ماہرین کے نزدیک اچھی صحت کے لیے کون سی چھ عادات اپنانا چاہییں؟
تندرستی، فٹنس یا غذا سے زیادہ اہم ہے۔ توازن اور تندرستی کو فروغ دینے کے لیے دبئی میں مقیم انسٹرکٹر ایمیلیا میٹیریو نے یہ چھ عادات تجویز کی ہیں۔
سر کے بل کھڑے ہونا
ایمیلیا میٹیریو کا کہنا ہے کہ ہینڈ سٹینڈ یا سادہ یوگا پوز جیسے خون کی گردش بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔
فون کے بغیر ورزشایمیلیا میٹیریو کا خیال ہے کہ بغیر کسی ڈیوائس کے ورزش کرنے سے توجہ اور آگاہی بڑھ سکتی ہے۔ چہل قدمی، تیراکی یا کوئی اور ورزش کرنا ہو تو موبائل فون کے بغیر اس پر توجہ بڑھتی ہے۔
کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں
انہوں نے کہا کہ غیر مانوس سرگرمیاں سیکھنا جیسے ڈانس، بیکنگ یا دست کاری دماغ کو متحرک کر سکتی ہے اور مشغولیت اور حوصلہ افزائی کا احساس فراہم کر سکتی ہے۔خاموشی کو ترجیح دیں
میٹیریو نے یہ بھی کہا کہ پرسکون طرز عمل جیسے مراقبہ، سانس لینے یا فطرت میں وقت گزارنا اعصابی نظام کو ریگولیٹ کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
ڈائری لکھیں
انہوں نے کہا کہ ہر روز کچھ چیزیں لکھنا جن کے لیے آپ شکر گزار ہیں، مثبت ذہنی عادات اور جذبات کو سہارا دے سکتی ہیں۔
فیملی کے لیے وقت نکالنا
خاندان، دوستوں، جانوروں یا اپنی برادری کے ساتھ وقت گزارنا آپ کی مجموعی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ مل جل کر کچھ کرنے سے تنہائی کے احساسات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
کیا پاکستان بھارت کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے والا تھا؟ پاکستانی وزیر اعظم کا جواب آگیا - PAK PM SHEHBAZ SHARIF
اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہند-پاک حالیہ کشیدگی پر اپنے سوشل میڈیا پوسٹ اور بیانات میں یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ ہند-پاک کشیدگی جوہری جنگ میں تبدیل ہونے والی تھی اور انھوں نے ثالثی کے ذریعہ دونوں ممالک میں جنگ بندی کرائی۔
واضح رہے بھارت اور پاکستان پڑوسی ممالک ہیں اور دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ کی ثالثی کو بھارت قبول نہیں کرتا اور پاکستان ٹرمپ کو جنگ بندی کا کریڈٹ دیتا آیا ہے۔
بھارت کے خلاف ایٹمی بم استعمال کرنے کے دعوے پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران جوہری تبادلے کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کا جوہری پروگرام پرامن سرگرمیوں اور اپنے دفاع کے لیے ہے۔
شریف نے یہ تبصرہ یہاں پاکستانی طلباء کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
چار روزہ فوجی تصادم کو یاد کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہندوستانی فوجی حملوں کے دوران 55 پاکستانی مارے گئے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے پوری طاقت سے بھارت کے حملوں کا جواب دیا۔
جب ان سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو شریف نے جواب دیا، پاکستان کا جوہری پروگرام صرف اور صرف پرامن مقاصد اور قومی دفاع کے لیے ہے، جارحیت کے لیے نہیں۔22 اپریل کو ہوئے پہلگام حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں ایک مقامی گھوڑے بان کے علاوہ دیگر سبھی غیر مقامی سیاح تھے۔ اس حملے میں 16 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ این آئی اے کے مطابق، حملہ آوروں نے مذہبی شناخت کی بنیاد پر سیاحوں کو نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے اسے حالیہ برسوں کا ایک ہولناک دہشت گرد حملہ قرار دیا گیا۔
پہلگام حملے کے جواب میں بھارتی فضائیہ نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے آپریشن سندور شروع کیا تھا۔
امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان شمالی کوریا کے خلاف اتحاد بنانے سے باز رہیں: روس
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کو شمالی کوریا کو نشانہ بنانے کے لیے سکیورٹی پارٹنرشپ بنانے کے خلاف خبردار کیا ہے۔خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سنیچر کو شمالی کوریا کے مشرقی ونسن شہر میں بات چیت کی۔
انہوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے مبارکباد پیش کی۔
ملاقات کے دوران کم جونگ اُن نے اپنی حکومت کے یوکرین کے ساتھ تنازع میں روس کی طرف سے اُٹھائے گئے تمام اقدامات کی ’غیر مشروط حمایت اور حوصلہ افزائی‘ کے عزم کا اعادہ کیا۔
شمالی کوریا کی سرکاری کورین سنٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ پیانگ یانگ اور ماسکو ’تمام سٹریٹجک معاملات پر اتحاد کی سطح پر ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بین الاقوامی معاملات میں ’سٹریٹجک اور حکمت عملی کے تعاون کو مزید مضبوط کرنے اور ٹھوس کارروائی کو تیز کرنے‘ پر زور دیا۔
روس اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں پروان چڑھ رہے ہیں، شمالی کوریا فوجی اور اقتصادی تعاون کے بدلے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں مدد کے لیے فوج اور گولہ بارود فراہم کرتا ہے۔
اس سے جنوبی کوریا، امریکہ اور دیگر کے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ روس شمالی کوریا کو حساس ٹیکنالوجیز بھی منتقل کر سکتا ہے جس سے اس کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
شمالی کورین ہم منصب چو سون ہوئی کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان پر الزام عائد کیا کہ وہ شمالی کوریا کے گرد فوجی تنصیبات قائم کر رہے ہیں۔
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی طاس کے مطابق سرگئی لاوروف نے کہا کہ ’ہم شمالی کوریا اور یقیناً روس سمیت کسی کے خلاف بھی اتحاد بنانے کے لیے ان تعلقات کا فائدہ اٹھانے کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔‘
امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں پیش رفت کے جواب میں اپنی سہ فریقی فوجی مشقوں میں توسیع یا بحالی کر دی ہے۔
تینوں ممالک نے ایسے وقت میں جمعے کو ایک مشترکہ فضائی مشق کا انعقاد کیا تھا جبکہ ان کے اعلیٰ فوجی افسران نے سیئول میں ملاقات کی اور شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی تمام غیر قانونی سرگرمیاں بند کرے۔