*مالیگاؤں سدھار کمیٹی نے آج پولیس محکمہ کو میمورنڈم دیا*
ازقلم حافظ عقیل احمد ملی قاسمی بانی وناظم جامعہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی شاہ ولی اللہ پارک درے گاؤں۔
آج مورخہ 10 صفر المظفر 1447 مطابق 5 اگست 2025 بروز منگل دوپہر 12 بجے مالیگاؤں سماج سدھار کمیٹی کے ذمہ داران نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سیکریٹری شہر مالیگاؤں کے مشہور ومعروف عالم دین حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی دامت برکاتہم العالیہ کی ہدایت پر شہر ایڈیشنل ایس پی اور ڈی وائے ایس پی صاحب کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس کے ذریعے اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ شہر میں بڑھ رہے نشہ کے کاروبار کو مستقل طور پر روکا جائے اور حالیہ دنوں اندرون دوچار یوم جو جھگڑا لڑائی اور ناگہانی واقعات پیش آئے ہیں یہ سب بڑھتے ہوئے نشہ کی ہی دین ہے لہذا اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے اور اہلیان شہر کے درمیان جو عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اسے دور کرکے ان کے درمیان تحفظ کا احساس بیدار کیا جائے اس کا آسان طریقہ کار یہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد پر قرار واقعی کاروائی ہونی چاہیئے تاکہ عام شہریان اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرسکیں۔
سدھار کمیٹی کےوفد نے پہلے مالیگاؤں کے ڈی وائے ایس پی صاحب ملاقات کرکے اپنے احساسات سے واقف کرایا اور اس کے بعد شہر ایڈیشنل ایس پی صاحب سے ملاقات کی دونوں ہی آفیسران وفد کی باتوں کو بغور سنا اور بہت سے پوائنٹ نوٹ کئے اور اس کے بعد دائرہ قانون میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا عندیہ دیا۔
ساتھ ہی دونوں آفیسران نے وفد کے سامنے جس بات کا اظہار کیا وہ یہ کہ شہر کی آبادی کافی بڑھ چکی ہے اور ہم جو بھی اقدام کریں اس میں قانون کی پاسداری ضروری ہوتی ہے اور بہت سے کاروبار کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جو قانون کے دائرے میں بآسانی قابل گرفت نہیں ہوتے ہیں ایسی صورت میں زیادہ بہتر شکل یہ ہے کہ اگر شہر مالیگاؤں کے علماء حفاظ اور مفتیان کرام آگے آئیں اور لوگوں کو سمجھا کر روکنے کی کوشش کریں تو یہ زیادہ مفید ہوگا۔
لہذا سدھار کمیٹی کے زیرِ اہتمام جو کارنر میٹنگیں لی جارہی ہیں اس میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے اس لئے سدھار کمیٹی شہر مالیگاؤں کے علمائے کرام سے انتہائی مؤدبانہ درخواست کرتی ہے کہ کارنر میٹنگیں اپنے اپنے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ منعقد کروائیں اور بذات خود اپنی خدمات اس غیر سیاسی پلیٹ فارم سے پیش کرکے عنداللہ ماجور ہوں۔
سدھار کمیٹی امید کرتی ہے کہ علمائے کراس فوری اور ہنگامی مسئلہ پر توجہ فرمائیں گے اور سدھار کمیٹی کا تعاؤن فرمائیں گے ان شاءاللہ۔
اس وفد میں شعبان شاہ حاجی یوسف سیٹھ نیشنل والے حاجی عبد المجید نوری بکھار والے یوسف بھائی اے ون جمخانہ ریاض شاہ حافظ عقیل احمد ملی قاسمی کے علاوہ دیگر سرکردہ شخصیات شریک رہیں۔
انجمن محبان ادب کی افسانوی
کیا افسانے میں حقیقت کی جستجو بے کار ہے؟ کیا حقیقت افسانے کی طرح دلچسپ نہیں ہوتی؟ افسانے میں اس مکمل حکیمانہ حقیقت کی آمیزش افسانے کو کسی طرح کا نقصان پہنچا ئے بغیر اسے زندگی سے قریب کر دے گی اور انسان کو بہتر زندگی بسر کرنے پر اکسا ئے گی-
اسی سلسلے کی ایک کڑی انجمن محبّان ِ ادب مالیگاؤں کی افسانوی نشست ہے ـ جو بتاریخ 9 اگست 2025 بروز سنیچر کو نوجوان محقق و مولف محترم جناب اسماعیل وفا صاحب کی صدارت میں منعقد ہورہی ہے ـ جس میں نظامت کے فرائض معروف ناظم آصف اقبال مرزا صاحب انجام دیں گے ـ
انجمن محبان ادب کے 28 سال مکمل ہونے پر ڈاکٹر اقبال برکی صاحب،سمیع اللہ انصاری صاحب
اور سرفراز احمد مہدی حسن صاحب کا استقبال کیا جائے گا ـ
اس نشست میں
صا بر گوہر
علیم طاہر
عزیز اعجاز
نعیم سلیم
ھارون اختر
اور شبیر احمد انصاری
اپنے افسانے پیش کریں گے ـ
یہ نشست اردو میڈیا سینٹر مالیگاؤں میں 9 ـ اگست 2025 بروز سنیچر رات میں دس بجے منعقد ہوگی ـ
ادب نواز حضرات سے شرکت کی گزارش کی جاتی ہے
صدر و اراکین انجمن محبان ادب مالیگاؤں
اترکاشی کے دھرالی آرمی بیس کیمپ کی طرف بھی بادل پھٹے، تین مقامات سے آئی تباہی کی تصویریں
اتراکھنڈ میں اترکاشی کے دھرالی علاقے میں کھیر گنگا ندی میں اچانک بادل پھٹنے سے آئے زبردست سیلاب نے پورے علاقے میں تباہی مچا دی۔ اتراکھنڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سکریٹری ونود کمار سمن کے مطابق کچھ رہائشی مکانات اور ہوٹل تباہ ہوئے ہیں جن کی تفصیلی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ امدادی اور بچاؤ ٹیموں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے جائے حادثہ پر پہنچایا جا رہا ہے۔ اندھیرے میں امدادی کارروائیوں کے لیے عارضی لائٹس کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ رشی کیش ایمس میں بیڈ محفوظ رکھے گئے ہیں تاکہ زخمیوں کو بروقت علاج مل سکے۔ فوج نے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے اور لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔ دوسری جانب آرمی بیس کیمپ کی طرف بھی بادل پھٹے ہیں۔ اس طرح تین مقامات سے بادل پھٹنے کے بعد تباہی کی تصویریں سامنے آئی ہیں۔ ملبہ اب بھی آ رہا ہے۔
ہفتہ کی صبح آنے والی اس قدرتی آفت نے دھرالی بازار کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ تیز کرنٹ کے باعث دکانیں، گاڑیاں اور مقامی عمارتیں پانی میں بہہ گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق سیلاب کا منظر اتنا خوفناک تھا کہ لوگ کچھ سمجھ پاتے اس سے پہلے ہی تباہی مچ گئی۔ پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ بڑے پتھر اور ملبہ بھی بازار کے علاقے میں داخل ہو گیا۔ ابھی تک کوئی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے کہ کتنے لوگ اس میں بہہ گئے۔ سیلاب اپنے ساتھ اتنا ملبہ لے کر آیا کہ درجنوں گھر، بازار، گاڑیاں اور جو کچھ راستے میں آیا، سب بہہ گیا… اس میں دب گیا۔ اس وقت وہاں صرف تباہی کا منظر ہے۔ اس سیلاب میں کتنے لوگ بہہ گئے، ملبے میں دبے ہوئے اس بارے میں کوئی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہاں تقریباً 20 میٹر اونچا ملبہ جمع ہو گیا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعلیٰ سے اس پورے واقعہ کی جانکاری لی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
ہفتہ کی صبح آنے والی اس قدرتی آفت نے دھرالی بازار کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ تیز کرنٹ کے باعث دکانیں، گاڑیاں اور مقامی عمارتیں پانی میں بہہ گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق سیلاب کا منظر اتنا خوفناک تھا کہ لوگ کچھ سمجھ پاتے اس سے پہلے ہی تباہی مچ گئی۔ پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ بڑے پتھر اور ملبہ بھی بازار کے علاقے میں داخل ہو گیا۔ ابھی تک کوئی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے کہ کتنے لوگ اس میں بہہ گئے۔ سیلاب اپنے ساتھ اتنا ملبہ لے کر آیا کہ درجنوں گھر، بازار، گاڑیاں اور جو کچھ راستے میں آیا، سب بہہ گیا… اس میں دب گیا۔ اس وقت وہاں صرف تباہی کا منظر ہے۔ اس سیلاب میں کتنے لوگ بہہ گئے، ملبے میں دبے ہوئے اس بارے میں کوئی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہاں تقریباً 20 میٹر اونچا ملبہ جمع ہو گیا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعلیٰ سے اس پورے واقعہ کی جانکاری لی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
سی ایم پشکر سنگھ دھامی نے کہا ہے کہ دھرالی علاقے میں بادل پھٹنے سے بھاری نقصان کی خبر انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، ضلع انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ٹیمیں جنگی بنیادوں پر راحت اور بچاؤ کاموں میں مصروف ہیں۔ میں مسلسل سینئر حکام سے رابطے میں ہوں اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ
انتظامی ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ ملبے تلے کچھ لوگوں کے دبے ہونے کی اطلاع ہے، حالانکہ ابھی تک سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ایس ڈی آر ایف کی ٹیم کو موقع پر روانہ کر دیا گیا۔ مقامی انتظامیہ، پولیس اور گاؤں والوں نے بھی راحت اور بچاؤ کام شروع کر دیا ہے۔