Tuesday, 5 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


منصورہ پالی ٹیکنیک میں سالِ اول کے طلبہ کے لیے شاندار افتتاحی و استقبالیہ تقریب

"انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے انجینئرنگ زندگی کے ہر شعبہ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے"  جناب ارشد مختار (چیئرمین ،جامعہ محمدیہ)

مالیگاؤں (پریس ریلیز) جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی (منصورہ) کے  زیر اہتمام جاری مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس (MMANTC) کے پالی ٹیکنیک میں سالِ اول ڈپلومہ انجینئرنگ میں داخل ہونے والے طلبہ و طالبات  کیلئے بروز بدھ، 30 جولائی 2025 کو ایک شاندار افتتاحی و استقبالیہ تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ 

جامعہ کے چیئرمین جناب ارشد مختار صاحب نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں دیانت دار، باصلاحیت اور مخلص انجینئروں کی معاشرے کو شدید ضرورت ہے۔ انجینئرنگ نہ صرف تکنیکی ترقی کا ذریعہ ہے بلکہ انسانیت کی خدمت کا مؤثر راستہ بھی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نیک نیتی، خیرخواہی اور عملی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجینئرنگ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شاہ عقیل احمد نے پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور ادارے کی نمایاں کارکردگی اور کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ ساتھ ہی، طلبہ و سرپرستوں  کے سامنے کالج ہذاکی تعلیمی خدمات اور مستقبل کے عزائم کو پیش کیا۔  پالی ٹیکنیک کے پرنسپل ڈاکٹر یعقوب انصاری نے کالج ہذا کے  تعلیمی نظم و ضبط، معیاری تدریس ، انڈسٹری  کے مطابق عملی تربیت  اور طلبہ کو روزگار سے جوڑنے کی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد طلبہ کو صرف تعلیمی مواد سکھانا نہیں بلکہ انہیں خوداعتماد، باشعور اور عملی میدان کے لیے تیار کرنا ہے۔

 ڈاکٹر آصف رسول (ہیڈ، ڈیپارٹمنٹ آف اپلائیڈ سائنس) نے نئے طلبہ و ان کے سرپرستوں کا پرتپاک استقبال کیا اور سالِ اول کےاساتذہ کرام  کا تعارف کراتے ہوئے گزشتہ سال کے شاندار نتائج پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر سالِ اول میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے ٹاپرس اور مختلف مضامین کے ٹاپرس طلبہ کو اعزازات اور سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک مع ترجمہ سے ہوا، جسے پروفیسر حافظ محمد انس نے پیش کیا۔ بعد ازاں تقریب کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر راغب ندیم نے مہمانانِ خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ اس پروگرام کے اختتام پر ڈین اکیڈمکس ڈاکٹر سلمان بیگ نے تمام مہمانان، اساتذہ، طلبہ اور سرپرستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تقریب کے کامیاب انعقاد پر مسرت کا اظہار کیا۔

لال قلعے میں داخل ہونے کی کوشش ، 5 بنگلہ دیشی شہری گرفتار

دہلی پولیس نے پانچ بنگلہ دیشیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔پانچوں لال قلعہ میں غیرقانونی طورپرداخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ ان افراد کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔سکیورٹی اہلکاروں نے ان کی مشکوک حرکات دیکھ کر فوری کارروائی کی۔ان سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے ۔

قابل غوربات یہ ہے کہ یوم آزادی کے جشن کی تیاریاں جاری ہیں۔لال قلعہ اوراس کے اطراف پہلے ہی سخت سکیورٹی میں ہے ۔دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ شمالی ضلع پولیس نے لال قلعہ کے قریب غیر قانونی طور پر رہنے والے پانچ بنگلہ دیشیوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ بنگلہ دیشی لال قلعہ کے قریب مزدوری کرتے ہیں۔ وہ لال قلعہ میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن پولیس نےانہیں گرفتار کرلیاکیا گیا

15 اگست کے تعلق سے پولیس خصوصی مہم چلا ر ہی ہے ۔گرفتار کیے گئے افراد کوڈیپورٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیاہے۔ گرفتارشدگان کے پاس سے بنگلہ دیشی دستاویزات ملے ہیں۔ آئی بی اور اسپیشل برانچ کی ٹیموں نے بھی ان سے پوچھ تاچھ کی ہے۔

بنگلہ دیشی دستاویزات برآمد
نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں 20-25 سال کے درمیان ہیں اور وہ دہلی میں مزدور کے طور پر کام کر رہے تھے۔ پولیس نے ان کے پاس سے کچھ بنگلہ دیشی دستاویزات برآمد کی ہیں۔ فی الحال ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔اس سے قبل، ہفتہ کو گروگرام پولیس نے 10 بنگلہ دیشی شہریوں کو حراست میں لیا تھا جو شہر میں غیر قانونی طور پر رہ رہے تھے۔ ان کے پاس سے دستاویزات برآمد ہونے کے بعد ان کی شناخت بنگلہ دیشی شہری کے طور پر ہوئی۔

لال قلعہ میں ڈمی بم کی وجہ سے خوف و ہراس
ایک دیگر واقعے میں ، یوم آزادی کے پروگرام سے پہلے حفاظتی مشق کے دوران لال قلعہ میں ڈمی بم کا پتہ نہ چلنے پر دہلی پولیس کے سات افسران کو معطل کر دیا گیا۔ ان میں کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل شامل ہیں۔ دہلی پولیس اسپیشل سیل کا ایک ڈمی دہشت گرد ڈمی بم لے کر لال قلعہ میں داخل ہوا تھا۔ لیکن پولیس اہلکاروں کو بم کا پتہ نہیں چل سکا۔ اس کی وجہ سے لال قلعہ کی حفاظت کے لیے تعینات پولیس اہلکاروں میں سے سات کو ’سیکورٹی میں لاپرواہی‘ کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔
پولیس اہلکاروں کو کیوں ملی سزا ؟
پولیس کے مطابق دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی ایک ٹیم نے ہفتہ کو ایک مشق کی۔ اس میں دہلی پولیس کا ایک جوان شہری کپڑوں میں لال قلعہ کے احاطے میں ڈمی بم لے کر داخل ہوا۔ اس وقت لال قلعہ کی حفاظت کے لیے تعینات پولیس اہلکار بم کا پتہ نہیں لگا سکے جس کی وجہ سے انہیں سرزنش اور معطل کر دیا گیا۔
اترپردیش میں سیلاب کی سنگین صورتحال،21 اضلاع متاثر،خطرے کے نشان سے اوپربہہ رہی ہیں ندیاں

اتر پردیش کے 21 اضلاع کے 972 گاؤں اور 96 وارڈ سیلاب کی زد میں ہیں۔ اس وقت ریاست کے 92820 گاؤں سیلاب سے متاثر ہیں۔ ریاستی حکومت سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ ہر ضلع میں سیلاب متاثرین کے لیے کیمپ لگائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ انتظامیہ سیلاب میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر لے جا رہی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حکومت کی جانب سے خوراک کے پیکٹ بھی تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اوریا، بندہ، بھدوہی، چندولی، چترکوٹ، اٹاوہ، فرخ آباد، فتح پور، غازی پور، گورکھپور، حمیر پور، جالون، کانپور دیہات، کانپور نگر، کاس گنج، مرزا پور، پریاگ راج اور وارانسی ضلع کے کئی گاؤں اور شہری علاقے زیرآب ہیں۔


خطرے کے نشان سے اوپربہہ رہی ہیں ندیاں
اتر پردیش میں جمنا، گھاگھرا، بیتوا، شاردا اور گنڈک ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ بدایوں، پریاگ راج، مرزا پور، وارانسی، غازی پور، بل یا، فرخ آباد اضلاع میں گنگا ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے، جب کہ اوریا، جالون، حمیر پور، بندہ، پریاگ راج میں جمنا ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔

بیتوا ندی ضلع حمیر پور میں خطرے کے نشان سے 0.50 میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔ لکھیم پور کھیری ضلع میں شاردا ندی، ایودھیا ضلع میں گھاگھرا ندی اور کشی نگر ضلع میں گنڈک ندی بھی خطرے کے نشان سے اوپربہہ رہی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کی بات کریں تو ریاست میں 36.8 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ 25 اضلاع میں شدید بارش ہوئی ہے۔

پریاگ راج کے 123 گاؤں سیلاب سے متاثر
پریاگ راج ضلع کے 123 گاؤں اور 54 وارڈ اس وقت سیلاب سے متاثر ہیں ۔ گنگا اور جمنا ندیاں نشیبی علاقوں کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔ ہر روز یہاں گنگا اور جمنا کے پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔

مرزا پور ضلع کے 337 گاؤں اور 6 وارڈ سب سے زیادہ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، پریاگ راج کے 123 گاؤں اور 54 وارڈ سیلاب کی زد میں ہیں۔ پریاگ راج کے نینی علاقے کا نشیبی حصہ سیلاب سے متاثرہوا ہے، جب کہ فافامؤ میں زرعی زمینیں زیر آب آگئی ہی
سیلاب کا قہر
گنگاندی کے سطح آب میں مسلسل ہورہے اضافے سے ’بل یا‘ کے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے تقریباً 60 ہزار لوگ پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ سیلاب متاثرین اور پانی میں محصور طلباء کا کہنا ہے کہ کشتیوں کا کوئی انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ گزشتہ 5 روز سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے نہیں جاپا رہے۔ یہی نہیں ریلیف کٹس بھی ابھی تک دستیاب نہیں ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...