سلیمان کے قاتلوں پر مکوکا قانون کے تحت سخت سزا دی جائے ، جانچ کیلئے SIT کی تشکیل ضروری
انصاف کی لڑائی میں ہم اہل جامنیر کے ساتھ کھڑے ہیں، آصف شیخ کا جامنیر دورہ، مقتول سلیمان کے اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت
مالیگاؤں : 16 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ)مہاراشٹر کے ضلع جلگاؤں کے شہر جامنیر کے بیٹاواد نامی علاقے میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جہاں ایک مسلم نوجوان سلیمان خان رحیم خان پٹھان کو مآب لنچنگ کا شکار بناتے ہوئے اسے قتل کردیا گیا ہے اور دس سے پندرہ ملزمین فرار ہوگئے ۔اس واقعہ کو پانچ روز گزر گئے لیکن ابھی تک صرف آٹھ لوگ پولس گرفت میں آئے ہیں بقیہ تمام ملزمین کو پولس نے ابھی تک گرفتار نہیں کیا اور جانچ کس رخ پر جاری ہے؟ اسکا بھی صحیح معنوں میں خلاصہ پولس نے نہیں کیا ۔یہ جانچ ایک پی آئی لیول کے آفیسر کے پاس ہی کیوں ہے؟ کیا اس سنگین اور حساس مسلے کو حل کرنے کیلئے اعلیٰ پولس حکام سے انکوائری نہیں کرائی جارہی ہے؟ کیا اسی طرح مہاراشٹر جیسے ترقی یافتہ اسٹیٹ میں مآب لنچنگ ہوتے رہیگی؟ اسکا جواب کون دیگا؟تفصیلات کے مطابق سلیمان خان پولس بھرتی کی تیاری کررہا تھا اور آن لائن فارم بھرنے کیلئے جامنیر گیا ہوا تھا جہاں ایک پولس اسٹیشن کے بازو میں کافی شاپ سے ملزمین نے سلیمان کو اغوا کرتے ہوئے اسے کئی جگہوں پر لے جایا گیا اور بے رحمی سے مارا گیا ۔اتنا ہی حیوانیت کا ننگا ناچ کرتے ہوئے حملہ آوروں نے سلیمان خان کو اسکے والد، والدہ اور بہنوں کے سامنے بھی مارا پیٹا، منع کرنے پر ان حملہ آوروں نے بہنوں اور والد کو بھی زدوکوب کیا ۔سلیمان کے جسم پر کوئی جگہ ایسی نہیں باقی رکھی گئی جہاں سے خون نہ نکل رہا ہو، پورے جسم پر زخم کے نشانات تھے ۔حتیٰ کے ہاتھ اور پیر کے ناخن بھی نوچ ڈالے گئے، سر اور جسم پر بھی گہرے وار کئے گئے ۔فرقہ پرست حملہ آوروں کے حوصلے اتنے بلند کیسے ہوگئے کہ وہ گھر والوں کے سامنے سلیمان کو جان سے مارکر بھاگ گئے اور پولس تماشائی بنی ہوئی ہے؟ اس طرح کے جملوں کا اظہار مالیگاؤں کے سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے کیا، موصوف نے سنیچر کو جامنیر شہر کے بیٹاواد علاقے کا دورہ کیا، انہوں نے سلیمان کے اہل خانہ اور رشتہ داروں، دوستوں اور گاؤں والوں سے ملاقات کرتے ہوئے سلیمان قتل کی مکمل تفصیلات حاصل کی اور کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں ہم آپکے ساتھ کھڑے ہیں پورا مالیگاؤں آپکے ساتھ انصاف کی لڑائی میں شامل رہیگا ۔
اس موقع پر آصف شیخ نے کہا کہ سب سے پہلے مہاراشٹر سرکار سلیمان کے تمام قاتلوں کو گرفتار کرے، یہ قتل دس پندرہ لوگوں نے مل کر کیا ہوگا ان سب ملزمین کو گرفتار کیا جائے، اسی طرح ان ملزمین کے فون کال کی جانچ کی جائے؟ کافی شاپ سے لیکر تمام راستوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جائے، اسی طرح سلیمان کا فون کہاں ہے اور اس پر کس کا کال آیا تھا اسکی بھی جانچ کی جائے؟کافی شاپ پر سلیمان کے موجود ہونے کی اطلاع کس نے دی؟ کون کون ملزمین کے رابطے میں تھا؟ اسکی مکمل جانچ کی جائے اسی طرح قتل کی واردات میں استعمال ہوئے ہتھیاروں کو بھی پولس تلاش کرے اور عدالت میں تمام ثبوت پیش کرے ۔آصف شیخ نے مہاراشٹر سرکار کے ساتھ ہی جامنیر کے رکن اسمبلی و مہاراشٹر کے وزیر گریس مہاجن سے ایس آئی ٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا، آصف شیخ نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ ان ملزمین کیخلاف مکوکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور سخت سزا دی جائے، سلیمان کا قتل انسانیت کا قتل ہے اور آئندہ کوئی بھی سلیمان جیسے نوجوان کو مہاراشٹر میں مآب لنچنگ کا شکار بنا کر قتل کرنے کی ہمت نہ کرے اس لئے ملزمین کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کرتے ہوئے کورٹ میں سزا کا اطلاق کیا جائے ۔آصف شیخ نے اہل خانہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں شہر آپکے ساتھ کھڑا ہے اگر سرکار اور پولس نے ہمیں انصاف نہیں دیا تو ہم ممبئی ہائی
کورٹ سے لیکر دہلی سپریم کورٹ تک انصاف کی لڑائی لڑینگے ۔اس موقع پر آصف شیخ نے گاؤں کے پنچ حضرات سے بھی ملاقات کی اور سلیمان خان کو انصاف دلانے کیلئے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ۔یہاں آصف شیخ کے علاوہ مالیگاؤں سے انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹرا I.S.L.A.M پارٹی کا وفد اور جامنیر شہر کے درجنوں بزرگ و نوجوان بھی موجود تھے ۔
بہار میں 16 دن اور 12 راتیں گزاریں گے راہل گاندھی ، پرشانت کشور کے 'چیلنج' پر کانگریس لیڈر کے جواب کی چرچا!
پٹنہ۔ پرشانت کشور، جو کبھی کانگریس کے لیے انتخابی حکمت عملی بناتے تھے، حال ہی میں راہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں بہار میں ایک رات بھی نہیں گزاری۔ یہ بیان سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب انہیں اپنے بیان کا جواب مل رہا ہے۔ یہی نہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پی کے کا چیلنج ہی نہیں، بلکہ اپنی ‘ووٹر رائٹس یاترا’ کے تحت وہ بہار کی سیاست کو بھی سنبھال رہے ہیں جو حکمراں این ڈی اے کے لیے تناؤ کا باعث بھی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ پی کے نے راہل گاندھی کے بہار میں ایک رات گزارنے پر سوال اٹھایا تھا، جب کہ اس کے جواب میں راہل گاندھی بہار میں 16 دن اور 12 راتیں گزاریں گے۔
ووٹر رائٹس یاترا کا شیڈول
راہل گاندھی کی ووٹر رائٹس یاترا 17 اگست کو ساسارام سے شروع ہوگی اور 1 ستمبر کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ختم ہوگی۔ اس دوران راہل گاندھی اور تیجسوی یادو گیا، مونگیر، بھاگلپور، کٹیہار، پورنیہ، مدھوبنی، دربھنگہ، مغربی چمپارن اور دیگر اضلاع سے ہوتے ہوئے بہار کے 23 سے 30 اضلاع کا احاطہ کریں گے۔ اس سفر کے دوران عوامی جلسوں اور بات چیت کے ذریعے ووٹروں سے براہ راست رابطہ رہے گا۔ اس 16 دن کے سفر میں راہل 20 اور 25 اگست کو بریک کے ساتھ بہار کی سڑکوں پر لوگوں کے درمیان ہوں گے۔ وہ کئی اضلاع میں رات کا قیام بھی کریں گے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ راہل گاندھی کا یہ دورہ بہار میں SIR کے تحت ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف بیداری پھیلانے اور جمہوریت کی حفاظت کا پیغام دینے کے دعوے کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
ووٹر رائٹس یاترا کا شیڈول
راہل گاندھی کی ووٹر رائٹس یاترا 17 اگست کو ساسارام سے شروع ہوگی اور 1 ستمبر کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ختم ہوگی۔ اس دوران راہل گاندھی اور تیجسوی یادو گیا، مونگیر، بھاگلپور، کٹیہار، پورنیہ، مدھوبنی، دربھنگہ، مغربی چمپارن اور دیگر اضلاع سے ہوتے ہوئے بہار کے 23 سے 30 اضلاع کا احاطہ کریں گے۔ اس سفر کے دوران عوامی جلسوں اور بات چیت کے ذریعے ووٹروں سے براہ راست رابطہ رہے گا۔ اس 16 دن کے سفر میں راہل 20 اور 25 اگست کو بریک کے ساتھ بہار کی سڑکوں پر لوگوں کے درمیان ہوں گے۔ وہ کئی اضلاع میں رات کا قیام بھی کریں گے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ راہل گاندھی کا یہ دورہ بہار میں SIR کے تحت ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف بیداری پھیلانے اور جمہوریت کی حفاظت کا پیغام دینے کے دعوے کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
سیاسی معنی اور عوام سے تعلق
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے پرشانت کشور کے تبصرے کے بعد یہ قدم ثابت کرتا ہے کہ راہل اب زمین سے جڑنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ بہار میں 12 راتیں گزارنا ان کی سیاسی وابستگی بتا رہا ہے۔ تیجسوی یادو کے ساتھ ان کی جوڑی اس دورے کو مزید مؤثر بنائے گی۔ آپ کو بتا دیں کہ حال ہی میں پرشانت کشور نے کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پر بہار میں ایک رات بھی نہیں گزارنے اور بہاریوں کا مذاق اڑانے کا الزام لگایا تھا۔ آئیے جانتے ہیں کہ پرشانت کشور نے راہل گاندھی کے بارے میں کیا تبصرہ کیا تھا ۔ ان کا مکمل بیان کیا تھا۔
پرشانت کشور نے راہل گاندھی سے کیا کہا تھا ؟
میڈیا کے سوال پر پرشانت کشور نے راہل گاندھی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ راہل جی بہار سے آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن اصل میں یاترا نہیں کرتے۔ اگر راہل گاندھی نے بہار کے کسی گاؤں میں ایک رات بھی گزاری ہے تو مجھے بتائیں۔ اگر وہ کسی گاؤں میں ایک رات بھی گزار سکتے ہیں تو ہم انہیں قبول کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ دہلی میں بیٹھ کر بہاریوں پر ہنستے ہیں اور یہاں گیان دینے آتے ہیں۔ آپ بہاریوں سے کہو کہ انہوں نے مزدوری کی ہے اور پھر یہاں آکر بڑا گیان دیں گے۔ پرشانت کشور نے یہ بھی کہا کہ راہل گاندھی کو بہار کے لوگوں سے معافی مانگنی چاہئے، کیونکہ کانگریس نے بہار کے لوگوں کے ساتھ برسوں سے نظرانداز اور بے عزتی کا سلوک کیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر کانگریس نے سکھوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر معافی مانگی ہے تو راہل گاندھی کو بھی بہار میں انتخابی مہم چلانے سے پہلے بہاریوں سے معافی مانگنی چاہئے۔ انتخابی حکمت عملی اور اپوزیشن کا نقطہ نظر ویسے بھی راہل گاندھی نے پی کے چیلنج کو قبول کرلیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ دورہ پی کے کے چیلنج کا صرف جواب نہیں ہے، بلکہ این ڈی اے پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی بھی ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری ہورہی ہے اور یہ دورہ اس مسئلہ کو اجاگر کرے گا۔ تاہم، بی جے پی اور جے ڈی یو اسے ‘شو آف’ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ راہل گاندھی کی یہ پہل مہاگٹھ بندھن کے دیہی ووٹروں کو کچھ حد تک متاثر کر سکتی ہے، جو انتخابات میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
عوامی ردعمل اور مستقبل
دوسری طرف بہار کے لوگ راہل کے اس دورے کو بے تابی سے دیکھ رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں کانگریس کارکنوں کی جانب سے ان کے استقبال کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر راہل اس دوران عوام کے مسائل کو مؤثر طریقے سے اٹھاتے ہیں تو اس سے کانگریس کی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی پی کے کی نئی پارٹی جن سوراج بھی اس دورے پر نظر رکھے گی، کیونکہ بہار کی سیاست میں ان کا اثر بھی بڑھ گیا ہے، اس بات کو اب سیاسی ماہرین بھی مان رہے ہیں۔ ویسے بھی سیاسی سوال یہ ہے کہ بہار انتخابات 2025 سے پہلے یہ یاترا کرنے والا قدم سیاسی ہلچل پیدا کر رہا ہے، لیکن کیا راہل اس دورے سے عوام کا اعتماد جیت پائیں گے؟