مومن کانفرنس کسی کی جاگیر نہیں برادری کی میراث ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالحلیم صدیقی کی مذمت سے قبل اپنے گریبان میں جھانک لو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے آل انڈیا مومن کانفرنس کا شہر میں احیا ہوا ہے۔تب سے چند چاپلوس اور خوشامد پسند لوگ اس پر اپنا قبضہ اور تسلط قائم رکھنے کے لیۓ شب و روز سازش میں مصروف ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج شہر میں مومن کانفرنس کو برادری بھی جانتی پہچانتی نہیں ہے۔آغاز میں ہی یوسف الیاس حفیظ انصاری اور بہت سارے مخلص افراد کو کنارے لگا دیا گیا۔بس چند دھنا سیٹھوں کا ٹولہ بن کر رہ گٸ ہے۔
برادرم عبدالحلیم صدیقی نے بساط بھر کوشش کی۔کسی طرح اس میں برادری کے تمام طبقات کو اس میں شامل کیا جاۓ۔لیکن ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوٸی۔جب انہوں نے ان دھنا سیٹھوں کے خفیہ منصوبے کو آشکار کر دیا تو تلملا کر سارے چیلے چپاٹے مذمت مذمت کا نعرہ مستانہ بلند کرنے لگے۔ان کی دانست میں شاید ان کی اس کرتوت سے برادری کا کچھ الا بھلا ہوگا۔جب سے مومن کانفرنس کا دوبارہ قیام ہواتب سے وہ تنازعات کے چکر ویو میں گھری نظر آرہی ہے۔عہدوں کی تقسیم اندھا بانٹے ریوڑی جیسی ہوٸی۔ہم لوگ خاموش رہے۔ ہمارے پیش نظر برادری کا مفاد مقدم تھا۔لیکن اب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے۔اس لیۓ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اس سازشی ٹولے کو برادری کے سامنے بے نقاب کیا جاۓ۔حیرت تو اس بات پر ہے جب کسی کو کسی عہدے پر لینے کی بات کی جاتی ہے تو انتخاب کا پیمانہ روٹی سالن قرار پاتا ہے یعنی غریب آدمی اس کے لاٸق نہیں سمجھا جاتا۔گذشتہ میٹنگ میں تو باقاعدہ یہ تجویز منظور کی گٸ کہ آل انڈیا مومن کانفرنس کے متوازی مالیگاؤں مومن کانفرنس باقاعدہ رجسٹر کرا لی جاۓ۔نہایت چالاکی سے صدر جمیل کرانتی نےاپنے علاوہ اپنے دس مصاحبین کا انتخاب کر لیا۔بتایا یہ جاتا ہےکہ زیر تعمیر بنکر بھون پر قبضہ جمانے کے لیۓ مرکز سے علاحدگی اختیار کیۓ جانے کی یہ شروعات ہے۔مرکزی قیادت کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہیۓ۔نہیں تو ان کی قیادت کا شہر میں کوٸی نام لینے والا بھی نہیں ہوگا۔رہ گٸ عبدالحلیم صدیقی کی مذمت کرنے کی بات تو پہلے اپنے گریبان میں جھانک لو تو زیادہ بہتر ہے۔میں بہر حال اس سازشی ٹولے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔اور آل انڈیا مومن کانفرنس کے قومی صدر محترم ایڈووکیٹ فیروز انصاری صاحب سے التماس کرتا ہوں کہ مالیگاؤں کی حالیہ باڈی کو فوری طور پر برخاست کر کے برادری کے حقیقی بہی خواہوں کو کام کرنے کا موقع عنایت فرماٸیں۔اس کے لیۓ نٸ باڈی تشکیل پا سکے اس پر بھی توجہ فرماٸیں۔
فقط
احتشام انصاری
سرگرم رکن آل انڈیا مومن کانفرنس۔نٸ دہلی۔
منصورہ کیمپس میں یومِ آزادی کے موقع پر بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد
مالیگاؤں (پریس ریلیز) جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرِ اہتمام مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس (منصورہ) میں یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر ایک کامیاب بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کیمپ میں کل 82 طلبہ و اساتذہ نے خون کا عطیہ پیش کیا۔ تمام شرکاء کو بلڈ ڈونر سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔
یہ کیمپ ادارۂ جامعہ محمدیہ کے معزز چیئرمین جناب ارشد مختار صاحب کی ایماء پر جامعہ محمدیہ اور انصار بلڈ سینٹر مالیگاؤں کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔ گزشتہ کئی سالوں سے جامعہ محمدیہ کے زیرِ اہتمام ہر سال 15 اگست اور 26 جنوری کے موقع پر بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ وہیں اساتذہ کرام میں ڈاکٹر دلاور حسین، ڈاکٹر آصف رسول، ڈاکٹر شمیم احمد، ڈاکٹر ساجد نعیم، جناب عبد الواسع، جناب فہیم انصاری، جناب محسن سہیل، جناب ریحان کھاٹک اور دیگر حضرات اپنے خون کا عطیہ پیش کیا۔
اس موقع پر جناب راشد مختار صاحب نے کہا کہ یہ کیمپ نہ صرف خدمتِ خلق کا عملی نمونہ ہے بلکہ معاشرے میں انسانیت کے جذبے کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش بھی ہے۔ اس کیمپ کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر شاہ عقیل احمد ( پرنسپل، انجینئرنگ کالج)، ڈاکٹر یعقوب انصاری ( پرنسپل، پالی ٹیکنیک)، ڈاکٹر سلمان بیگ ( ڈین اکیڈمکس)، پروفیسر محومی ملک شہزاد( کوآرڈینیٹر)،ڈاکٹر ساجد نعیم ، پروفیسر عابد علی اور دیگر اسٹاف نے انتھک محنت کی۔
وادی میں دہشت گردی پر شدید حملہ، لشکر کے تین دہشت گرد گرفتار، بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، ہندوستانی سیکورٹی فورسز نے دہشت گردی کی سرگرمیوں پر گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ اب مسلح افواج نے وادی میں سرگرم دہشت گردوں پر شدید حملہ کرتے ہوئے لشکر طیبہ کے تین دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ فی الحال ان تمام سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے تاکہ ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی پکڑا جاسکے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ پہلگام حملے کے بعد ہندوستانی سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔ اس کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ دہشت گرد یا تو پکڑے جا رہے ہیں یا مارے جا رہے ہیں
معلومات کے مطابق وادی کشمیر کے ہندواڑہ کے کرال کھڈ میں لشکر سے وابستہ تین دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ شمالی کشمیر میں کچھ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد مسلح افواج نے تیزی سے کارروائی شروع کردی۔ لشکر سے وابستہ تین دہشت گردوں کو پکڑنے میں کامیابی ملی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ فی الحال ان دہشت گردوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آیا ان کے دیگر ساتھی وادی میں سرگرم ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ ان دہشت گردوں کے آقا کہاں بیٹھے ہیں اور انہیں کہاں سے ہدایات مل رہی تھیں۔
انکاؤنٹر 11 دن کے بعد ختم ہوا۔
وادی کشمیر میں سب سے طویل انسداد دہشت گردی آپریشن سرکاری طور پر ختم ہو گیا ہے۔ جنوبی کشمیر کے کولگام کے گھنے اکھل جنگلات میں بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کی موجودگی کے بعد شروع کیا گیا یہ آپریشن دہشت گردوں کے پورے گروپ کو مارے بغیر ختم کر دیا گیا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی فائرنگ کے بعد دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس مقابلے میں فوج کے دو جوان شہید جبکہ ایک مقامی دہشت گرد مارا گیا۔
کولگام میں انسداد دہشت گردی آپریشن تقریباً 11 دنوں تک جاری رہا۔ سیکیورٹی فورسز نے دور افتادہ اور گھنے جنگلاتی علاقے اکھل میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا تھا۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ کولگام کا یہ خطرناک بالائی علاقہ پہلے ہی دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔ گھنے جنگل اور پہاڑی علاقے کی وجہ سے یہاں کسی بھی قسم کا آپریشن کرنا آسان کام نہیں ہے۔
کولگام : اَکھل جنگلات میں آپریشن 12 ویں دن میں داخل، جانئے کیوں لگ رہا اتنا وقت؟
جموں : بارہ دن گزر جانے کے بعد بھی کولگام کے دیوسر علاقے کے گھنے جنگلات اَکھل میں شروع کی گئی انسدادِ دہشت گردی کارروائی جاری ہے، جسے وادی کی حالیہ تاریخ کی طویل ترین مسلسل کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ آپریشن یکم اگست کو اس وقت شروع ہوا جب سیکورٹی فورسز کو مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بھاری اسلحہ سے لیس ایک گروہ، جسے پاکستانی شہری تصور کیا جا رہا ہے، اکھل کے گھنے جنگلات میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ ابتدائی محاصرے اور تلاشی مہم کے نتیجے میں انکاونٹر شروع ہوا ۔
اب تک ایک دہشت گرد کو مار گرایا جا چکا ہے، جبکہ فوج کے دو جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ ان شہداء کی شناخت لانس نائیک پرتپال سنگھ اور سپاہی ہرمیندر سنگھ کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ دس دیگر اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
گھنے جنگلات، دشوار گزار علاقہ
لیفٹیننٹ جنرل دیویندر پرتاپ پانڈے (ریٹائرڈ)، جو کہ سرینگر میں تعینات 15 کور کے سابق کمانڈر ہیں، کے مطابق کارروائی کی سست رفتاری دانستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ “یہ گھنا جنگل ہے، جہاں نیچے جھاڑیاں بہت زیادہ ہیں۔ تیزی سے آگے بڑھنے کا خطرہ ہے کہ مزید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔ ہم پہلے ہی دو بہادر سپاہی کھو چکے ہیں، اور مزید نقصان کا کوئی جواز نہیں۔ ہمارا مقصد ہے کہ بغیر کسی اضافی نقصان کے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے۔” انہوں نے نیوز 18 کو بتایا کہ دہشت گردوں کو لازمی طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق، اَکھل کے جنگلات کی زمین اور علاقہ دہشت گردوں کو فائدہ دیتا ہے، جہاں قدرتی غاریں، فرار کے متعدد راستے اور پیر پنجال رینج سے براہ راست رابطہ موجود ہے۔ اس گروہ کو “دی ریزسٹنس فرنٹ” (TRF)، جو کہ لشکرِ طیبہ کی ایک شاخ ہے، سے وابستہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بھی شبہ ہے کہ ان کے پاس نائٹ وژن آلات، طویل فاصلے تک مار کرنے والی رائفلیں اور وافر مقدار میں گولہ بارود موجود ہے۔
کئی سطح کی سیکورٹی ، صبر بطور ہتھیار
فوج، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ، سی آر پی ایف کمانڈوز اور پیرا یونٹس نے علاقے کو کئی سحطوں میں گھیر رکھا ہے۔ مسلح ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز نگرانی اور درست نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
فوجی دستے جلد بازی میں کارروائی کرنے کی بجائے صبر سے کام لے رہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے اسلحہ، خوراک اور حوصلے کو ختم کر کے انہیں کمزور کیا جائے، پھر فیصلہ کن وار کیا جائے۔
’مہادیو‘ ٹیمپلیٹ
کولگام میں جاری انکاونٹر گزشتہ ماہ دچیگام کے جنگلات میں کئے گئے “آپریشن مہادیو” سے بالکل مختلف ہے۔ اس مشن میں 14 دن کی درست انٹیلیجنس معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز نے پہلگام حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کو صرف ایک گھنٹے کے اندر مار گرایا تھا۔
اس مشن میں فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس نے حصہ لیا، اور اسے ان کی درست منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور بغیر کسی اضافی نقصان کے مکمل کرنے پر خوب سراہا گیا۔ سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی، مقامی افراد سے حاصل شدہ معلومات اور تیز رفتار مشترکہ کارروائی سے یہ مشن فوراً مکمل کیا گیا۔
صحیح وقت کا انتظار
ذرائع کا کہنا ہے کہ اَکھل مشن بھی اسی اصول پر کاربند ہے — جب حالات سیکورٹی فورسز کے حق میں ہوں گے، تبھی فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
گھنے جنگلات، دشوار گزار علاقہ
لیفٹیننٹ جنرل دیویندر پرتاپ پانڈے (ریٹائرڈ)، جو کہ سرینگر میں تعینات 15 کور کے سابق کمانڈر ہیں، کے مطابق کارروائی کی سست رفتاری دانستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ “یہ گھنا جنگل ہے، جہاں نیچے جھاڑیاں بہت زیادہ ہیں۔ تیزی سے آگے بڑھنے کا خطرہ ہے کہ مزید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔ ہم پہلے ہی دو بہادر سپاہی کھو چکے ہیں، اور مزید نقصان کا کوئی جواز نہیں۔ ہمارا مقصد ہے کہ بغیر کسی اضافی نقصان کے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے۔” انہوں نے نیوز 18 کو بتایا کہ دہشت گردوں کو لازمی طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق، اَکھل کے جنگلات کی زمین اور علاقہ دہشت گردوں کو فائدہ دیتا ہے، جہاں قدرتی غاریں، فرار کے متعدد راستے اور پیر پنجال رینج سے براہ راست رابطہ موجود ہے۔ اس گروہ کو “دی ریزسٹنس فرنٹ” (TRF)، جو کہ لشکرِ طیبہ کی ایک شاخ ہے، سے وابستہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بھی شبہ ہے کہ ان کے پاس نائٹ وژن آلات، طویل فاصلے تک مار کرنے والی رائفلیں اور وافر مقدار میں گولہ بارود موجود ہے۔
کئی سطح کی سیکورٹی ، صبر بطور ہتھیار
فوج، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ، سی آر پی ایف کمانڈوز اور پیرا یونٹس نے علاقے کو کئی سحطوں میں گھیر رکھا ہے۔ مسلح ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز نگرانی اور درست نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
فوجی دستے جلد بازی میں کارروائی کرنے کی بجائے صبر سے کام لے رہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے اسلحہ، خوراک اور حوصلے کو ختم کر کے انہیں کمزور کیا جائے، پھر فیصلہ کن وار کیا جائے۔
’مہادیو‘ ٹیمپلیٹ
کولگام میں جاری انکاونٹر گزشتہ ماہ دچیگام کے جنگلات میں کئے گئے “آپریشن مہادیو” سے بالکل مختلف ہے۔ اس مشن میں 14 دن کی درست انٹیلیجنس معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز نے پہلگام حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کو صرف ایک گھنٹے کے اندر مار گرایا تھا۔
اس مشن میں فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس نے حصہ لیا، اور اسے ان کی درست منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور بغیر کسی اضافی نقصان کے مکمل کرنے پر خوب سراہا گیا۔ سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی، مقامی افراد سے حاصل شدہ معلومات اور تیز رفتار مشترکہ کارروائی سے یہ مشن فوراً مکمل کیا گیا۔
صحیح وقت کا انتظار
ذرائع کا کہنا ہے کہ اَکھل مشن بھی اسی اصول پر کاربند ہے — جب حالات سیکورٹی فورسز کے حق میں ہوں گے، تبھی فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔