نئی دہلی: تجربہ کار ہندوستانی کرکٹر چیتشور پجارا، جو ٹیسٹ کرکٹ کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں، نے حال ہی میں ہندوستانی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے شیئر کیں۔ پجارا کا کیریئر بہت شاندار رہا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی کرکٹ میں رہتے ہوئے بھی بہت کمایا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چیتشور پجارا کی کل دولت تقریباً 24 کروڑ روپے ہے۔ اس کی ماہانہ آمدنی تقریباً 15 لاکھ روپے ہے۔ 2022-23 میں انہیں بی سی سی آئی کے بی گریڈ کنٹریکٹ میں شامل کیا گیا جس کے تحت وہ 3 کروڑ روپے کی سالانہ تنخواہ حاصل کرتے تھے۔ پجارا برانڈ اینڈورسمنٹ، کمنٹری کے ذریعے بھی کروڑوں کماتے ہیں۔
37 سالہ پجارا نے اپنے شاندار کیریئر میں بھارت کے لیے 103 ٹیسٹ میچ کھیلے، جس میں انہوں نے 7,195 رنز بنائے اور 43.6 کی اوسط سے بیٹنگ کی۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں 19 سنچریاں اور 35 نصف سنچریاں بنائیں اور طویل فارمیٹ میں ہندوستانی ٹیم میں رن مشین کا کردار ادا کیا۔
پجارا نے ایڈیلیڈ، میلبورن اور سڈنی میں سنچریاں بنا کر 2018-19 آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز میں ہندوستان کو تاریخی فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2020-21 آسٹریلیا کے دورے میں، انہوں نے چار ٹیسٹ میچوں میں 928 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دہلی: ہندوستان نے خلا کے نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔ ہفتہ کو دوسرے قومی خلائی دن کے موقع پر مرکزی حکومت نے آنے والے 15 سالوں کا روڈ میپ جاری کیا۔ اس میں 2040 کے لیے کچھ اہم سنگ میل طے کیے ہیں… گگن یان انسانی مشن، چندریان-4، وینس مشن، ہندوستانی خلائی اسٹیشن اور یہاں تک کہ ہندوستانی خلابازوں کی چاند پر لینڈنگ کے ہدف شامل ہیں۔
100 سے زائد سیٹلائٹ لانچ ہوں گے
سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اگلے 15 سالوں میں ہندوستان 100 سے زیادہ سیٹلائٹ لانچ کرے گا۔ ان میں سرکاری ٹیکنالوجی مشن کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی آپریشنل پروازیں بھی شامل ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب خلا صرف اسرو تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسٹارٹ اپس اور پرائیویٹ کمپنیاں بھی اس میں بڑا رول ادا کریں گی۔
گگن یان: ہندوستان کا پہلا انسان بردار مشن
اس سال کے آخر تک اسرو گگن یان -1 کا انکروڈ مشن لانچ کرے گا۔ اس میں ہیومنائیڈ روبوٹ ویوم متر کو بھیجا جائے گا۔ اس کے بعد 2027 میں، ہندوستانی خلاباز گگن یان مشن کے تحت پہلی بار خلا کا سفر کریں گے۔
چندریان 4 اور وینس مشن
چندریان 3 کی کامیابی کے بعد اب اسرو چندریان-4 پر کام کر رہا ہے، جسے 2028 میں لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہندوستان وینس مشن کی بھی تیاری کر رہا ہے، جو سیاروں کی دریافت اور بین سیاروں کی تلاش میں ایک نئی اونچائی ہوگی۔
2035 تک ہندوستان کا خلائی اسٹیشن
ہندوستان نے 2035 تک اپنا خلائی اسٹیشن بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اسے بھارت انترکش اسٹیشن کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد… طویل مدتی تجربات، سائنس کی تحقیق اور عالمی خلائی طاقت کی دوڑ میں ہندوستان کی مضبوط موجودگی ہے۔
2040: چاند پر ہندوستانی خلاباز
روڈ میپ کے مطابق، ہندوستان کا خواب 2040 تک چاند پر خلاباز اتارنا ہوگا۔ یہ سنگ میل ہندوستان کو براہ راست امریکہ، روس اور چین جیسی سپر پاورز کی قطار میں کھڑا کر دے گا۔
خلائی ٹیکنالوجی تک رسائی
وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج خلائی ٹیکنالوجی صرف راکٹ اور سیٹلائٹ تک محدود نہیں ہے۔ یہ کسانوں کی مدد کر رہی ہے، سیلاب اور خشک سالی کے انتظام میں کام آ رہی ہے، اسمارٹ سٹی اور ہاؤسنگ پروجیکٹس کو سمت دے رہی ہے اور زمین کی میپنگ میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں مارواڑی گو بیک(Marwari Go Back)احتجاج میں تیزی لانے کے لئے ریاست بھرمیں بندکی کال دی گئی تھی،لیکن حیدرآباد،سکندرآباد اور ہائی ٹیک سٹی میں اس احتجاج کاکوئی اثرنہیں دیکھنے میںنہیں آیا،جبکہ اضلاع میں ملا جلا اثر دیکھاگیا۔ ملک کے کئی علاقوں بالخصوص مہاراشٹرمیں غیرمقامی لوگوں کے خلاف زبان اورکلچر کو لیکر کئی بار احتجاج ہوا۔غیرمقامی افراد کو ماراپیٹاگیا‘انکےسماجی بائیکاٹ کی بھی کوشش کی گئی۔ایسے وقت میں تلنگانہ خاص کر حیدرآبادکو سب کے لئے محفوظ سمجھاجاتاتھا۔سیاسی لیڈر بھی کریڈٹ لینے کے لئے دوسری ریاست کی عوام اور تاجروں کو حیدرآباد آنے کی دعوت دیتے تھے۔لیکن حال ہی میں پیش آئے ایک معمولی واقعہ کو بنیادبناکر مارواڑیوں کے خلاف مہم شروع کی گئی اور اسکو ایک تحریک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔آئیے دیکھتے ہیں اسکی تفصیل۔۔۔۔۔۔
احتجاج کی ابتدا اور بنیادی واقعہ
سب سے پہلے ایک گاڑی پارک کرنے کے معاملے نے یہ مسئلہ کھڑا کیا، سکندرآباد (Secunderabad) میں پارکنگ کی جگہ کے تنازع کے دوران مارواڑی اور جین کاروباریوں پر غیر قانونی سرگرمیوں، جعلی مصنوعات فروخت کرنے اور کم تلوال کاروباری حکمتِ عملی اپنانے کے الزامات لگائے گئے۔ مقامی تنظیموں نے اسکو ’’Marwari Go Back‘‘ کے نعرے کے طور پر تبدیل کیا اور احتجاج کا آغاز ہوا۔احتجاج کرنے والے رہائشی اور شکایتی تاجر، خاص طور پر تلنگانہ کی تاجر برادری سے تھے، جنہوں نے اعلان کیا کہ مارواڑی اور گجراتی تاجروں نے مقامی کاروباریوں کے روزگار کو نقصان پہنچایا ہے۔
حیدرآباد اور دیگر اضلاع میں ردِ عمل
مارواڑیوں کے خلاف احتجاج میں مزیدتیزی لانے کے لئے احتجاجاٰ بندکی کال دی گئی تھی۔لیکن اس بندھ کال کا عوامی جواب کمزور رہا۔ شہر میں دکانیں بند نہیں ہوئیں، جس سے اس تحریک کو وہاں کم مقبولیت ملی جبکہ کچھ اضلاع میں بعض ٹریڈ یونینوں نے بندھ کال کی حمایت کی، اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔۔۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل
عثمانیہ یونیورسٹی پولیس نے چند افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جن میں K. Tirupati، Pruthviraj Yadav اور دیگر شامل ہیں، اور الزامات تھے مذہب، نسل، زبان یا مقامِ پیدائش کی بنیاد پر فرقہ وارانہ تفرقہ اپنے پیغام میں شامل کرنا۔۔
سائبر کرائم پولیس نے خود کار کارروائی میں ایک X (سابقہ Twitter) ہینڈل کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا، جو اس تحریک کو آن لائن فروغ دے رہا تھا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے زمینی اور ڈیجیٹل دونوں سطحوں پر سلوگن اور احتجاج کے ممکنہ اشتعال انگیز پہلوؤں کو قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مارواڑی کب آئے تھے حیدرآباد
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مارواڑی تاجر برادری نظام کے دور میں شہر میں آئی تھی اور زیورات، اناج اور الیکٹرانک اشیاء پر زیادہ زور دے کر مختلف کاروبار کرتی رہی ہے۔
مورخین کے مطابق، شہر کے پہلے مارواڑی خاندان راجستھان میں خشک سالی سے پیدا ہونے والے زرعی بحران کے پیش نظر نظام کے حکم پر حیدرآباد ہجرت کر گئے۔
اس کمیونٹی کے افراد کو نظام نے تلنگانہ کے مالی معاملات کو سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ وہ زیادہ تر بیگم بازار، گھانسی بازار، کبوترخانہ، شمشیر گنج اور چار کمان میں پھیلے ہوئے ہیں۔لیکن اب اضلاع میں بھی یہ کاروبارکررہے ہیں۔