Saturday, 26 July 2025

ایران میں بڑا حملہ، دہشت گردوں نے برسا دی گولیاں، کم از کم 8 افراد کی موت




ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں ایک عدالتی مرکز پر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں کم از کم آٹھ افراد کی موت ہوگئی ہے۔ مرنے والوں میں پانچ شہری اور تین حملہ آور شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 13 دیگر زخمی بھی ہوئے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی میزان آن لائن کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے زاہدان میں جوڈیشری سینٹر کو نشانہ بنایا۔ حملہ صبح اس وقت ہوا جب عدالتی سرگرمیاں معمول کے مطابق چل رہی تھیں۔

واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حالات اب قابو میں ہیں۔
زخمیوں کو مقامی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے ، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ فی الحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ تاہم یہ علاقہ اس سے پہلے شدت پسندوں کی سرگرمیوں اور علاحدگی پسندوں کے تشدد کا مرکز رہا ہے۔

صوبہ سیستان - بلوچستان، پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے متصل ہے اور یہاں سے اکثر دہشت گردانہ کارروائیوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ یہ علاقہ طویل عرصے سے سیکورٹی اداروں کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔



الیکشن کمیشن کی وضاحت :بہار میں 21.6 لاکھ فوت شدگان کی شناخت، 99 فیصد ووٹرز کا احاطہ مکمل


الیکشن کمیشن نے اپنے آفیشل نوٹ میں کہا:
’’اس مشق کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اہل ووٹر فہرست سے محروم نہ رہ جائے۔ بوتھ لیول آفیسرز (BLOs)، انتخابی رجسٹرار (EROs)، ضلع انتخابی افسران (DEOs)، اور ریاستی چیف الیکشن آفیسرز (CEOs) نے 20 جولائی کو ان تمام ووٹرز کی فہرستیں سیاسی جماعتوں کے ساتھ شیئر کی ہیں جو فوت ہو چکے ہیں، مستقل طور پر نقل مکانی کر چکے ہیں یا جنہوں نے فارم جمع نہیں کروائے۔‘‘

الیکشن کمیشن نے مزید بتایا کہ:
21.6 لاکھ ووٹرز کو ’’فوت شدہ‘‘ قرار دیا گیا ہے

31.5 لاکھ ووٹرز نے ریاست یا حلقے سے ’’مستقل نقل مکانی‘‘ کی ہے

7 لاکھ ووٹرز کا اندراج ایک سے زائد مقامات پر پایا گیا ہے

1 لاکھ ووٹرز کو’’ناقابل تلاش‘‘ (Untraceable) قرار دیا گیا ہے

7.21 کروڑ ووٹرز کے فارم موصول اور ڈیجیٹلائز کیے جا چکے ہیں (91.32 فیصد)

کمیشن کا کہنا ہے کہ جو فارم اب تک موصول نہیں ہوئے، انہیں BLOs کی رپورٹ کے ساتھ تصدیق کے لیے اپلوڈ کیا جا رہا ہے، تاکہ دعووں اور اعتراضات کے وقت تصدیق کی جا سکے۔ اس عمل میں کسی بھی ووٹر یا سیاسی جماعت کو یکم ستمبر 2025 تک دعویٰ یا اعتراض دائر کرنے کی اجازت ہوگی۔

ابتدائی ووٹر لسٹ کے پرنٹ اور ڈیجیٹل ورژن تمام 12 تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو فراہم کیے جائیں گے، اور یہ فہرست EC کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہو گی۔

ادھر، جمعرات کو بھی اپوزیشن جماعتوں نے بہار اسمبلی کے باہر احتجاج کیا، اور پارلیمنٹ کے مکر دروازے (Makar Dwar) پر بھی مسلسل چوتھے دن احتجاج جاری رکھا۔ ’’انڈیا اتحاد‘‘ (INDIA Alliance) کے اراکینِ پارلیمان نے SIR پر فوری بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریکیں پیش کی ہیں۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے اور یہ سارا عمل جانبداری پر مبنی ہے۔
فرانس فلسطینی ریاست کوکرے گا تسلیم، میکروں ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کرینگے باضابطہ اعلان

غزہ میں اسرائیل کی جارحیت اورخونریزی کے بیچ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے بڑا اعلان کیا ہے جس سے دنیا بھر میں ہلچل مچی ہے ۔ میکروں نے ایکس پرپوسٹ میں لکھا ہے کہ مشرق وسطی میں پائیدار اورمنصفانہ امن کے لیے فرانس فلسطینی ریاست کوتسلیم کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ وہ،فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کاباقاعدہ طور پر اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کریں گے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کے مطابق،فرانس کا یہ قدم فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ایمانوئل میکرون نے اپنے پوسٹ میں مزید لکھا کہ غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ اور عام شہریوں کی جان بچانا آج سب سے اہم ہے ۔

خیال رہے کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے اس سے قبل فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے عزم کا اشارہ دیا تھا۔اس علاوہ فرانس کے وزیر خارجہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ میں دہائیوں سے جاری تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے ایک کانفرنس کی شریک میزبانی کرنے والے ہیں۔

فلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے کی سمت فرانس کا یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔فرانس ایسا کرنے والا یورپ کا سب سے بڑا اور بااثر ملک ہوگا۔انہی خطوط پر عمل شروع کرنے کے متعلق یورپی یونین کے رکن ناروے، آئرلینڈ اور اسپین نے بھی اشارہ دیا ہے ۔

حماس نے کیا فرانس کے فیصلے کا خیرمقدم
حماس نے فرانس کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ ہمارے مظلوم فلسطینی عوام کے لیے انصاف کے حصول اور ان کے جائز حق کی حمایت اور ان کے تمام مقبوضہ علاقوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نےکیا خوشی کا اظہار
فلسطینی اتھارٹی نے میکرون کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ۔ پی ایل او کے نائب صدر حسین الشیخ نے میکرون کا شکریہ ادا کیا ۔

سعودی عرب نے کیا خیرمقدم
سعودی عرب نے فرانس کے اس اقدام کوقابل تحسین قراردیا ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اُمید ظاہر کی ہے کہاب دیگرممالک بھی اسی سمت میں قدم اٹھائیں گے۔
سعودی عرب اورفرانس 28 اور 29 جولائی کو دوریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرینگے فلسطینی ریاست کے قیام پرعالمی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی تاہم امریکا کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق،اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے کم از کم 142 ممالک اس وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں یا اسے تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن کئی طاقتور مغربی ممالک نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان میں امریکہ، برطانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...