اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کو جھٹکا، خطرے میں حکومت، اتحادی الٹرا آرتھوڈوکس پارٹی نے حکومت چھوڑنے کا اعلان کر دیا - BENJAMIN NETANYAHU
تل ابیب، اسرائیل: وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کی کلیدی گورننگ پارٹنر رہی ایک اسرائیلی الٹرا آرتھوڈوکس پارٹی نے منگل کے اوائل میں اتحادی حکومت چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اتحادی پارٹی کے حکومت چھوڑنے کے اعلان کے ساتھ ہی غزہ میں جنگ کے ایک اہم وقت میں نتن یاہو کی حکومت پر غیر مستحکم ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
یونائیٹڈ تورہ جوڈیزیم (یہودیت) کے دو دھڑوں نے کہا کہ وہ حکومت کے ایک بل سے شدید اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل ان کے حلقوں کے لیے وسیع فوجی مسودے کی چھوٹ کو وضع کرے گا، جن میں سے اکثر فوج میں بھرتی ہونے کے بجائے یہودی متن کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس مسئلے نے یہودی اسرائیلیوں کو طویل عرصے سے تقسیم کر رکھا ہے، جن میں سے زیادہ تر کو اندراج کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ ایک دراڑ ہے جو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی وسیع ہوئی ہے اور فوجی افرادی قوت کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کی سیاست میں ایک طویل عرصے سے کنگ میکر کے طور پر کام کرنے والی پارٹی کے جانے سے نتن یاہو کی حکمرانی کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن، ایک بار جب یہ 48 گھنٹوں کے اندر اتحاد ٹوٹ جائے گا تو یہ نتن یاہو کو ایک ایسی حکومت میں شامل کر دے گا جو دائیں بازو کی دو جماعتوں کی خواہشات پر زیادہ انحصار کریں گی۔ یہ جماعتیں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات میں رعایتوں کی مخالفت کرتی ہیں اور غزہ میں جنگ کو ختم کرنے یا یہاں تک کہ روکنے کے اقدام پر خود حکومت چھوڑنے کی دھمکی دے چکی ہیں۔
یہ سیاسی ہلچل اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور حماس غزہ میں 21 ماہ کی جنگ کے لیے جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہے ہیں۔
امریکہ، اسرائیل کے اعلیٰ ترین اتحادی اور ثالث مصر اور قطر کے شدید دباؤ کے باوجود مذاکرات میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ نتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں جنگ ختم کرنے کی مخالفت کرتی ہیں جبکہ حماس مکمل جنگ بندی چاہتا ہے۔
یونائیٹڈ تورہ جوڈیزیم کی رخصتی میں 48 گھنٹے کا وقت ہے، یعنی نتن یاہو اب بھی پارٹی کو مطمئن کرنے اور اسے دوبارہ اتحاد میں لانے کے طریقے تلاش کر سکتے ہیں۔ لیکن جیوش پیپل پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر شوکی فریڈمین نے کہا کہ اس وقت میز پر موجود مسودہ قانون اور پارٹی کے مطالبات کے درمیان فرق اب بھی وسیع ہے جس کی وجہ سے اس دوران کسی سمجھوتے کا امکان نہیں ہے۔
فریڈمین نے کہا کہ پارٹی کی رخصتی نتن یاہو کی حکمرانی کو فوری طور پر خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔ پارلیمنٹ کی تحلیل سال کے آخر سے پہلے نہیں ہو سکتی۔ اور اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے والی اور اکتوبر تک جاری رہنے والی پارلیمنٹ کے لیے موسم گرما کی چھٹی، نتن یاہو کو ناراض اتحادیوں کو دوبارہ اتحاد میں لانے کی ایک اور کوشش فراہم کرتی ہے۔
نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والے کابینہ کے وزیر مکی زوہر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پارٹی کو دوبارہ اتحاد میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ " سب ٹھیک ہو جائے گا،" انہوں نے کہا۔
بھنڈی دماغ کو موٹاپے کے نقصانات سے بچا سکتی ہے: نئی تحقیق
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بھنڈی ایسی سبزی ہو سکتی ہے جو ابتدائی عمر میں زیادہ خوراک کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طویل مدتی صحت کے مسائل سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ بھنڈی سے بھرپور غذا نے ان چوہوں میں موٹاپے، شوگر اور دماغی سوجن کو کم کرنے میں مدد دی جنہیں بچپن میں زیادہ خوراک دی گئی تھی۔یہ تحقیق طبی جریدے ’برین ریسرچ‘ میں ’بھنڈی سے بھرپور غذا زیادہ خوراک کے باعث پیدا ہونے والی موٹاپے کی حالت میں دماغی سوجن کو روکتی ہے‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔
یہ تحقیق ایسے چوہوں پر کی گئی ہے جنہیں سائنس دانوں نے کم عمری سے ہی اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور ان کی پرورش کے دوران انہیں کھانے پینے کو اچھی خوراک دی گئی تاکہ وہ عام چوہوں کے مقابلے میں موٹے ہوسکیں اور ان کے جسم بہتر نشوونما پا سکیں۔
جب یہ چوہے بڑے ہوئے تو موٹاپے کی وجہ سے ان کا وزن زیادہ تھا اور انہیں شوگر، بلڈ پریشر اور اسی طرح کے دوسرے صحت کے مسائل کا سامنا تھا جو عموماً موٹاپے کا شکار افراد میں پائے جاتے ہیں۔
تحقیق کے دوران جن چوہوں کو ایسی غذا دی گئی جس میں ڈیڑھ فیصد بھنڈی شامل تھی، تو ان میں یہ مسائل نمایاں طور پر کم نوٹ کیے گئے۔ ان کے جسم میں چربی کی مقدار کم ہوئی، شوگر قابو میں آئی، پٹھے مضبوط ہوئے اور دماغی سوجن میں کمی آئی۔
سب سے اہم بات یہ کہ بھنڈی نے دماغ کے اس حصے میں انسولین کی حساسیت بحال کی جو بھوک اور توانائی کے استعمال کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایسے چوہے کم خوراک کھاتے تھے اور ان کا میٹابولزم بہتر رہا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھنڈی میں موجود قدرتی اجزا جیسے کیٹیچنز اور کوئرسیٹن میں سوزش کم کرنے اور انسولین کے عمل کو بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جن چوہوں کو بچپن میں زیادہ خوراک نہیں دی گئی تھی ان پر بھنڈی کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ فائدے خاص طور پر ان افراد کے لیے ہیں جو پہلے ہی میٹابولک خطرات سے دوچار ہوں۔
اگرچہ یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی ہے مگر ماہرین کا خیال ہے کہ بھنڈی کو ابتدائی عمر کی غذائی حکمت عملیوں میں شامل کر کے موٹاپے اور اس سے جڑے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے البتہ انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اودئے پور فائلز فلم معاملہ : وزارت اطلاعات ونشریات اور سپریم کورٹ کے سامنے عرضیاں داخل
نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ کے ڈائریکشن کی روشنی میں اودئے پور فائلز فلم کا معاملہ وزارت اطلاعات ونشریات تک پہنچ گیا ہے ۔ اب مرکزی حکومت کو اس عرضی پر ایک ہفتے میں فیصلہ لینا ہوگا ۔ تفصیلات کے مطابق مولانا ارشد مدنی کی جانب سے اودئے پور فائلز نامی ہندی فلم کی نمائش روکنے کے لئے دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی پٹیشن پرہائی کورٹ کی جانب سے نمائش پر اسٹے دینے اور سینسر بورڈ کی جانب سے جاری کئے گئے سرٹیفیکٹ پر نظر ثانی کو لے کر اپیل داخل کرنے کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے آج مولانا ارشد مدنی کے وکلاء نے وزارت اطلاعات ونشریات کے روبرو اپیل داخل کردی ہے۔توقع ہے کہ اس عرضداشت پر وزارت آئندہ چنددنوں میں سماعت کرسکتی ہے۔
وہیں فلم پروڈیوسر نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کردیاہے ۔ آج فلم پروڈیوسر کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا کی درخواست پر جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پر سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے بھی سپریم کورٹ میں گزشتہ شب ہی کیویٹ داخل کردیا تھا یعنی کہ اب مقدمہ کی سماعت کے دوران مولانا ارشد مدنی کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کے دلائل کی سماعت بھی کرے گی۔مولانا ارشد مدنی کی جانب سے وزارت اطلاعات ونشریات میں داخل پٹیشن میں تحریر کیا گیا ہے کہ اودئے پور فائلز جیسی فلمیں سماج میں تفریق پھیلانے کا کام کررہی ہیں ۔ نیز اس فلم کی تشہیر سے دنیا میں ہندوستان کی بدنامی ہوگی ۔ عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں صدیوں سے ہندو مسلم ایک ساتھ رہتے آئے ہیں چنانچہ ایسی فلموں کی نمائش سے فرقہ وارانہ یکجہتی کو سخت خطرہ لاحق ہوسکتاہے ۔ یہ پوری فلم ہی نفرت پر مبنی ہے لہذا ایسی فلم کی نمائش سے ملک کے امن میں خلل پڑ سکتاہے ۔
حکومت ہند کومزیدبتایا گیا کہ خود اس فلم کے بنانے والے امت جانی کا ماضی اور حال بھی شرپسندی سے بھرا ہوا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس فلم میں من گھڑت باتیں دکھائی گئی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فلم میں نپور شرما کے کردار کو بھی دکھایا گیا جس کے متنازعہ بیان کو لے کر پورے ملک میں احتجاج ہوا تھا ۔ نیز بیرون ممالک میں بھی ان دل آزار بیان کے خلاف آوازیں اٹھی تھیں جس کے بعد نوپور شرما کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ فلم سے 55 سین کٹ کرنے کے باوجود یہ فلم جوں کی توں لگ رہی ہے ، اس فلم کی تشہیر سے ملک میں تشدد پھیلے گا ۔یہ فلم ملک کے مفاد میں بہتر نہیں ہے لہذا اسے نمائش کے لئے دیا گیا سرٹیفکٹ مسترد کیا جائے۔ دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق وزارت اطلاعات ونشریات کو مولانا ارشد مدنی کی درخواست پر ایک ہفتہ کے اندر سماعت کرکے فیصلہ صادر کرنا ہے ، اس درمیان فلم کی ریلیز پر پابندی جاری رہے گی۔