ایف -22، بی 2 بمبار، ایف 35 جیسے سپرجیٹ بھی کام نہ آئے، پوتن کی ایک چال نے ٹرمپ کو اپنے ہی ملک میں کرادیا ٹرول
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات دنیا بھر میں سرخیوں کی زینت بنی رہی۔ اگرچہ یہ میٹنگ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بلائی گئی تھی، لیکن دنیا کی دو سپر پاورز کی یہ ملاقات دیگر کئی وجوہات کی بنا پر بھی موضوع بحث بن گئی۔ پوتن نے وہاں کچھ ایسا کردیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہی ملک میں ٹرول ہو گئے۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ F-22، B-2 بمبار، F-35 جیسے سپر جیٹ لڑاکا طیارے بھی پوتن کو نہیں ڈرا سکے۔ دراصل، پوتن نے وہاں امریکہ کا سفارتی پروٹوکول توڑدیا، جس کے مطابق میزبان ملک کا صدر مشترکہ پریس کانفرنس کا آغاز کرتا ہے۔
لیکن الاسکا میں، پوتن نے مشترکہ پریس کانفرنس کا آغاز عام پروٹوکول سے ہٹ کر کیا۔ عام طور پر جب کوئی امریکی صدر کسی غیر ملکی ہم منصب کی میزبانی کرتا ہے تو مشترکہ پریس کانفرنس کا آغاز امریکی صدر کی تقریر سے ہوتا ہے، جس کے بعد مہمان صدر خطاب کرتے ہیں۔ لیکن جمعہ کو اینکوریج، الاسکا میں صدر ولادیمیر پوتن نے پریس کانفرنس کا آغاز کیا، اور اس دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔ یہ پوری دنیا کے لیے ایک حیران کن واقعہ تھا۔
یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے الاسکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی اور دونوں رہنماؤں نے بعض اہم معاملات پر کسی معاہدے پر اتفاق نہیں کیا۔
الاسکا میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد پوتن نے دعویٰ کیا کہ یوکرین پر ‘معاہدہ’ ہو گیا ہے۔ انہوں نے یورپ کو بھی خبردار کیا کہ وہ ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ پوتن کے اس دعوے کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا یقین سے کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کو فون کریں گے تاکہ انہیں پوتن اور ان کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں آگاہ کریں۔
میٹنگ کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ “ہماری ملاقات بہت نتیجہ خیز رہی، ہم بہت سے معاملات پر سمجھوتہ کر چکے ہیں، کچھ باقی ہیں، کچھ اتنے اہم نہیں ہیں، ایک سب سے اہم ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ ہم اسے بھی حل کر لیں گے۔” وہیں پوتن نے کہا کہ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ روس کے اپنے مفادات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اور امریکہ کو “پرانے باب کو بند کر کے تعاون کی راہ پر گامزن ہونا چاہئے۔”
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ہوئی خاص ملاقات، اعزاز پاکر گد گد ہوئے انوپم کھیر ، فینس بولے 'آپ رول ماڈل ہیں...'
نئی دہلی: بالی ووڈ کے معروف اداکار انوپم کھیر اکثر اپنے کام اور سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں۔ اس بار وہ ایک خاص وجہ سے خبروں میں ہیں۔ دراصل، یوم آزادی کے موقع پر راشٹرپتی بھون میں ایک ‘ایٹ ہوم’ تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں کئی خاص مہمانوں نے شرکت کی تھی۔ اس تقریب میں انوپم کھیر بھی موجود تھے۔ انہوں نے 16 اگست بروز ہفتہ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس باوقار لمحے کی کچھ تصاویر شیئر کیں۔
انوپم کھیر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جو تصویریں پوسٹ کی ہیں ان میں وہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ پہلی تصویر میں، انوپم کھیر صدر کو ہاتھ جوڑ کر سلام کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ صدر مرمو بھی مسکراتے ہوئے ان کا سلام قبول کر رہی ہیں۔ دوسری تصویر میں انوپم کھیر سر جھکا کر احترام کے ساتھ سلام کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس تصویر میں صدر جمہوریہ بھی ان کا استقبال کرتے نظر آ رہی ہیں۔ ان دونوں تصویروں میں ہندوستانی روایت اور احترام کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔
انوپم کھیر نے خود کو خوش قسمت قرار دیا
انوپم کھیر نے تصویروں کے ساتھ ایک جذباتی کیپشن بھی لکھا۔ انہوں نے لکھا، ‘عزت مآب صدر دروپدی مرمو جی، مجھے راشٹرپتی بھون میں ایٹ ہوم تقریب کے لیے مدعو کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں۔ یہ ایک بہت ہی شاندار اور خوبصورت تقریب تھی۔ اس دوران مجھے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے بڑے لوگوں سے ملنے کا موقع بھی ملا۔ بہت بہت شکریہ۔ جئے ہند
لوگ انوپم کھیر کے اس انداز کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، ‘کبھی وہ اداکاری سے دل جیت لیتے ہیں ، کبھی اقدار سے۔ واقعی آپ پر فخر ہے سر!’ ایک اور صارف نے لکھا کہ ‘آپ جیسے لوگوں کو دیکھ کر آج کے نوجوانوں کو سیکھنا چاہیے کہ کامیابی کے ساتھ ساتھ عاجزی بھی ضروری ہے۔’ دوسرے صارفین نے انہیں رول ماڈل قرار دیا۔
کیا یہی آئین اور فوج کا احترام ہے؟ لال قلعہ کی تقریب سے راہل گاندھی اور کھرگے غائب، بی جے پی کا حملہ
نئی دہلی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اور پارٹی کے قومی صدر ملیکاارجن کھرگے نے جمعہ کو لال قلعہ میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت نہیں کی، جس سے ان کی عدم موجودگی کی وجوہات کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں اور بی جے پی نے اس پر کانگریس پر حملہ کیا۔ اپوزیشن پارٹی یا دونوں لیڈروں کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا لیکن ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے گزشتہ سال بیٹھنے کے انتظامات سے ناراض ہونے کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہیں کی تھی۔
دونوں رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر ملک کے مجاہدین آزادی کو خراج تحسین پیش کیا اور تمام شہریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ راہل گاندھی نے کہا، “عظیم مجاہدین آزادی کی قربانی سے حاصل کی گئی یہ آزادی، ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر کا عزم ہے جہاں انصاف، سچائی اور مساوات کی بنیاد ہو اور ہر دل احترام اور بھائی چارے سے لبریز ہو۔ یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اس قیمتی ورثے کے فخر اور عزت کی حفاظت کریں۔ جئے ہند، جئے بھارت!”
وہیں ملیکا ارجن کھرگے نے کہا، “یوم آزادی خود کو آزادی، انصاف، مساوات اور بھائی چارے کی اقدار کے لیے وقف کرنے کا ایک مقدس موقع ہے جسے ہماری جمہوریت نے پالا ہے۔” کھرگے نے کانگریس ہیڈکوارٹر میں یوم آزادی کی تقریب میں اور راہل گاندھی نے دارالحکومت کے اندرا بھون میں شرکت کی۔ تاہم، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان شہزاد پونا والا نے اس تقریب میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی عدم موجودگی پر تنقید کی۔
‘راہل گاندھی مودی کی مخالفت میں ملک اور فوج کی مخالفت کر رہے ہیں’
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “کانگریس کے ترجمان نے ابھی میرے ساتھ ایک ٹی وی مباحثے میں تصدیق کی ہے کہ ‘قائد حزب اختلاف’ راہل گاندھی نے لال قلعہ میں 15 اگست کی تقریب میں شرکت نہیں کی، یہ ایک قومی جشن تھا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاکستان سے محبت کرنے والے راہل گاندھی ، مودی کی مخالفت میں ملک اور فوج کی مخالفت کر رہے ہیں! شرمناک رویہ ہے۔ کیا یہ فوج اور آئین کا احترام ہے؟”
بی جے پی نے راہل گاندھی کو گھیرا
لال قلعہ میں یوم آزادی کی تقریبات میں راہل گاندھی کی غیر حاضری پر بی جے پی لیڈر امیت مالویہ نے کہا، “اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی لال قلعہ میں منعقدہ تقریب سے غیر حاضر تھے، وہ کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ تقریب میں بظاہر پریشان نظر آئے۔ ملک کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ خیریت سے ہیں یا نہیں؟ اور انہوں نے ایک سرکاری تقریب میں شرکت کیوں نہیں کی؟” قومی مواقع کے تیئں ان کا یہ رویہ ان کے عزم کے بارے میں غلط پیغام دیتا ہے۔
پروٹوکول پر عمل نہیں کیا جاتا’
کانگریس کے ذرائع نے راہل گاندھی اور کھرگے کی غیر موجودگی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، “کانگریس پارٹی نے ہمیشہ آئینی روایات کی پیروی کی ہے، ابتدائی سالوں میں، ہم سب سرکاری پروگراموں میں شریک ہوتے تھے، لیکن دیکھا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ان خاص مواقع پر بھی اپوزیشن کو نیچا دکھانے کا موقع نہیں گنواتے، اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور پروٹوکول کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔ بیٹھنے کا انتظام پہلی قطار کے بجائے تیسری صف میں ہے اس لیے اپوزیشن نے اس تقریب سے دور رہنا ہی بہتر سمجھا