۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسی ہے مالیگاٶں کی مومن کانفرنس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر۔۔۔۔احتشام انصاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہذب معاشرے کی عام طور سے یہ روایت رہی ہے کہ اپنے ملک،ریاست، ضلع یا شہر میں جب کوٸی شخصیت صاحب اعزاز ہوتی ہے تو اس کا استقبال و خیرمقدم کیا جاتا ہے۔اور اس کے کرنے میں اپنے پراۓ کا کوٸی امتیاز نہیں برتا جاتا۔
لیکن اس معاملے میں آل انڈیا مومن کانفرنس شاخ مالیگاؤں نے جس طریقے سے اس احسن روایت کی دھجیاں اڑاٸی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیے۔حالیہ اسمبلی الیکشن تو آپ کو ابھی بھی یاد ہوگا۔اسلام پارٹی اور مجلس اتحادالمسلمین کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہوٸی۔اور مجلس کے امیدوار مفتی محمد اسماعیل قاسمی فاتح قرار پاۓ۔آپ کی اس کامیابی کے بعد شہر بھر کے اداروں ،تنظیموں اور ممتاز شخصیات نے ان کا استقبال کیا۔واضح رہے کہ اسلام پارٹی کے امیدوار شیخ آصف صاحب بھی کامیاب ہوتے تو ان کا بھی اسی طرح سے استقبال و خیرمقدم کیا جاتا۔کیوں کہ یہ ایک مہذب معاشرے کی دیرینہ روایت ہے۔اسی کی پاسداری میں مفتی محمد اسمعیل قاسمی صاحب کا استقبال شہر کی جانب سے کیا گیا۔ان استقبال کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے جنہوں نے ان کے مخالف امیدوار کی سرگرم تاٸیدوحمایت کی تھی۔اس کا مطلب قطعی یہ نہیں ہوتا کہ وہ مفتی صاحب کے حامی و ہمنوا ہو گیۓ۔
ہماری بات کو آسانی سے سمجھنے کے لیۓ ایک اہم مثال حالیہ دنوں کی ہے۔جمیعتہ القریش کی غیر معینہ ہڑتال ابھی بھی ریاست کے کسی نہ کسی حصے میں جاری ہے۔گذشتہ دنوں اس کے مقامی ذمہ داران نے واضح طور پر یہ اعلان کیا کہ ان کی یہ تحریک اسلام پارٹی کے بانی و سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید صاحب کی سرپرستی میں جاری ہے۔دو چار دنوں کے بعد اسی جمیعتہ القریش کے یہی ذمہ داران نے رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل قاسمی صاحب سے ملاقات کی اور اپنےمساٸل سے موصوف کو آگاہ کیا ۔اس کا مطلب یہ تو کہیں سے بھی نہیں ہوتا کہ جمیعتہ القریش مفتی صاحب کی حمایتی بن گٸ۔
اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرماٸیے الیکشن کے نتائج کے کچھ دنوں کے بعد مقامی مومن کانفرنس کی میٹنگ ہوٸی۔یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ جب شہر میں مومن کانفرنس کا دوبارہ قیام عمل میں آیا۔اس کے لیۓ قومی صدد جناب فیروز احمد انصاری اور دیگر ریاستی ذمہ داران کی استقبالیہ تقریب کا پروگرام جے اے ٹی ہوا۔اس کے لیۓ فنڈ کے سلسلے میں ذمہ داران جب مفتی صاحب کے مکان پر پہنچے تو آپ نے کچھ کہنے سے قبل ہی پچاس ہزار روپے بطور عطیہ بلا شرط ان کے حوالے کر دیا۔جبکہ یہ بات اتنی ہی درست ہے کہ جمیل کرانتی اینڈ کمپنی کی مومن کانفرنس نے اسمبلی الیکشن میں مفتی صاحب کی حمایت کا اعلان تک نہیں کیا۔اور جب قومی سیکرٹری حافظ عبدالحفیظ انصاری نے مفتی صاحب کی حمایت کا اعلان کیا تو اس کی اخبارات اور سوشل میڈیا میں کھلے عام مخالفت کی گٸ۔اس کے باوجود مفتی صاحب نے مومن کانفرنس کی کبھی مخالفت نہیں کی۔اور نہ ہی اس بات کا کہیں پر بھی تذکرہ کیا۔
ہم ذکر خیر کر رہے تھے الیکشن کے بعد ہوٸی مومن کانفرنس کی میٹنگ کا۔اس میں ایک تجویز آٸی کہ الیکشن میں کامیابی پر مومن کانفرنس کی طرف سے مفتی صاحب کو مبارکباد دے کر استقبال کیا جاۓ۔آپ کو حیرت ہوگی اس تجویز کی مخالفت اس شدومد کے ساتھ کی گٸ کہ یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ مومن کانفرنس کی میٹنگ ہے۔سہیل ڈالریا،خورشید چمڑے والا اور دیگر اس تجویز کی سخت مخالفت پر آمادہ تھے۔بڑی مشکل سے دادا بھوسے کے استقبال کو شامل کر کے منظور تو ہوٸی لیکن عمل اس پر آج تک نہیں ہوا۔البتہ شیخ آصف کی کامیابی ہوتی تو نقشہ دوسرا ہوتا۔حالانکہ استقبال کیۓ جانے سے مومن کانفرنس پر مفتی صاحب کی حامی ہونے کا ٹھپہ نہیں لگ جاتا۔لیکن مومن کانفرنس والوں کو توفیق نہیں ہوٸی کہ اپنے محسن کا دلی نہ سہی روایتی استقبال ہی کر کے پروٹوکال کی خانہ پری ہی کر لیں۔اسی لیۓ ہم نے جمیعتہ القریش کی وسیع القلبی کی مثال سے مومن کانفرنس کی تنگ دلی کو واضح کرنے کی کوشش کی۔جب یہ لوگ اپنے محسن کا دکھاوے کا استقبال کرنے کے بھی روادار نہیں ہوۓان سےمومن برادری کا کچھ الا بھلا کیۓ جانے کی امید کیونکر باندھی جا سکتی ہے۔یہ بات تو آل انڈیا مومن کانفرنس کے مرکزی و صوبائی ذمہ داران کے سوچنے کی ہے۔
*شخصی،سماجی،معاشرتی اور فکری انقلاب صرف قرآن پر عمل کے بعد ہی ممکن ہے(حافظ محمد غفران اشرفی)*
🛑 *الجامعۃ الزہراء اہلسنت اظہار العلوم اور مدرسہ اہلسنت شفاعت القرآن میں تکمیل ناظرہ قرآن کی تقریب کا انعقاد*
آج 🗓️ *بتاریخ* 24/ اگست بروز اتوار صبح دس بجے الجامعۃ الزہراء اہلسنت اظہار العلوم میں *محفل تکمیل ناظرہ قرآن* کا انعقاد ہوا جس کے آغاز میں طلباء و طالبات نے بڑے ہی بہترین انداز میں تلاوتیں پیش کیں۔ اور صدارت کی ذمہ داری *جناب ماسٹر شیخ کلیم قریشی صاحب* نے نبھائی ۔ اور مقرر خصوصی کے طور پر مدرسہ ہٰذا کے ناظم تعلیمات *خلیفۂ حضور شیخ الاسلام حضرت حافظ و قاری مولانا غفران اشرفی صاحب* نے خطاب کرتے ہوئے قرآن پاک کی *اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا* اور موصوف نے فرمایا کہ *قرآن صرف برکت اور شفاء حاصل کرنے کی کتاب نہیں ہے اس کتاب میں امۃِ مسلمہ کے لئے ہدایت اور کامیابی کے رہنما اصول کے بہت سارے احکام ہیں۔ نیز موصوف نے کہاکہ شخصی،سماجی،معاشرتی اور فکری انقلاب صرف قرآن پر عمل کے بعد ہی ممکن ہے ۔* اور طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمِ قرآن کی جو نعمت آپ نے حاصل کی وہ آپ کے پاس امانت ہے ۔ اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس نعمت عظمیٰ کو اگلی نسل میں منتقل کریں۔ اور اس پر عمل کرنے کی نصیحت کی۔اس محفل میں مدرسہ اہلسنت شفاعۃ القرآن کے 16/ طلباء نے اور جامعہ اظہار العلوم کی 25/ طالبات نے تکمیل ناظرہ قرآن کی سعادت حاصل کی ۔ مجاہد اہلسنت کاملی محمد رمضان (ناظم جامعہ اظہار العلوم) کے ہاتھوں تکمیل ناظرہ قرآن والے طلباء اور آئے ہوئے مہمانان کا اعزاز و استقبال کیا گیا۔ اور نظامت کے فرائض *حافظ مزمل حسین نوری* (مدرس مدرسہ اہلسنت شفاعۃ القرآن) نے انجام دیے ۔اس محفل میں حافظ عبدالمجید حافظ شہزاد عطاری ،حضرت حافظ و قاری مظفر حسین نوری صاحب ، حافظ غلام مصطفی اشرفی صاحب ، جناب حافظ راشد رضا صاحب ، محمد جنید رضوی صاحب(لندن) اور انہیں کے ساتھ ساتھ جناب ناظم قریشی صاحب ، ڈاکٹر کہف الوری چشتی صاحب ، جناب مزمل حسین (سیف نیوز)، جناب حاجی دلاور صاحب ، اور جن طلبۂ کرام کی تکمیل کا پروگرام ہوا ان کے سرپرست حضرات بھی موجود رہے ۔ اس پروگرام کی کامیابی کے لئے جامعہ اظہار العلوم کی معلمات اور مدرسہ اہلسنت شفاعۃ القرآن کے مدرسین نے محنتیں کیں۔۔
المرسلہ: *شعبہ نشرواشاعت الجامعۃ الزھراء اظہار العلوم*
شخص کی بہادری پر جھوم اٹھے سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز، کھول دیا شاہی خزانہ، راتوں رات بنایا کروڑپتی
سعودی عرب کے چھوٹے سے قصبے الصالحیہ میں ایک عام آدمی کی بہادری نے نہ صرف درجنوں جانیں بچائیں بلکہ اسے راتوں رات کروڑ پتی بھی بنا دیا۔ جی ہاں، سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے ایک ایسے شخص کو امیر بنا دیا جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر جلتے ہوئے ٹرک کو پیٹرول پمپ سے دور کر دیا اور بڑی تباہی ٹل گئی۔ یہ کہانی ہے 40 سالہ ماہر فہد الدلبحی کی، جس کی بہادری نے سعودی شاہی دربار کو ان کی بہادری کی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا۔
جمعہ کی سہ پہر جب ماہر الصالحیہ کی سڑکوں پر اپنی گاڑی چلا رہا تھا تو اس نے ایک جلتا ہوا ٹرک دیکھا۔ ٹرک جانوروں کی خوراک سے لدا ہوا تھا، اور آگ کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے۔ ڈرائیور ٹرک پٹرول پمپ کے قریب چھوڑ کر خوفزدہ ہو کر فرار ہو گیا تھا۔ ماہر نے کوئی وقت ضائع نہیں کیا اور جلتے ہوئے ٹرک میں کود کر اسے اسٹیشن سے دور لے گیا۔ اس کی بہادری نے نہ صرف پٹرول پمپ بلکہ آس پاس کے لوگوں کو بھی ایک بڑے حادثے سے بچا لیا۔
تاہم ماہر کو اس بہادری کی قیمت اپنی صحت کے ساتھ ادا کرنی پڑی۔ وہ تیسرے درجے کے جھلس گئے تھے، اور اب وہ ریاض کے کنگ سعود میڈیکل سٹی میں زیر علاج ہیں۔ لیکن اس کی بہادری کی گونج سعودی شاہی محل تک پہنچی۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تجویز پر شاہ سلمان نے ماہر کو کنگ عبدالعزیز میڈل (فرسٹ کلاس) اور 10 لاکھ سعودی ریال (تقریباً 2.3 کروڑ روپے) کا نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔
ماہر کی بہادری کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں اور لوگ ان کی تعریف کر رہے ہیں۔ ریاض کے نائب امیر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن نے خود ماہر کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور انہیں بہتر علاج کی یقین دہانی کرائی۔ ماہر کے گھر والوں نے اسے ایک “بہت بڑا اعزاز” قرار دیا۔ اسکول کے سیکورٹی گارڈز کے نگران ماہر اب نہ صرف اپنے گاؤں بلکہ پورے سعودی عرب کے لیے ہیرو بن چکے ہیں
ترکی کی خاتون اول ایمن اردوغان نے امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کو خط لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے غزہ میں بچوں کی افسوسناک صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میلانیا سے درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بات کریں۔ ایمن نے خط میں لکھا کہ میلانیا نے حال ہی میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کو یوکرین کے بچوں کے لیے خط لکھا تھا، جس نے انہیں بہت متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “مجھے یقین ہے کہ آپ نے جو حساسیت یوکرین کے 648 بچوں کے لیے دکھائی، آپ غزہ کے بچوں کے لیے بھی وہی دکھائیں گی۔”
ایمن نے میلانیا سے اپیل کی کہ وہ اپنی آواز غزہ کے لوگوں کے لیے استعمال کریں، خاص طور پر اب جب دنیا میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم فلسطینی عوام کے لیے تاریخی ہو گا۔ یہ خط جمعہ کو لکھا گیا تھا اور اسے ترک صدر کے دفتر نے عام کیا تھا۔ ابھی تک وائٹ ہاؤس نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
غزہ میں قحط کا اعلان
غزہ کی صورتحال بہت خراب ہے۔ بھوک پر نظر رکھنے والے ایک عالمی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ شہر اور گردونواح میں قحط شروع ہو گیا ہے۔ یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ پوری دنیا سے اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ غزہ تک مزید انسانی امداد پہنچائے۔ لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قحط کی خبروں کو “جھوٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل قحط کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، اسے بڑھانے کی نہیں۔
بتادیں کہ پوتن اور ٹرمپ کی ملاقات 15 اگست کو ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ موجود نہیں تھیں، جس کی وجہ سے انہوں نے ٹرمپ کے ذریعے خط بھیجا تھا۔ میلانیا نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ایک جذباتی خط لکھا اور براہ راست ان سے امن کی اپیل کی ہےخط میں یوکرین کا نام نہیں تھا، تاہم میلانیا نے بچوں کی معصومیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “یہ معصومیت کسی سرحد، حکومت یا نظریے سے بالاتر ہے۔”
انہوں نے پوتن پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات کریں کہ جنگ میں پھنسے بچوں کی ہنسی لوٹ آئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود یہ خط الاسکا میں پوتن کے سپرد کیا تھا۔