کانگریس پارٹی کا کینڈل مارچ
🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️🕯️
کل بروز جمعرات 14/8/2025 رات میں مغرب کی نماز کے فورأ بعد مالیگاؤں شہر(ضلع) کانگریس پارٹی کے صدر اعجاز بیگ صاحب کی قیادت انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کے لاڈکے نیتاراہل جی گاندھی نے ووٹ چوری کے ثبوت پیش کرکے BJP حکومت کا بینڈ بجادیا۔اسی سلسلے میں ”ووٹ چور کرسی چھوڑ“نعرہ کے ساتھ مالیگاؤں شہر کانگریس بھون قدوائی روڈ سے شہیدوں کی یادگار تک ایک کینڈل مارچ نکالاجائےگا۔لہذا مالیگاؤں شہر کی عوام سے ،اعجاز بیگ صاحب کے چاہنے والوں سے اور کانگریس پارٹی کے تمام عہدے داران,ذمہ داران، یوتھ کانگریس کے صدر، تمام بلاک کے صدر، تمام سیل ادھیکش،وکانگریس پارٹی کے چاہنے والوں سے گذارش ہےکہ کل بروز جمعرات رات میں8 آٹھ بجے سے پہلےکانگریس پارٹی آفس قدوائی روڈ پر پہنچ جائیں.ایسی گزارش صدر صاحب نے کی ہے۔
(صدر:اعجاز بیگ)
قومی تہوار اور شہدائے مالیگاؤں... مبین نذیر مالیگاؤں
15 اگست اور 26 جنوری ہمارے دو قومی تہوار ہیں ـ آزادی کے بعد سے 15 اگست یومِ آزادی اور دستور ہند کے نفاذ کے بعد سے 26 جنوری یومِ جمہوریہ کے طور پر ہر سال منایا جاتا ہے ـ اس موقع پر اسکول، کالج، سرکاری اور نجی دفاتر میں پرچم کشائی اور مختلف پروگرام ہوتے ہیں ـ جن میں مقررین جنگ ِ آزادی اور مجاہدین کی قربانیوں ،انگریزی حکومت کے ظلم و ستم کو اپنے مخصوص انداز اور فکر کے مطابق بیان کرتے ہیں ـ یہ بات روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگ ِ آزادی میں مسلم مجاہدین نے بے شمار قربانیاں دی ہیں تب کہیں وطن ِ عزیز آزاد ہوا ہے ـ پورے ملک سے قطع نظر مقامی طور پر بھی مالیگاؤں کے باشندوں نے جنگ آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ـ اگر غور سے دیکھا جائے تو جنگ آزادی میں بھی شہر مالیگاؤں کا کردار منفرد اور ممتاز حیثیت کا حامل ہے ـ شراب بندی ،سودیشی تحریک،خلافت تحریک، سرکاری نوکریوں اور عدالتوں کا بائیکاٹ، اور سمرنا فنڈ میں حصہ لینا،انگریزی حکومت کے ذریعے بنکروں پر جرمانہ، اس کا واضح ثبوت ہے ـ ہم جانتے ہیں کہ آزادی سے پہلے ہی 1921 میں مجاہدین نے چند دنوں کے لیے ہی سہی مالیگاؤں میں انگریزی حکومت کا چراغ گُل کر دیا تھا ـ سودیشی حکومت قائم کی تھی اور یہاں کے زمینی قلعے پر ہندوستانی پرچم لہرادیا تھا ـ بعد میں وہ مجاہدین جنہوں نے سودیشی حکومت قائم کی تھی اپنوں ہی کی ستم ظریفیوں کی وجہ سے گرفتار کر لیے گئے ـ انہیں قید کر لیا گیا ـ ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور پھانسی کی سزا سنائی گئی ـ ان میں سے کئی ایک قید و بند اور ظلم و ستم جھیلتے ہوئے مالک حقیقی سے جا ملے تو کچھ مجاہدین کو پھانسی دے دی گئی ـ آزادی کے ان متوالوں نے وطن عزیز کی محبت میں خوشی خوشی جام شہادت نوش کیا ـ ان کے قدم نہیں ڈگمگائے ـ ان کے پائے استقامت میں کوئی لرزش پیدا نہیں ہوئی ـ ان مجاہدین کی خدمات کا اعتراف حکومت ِ ہندنے
Who's who of Indian Martyrs
نامی کتاب میں کیا ہے ـ اس کتاب میں شہر عزیز کے سات شہدا منشی محمد شعبان ولد بھکاری ،سید سلیمان شاہ روزن شاہ ، محمد اسرائیل اللہ رکھا، بدھو ولد فریدن،عبدالغفور ولد عبدالشکور، عبداللہ خلیفہ ولد خدا بخش، محمد حسین ولد محمد کے نام شامل ہیں ـ حکومت ِ مہاراشٹر کے "سواتنتر سینک چرتر کوش" سوا سو مجاہدین ِ مالیگاؤں کا ذکر موجود ہے ـ انہی مجاہدین کی یاد میں شہر مالیگاؤں میں دو مقامات، موہن سینما کے پاس اور قدوائی روڈ پر شہیدوں کی یادگار قائم کی گئی، لیکن کچھ رکاوٹوں کی وجہ سے شہیدوں کی یادگار پر شہیدوں کے نام نہیں لکھے جا سکے ـ مرحوم بشیر ادیب صاحب ساری زندگی اس کے لیے کوشش کرتے رہے لیکن اب تک ان شہداء کے نام شہیدوں کی یادگار پر لکھے نہیں گئے ہیں ـ شہر اور ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کام آئندہ ہونے کے بھی آثار نظر نہیں آتے ـ پھر ہم اپنی نئی نسل کو شہدائے مالیگاؤں کے نام اور ان کے کارناموں سے کیسے واقف کرائیں ؟ ان کی قربانیوں اور جذبۂ حریت سے نسل ِ نو کو کیسے آگاہ کریں؟ آنے والی ہر نئی نسل اپنے اسلاف، اقدار، روایات اور تاریخ سے بے بہرہ ہوتی جارہی ہے ـ ساتھ ہی تاریخ کو مسخ کرنے کی سازش بھی عروج پر ہے ـ ہمارے اکثر بچے شہیدوں کے نام اور کارہائے نمایاں تو چھوڑیے، شہیدوں کی یادگار کے مقامات سے بھی ناواقف ہیں ـ ایسے حالات میں شہر کے ہر باشعور شہری کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی جوانمردی کی داستان کو نئی نسل تک پہنچائے ـ ان دونوں تہواروں پر جلسے لے کر ،جلوس نکال کر انھیں وقتی طور پر خراج ِ عقیدت پیش کیا جاسکتا ہے اور کیا بھی جاتا ہے ـ اس کے باوجود دس میں سے سات بلکہ آٹھ افراد شہدائے مالیگاؤں یا مجاہدین مالیگاؤں کے نام سے واقف نہیں ہیں ـ گزرتے وقت کے ساتھ لاعلمی میں اضافہ ہی ہوگا ـ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر سال ان دونوں تہواروں پر جلسے اور جلوس کے ساتھ ساتھ شہر مالیگاؤں کے شہدائے آزادی کی قربانیوں کے متعلق مضمون نویسی کے مقابلے، تقریری مقابلے، بیت بازی، کوئز کمپٹیشن ، ڈرائنگ کے مقابلے، پوسٹر کمپٹیشن ، پاور پوائنٹ پریزینٹیشن اور کھیل کود کے مقابلے منعقد کرکے ان مجاہدین اور ان کی قربانیوں کی یاد کو تازہ کریں اور نئی نسل تک اسے پہنچائیں ـ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے ہم ان مجاہدین کی ویڈیو وغیرہ بنانے کے مقابلے بھی منعقد کرسکتے ہیں ـ شہر کے تعلیمی ،سماجی ،سیاسی اور ادبی ادارے اور تنظیمیں اس سلسلے میں پیش رفت کرسکتی ہیں ـ ان کے علاوہ بھی دیگر کئی طریقے ہوسکتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام مجاہدین آزادی اور خاص طور پر مالیگاؤں کے مقامی مجاہدین کے اخلاص،ایثار اور قربانیوں کو نئی نسل تک پہنچایا جاسکتا ہے ـ طریقہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، کسی بھی طرح اپنے اسلاف کے کارناموں سے نئی پود کو باخبر کرنا ،اس مضمون کا مقصد ہے ـ اگر کوئی ایک بچہ یا بچی بھی ہماری اس کوشش سے بزرگوں اور پرکھوں کی مجاہدانہ زندگی کے کسی پہلو کو جان لے تو ہم سمجھیں گے کہ ہماری کوشش رائیگاں نہیں گئی ـ
انتقال پُر مَلال
یہ خبر انتہائی دکھ کے ساتھ دی جاتی ہیکہ شہر مالیگاوں کی مشہور و معروف شخصیت نامور سوشل ورکر عارف خان (اَیّا ممبر) اور عباس نگر ڈاکٹر ریاض احمد کے دواخانے کے پاس مہمِل خان کیلے والے کے والد
عبدالحمید خان کاسودہ والے کا انتقال ہوگیاہے
اِنّا لِلّہِ وَاِنّا اِلَیہِ راجِعُون
تدفین رات دیڑھ - 30=1 بڑا قبرستان میں ادا کی جائے گی
اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے
ان کی سیئات کو حَسَنات سے مبدل فرمائے
ان کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے
اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے
جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین
شریکان غم : مسلم اُنّتی سیوا فاؤنڈیشن مالیگاؤں راشٹریہ NGO و بپلک سماچار نیوز 18 مہاراشٹر
دو ہنہار طلبہ نے دس میں سے دس گریڈ حاصل کر کے نیا سنگِ میل قائم کیا
مالیگاؤں ( پریس ریلیز) جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی (منصورہ) کے زیر اہتمام جاری مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس (MMANTC) المعروف کالج آف انجینئرنگ منصورہ کے طلبہ و طالبات نے حالیہ تعلیمی سال میں شاندار نتائج حاصل کرتے ہوئے ادارے کا نام روشن کیا۔ مختلف شعبے جیسے سول، میکانیکل، کمپیوٹر، الیکٹرانکس اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں زیر تعلیم طلبہ نے امتیازی نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ یہ نمایاں کامیابی ادارے کے معیاری تعلیمی نظام، تجربہ کار اساتذہ اور طلبہ کی لگن ومحنت کا نتیجہ ہے۔
سال اول ڈگری انجینئرنگ کے ٹاپرس میں عمید احمد(SGPA 9.41)، محمد حسن (SGPA 9.41)، صاحبہ ناز (SGPA 9.23)، سمیرہ زرین (SGPA 9.23) ،انصاری طوبیٰ (SGPA 9.14) اوراریب الرحمن(SGPA 9.14) شامل ہیں۔
سال دوم شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ ڈگری کے ٹاپرس میں جادھو سو شانت(SGPA 9.59) ، شندے پوچا (SGPA 9.18) اور پٹھان ادیب (SGPA 9.05) کے نام شامل ہیں۔ سال دوم شعبہ الیکٹرانکس اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کے ٹاپرس میں عبداللہ حسین (SGPA 10.00)، شفاء کوثر(SGPA 10.00)، خدیجہ الکبریٰ (SGPA 9.97) اور مومن طوبیٰ (SGPA 9.59) کے نام شامل ہیں۔ سال دوم شعبہ سول انجینئرنگ کے ٹاپرس میں محمد ہارون (SGPA 8.50)، محمد شمس الدین (SGPA 8.36) اورعباس الرحمن(SGPA 8.14) کے نام شامل ہیں۔ سال دوم شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے ٹاپر بچھاو للت (SGPA 7.64) ہے ۔
سال سوم شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ ڈگری کے ٹاپرس میں انصاری فلک(SGPA 9.24) ، سنونے نکیتا (SGPA 9.02) اور تنبولی صدف (SGPA 8.86) کے نام شامل ہیں۔ سال سوم شعبہ الیکٹرانکس اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کے ٹاپرس میں فوضیل خان (SGPA 8.64) اور نوشاد خان(SGPA 7.80) کے نام شامل ہیں۔ سال سوم شعبہ سول انجینئرنگ کے ٹاپرس میں فیض محمد (SGPA 7.90)کانام شامل ہیں۔
سال آخرشعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ ڈگری کے ٹاپرس میں سحر رانا(SGPA 9.85) ، عفیفہ کوثر (SGPA 8.87) اور راحیل خان (SGPA 9.50) کے نام شامل ہیں۔ سال آخر شعبہ الیکٹرانکس اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کے ٹاپرس میں لائبہ فردوس (SGPA 9.85) ، واگچورے نکہل(SGPA 8.75) اور سید اشرین(SGPA 8.50) کے نام شامل ہیں۔ سال آخر شعبہ سول انجینئرنگ کے ٹاپرس میں ندیم انصاری (SGPA 9.50)، مومن انس (SGPA 9.43) اور واگچورے نکہل(SGPA 9.41) کے نام شامل ہیں۔ سال آخر شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے ٹاپرس میں پریم شندے (SGPA 9.10)، نکیتا ٹھاکر (SGPA 8.90) اور دیسلے پرافل (SGPA 8.60) کے نام شامل ہیں۔
اس خوشی کے موقع پر انجینئرنگ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شاہ عقیل احمد نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ جامعہ محمدیہ نے مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے ہندوستان کے معروف اداروں (آئی آئی ٹی، این آئی ٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، دیگر سینٹرل یونیورسٹیوں) سے فارغ ڈاکٹریٹ اسٹاف کی تقرری کی جس کا نتیجہ طلبہ کی نمایاں کامیابیوں سے ظاہر ہورہا ہے۔ گذشتہ سالوں میں کالج ہذا کے تین طلبہ (شیماز عامر، مومن نعمان اور رومیشا عظمیٰ) نے یونیورسٹی سطح پر گولڈ میڈلس حاصل کئے تھے۔ امسال بھی دو طلبہ (عبداللہ حسین اور شفاء کوثر) نے دس میں سے دس گریڈ حاصل کئے ہیں۔
وہیں ادارہ جامعہ محمدیہ کے چیئرمین جناب ارشد مختار صاحب اور سیکریٹری جناب راشد مختار صاحب نے تمام کامیاب طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اسی طرح انجینئرنگ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شاہ عقیل احمد، پالی ٹیکنیک کے پرنسپل ڈاکٹر یعقوب انصاری، ڈاکٹر سلمان بیگ، ڈاکٹر نوید حسین، ڈاکٹر دلاور حسین، ڈاکٹر آصف رسول سمیت تمام فیکلٹی ممبران نے بھی کامیاب طلبہ کو مبارکباد پیش دی