بروز اتوار کو حبیب لانس میں منعقد ہونے والے پروگرام میں شرکت وقت کا اہم تقاضا بیداری کا مظاہرہ فرمائیں
ازقلم حافظ عقیل احمد ملی قاسمی ترجمان وفاق المدارس والمکاتب مالیگاؤں۔
الحمدللہ وفاق المدارس والمکاتب مالیگاؤں اپنے قیام کے روز اول سے ہی بنیادی اور اہم کاموں کی طرف مثبت انداز میں پوری ذمہ داری کے ساتھ توجہ دے رہا ہے اور حالات حاضرہ کے تناظر میں جہاں اتحاد اتفاق اور یکجہتی کو باقی رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے وہیں قبل از وقت ضروری اقدامات کو بھی انجام دینا اپنی ذمہ داری سمجھا جارہا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی مدارس اسلامیہ اور مکاتب قرآنیہ کو قانونی طور پر منظم کرنا بھی ہے لہذا اس سلسلے میں ذمہ داران وفاق کی جانب سے مورخہ 17 اگست 2025 مطابق 22 صفر المظفر 1447 بروز اتوار صبح دس بجے سے ظہر تک حبیب لانس 80 فٹی روڈ نزد نورنگ کالونی میں ایک اہم پروگرام منعقد کیا جارہاہے جس میں مدارس اسلامیہ اور مکاتب قرآنیہ کے نظماء وصدور کے ساتھ ساتھ ٹرسٹیان کو بھی مدعو کیا جارہاہے اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ ذمہ داران کے سامنے رجسٹریشن کیوں ضروری ہے اور کس طرح کروایا جائے آڈیٹ کس طرح کروایا جائے دیگر قانونی اعتبار سے ہمارے پاس کیا چیزیں ہونی چاہئیں اس سمت میں باخبر افراد اور ماہرین قانون کے ذریعے رہنمائی کی جائے گی ان شاءاللہ۔
لہذا میں تمام ہی مدارس اسلامیہ اور مکاتب قرآنیہ کے ذمہ داران نظماء وصدور سے انتہائی مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ اس پروگرام میں ضرور شرکت فرمائیں شکریہ۔
اس سلسلے میں ادبا عرض ہے کہ پروگرام آل شہر ہے اور تمام مقامات پر دعوت نامہ پہچانے کے پوری کوشش کی جارہی ہے پھر بھی اگر سہواً کسی جگہ دعوت نامہ نہ پہنچ سکے تو اسے ہی دعوت نامہ تصور کرتے ہوئے پروگرام میں ضرور شرکت فرمائیں یہ وقت کا اہم تقاضا ہے اس لئے بیداری ضروری ہے۔
بہار کو اس طرح بدنام نہ کریں، SIR پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا ریمارک
نئی دہلی/پٹنہ۔ سپریم کورٹ نے بہار میں اسپیشل ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے کام (S.I.R) کو لے کر اہم ریمارکس دیئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایس آئی آر ووٹر دوست ہے اور یہ ووٹرز کے خلاف نہیں ہے۔ عدالت نے بہار کو بدنام کرنے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا، خاص طور پر انتظامی خدمات میں بہار نژاد لوگوں کی بھاری موجودگی کے تناظر میں۔ ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی نے سماعت کے دوران کہا کہ پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کم لوگوں کے پاس موجود ہیں۔ ایس آئی آر پر سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ بہار کو اس طرح بدنام نہ کریں۔ بہار کے لوگوں کو کم نہ سمجھیں۔
دراصل سپریم کورٹ میں آج دوسرے دن بھی ایس آئی آر کو لے کر اہم سماعت جاری تھی۔ اس دوران ابھیشیک منو سنگھوی اس معاملے پر مختلف دلائل دے رہے تھے۔ تب جسٹس باغچی نے ابھیشیک منو سنگھوی سے کہا کہ آدھار سے اخراج کی ان کی دلیل سمجھ میں آتی ہے، لیکن دیگر دستاویزات کی تعداد کا مسئلہ دراصل ووٹروں کے حق میں ہے نہ کہ ان کے خلاف۔ انہوں نے کہا کہ شہریت ثابت کرنے والی دستاویزات کی تعداد پر بھی غور کیا جائے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ بہار میں اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے تحت ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا معاملہ گرم ہے۔ الیکشن کمیشن نے 65 لاکھ سے زائد ووٹرز کے نام ہٹانے کی تجویز دی، جن میں 22 لاکھ مردہ، 36 لاکھ ٹرانسفر اور 7 لاکھ ڈبل رجسٹریشن ووٹرز شامل ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس پر ‘ووٹ چوری’ اور بی جے پی کے حق میں کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سپریم کورٹ میں آج مسلسل دوسرے دن سماعت کے دوران وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے مختلف دلائل دیئے۔
آپ کو بتا دیں کہ بہار کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جویمالیہ باغچی کی بنچ نے درخواست گزاروں کے دلائل پر سماعت کی۔ سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن اور ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے درخواست گزاروں کی طرف سے پیش کیا۔ جبکہ راکیش دویدی نے الیکشن کمیشن کا دفاع کیا۔
سنگھوی نے لال بابو حسین کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ووٹر لسٹ میں شامل لوگوں کو ہٹانے کے لیے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کے رہنما خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیشن نے پہلے جھارکھنڈ میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا تھا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ایس آئی آر لاکھوں ووٹرز، خاص طور پر غریبوں اور اقلیتوں کو حق رائے دہی سے محروم کر سکتا ہے۔ عدالت نے کمیشن سے کہا کہ وہ آدھار اور راشن کارڈ جیسے دستاویزات پر غور کرے، لیکن کمیشن نے اسے شہریت کے ثبوت کے طور پر ماننے سے انکار کردیا۔
ڈی آر ڈی او جیسلمر گیسٹ ہاؤس منیجر گرفتار : پاکستان آئی ایس آئی کے لیے کررہاتھا جاسوسی
ڈی آر ڈی او کے جیسلمر گیسٹ ہاؤس کے منیجر مہندر پرساد کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیISI کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ شخص مسلسل ایک پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ہینڈلر کے ساتھ رابطے میں تھا اور بھارت کی دفاعی سرگرمیوں سے متعلق حساس معلومات فراہم کر رہا تھا۔
سی آئی ڈی (سیکیورٹی) کے آئی جی ڈاکٹر وشنوکانت نے بتایا کہ یوم آزادی کی تقریبات کے پیشِ نظر، راجستھان سی آئی ڈی انٹیلی جنس نے اینٹی نیشنل اور تخریبی سرگرمیوں پر سخت نگرانی جاری رکھی ہوئی تھی۔ اسی دوران ڈی آر ڈی او گیسٹ ہاؤس کامینجر مہندر پرساد، کے بارے میں معلومات سامنے آئیں۔
مہندر پرساد، المور (اترکھنڈ) کے پالیون کا رہائشی ہے،اس پر جاسوسی کے شبہات ظاہر کیے گئے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ پرساد سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی خفیہ ایجنسی کے رابطہ کار کے ساتھ رابطے میں تھا۔
اطلاعات کے مطابق، وہ اپنے ہینڈلر کو ڈی آر ڈی او سائنسدانوں اور بھارتی فوج کے افسران کی نقل و حرکت کے بارے میں تفصیلات فراہم کر رہا تھا، جو مسل اور ہتھیاروں کے تجربات کے لیے چندن فیلڈ فائرنگ رینج جیسلمر آتے ہیں۔ یہ سائٹ بھارت کے اسٹریٹجک دفاعی آلات کی جانچ کے لیے انتہائی اہم مقام ہے۔
گرفتاری کے بعد پرساد کی مشترکہ تفتیش کی گئی اور اس کے موبائل فون کا تفصیلی تکنیکی تجزیہ کیا گیا۔ تحقیقات سے تصدیق ہوئی کہ اس نے ڈی آر ڈی او کی کارروائیوں اور بھارتی فوج کی سرگرمیوں سے متعلق حساس معلومات اپنے پاکستانی ہینڈلر کو فراہم کی تھیں۔
ثبوتوں کی بنیاد پر، سی آئی ڈی انٹیلی جنس نے مہندر پرساد کو جاسوسی کے الزامات میں باضابطہ گرفتار کر لیا۔ حکام اب یہ تحقیق کر رہے ہیں کہ سیکیورٹی کی خلاف ورزی کس حد تک ہوئی اور آیا اس معلوماتی نیٹ ورک میں دیگر افراد بھی شامل تھے۔
یہ گرفتاری بھارت کی اسٹریٹجک تنصیبات پر غیر ملکی انٹیلی جنس آپریشنز کی جاری خطرات کو واضح کرتی ہے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں نے قومی سلامتی کے تحفظ کے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ تمام عملے، خاص طور پر حساس شعبوں میں کام کرنے والے افراد، محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ کوشش کی فوری اطلاع دیں۔
چندن فیلڈ فائرنگ رینج جیسلمر، راجستھان میں واقع، بھارت کے دفاعی تجربات کے لیے ایک کلیدی مقام ہے۔ ڈی آر ڈی او سائنسدان اور فوجی افسر یہاں جدید ہتھیاروں اور میزائل سسٹمز کے ٹیسٹ کے لیے آتے ہیں۔ ایسے حساس مقامات پر کام کرنے والے عملے کی جاسوسی کسی بھی ملکی دفاعی منصوبے کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ حالیہ گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیاں بھارت کی قومی سلامتی کے لیے مسلسل چیلنج ہیں۔