باقاعدگی سے ورزش اچھی نیند میں کیسے معاون ثابت ہوتی ہے؟
امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق جب آپ سو رہے ہوتے ہیں تو آپ کا جسم آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کرتا ہے۔ یہ آپ کے قلبی اور مدافعتی نظام کو ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے میٹابولزم کو منظم کر کے ایسا کرتا ہے۔ آپ کا دماغ بھی یادوں کے نقش گہرے کرتا ہے اور دن بھر کی معلومات پروسیس کرتا ہے۔
اس کے باوجود کہ ماہرین فی رات کم از کم سات گھنٹے سونے کی تجویز کرتے ہیں، امریکی مراکز برائے امراض کنٹرول اور روک تھام کے مطابق تقریباً 40 فیصد بالغ افراد نے 2013 اور 2022 کے درمیان اس مطلوبہ مقدار سے کم نیند لی۔یہ تشویشناک ہے، کیونکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق نیند کی کمی چوٹوں، جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل، کم پیداواری صلاحیت اور مرنے کے زیادہ امکانات کا باعث بن سکتی ہے۔
لیکن اگر آپ ان 40 فیصد افراد میں شامل ہیں تو ابھی بھی آپ کے لیے امید کا ایک در کھلا ہے۔ کیونکہ شواہد کے مطابق باقاعدگی سے ورزش آپ کو بہتر سونے میں مدد دیتی ہے اور معیاری نیند ورزش کرنا آسان اور زیادہ پرلطف بناتی ہے۔
امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کے صدر اور روچیسٹر، مینیسوٹا میں میو کلینک ایلکس سکول آف میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر ایرک اولسن نے کہا کہ ’لوگوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ جب وہ ورزش کرتے ہیں تو انہیں بہتر نیند آتی ہے۔‘
کیوریس جرنل آف میڈیکل سائنس میں سنہ 2023 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ورزش کرنے سے مختلف وجوہات کی بنا پر نیند میں اضافہ ہوتا ہے۔جسمانی سرگرمی میلاٹونن نامی ہارمون کی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے، جو آپ کے نیند اور جاگنے کے سائیکل کو منظم کرتا ہے۔ یہ تناؤ کو کم اور موڈ کو اچھا رکھتی ہے۔ اور یہ آپ کے جسم کے درجہ حرارت کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے، جو اچھی طرح سے سونے کے لیے سب سے اہم ہے۔
رپورٹ کے مطابق باقاعدگی سے ورزش نہ صرف آپ کی نیند کے معیار کو بہتر بناتی ہے بلکہ یہ بے خوابی جیسے مرض کو ٹھیک کرنے میں بھی مدد کر سکتی ہے۔
راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی کولکھا خط، جموں کشمیرکے ریاستی درجے کی بحالی کا کیا مطالبہ
راہل گاندھی نے جموں کشمیر کے ریاستی درجے بحالی کی مانگ کی ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں پرائم منسٹرنریندرمودی کوخط لکھا ہے۔راہل نے کھا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں سے جموں کشمیر کے عوام مکمل ریاستی درجے کو بحال کرنے کا مسلسل مطالبہ کررہے ہیں۔یہ مطالبہ نہ صرف جائز ہے بلکہ ان کے آئینی اور جمہوری حقوق پر مبنی ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اپنے اس مکتوب میں لکھا ہے کہ، آزاد ہندوستان میں جموں کشمیرکے معاملے کی نظیر نہیں ملتی ۔یہ پہلی بار ہے کہ ایک مکمل ریاست کومرکزکے زیرانتظام علاقے میں تبدیل کردیا گیا اور اس کوتقسیم بھی کردیا گیا۔راہل گاندھی نے جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے حوالے سے مرکزی حکومت اورخود وزیراعظم نریندرمودی کے بیانات کا بھی اس خط میں تذکرہ کیا۔انھوں نے لکھا کہ ،بھونبیشور میں 19 مئی 2024 کو دیئے انٹرویو میں آپ نے کہا تھا کہ ریاست کا درجہ بحال کرنا ایک مقدس وعدہ ہے جو ہم نے کیاہے اورہم اس پر قائم ہیں ۔اسی وعدے کو19 ستمبر 2024 کو سرینگر میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران آپ نے کہا تھا کہ ہم نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ ہم اس خطے کی ریاست کا درجہ بحال کریں گے۔کانگریس لیڈر اپنے خط میں آگےلکھتے ہیں کہ ، آرٹیکل 370 کے معاملے میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں بھی یہی یقین دہائی کرائی تھی کہ ریاست کا درجہ جلدسے جلد اور ممکنہ حد تک تیزی سےبحال کیا جائے گا۔
انہی حقائق کی روشنی میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ پارلیمان کے مانسون اجلاس کے دوران جموں کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے لیے ایک بل پیش کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے مرکز سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ مرکز کے زیرانتظام علاقے لداخ کو آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت لانے کے لیے بھی بل لائے۔ یہ لداخ کے عوا م کی ثقافتی، ترقیاتی اور سیاسی خواہشات کو پورا کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہوگا ساتھ ہی ساتھ ان کے حقوق، زمین اور شناخت کا تحفظ بھی کرے گا۔خیال رہے کہ 5 اگست2019کوجموں کشمیر کا ریاستی درجہ ختم کردیا گیا تھا ۔جس کے بعد سے وہاں کی سیاسی پارٹیاں مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کی مسلسل مانگ کررہی ہیں ۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہمارے پینے کے پانی کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟
مصنوعی ذہانت یا اے آئی کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لیکن یہ ٹیکنالوجی بھی مشکلات سے خالی نہیں۔ نہ صرف اے آئی جنریشن میں استعمال ہونے والے کمپیوٹرز کی کولنگ (ٹھنڈا کرنے) کے لیے بلکہ اس کے لیے درکار بجلی بنانے میں بھی بے تحاشہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا کی نصف آبادی کو پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے بیچ اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
تو کیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بڑھتا ہوا استعمال پانی کے مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتا ہے؟
اے آئی کتنا پانی استعمال کرتا ہے؟
اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمن کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی ہر سوال کا جواب دینے کے لیے ایک چائے کے چمچے کا پندرہواں حصہ پانی استعمال کرتا ہے۔
تاہم کیلیفورنیا اور ٹیکساس کے امریکی محققین کے مطابق ’چیٹ جی پی ٹی ماڈل 3‘ ہر 10 سے 50 سوالوں کا جواب دینے کے لیے آدھا لیٹر پانی استعمال کرتا ہے۔ اس تناسب کو مدنظر رکھا جائے تو چیٹ جی پی ٹی ہر سوال کے جواب دینے کے لیے 2 سے 10 چائے کے چمچے پانی استعمال کرتا ہے۔اے آئی پانی کتنا استعمال کرتا ہے اس کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ سوال کس نوعیت کا ہے؟ اس کا جواب کتنا طویل اور پیچیدہ ہے؟ یہ جواب کہاں پراسیس کیا گیا ہے اور جواب کا حساب لگانے کے لیے کن عوامل کو مدِ نظر رکھا گیا ہے۔
امریکی محققین کے تخمینے میں اے آئی کے کام کرنے کے لیے درکار بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والا پانی بھی شامل ہے۔ آلٹمن کی جانب سے پیش کیے گئے تخمینے میں بھی شاید یہ شامل ہے۔
بی بی سی نے اس بارے میں اوپن اے آئی سے رابطہ کیا ہے لیکن انھوں اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی روزانہ کی بنیاد پر ایک ارب سوالات کے جوابات دیتا ہے۔ اور اس جیسے کئی دیگر اے آئی بوٹس ہیں۔
امریکی سٹڈی کے تخمینے کے مطابق، سنہ 2027 تک، اے آئی انڈسٹری ہر سال ڈنمارک کے پورے ملک کے مقابلے میں چار سے چھ گنا زیادہ پانی استعمال کرے گی۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر شاؤلی رین کا کہنا ہے کہ ’ہم اے آئی کا جتنا زیادہ استعمال کریں گے، پانی کا استعمال اتنا ہی بڑھے گا۔‘
اے آئی پانی کیسے استعمال کرتا ہے؟ای میل اور آن لائن سٹریمنگ سے لے کر مضمون لکھوانے اور ڈیپ فیک بنانے تک تمام تر آن لائن ایکٹیوٹیز کو بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز میں رکھے سرورز کے ذریعے پراسیس کیا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے ڈیٹا سینٹرز کئی فٹبال سٹیڈیمز سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔
جب ان کمپیوٹرز سے بجلی گزرتی ہے تو یہ سرور بہت گرم ہو جاتے ہیں۔
عام طور پر صاف اور میٹھا پانی کولنگ سسٹمز کا کلیدی عنصر ہوتا ہے۔
کولنگ کے طریقہ کار مختلف ہو سکتے ہیں اور کچھ طریقوں میں کولنگ کے لیے استعمال کیا جانے والے پانی کا 80 فیصد بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے۔
روایتی آن لائن کام جیسا کہ آن لائن خریداری یا سرچ کے مقابلے میں اے آئی کاموں کے لیے بہت زیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیچیدہ سرگرمیوں جیسا کہ تصاویر یا ویڈیوز بنانے کے لیے تو اور بھی کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور ان سب کاموں میں زیادہ بجلی خرچ ہوتی ہے۔
اس کا تخمینہ لگانا تو مشکل ہے تاہم انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اندازوں کے گوگل سرچ کے مقابلے میں چیٹ جی پی ٹی سے پوچھے گئے سوال کے نتیجے میں دس گنا زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے۔
اے آئی کے لیے پانی کے استعمال میں کتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے؟اے آئی ٹیکنالوجی سے منسلک بڑی بڑی کمپنیاں یہ نہیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنے اے آئی کاموں کے لیے کتنا پانی استعمال کر رہی ہیں لیکن ان کے پانی کے مجموعی استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گوگل، میٹا اور مائیکروسافٹ کی ماحولیاتی رپورٹ کے مطابق سنہ 2020 سے اب تک ان کے پانی کے استعمال میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ مائیکروسافٹ اوپن اے آئی کے بڑے سرمایہ کاروں اور شیئر ہولڈرز میں سے ہیں۔
اس دوران گوگل کا پانی کا استعمال تقریباً دو گنا ہو گیا ہے۔ امیزون ویب سروس نے اپنے اعداد و شمار مہیا نہیں کیے ہیں۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کو توقع ہے کہ اے آئی کی مانگ میں اضافے ہو گا اور اس کے ساتھ ہی 2030 ڈیٹا سینٹرز کے پانی کا استعمال تقریباً دوگنا ہو جانے کا امکان ہے۔ اس میں ان ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار بجلی کی پیداوار اور کمپیوٹر چپس کی تیاری میں استعمال ہونے والا پانی بھی شامل ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اس کے ڈیٹا سینٹرز نے سنہ 2024 میں پانی کے ذرائع سے 37 ارب لیٹر پانی حاصل کیا جن میں سے 29 ارب لیٹر بخارات بن کر اڑ گیا۔
کیا یہ بہت زیادہ پانی ہے؟ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ اس کا موازنہ کس چیز سے کر رہے ہیں۔
اتنے پانی سے آپ 16 لاکھ لوگوں کو یومیہ اقوام متحدہ کی تجویز کردہ مقدار 50 لیٹر پانی ایک سال تک فراہم کر سکتے ہیں یا گوگل کے مطابق یہ پانی جنوب مغربی امریکہ میں 51 گولف کورس کو ایک سال تک پانی دینے کے لیے کافی ہے۔
ڈیٹا سینٹر خشک علاقوں میں کیوں بنائے جاتے ہیں؟دنیا کے کچھ خشک سالی سے متاثر علاقوں بشمول یورپ، لاطینی امریکہ اور ایریزونا جیسی امریکی ریاستوں میں حالیہ برسوں میں ڈیٹا سینٹرز کی مقامی سطح پر مخالفت دیکھنے میں آئی ہے۔
سپین میں ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کے خلاف کام کرنے کے لیے ’یور کلاؤڈ اس ڈرائینگ اپ مائی ریور‘ نامی ایک ماحولیاتی گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔
شدید خشک سالی سے متاثر چلی اور یوراگوئے میں گوگل نے پانی تک رسائی پر مظاہروں کے بعد ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں کو یا تو روک دیا ہے یا ان میں تبدیلی کی ہے۔
ابھیجیت دوبے این ٹی ٹی ڈیٹا نامی کمپنی کے سی ای او ہیں جو دنیا بھر میں 150 سے زیادہ ڈیٹا سینٹرز چلاتی ہے۔ ڈوبے کہتے ہیں کہ گرم، خشک علاقوں میں ڈیٹا سینٹر بنانے میں ’دلچسپی میں اضافہ‘ ہو رہا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ زمین کی دستیابی، بجلی کے بنیادی ڈھانچے، قابل تجدید توانائی جیسے شمسی اور ہوا سے توانائی کے پیداوار کے ساتھ ساتھ سازگار ضوابط جیسے عوامل ان علاقوں کو دلکش بنا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نمی سے دھاتوں کے گلنے کا خطرہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے عمارت کو ٹھنڈا کرنے کے لیے زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بنجر مقامات پر ڈیٹا سینٹر بنانے کو زیادہ پرکشش بناتا ہے۔
گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا سبھی اپنی ماحولیاتی رپورٹس میں کہتے ہیں کہ وہ خشک علاقوں کا پانی استعمال کر رہے ہیں۔
کمپنیوں کی حالیہ ماحولیاتی رپورٹس کے مطابق، گوگل کا کہنا ہے کہ وہ ایسے علاقے جہاں پانی کی کمی کا ’زیادہ‘ ہے سے 14 فیصد پانی حاصل کرتا ہے اور جبکہ 14 فیصد پانی ’درمیانے‘ درجے کے خطرے کا شکار علاقوں سے لیا جاتا ہے۔
مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا 46 فیصد پانی ایسے علاقوں سے حاصل کرتا ہے جو پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پانی کا 26 فیصد ایسے علاقوں سے لیتا ہے جو پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ امیزون سروسز نے کوئی اعداد و شمار نہیں دیے ہیں۔
کولنگ کے لیے دیگر کیا آپشن ہیں؟پروفیسر رین کا کہنا ہے کہ ڈرائی یا ایئر کولنگ سسٹم بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔
مائیکروسافٹ، میٹا اور امیزون کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کولنگ سسٹم تیار کر رہے ہیں جس میں پانی یا کوئی دوسرا سیال سسٹم کے گرد گردش کرے گا اور وہ بخارات میں تبدیل نہیں ہوگا یا اسے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
دوبے کا خیال ہے کہ مستقبل میں خشک علاقوں میں اس طرح کے نظام کی بڑے پیمانے پر ضرورت ہو گی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ انڈسٹری ایسے سسٹم کو اپنانے کے ’بہت ابتدائی‘ مرحلے پر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیاں عام طور پر پینے کے لائق صاف، میٹھا پانی استعمال کرنے کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ ان سے بیکٹیریا کی افزائش، لائنوں کی بندش اور آلات کے گلنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
تاہم، کچھ کمپنیاں دیگر ذرائع جیسے سمندری پانی یا صنعتی گندے پانی کے استعمال میں اضافہ کر رہی ہیں۔
کیا مصنوعی ذہانت کے فوائد ماحولیاتی نقصان کے جواز کے لیے کافی ہیں؟مصنوعی ذہانت پہلے ہی زمین پر انسانی دباؤ کم کرنے میں مدد دے رہی ہے چاہے وہ طاقتور گرین ہاؤس گیس میتھین کے اخراج کا سراغ لگانا ہو یا ایندھن کی بچت کے لیے ٹریفک کو مؤثر انداز میں ازسرِ نو ترتیب دینا۔
یونیسیف کے آفس آف انوویشن کے عالمی ڈائریکٹر تھامس ڈاوِن کے مطابق تعلیم، صحت اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت دنیا بھر کے بچوں کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈاوِن کا کہنا ہے کہ وہ یہ چاہیں گے کہ کمپنیاں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے ’سب سے طاقتور اور جدید ترین ماڈل‘ بنانے کے بجائے ’موثر اور شفاف نظام‘ کی طرف بڑھیں۔
وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ کمپنیاں اپنے ماڈلز اوپن سورس کریں یعنی انھیں عام لوگوں کے لیے دستیاب بنایا جائے تاکہ ہر کوئی ان کا استعمال اور ان میں ترمیم کر سکے۔
ان کا مؤقف ہے کہ ایسا کرنے سے ماڈلز کو تربیت دینے کے اس عمل کی ضرورت کم ہو جائے گی جو توانائی اور پانی کے بے پناہ استعمال کا باعث بنتا ہے۔ اس عمل میں ماڈلز کو بڑی مقدار میں ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے جسے وہ پروسیس کرتے ہیں اور اپنی کارکردگی کی بنیاد بناتے ہیں۔
تاہم لورینا جاؤمے پالا سی، جو ایک آزاد محقق ہیں اور کئی یورپی حکومتوں، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے اداروں کو تجاویز دے چکی ہیں اور ایک نیٹ ورک ’ایتھیکل ٹیک سوسائٹی‘ کی سربراہ بھی ہیں، کہتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو ماحول دوست بنانا ’کسی طور ممکن نہیں‘۔
ان کا کہنا ہے ’ہم اسے مؤثر تو بنا سکتے ہیں، لیکن مؤثر بنانے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا استعمال مزید بڑھ جائے گا۔‘
وہ کہتی ہیں ’طویل المدتی طور پر ہمارے پاس اتنے قدرتی وسائل نہیں ہیں کہ ہم تیز تر اور بڑے اے آئی سسٹمز کی اس دوڑ کو جاری رکھ سکیں۔‘
ٹیکنالوجی کمپنیاں کیا کہہ رہی ہیں؟
گوگل، مائیکروسافٹ، اے ڈبلیو ایس اور میٹا سبھی کا کہنا ہے کہ وہ مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کولنگ ٹیکنالوجیز کا انتخاب احتیاط سے کرتے ہیں۔
ان تمام کمپنیوں نے 2030 تک ’واٹر پازیٹو‘ ہونے کا ہدف مقرر کیا ہے یعنی وہ مجموعی طور پر اپنی سرگرمیوں میں جتنا پانی استعمال کرتی ہیں، اس سے زیادہ واپس ماحول میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
اس مقصد کے لیے یہ کمپنیاں ان علاقوں میں پانی کے تحفظ یا بحالی کے منصوبوں کو مالی معاونت فراہم کرتی ہیں جہاں وہ کام کر رہی ہیں جیسے کہ جنگلات یا دلدلی علاقوں کی بحالی، پانی کے رساؤ کا سراغ لگانا یا آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانا۔
اے ڈبلیو ایس کے مطابق وہ اپنے ہدف کا 41 فیصد حصہ مکمل کر چکی ہے، مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ وہ ’منصوبے کے مطابق‘ آگے بڑھ رہی ہے، جب کہ گوگل اور میٹا کے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پانی کی بحالی کی کوششوں میں نمایاں اضافہ کر چکے ہیں۔
تاہم یونیسیف کے تھامس ڈاوِن کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ان اہداف تک پہنچنے کے لیے ابھی ’طویل سفر باقی ہے۔‘
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ پانی اور توانائی کے مؤثر استعمال پر ’سنجیدگی سے کام کر رہی ہے‘ اور اس نے مزید کہا کہ ’کمپیوٹنگ پاور کے بہتر استعمال کے بارے میں سوچنا اب بھی بے حد اہم ہے۔‘
لیکن پروفیسر رین کا کہنا ہے کہ پانی کے استعمال سے متعلق زیادہ مربوط اور معیاری رپورٹس کی ضرورت ہے:
’اگر ہم اسے ماپ نہیں سکتے تو ہم بہتر طور پر اس کا استعمال بھی نہیں کر سکتے۔‘