نائب صدرِ جمہوریہ کے انتخاب میں حکمراں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کا مقابلہ اپوزیشن اتحاد انڈیا (INDIA) بلاک کے امیدوار جسٹس (ر) بی سدرشن ریڈی سے ہوگا۔
اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 422 اراکین پارلیمان کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے رادھا کرشنن کی جیت تقریباً یقینی نظر آ رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد کے پاس تقریباً 300 اراکین پارلیمان کی طاقت موجود ہے۔
انتخابی عمل اور اعداد و شمار
نائب صدر کے انتخاب میں صرف پارلیمان کے دونوں ایوانوں، یعنی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین ووٹ ڈالتے ہیں۔ اس عمل میں ریاستی اسمبلیوں کے اراکین شامل نہیں ہوتے۔
اس وقت پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ تعداد 787 ہے اور کامیابی کے لیے کسی امیدوار کو کم از کم 394 ووٹ درکار ہیں۔
بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے اس وقت واضح اکثریت رکھتا ہے۔ ان کے پاس 293 ارکان لوک سبھا اور 129 ارکان راجیہ سبھا ہیں۔ اس طرح کل تعداد 422 بنتی ہے، جس میں نامزد اراکین کی حمایت بھی شامل ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن اتحاد (انڈیا بلاک) کے پاس تقریباً 300 اراکین ہیں۔ یہ اتحاد کانگریس، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ)، این سی پی (شرد پوار )، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)، آر جے ڈی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، عام آدمی پارٹی اور انڈین یونین مسلم لیگ پر مشتمل ہے۔
اگرچہ اپوزیشن جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس پارٹی (7 راجیہ سبھا اور 5 لوک سبھا ارکان) اور نوین پٹنائک کی بی جے ڈی (7 راجیہ سبھا ارکان) کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود این ڈی اے کو حاصل عددی برتری ختم نہیں ہوسکے گی۔
اپوزیشن کا موقف
انڈیا بلاک کے رہنما ڈیریک اوبرائن (ٹی ایم سی) نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے تمام اہم فریق، بشمول عام آدمی پارٹی، سدرشن ریڈی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق یہ انتخاب محض ایک عددی مقابلہ نہیں بلکہ ایک ’’آئینی اور نظریاتی لڑائی‘‘ ہے۔
ڈی ایم کے کی رہنما کنی موزھی نے کہا ‘‘یہ ایک نظریاتی جنگ ہے۔ اپوزیشن نے ایک ایسا امیدوار چنا ہے جو آئین کا احترام کرتا ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ بی جے پی نے تمل ناڈو سے امیدوار منتخب کیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمل ناڈو یا تمل زبان و ثقافت کے خیر خواہ ہیں۔‘‘
جنوبی ہندوستان کے دو امیدوار
اس انتخاب کو ایک اور پہلو سے بھی دلچسپ بنایا جا رہا ہے کیونکہ دونوں امیدوار جنوبی ہند سے تعلق رکھتے ہیں۔
سی پی رادھا کرشنن تمل ناڈو کے کوئمبٹور سے دو مرتبہ ایم پی رہ چکے ہیں، جبکہ سدرشن ریڈی آندھرا پردیش سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ سپریم کورٹ کے سابق جج اور گوا کے سابق لوک آیوکت بھی رہے ہیں۔
نتیجہ تقریباً طے شدہ؟
اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سی پی رادھا کرشنن کی جیت تقریباً یقینی ہے۔ اپوزیشن کی کوششیں محض علامتی ہیں، جیسا کہ 2017 اور 2022 کے نائب صدری انتخابات میں بھی دیکھا گیا تھا۔ البتہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب دراصل نظریات اور آئینی اقدار کی حفاظت کے لیے ایک مشترکہ جدوجہد ہے۔
انڈیا اتحادنے نائب صدرجمہوریہ کے امیدوارکے نام کاکردیااعلان۔جسٹس بی ۔ سدرشن ریڈی ہونگے امیدوار
جسٹس بی۔ سدرشن ریڈی انڈیا اتحاد کے نائب صدر امیدوار، سی پی رادھا کرشنن سے ہوگا مقابلہ
انڈیا (INDIA) اتحاد نے نائب صدر کے آئندہ انتخاب کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج اور گوا کے پہلے لوکا ایوکت (Lokayukta) جسٹس (ر) بی. سدرشن ریڈی کو اپنا مشترکہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ان کا براہِ راست مقابلہ حکمراں این ڈی اے کے امیدوار اور مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھا کرشنن سے ہوگا۔ کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’یہ نائب صدارت کی دوڑ ایک نظریاتی معرکہ ہے۔۔۔۔ اسی لیے ہم نے بی. سدرشن ریڈی کو مشترکہ امیدوار نامزد کیا ہے۔‘‘
کون ہیں بی. سدرشن ریڈی؟
جسٹس ریڈی کا تعلق آندھرا پردیش کے ضلع رنگا ریڈی کے گاؤں اکولا مایلارم کے ایک کسان گھرانے سے ہے۔ انہوں نے 1971 میں عثمانیہ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 27 دسمبر 1971 کو بار کونسل آندھرا پردیش میں بطور وکیل اندراج کرایا۔ ابتدا میں وہ ہائی کورٹ آندھرا پردیش میں بنیادی طور پر رِٹ اور دیوانی مقدمات کی پیروی کرتے رہے۔ 1988–1990 کے دوران وہ ہائی کورٹ میں گورنمنٹ پلیڈر رہے، 1990 میں کچھ عرصہ مرکزی حکومت کے لیے ایڈیشنل اسٹینڈنگ کاؤنسل کے طور پر خدمات انجام دیں، اور عثمانیہ یونیورسٹی کے قانونی مشیر و اسٹینڈنگ کاؤنسل بھی رہے۔ 2 مئی 1995 کو انہیں آندھرا پردیش ہائی کورٹ کا مستقل جج مقرر کیا گیا۔
5 دسمبر 2005 کو گواہٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے، 12 جنوری 2007 کو سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور 8 جولائی 2011 کو ریٹائر ہوئے۔ سپریم کورٹ سے سبکدوشی کے بعد مارچ 2013 میں انہیں گوا کا پہلا لوکاایُکت مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے بدعنوانی کے معاملات میں سخت اور شفاف طرزِ عمل اختیار کیا۔
لوک سبھا میں نیا انکم ٹیکس بل 2025 منظور: ٹیکس دہندگان کے لیے بڑی تبدیلیاں
لوک سبھا میں نیا انکم ٹیکس بل منظور: ٹیکس دہندگان کے لیے اہم تبدیلیاں
حکومت نے انکم ٹیکس بل 2025 کا پرانا مسودہ، جو 8 اگست کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا، باضابطہ طور پر واپس لے لیا ہے۔ یہ وہی مسودہ تھا جو رواں سال فروری میں بجٹ اجلاس کے دوران پیش ہوا تھا اور فوری طور پر سلیکٹ کمیٹی کو بھیج دیا گیا تھا۔
پیر کے روز وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے لوک سبھا میں ترمیم شدہ انکم ٹیکس (نمبر 2) بل 2025 دوبارہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں تقریباً تمام سفارشات کو شامل کر لیا گیا ہے جو سلیکٹ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پیش کی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے موصولہ تجاویز کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ قانونی متن زیادہ واضح اور بامعنی ہو سکے۔
سلیکٹ کمیٹی کی سفارشات
چار ماہ کے تفصیلی جائزے کے بعد کمیٹی نے 4,500 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی جس میں 285 سے زائد سفارشات شامل تھیں۔ ان سفارشات کا بنیادی مقصد تھا:
زبان کو سادہ بنانا
دفعات میں وضاحت لانا
ٹیکس دہندگان کے لیے تعمیل (compliance) کے عمل کو آسان بنانا
1961 کا قانون بمقابلہ 2025 کا نیا بل
نیا بل 536 سیکشنز اور 16 شیڈولز پر مشتمل ہوگا، جنہیں منظم انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔
’’پچھلا سال‘‘ اور ’’اسیسمنٹ سال‘‘ کی جگہ اب ایک ہی اصطلاح ’’ٹیکس ایئر‘‘ استعمال ہوگی۔
غیر ضروری اور متضاد دفعات کو ختم کر دیا گیا ہے تاکہ مقدمات کم ہوں۔
CBDT (سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز) کو ڈیجیٹل دور کے مطابق قوانین بنانے کے مزید اختیارات دیے گئے ہیں۔
زبان اور اصطلاحات کو آسان اور ہم آہنگ بنایا گیا ہے تاکہ عام شہری بھی قانون کو سمجھ سکے۔
1961 کا انکم ٹیکس ایکٹ بمقابلہ 2025 کا نیا انکم ٹیکس بل
پہلو 1961 کا انکم ٹیکس ایکٹ 2025 کا نیا انکم ٹیکس بل قانونی ڈھانچہ پرانا، پیچیدہ زبان اور غیر منظم سیکشنز 536 سیکشنز اور 16 شیڈولز، منظم اور واضح ترتیب ٹیکس سال کی تعریف “پچھلا سال” اور “اسیسمنٹ سال” الگ الگ صرف ایک اصطلاح “ٹیکس ایئر” غیر ضروری دفعات کئی متضاد اور غیر ضروری شقیں موجود غیر ضروری اور متضاد شقوں کا خاتمہ ڈیجیٹل ہم آہنگی محدود اختیارات CBDT کو CBDT کو ڈیجیٹل دور کے مطابق مزید اختیارات زبان اور اصطلاحات قانونی زبان عام فہم نہیں آسان، واضح اور ہم آہنگ زبان ریفنڈ پالیسی تاخیر سے ریٹرن پر ریفنڈ کا حق نہیں تاخیر سے ریٹرن پر بھی ریفنڈ کی اجازت ڈیویڈنڈ کٹوتی انٹر-کارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر کٹوتی ختم 80 ملین روپے کٹوتی دوبارہ شامل NIL-TDS آپشن واضح سہولت موجود نہیں بغیر ٹیکس واجب الادا افراد کے لیے ایڈوانس NIL-TDS سرٹیفکیٹ خالی مکان پر ٹیکس تصوراتی کرایہ (Notional Rent) پر ٹیکس تصوراتی کرایہ پر ٹیکس کا خاتمہ پراپرٹی کٹوتی وضاحت کا فقدان 30% اسٹینڈرڈ کٹوتی + سود کی کٹوتی واضح MSME تعریف پرانی تعریف MSME ایکٹ کے مطابق تعریف پنشن کٹوتی صرف ملازمین تک محدود غیر ملازم افراد کے لیے بھی سہولت
اہم ترامیم اور فوائد
ٹیکس ریفنڈ میں نرمی ۔ تاخیر سے ریٹرن فائل کرنے والوں کو بھی ریفنڈ کا حق حاصل ہوگا۔
ڈیویڈنڈ ریلیف ۔ انٹر۔کارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر 80 ملین روپے کی کٹوتی دوبارہ بحال کی جائے گی۔
NIL-TDS آپشن ۔جن پر ٹیکس واجب الادا نہیں ہے، وہ ایڈوانس NIL-TDS سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔
خالی مکان پر ٹیکس میں رعایت ۔ صرف تصوراتی کرایہ (Notional Rent) پر ٹیکس کا خاتمہ۔
مکان سے متعلق کٹوتی میں وضاحت ۔ میونسپل ٹیکس منہا کرنے کے بعد% 30 اسٹینڈرڈ کٹوتی اور کرایہ دار مکان پر سود کی کٹوتی کی سہولت برقرار۔
کمپلائنس قوانین میں آسانی ۔ پروویڈنٹ فنڈ نکالنے پر TDS، ایڈوانس رولنگ فیس اور جرمانوں سے متعلق وضاحت۔
ایم ایس ایم ای کی تعریف میں ہم آہنگی ۔ MSME کی تعریف اب MSME ایکٹ کے مطابق ہوگی۔
پراپرٹی کی درجہ بندی میں وضاحت ۔ ’’Occupied‘‘ کی جگہ ایسی اصطلاح جو غلط درجہ بندی سے بچائے۔
پنشن فوائد میں توسیع ۔ غیر ملازم افراد بھی کمیوٹڈ پنشن کٹوتی کا فائدہ لے سکیں گے۔