ صحافی انصاری احسان الرحیم کی اس اعزاز سے سرفرازی پر شہر کی تمام ہی ممتاز دینی،سماجی،سیاسی اور صحافتی شخصيات نے انتہاٸی خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوۓ ان کا صحافتی سفر تادیر جاری رہے ایسی نیک خواہشات بھی پیش کی ہیں۔