ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام کی 10ویں برسی آج، ملک کررہا ہے یاد ، پی ایم مودی نے پیش کیاخراج عقیدت
سابق صدر جمہوریہ،سائنسداں،میزائل مین، محقق،استاد اور محب وطن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی آج برسی ہے۔اس موقع پر ملک انھیں یاد کررہا ہے۔وزیراعظم نریندرمودی نے بھی سابق صدرجمہوریہ ڈاکٹر اےپی جے عبدالکلام کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔انھوں نے سوشل میڈیا ایکس پر اپنے پوسٹ میں محبوب صدر کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ انھیں ایک بصیرت رکھنے والے محرک لیڈر، ایک شاندار سائنسداں، رہبر،سرپرست اور عظیم محب وطن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔پی ایم مودی نے مزید لکھا کہ ان کے خیالات ملک کے نوجوانوں کو ایک ترقی یافتہ اور مضبوط بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔قوم کے تئیں ان کی وابستگی قابل تقلید تھی۔
میزائل مین کے نام سے مشہور کلام کا جنم 15 اکتوبر 1931 کو تمل ناڈو کے رامیشورم میں ہوا تھا اور ان کا انتقال 27 جولائی 2015 کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔وہ 2002 سے 2007 تک بھارت کے 11ویں صدر رہے۔
عبدالکلام کے خیالات نے لاکھوں نوجوانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لائی ہیں۔ وہ نوجوانوں اور بچوں کے پسندیدہ تھے۔ ڈاکٹر کلام کا یوم پیدائش ‘عالمی یوم طلبہ’ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 2010 میں یو این نے اس عظیم شخصیت کے اعزاز میں 15اکتوبر کو ’عالمی یوم طلبہ‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔
ان کے خیالات اہمیت کے حامل ہیں اور زیادہ تر نوجوان انہیں اپنی تحریک کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ انہیں عوام کا صدر کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ عام لوگوں سے جڑے ہوئے تھے۔وہ سادگی پسندتھے۔ وہ بچوں کے مسائل کو سمجھتے تھے۔ بچوں اور نوجوانوں سے انھیں خاص لگاؤ تھا اور ہمیشہ ان کے درمیان رہنا پسند کرتے تھے۔ وہ ا سکولوں اور کالجوں میں جا کر طلباء سے بات کرتے تھے ، انہیں خواب دیکھنے اور ان خوابوں کو پورا کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔
ڈاکٹر کلام کے افکاروخیالات آپ کو توانائی اور جوش سے بھر دیتے ہیں ۔ کلام کے قیمتی خیالات ہمیشہ آپ کو زندگی میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ڈاکٹر عبدالکلام کے چنداقوال
آپ کو کامیابی تب ملتی ہے جب آپ کے دستخط ’آٹو گراف‘ میں بدل جاتا ہے۔
زندگی میں آپ کو کبھی ہار نہیں ماننی چاہیے،کسی بھی مسئلے کو کسی بھی بھی حالت میں ہمیں زیرکرنے نہیں دینا چاہیے۔
ہمیشہ بڑے خواب دیکھیں، کیونکہ یہ خواب آپ کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اپنے خواب کو سچ کرنے کے لیے، آپ کو پہلے خواب دیکھنا ہوگا۔
اگر آپ اپنی زندگی میں سورج کی طرح چمکنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے سورج کی طرح جلنا ضروری ہے۔
جو شخص پوری لگن کے ساتھ محنت نہیں کرسکتا اسے حاصل ہونے والی کامیابی کھوکھلی اور نامکمل ہوتی ہے۔ اس سے چاروں طرف تلخی پھیل جاتی ہے۔
خواب وہ نہیں جو ہم سوتے ہوئے دیکھتے ہیں بلکہ خواب وہ ہوتے ہیں جو ہمیں سونے نہیں دیتے۔
اگر آپ میں کامیابی کا پختہ عزم ہے تو ناکامی آپ کو آگے بڑھنے سے کبھی نہیں روک سکے گی۔
گاںجا، ہُکّا، شراب اور عیاشی کا اڈہ! پولیس پہنچی تو منظر دیکھ کر رہ گئی دنگ! 7 افراد گرفتار
پونے (مہاراشٹر): اپارٹمنٹ میں جاری ’ریو پارٹی‘ میں گانجا، ہُکّا اور شراب کی مجلس 7 افراد گرفتار، پولیس کے ہوش اُڑ گئے
پونے کے کھڑاری علاقے کے ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ میں ہفتہ کو ایک فرضی ہاؤس پارٹی کا پردہ فاش ہوا، جہاں بڑی مقدار میں منشیات، ہُکّا اور شراب کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ کرائم برانچ کو خفیہ اطلاع ملنے کے بعد پارٹی کی جگہ پر چھاپہ مارا گیا۔پولیس نے پارٹی سے متعلق منشیات، شراب کی بوتلیں اور ہُکّا کیے گئے جازب ضبط کیے۔ چھاپے کے دوران دو خواتین اور پانچ مرد کو گرفتار کیا گیا، جن میں این سی پی رہنما روشن کھڈسے کی بیٹی روہنی کھڈسے کے شوہر پرانجل بھی شامل ہیں۔
پولیس نے فلیٹ کو سیل کر دیا ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پورے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ واقعہ کی معلومات دیتے ہوئے پولیس نے کہا، ‘ہمیں کھراری علاقے کے ایک اپارٹمنٹ میں ریو پارٹی منعقد ہونے کی اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد ہماری کرائم برانچ کی ٹیم نے چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران گانجہ، شراب اور حقہ جیسی نشہ آور اشیا برآمد کی گئیں۔ہم نے سات افراد کو حراست میں لیا ہے- پانچ مرد اور دو خواتین۔ زیر حراست افراد میں ایک خاتون سیاستدان کا شوہر بھی شامل ہے۔ تمام افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور مقدمہ درج کرنے کی کارروائی جاری ہے۔’
امریکہ اورپاکستان میں بڑھتی قربت، جنرل مائیکل ای کوریلا کونشان امتیاز ملٹری سے نوازاگیا
پاکستان ،امریکہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔اسی سمت اس نے ایک اورقدم بڑھایا ہے۔ پاکستان نے، امریکی سینٹکام کے کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کوریلا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) سے نوازا ہے۔پاکستانی صدرآصف علی زرداری نے ایوان صدر میں منعقدہ ایک تقریب میں جنرل مائیکل ایرک کوریلا کو اعزازسے نوازا ۔
پاکستانی میڈیا نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہےکہ یہ اعزاز ، پاکستان، امریکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانےاور انسداد دہشت گردی کے لیے جنرل کوریلا کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔
اپنے دورے کے دوران ،جنرل مائیکل کوریلا نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں کیں ۔اس دوران دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سینٹرل کمانڈ امریکی فوج کا وہی ونگ ہے جو ایران اور یمن کے حوثی باغیوں پر حملوں کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ یہ مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ کمانڈ اسرائیل کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی طرف سے اسی کمانڈ کے سربراہ کو بڑا اعزاز دینا بہت کچھ کہتا ہے۔
جنرل کوریلا کے دورہ پاکستان کے دوران ایوان صدر میں تینوں افوا ج نے گارڈ آف آنر دیا ۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی بلکہ ایک اہم کانفرنس کا حصہ بھی بنے جس میں امریکہ، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی۔
یہ وہی جنرل کوریلا ہیں جنھوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلف غیرمعولی شرکت دار قراردیا تھا۔ساتھ ہی انھوں نےیہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کو ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکی جنرل نے مزید کہا تھا کہ و ہ نہیں مانتے کہ یہ ایک بائنری سوئچ ہے کہ اگر ہم ہندوستان کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں تو ہم پاکستان کے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ان کے اس بیان پر بھارت نے سخت اعتراض جتایا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی کارستانی سب کےسامنے ہے۔ ہندوستان نے یہ واضح کیاتھا سرحد پار سے دہشت گردی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔