مالیگاؤں ۔٩ستمبر ٢٠٢٥ شام میں اردو لائبریری کے زیر اہتمام ایک جدید انفارمیشن سینٹر کا افتتاح لائبریری کے چیرمین الحاج خالد عمر صدیقی صاحب کے دست مبارک سے عمل میں آیا ۔
اس سینٹر کے قیام کا مقصد طلباء و نوجوانوں کو مقابلہ جاتی امتحانات ،سرکاری ملازمتوں ،جدید مضامین ،نیز ریاستی و مرکزی حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں سے متعلق بروقت اور مستند معلومات فراہم کرنا ہے۔ علاوہ ازیں بچوں اور نوجوانوں کو اردو،ہندی،مراٹھی اور انگریزی معیاری رسائل و کتب سے واقف کروانا ہے۔
اطلاعات و اعلانات نہ صرف لائبریری کے نوٹس بورڈ پر بلکہ لائبریری کے واٹس ایپ گروپ ،فیس بک پیج اور انسٹا گرام اکاؤنٹ کے ذریعے بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوسکیں۔
افتتاحی تقریب میں ٹرسٹ کے تمام ممبران نے شرکت فرمائی ۔جن میں سعیدالظفر فاروقی صاحب ،جناب رمضان عبدالشکور فیمس ،نہال احمد عبداللہ صاحب ،ضیا احمد حکیم صاحب ،مظہر معاذ شوقی صاحب ،جناب جاوید احمد شوکت عزیز ،عبیدالرحمان حکیم صاحب اور جاوید انصاری (اکاش وانی) صاحب ،شامل تھے۔
وقار افتخار ملک(لائبریرین)اور شعیب انجم سعید احمد (معاون لائبریرین)اور صفیہ آپا کی کوششوں سے یہ افتتاحی تقریب کامیابی سے ہم کنار ہوئی
نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے فون پر بات کی اور دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس حملے میں حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ قطر کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف ہندوستان کے پختہ عزم پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم مودی نے قطر کے امیر سے بات کرنے کی جانکاری ایکس پر دی ۔ انہوں نے لکھا : قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بات کی اور دوحہ میں ہوئے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ہندوستان بھائی چارہ والے ملک قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والے اس واقعہ کی مذمت کرتا ہے ۔ ہم مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کرتے ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے حق میں کھڑے ہیں۔
بتادیں کہ اسرائیل نے 9 ستمبر کو دوحہ کے ایک ضلع میں ایک رہائشی کمپلیکس پر فضائی حملہ کیا تھا، جس میں حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ قطر نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ‘بزدلانہ’ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اسے قطر کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی بتایا ہے۔
ٹرمپ نے بھی کی اسرائیلی حملہ مذمت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حملے کی اطلاع دیر سے ملی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس حملے کے لیے امریکی اجازت کی بات کی تھی جو کہ غلط ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس حملے سے خود کو الگ کرتے ہوئے اسے ایک افسوس ناک واقعہ بتایا ہے۔
اس حملے نے علاقائی استحکام کو متاثر کیا ہے اور قطر کے کردار کو لے کر سوالات اٹھائے ہیں، کیونکہ قطر نے غزہ تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان نے اس واقعے پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے قطر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی اور دائیں بازو کے لیڈر چارلی کرک کوایک یونیورسٹی پروگرام کے دوران گولی مار کرہلاک کردیا گیا۔وہ 31 سال کےتھے۔واقعہ یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں پیش آیا۔ ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے سربراہ ایک آؤٹ ڈور ایونٹ میں شرکت کرنے گئے تھے ۔ ان کے قتل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ چارلی کرک ،ٹرمپ کے قریبی تھے اور انہوں نے نوجوان ووٹرز کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اتنا ہی نہیں ٹرمپ کی جیت میں انھوں نے اہم کردارادا کیا۔ ایف بی آئی نے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔
دراصل ، امریکی دائیں بازو کے سیاسی کارکن چارلی کرک بااثر لوگوں کے اس گروپ کا حصہ تھے جنہوں نے ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔ دائیں بازو کے نوجوانوں کو متاثر کیا۔ چارلی کرک کا تعلق الینوائے سے تھا ۔ انہوں نے 18 سال کی عمر میں دائیں بازو کے طلباء گروپ ٹرننگ پوائنٹ USA کی مشترکہ بنیاد رکھی اور ٹرمپ کے دور حکومت میں ریپبلکن پارٹی میں مؤثررہنما کے طور پر ابھرے۔
قتل کہاں ہوا؟
فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرننگ پوائنٹ کے صدر چارلی کرک اوریم، یوٹاہ میں یوٹاہ ویلی یونیورسٹی کے کیمپس میں ایک بڑے ہجوم سے خطاب کر رہے تھے۔ چارلی کرک کے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر 5.3 ملین فالوورتھے اور ان کے ریڈیو پروگرام The Charlie Kirk Show podcast کے ماہانہ 500,000 سے زیادہ سامعین تھے۔ انہوں نے ٹائم فار اے ٹرننگ پوائنٹ اور دی کالج اسکیم سمیت کئی کتابیں لکھیں یا پھر ان میں تعاون کیا۔
کون تھےچارلی کرک ؟
31 سالہ چارلی کرک دائیں بازو کے ممتاز کارکن تھے۔ کرک ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی تھے۔ وہ 2024 کے انتخابات میں ان کی ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اتنے قریب تھے کہ امریکی صدر نے انہیں نوجوانوں کے دلوں کو سمجھنے والا شخص قرار دیا۔ وجہ یہ تھی کہ چارلی کرک کی نوجوانوں پر اچھی گرفت تھی۔ کرک بھی اسرائیل کے بڑے حامی تھے۔ اس کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے انھیں ’اسرائیل کا شیر دل دوست‘ قرار دیا۔ کرک کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ ایریکا ہیں، جو سابق مس ایریزونا USA بیوٹی مقابلہ جیت چکی ہیں ، اور ان کے دو بچے ہیں۔
پروگرام کے دوران پیش آیاواقعہ
دراصل ، 10 ستمبر کو، کرک یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک آؤٹ ڈور فورم میں بڑے پیمانے پر ماس شوٹنگ سے متعلق سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ اچانک گردن میں گولی لگنے سے وہ کرسی سے گرگئے ۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ سب کے سامنے ہوا جس سے افراتفری مچ گئی۔ چارلی کرک کو فوری طور پر پرائیویٹ گاڑی میں اسپتال لے جایا گیا لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی۔ یوٹاہ ڈیارٹمنٹ آف پبلک سیفٹی کے اہلکار بیو میسن نے تصدیق کی ہے کہ صرف ایک گولی چلائی گئی اور کرک واحد شکار تھا۔ یونیورسٹی کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا اور کلاسیز غیر معینہ مدت کے لیے منسوخ کر دی گئیں۔ یوٹاہ کے گورنر اسپینسر کاکس نے اسے ’قتل‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ امریکی جمہوریت پر حملہ ہے۔
کون ہے ملزم؟
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے، حالانکہ بعض حکام کے مطابق حملہ آور ابھی تک مفرور ہے۔ تحقیقات میں سیاسی دشمنی کا خدشہ ہے، کیونکہ کرک کے خیالات متنازع تھے۔
ٹرمپ کے لیے بڑا دھچکا
چارلی کرک ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی مہم کا ایک اہم حصہ تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے دلوں کو چارلی سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ کرک سب کا پسندیدہ تھا، خاص کر میرا۔ کرک نے ٹرمپ کو نوجوان ووٹروں سے جوڑنے میں مدد کی، اور ان کی موت سے ریپبلکن پارٹی میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کو اب اپنے بانی کے بغیر آگے بڑھنا ہو گا جس سے ٹرمپ کی 2028 کی انتخابی حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے