Tuesday, 15 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





عظیم مذہبی، قومی اور تاریخی شخصیات کی شان میں گستاخی کا معاملہ

رئیس شیخ نے پرائیویٹ ممبر بل اسمبلی میں پیش کیا، سبھی پارٹیوں کے اراکین اسمبلی نے اتفاق کیا


ممبئی: سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم و دیگر عظیم مذہبی، قومی اور تاریخی شخصیات کی شان میں گستاخی اور نازیبا کلمات استمعال کرنے والوں کے خلاف مکوکا کی طرح سخت ترین قانون بنانے کے لئے سماج وادی پارٹی کے بھیونڈی مشرق سے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے آج مہاراشٹر اسمبلی میں پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا جس پر تمام پارٹیوں کے اراکین اسمبلی نے اتفاق کیا اور یہ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس بل کو حکومت کی طرف سے منظوری حاصل ہوگی۔
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے مہاراشٹر اسمبلی میں پرائیویٹ ممبر بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین چار برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر عظیم مذہبی، قومی اور تاریخی شخصیات جیسے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم، چھترپتی شیواجی مہاراج، بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر، مہاتما پھلے و دیگر شخصیات کی شان میں گستاخی اور نازیبا کلمات استمعال کئے جا رہے ہیں جس سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ پیغمبر اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور نا زیبا کلمات کا استمعال کرتے ہیں جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ شہر اور ریاست کے ماحول میں خلل پڑتا ہے اور لوگ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر جھوٹے مقدمات درج کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں جو قانون موجود ہے اس میں اتنی سخت سزا نہیں ہے جس سے ایسے لوگوں میں قانون کا کوئی ڈر اور خوف پیدا ہو لہذا عظیم مذہبی، قومی اور تاریخی شخصیات کی شان میں گستاخی اور نازیبا کلمات کا استمعال کرنے والوں پر قدغن لگانے کے لئے سخت ترین قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ رئیس شیخ نے مہاراشٹر اسمبلی میں اس بابت بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ عظیم مذہبی، قومی اور تاریخی شخصیات کی شان میں گستاخی اور نازیبا کلمات کا استمعال کرنے والوں کو کم سے کم دس سال کی سزا کا قانون بنایا جانا چاہئے۔ خاص بات یہ ہے کہ رئیس شیخ کے مہارشٹر اسمبلی میں پیش کئے گئے اس بل پر تمام پارٹیوں کے اراکین اسمبلی نے اتفاق کیا اور اب اس قانون پر تبادلہ خیال ہونے کے بعد امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس بل کو حکومت کی طرف سے منظوری حاصل ہوگی جس سے مہاراشٹر میں گزشتہ تین چال برسوں سے جس طرح سے عظیم مذہبی، قومی اور تاریخی شخصیات کی شان میں گستاخی اور نازیبا کلمات استمعال کرنے کا سلسلہ جاری ہے اس پر نکیل کس سکے گی.














اخلاق اور انسانیت،، سلوک و حسن سلوک !! 
تحریر: جاوید بھارتی 
سوڈان کے ایک شخص نے ایک مضمون لکھا تھا
اس میں اُس نے اپنے ساتھ پیش آنے والے دو دلچسپ واقعات کا تذکرہ کیا تھا 

پہلا واقعہ:
مجھے آئرلینڈ میں میڈیکل کا امتحان دینا تھا۔ امتحان کی فیس 309 ڈالر تھی۔ میرے پاس کھُلی رقم نہیں تھی، اس لیے میں نے 310 ڈالر ادا کر دیے۔
اہم بات یہ کہ میں امتحان میں بیٹھا، امتحان بھی دے دیا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد سوڈان واپس آ گیا۔
ایک دن اچانک آئرلینڈ سے میرے پاس ایک خط آیا۔ اُس خط میں لکھا تھا:
“آپ نے امتحان کی فیس ادا کرتے وقت غلطی سے 309 کی جگہ 310 ڈالر جمع کر دیے تھے۔ ایک ڈالر کا چیک آپ کو بھیجا جا رہا ہے، کیونکہ ہم اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتے” حالانکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ لفافے اور ڈاک کے ٹکٹ پر ایک ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے ہوں گے!!

دوسرا واقعہ:
کالج اور اپنی رہائش کے درمیان جس راستے سے گزرتا تھا، اُس راستے میں ایک عورت کی دکان تھی جس سے میں 18 پنس میں کاکاؤ کا ایک ڈبہ خریدتا تھا۔
ایک دن دیکھا کہ اُس نے اُسی کاکاؤ کا ایک ڈبہ اور رکھا ہوا ہے جس پر قیمت 20 پنس لکھی ہوئی ہے۔
مجھے حیرت ہوئی۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا دونوں ڈبوں کی کوالٹی میں کوئی فرق ہے؟

اُس نے کہا: نہیں، دونوں کی کوالٹی یکساں ہے۔

میں نے پوچھا کہ پھر قیمت کا یہ فرق کیوں؟
اُس نے جواب دیا: نائجیریا، جہاں سے یہ کاکاؤ ہمارے ملک میں آتا ہے، اُس کے ساتھ کچھ مسائل پیدا ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
زیادہ قیمت والا مال نیا ہے، اُسے ہم 20 پنس کا بیچ رہے ہیں، اور کم قیمت والا پہلے کا ہے، اُسے ہم 18 پنس کا بیچ رہے ہیں۔

میں نے کہا: پھر تو سب 18 پنس والا ہی خریدیں گے جب تک یہ ختم نہ ہو جائے؟ 20 والا تو اس کے بعد ہی کوئی خریدے گا۔

اُس نے کہا: ہاں، یہ مجھے معلوم ہے۔

میں نے مشورہ دیا کہ دونوں ڈبوں کو مِکس کر دو اور 20 پنس کا ہی بیچو۔ کسی کے لیے قیمت کا یہ فرق جاننا مشکل ہو گا۔

اُس نے سرزنش کے انداز میں کہا: کیا تم کوئی لُٹیرے ہو؟

مجھے اُس کا یہ جواب عجیب لگا اور میں آگے بڑھ گیا۔
لیکن یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے کہ کیا میں کوئی لٹیرا ہوں؟ یہ کون سا اخلاق ہے؟

در اصل یہ ہمارا اخلاق ہونا چاہیے تھا،، یہ ہمارے دین کا اخلاق ہے یہ وہ اخلاق ہے جو ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھایا تھا، لیکن؟

اپنی ایمانداری سے بتائیں، بحیثیت قوم کیا ہم لٹیرے نہیں؟ 
راقم ایک بار سفر کے لئے نکلا ایک منزل تک پہنچنے کے بعد کچھ ہی دیر ٹھہرنے کا ارادہ تھا مگر مگر کسی وجہ سے تاخیر ہوگئی دوسری منزل کا راستہ بہت قریب تھا مگر معلومات نہیں تھی آخر کار ایک آٹو سے بات کی تو وہ تیار ہوا منزل پر پہنچنے میں دیر ہوگئی وجہ یہ تھی کہ راستے میں جام لگا تھا نصف گھنٹہ لگنے کے بجائے ایک گھنٹہ لگ گیا آٹو والا کہنے لگا کہ کرایہ تو بیس روپے ہے لیکن آپ کو چالیس روپے دینے ہوں گے کیونکہ وقت دوگنا لگ گیا کافی بحث و مباحثے کے بعد آخر چالیس روپے دینا ہی پڑا اس کے بعد آٹو والا السلام علیکم کہہ کر رخصت ہوگیا۔ 
ایک صاحب نے زمین خریدا چونکہ زمین کھاہی نما تھی اس میں مٹی کی ضرورت تھی تو مزدوروں کو بلوایا اور ان سے کہا کہ میری زمین میں مٹی پھینکنا ہے اور میں تمہیں ایک دن کا سو روپے دونگا مزدور تیار ہوگئے اور مٹی ڈھونا اور پھینکنا شروع کردیا صبح سات بجے کام پر لگ جاتے اور دوپہر ایک بجے کام بند کرکے کھا نا کھاتے ایک گھنٹے بعد دو بجے سے پھر کام شروع کردیتے دس دن میں کام مکمل ہوگیا ،، فی مزدور ایک ہزار روپیہ مزدوروں کا حساب بنا تو مزدوری دیتے وقت سبھی مزدور سے سو سو روپے کاٹ لیا اور نو سو روپے کے حساب سے مزدوری دی جب مزدوروں نے اعتراض کیا تو زمین مالک کہتاہے کہ تو روزانہ دوپہر میں ایک گھنٹہ کام بند کردیتے تھے کھانا کھانے کے لئے اسی کا دس روپے یومیہ میں نے پیسہ کم دیا ہے مزدروں کافی سفارشیں اور منتیں کیں مگر زمین مالک نہیں مانا اور کہا کہ جو مل رہا ہے جلدی لو اور جاؤ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے مجھے نماز کے لئے جانا ہے ۔ 

کچھ دنوں بعد پھر اسی زمین کے سامنے دوسرے صاحب نے بھی زمین خریدا اور ان کو بھی مٹی ڈلوانے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے بھی مزدوروں سے رابطہ کیا اور انہوں نے بھی سو روپے یومیہ کے حساب سے مزدوری مقرر کی اور مزدوروں نے مٹی پھینکنا شروع کردیا دوپہر جب ایک بجتا ہے تو زمین مالک گاڑی سے آتا ہے اور ساتھ میں کچھ پارسل لاتا ہے اور مزدوروں کو دیتا اور کہتاہے کہ کام بند کرکے کھالو ایک گھنٹہ بعد پھر کام شروع کرنا۔ 
زمین مالک کی بات سن کر اور رویہ دیکھ کر مزدوروں کو اس بات ڈر تھا کہ پہلے ایک جگہ کام کیا تو کھانا کھانے کے وقت کا پیسہ ہی مزدوری سے کاٹ لیا گیا اور اب تو کھانا ہی زمین مالک کی طرف سے ہے کہیں اب کی بار اور زیادہ پیسہ نہ کٹ جائے ،، بہر حال مزدوروں نے کھانا کھایا اور روزانہ کا یہی معمول رہا ایک مہینے تک کام چلا تو آخری دن زمین مالک کھانا بھی لایا اور سب کا پورا حساب بھی دیا اور ساتھ ہی سبھی مزدوروں کو ایک ایک جوڑی کپڑا بھی دیا اور کہا کہ بھگوان آپ لوگوں کو خوش رکھے چلتا ہوں سب کو نمسکار۔ 

واہ رے انسان تیری خود غرضی کا کیا کہنا، تیرے مکر و فریب کا کیا کہنا، تیرے نمائشی انداز کا کیا کہنا، تیری بے رخی اور بے وفائی کا کیا کہنا اور تیرے سخت لہجے و سنگدلی کا کیا کہنا لگتا ہے تجھے مرنا ہی نہیں ہے چند سکوں کی جھنکار میں اتنا مست مگن ہوگیا کہ رشتہ داروں کا بھی خیال نہیں، پڑوسیوں کا بھی خیال نہیں، سماج کا بھی خیال نہیں، یتیموں اور بیواؤں و مسکینوں کا بھی خیال نہیں تجھے شیخی بگھاڑ نے سے فرصت نہیں، اپنے منہ اپنی تعریف سے فرصت نہیں، خود کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھنے لگا حج پر حج کرنے لگا، عمرے پر عمرہ کرنے لگا پڑوسی بھوکا سورہا ہے کوئی پرواہ نہیں، بہت سے گھروں کے چولہے میں آگ نہیں جلتی ہے کوئی پرواہ نہیں خود حاجی صاحب کا کار ڈرائیور غریب ہے، فاقہ کشی کے دہانے پر کھڑا ہے، بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ نہیں ہے، پیشانی پر غربت کی لکیریں نظر آتی ہیں، گھر کی چھت ٹپک رہی ہے، گھروبھر کے جسموں پر بوسیدہ کپڑے ہیں کسی سے مدد مانگنے کے لئے زبان نہیں کھلتی ہے، کسی کے سامنے دامن پسارنے کی ہمت نہیں ہوتی ہے کیونکہ ہر غریب ایک جیسا نہیں ہوتا۔

 کوئی لاؤڈ اسپیکر سے بھیک مانگتا ہے تو کوئی بے حیا اور بے شرم کچھ لوگوں کو پال کر ان سے بھیک منگواتا ہے یعنی بھیک مانگنے اور منگوانے کا کاروبار کرتا ہے رب کائنات غارت کرے ایسے منحوس انسان کو جو چھوٹے چھوٹے بچوں کے مستقبل کو تباہ کرتا ہے صبح میں گاڑی سے جگہ جگہ چھوڑتا ہے اور شام کو اٹھاتا ہے بھیک کی رقم کم ہونے پر ان بچوں اور نوجوانوں و بوڑھوں پر ظلم بھی ڈھاتا ہے ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہوتا کہ کل میدان محشر میں رب کے سامنے کیا جواب دیں گے- 

کچھ انسان بظاہر بڑے بھولے بھالے نظر آتے ہیں مگر ان کی حقیقت وہی جانتے ہیں جو ان کے ماتحت ہوتے ہیں ،، ایسے ہی ایک صاحب کا واقہ بذریعہ ویڈیو نظر سے گزرا جسے راقم نے تحریری شکل میں ترتیب دینے کی کوشش کی ہے کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، اختلاف نہیں مگر جو ویڈیو میں دیکھا اس کی جھلک عام طور پر سماج کے دولتمند لوگوں کے اندر اور ان کی اولادوں کے اندر دیکھنے کو ملتی ہے حاجی صاحب بڑے خوشحال ہیں، دولت کی فراوانی ہے، بنگلہ نما مکان ہے، سنگ مرمر لگے ہوئے ہیں، پورے مکان میں چکاچوند روشنی ہے اور بڑی مہنگی کار بھی ہے لیکن اس کار کو چلانے والا انسان یعنی ڈرائیور بہت غریب ہے ، چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں کمانے والا وہ تنہا ہے بیوی بیمار ہے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے علاج کے لئے پیسے نہیں ہیں۔

 ایک دن بیوی کی بیماری اور تکلیف میں اضافہ ہوگیا وہ اٹھنے بیٹھنے سے مجبور ہوگئی ڈاکٹر نے آپریشن کا مشورہ دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پورے پیسے کا انتظام کرکے اسپتال آنا کیونکہ ہم نے اسپتال کمائی کے بنوایا ہے خدمت خلق کے لئے نہیں، ہم نے ڈاکٹری کی تعلیم کمائی کے لئے حاصل کی ہے قوم کی خدمت کے لئے نہیں غریب ڈرائیور رات بھر بیوی کو تسلی دیتا رہا اور خود اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتا رہا کبھی اپنی بیوی کا چہرہ دیکھتا تو کبھی بچوں کے چہروں کی اداسی کو دیکھتا صبح ہوتی ہے حسب دستور حاجی صاحب کے گھر پہنچتا ہے گاڑی صاف کرتا ہے پھر حاجی صاحب کی آفس میں جاتا ہے کیا دیکھتا ہے کہ حاجی صاحب خربوزے کو شہد سے لگاکر کھارہے ہیں جیسے ہی غریب ڈرائیور پر نظر پڑتی ہے تو گھمنڈ بھرے انداز میں پوچھتے ہیں کہ گاڑی کو صاف کیا کہ نہیں،، غریب ڈرائیور بولتا ہے جی حاجی صاحب صاف کردیا ہے اتنے میں ٹرے میں سجاکر نمکین اور چائے حاجی صاحب کے لئے آگئی اب حاجی صاحب خربوز بھی شہد سے لگاکر کھا رہے ہیں اور نمکین کھاکر چائے بھی پی رہے ہیں مگر ایک بار بھی ڈرائیور سے کھانے پینے کے لئے نہیں کہا اور حاجی صاحب کی کرسی و میز کے نیچے ڈرائور بیچارہ اپنے اندر ہمت پیدا کررہا ہے کہ آج حاجی صاحب سے کچھ کہوں گا-

آخر کار کانپتے ہوئے ہونٹوں سے کہا کہ حاجی صاحب مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے میری بیوی بہت بیمار ہے اس کا آپریشن کرانا بہت ضروری ہے حاجی صاحب نے نظریں اٹھا کر دیکھا اور کہا کہ تجھے پیسے کی ضرورت پڑ گئی،، اور کہا کہ اچھا چل لے لینا شام کو ڈرائیور اپنے گھر پہنچتا ہے تو دیکھتا کہ بیوی بستر پر پڑی ہے شدت بیماری سے تڑپ رہی ہے بیوی کے پاس جاکر کہتا ہے کہ حاجی صاحب پیسہ دینے کے لئے بولے ہیں جیسے ہی پیسہ دیں گے میں تمہارا آپریشن کرادوں گا۔

 کچھ دنوں بعد بیوی کہتی ہے کہ حاجی صاحب سے پیسے کے لئے بولئے اب تکلیف برداشت نہیں ہوتی غریب شوہر بولتا ہے حاجی صاحب بڑے لوگ ہیں بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی آخر بیوی کے کہنے پر ڈرائیور حسب معمول حاجی صاحب کے گھر جاتا ہے تو آج حاجی صاحب نئے نئے لباس میں ملبوس ہیں ایکدم برق دم ہیں اتنے میں ایک شخص سوٹ بوٹ جماکر آتا ہے حاجی صاحب کو سلام کرتا ہے اور گلے ملتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ حاجی صاحب آپ کو تیرہویں حج کے سفر کی مبارکباد ادھر حاجی صاحب کہتے ہیں کہ رات میں بہت بڑی دعوت کا اہتمام تھا آپ کہیں نظر نہیں آئے،، ڈرائیور کے پیروں تلے زمین کھسک گئی کہ حاجی صاحب حج کے لئے جارہے ہیں میری بیوی کا کیا ہوگا۔

 آخر غریب ڈرائیور نے زبان کھول ہی دی کہ حاجی صاحب پیسہ دے دیجئیے تاکہ میری بیوی کا آپریشن ہوجائے حاجی صاحب نے کہا کہ ابے ذرا دیکھ میں حج بیت اللہ کے لئے جارہا ہوں اس کے لئے کافی پیسہ خرچ ہوا ہے اور ابھی رات میں دعوت کا اہتمام تھا اس میں بھی زبردست پیسہ خرچ ہوا ہے اب حج سے واپسی پر ہی تجھے پیسہ دوں گا اتنا سنتے ہی ڈرائیور کے ارمانوں کا خون ہوگیا اس کی نظروں کے سامنے اندھیرا چھاگیا بہر حال حاجی صاحب کو ایرپورٹ چھوڑنے گیا اور جب واپس گھر پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ بیوی کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی بیوی کا انتقال ہوگیا۔

 آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں،، کبھی اپنی قسمت کو کوستا ہے تو کبھی بچوں کے کاندھوں کو پکڑ کر روتا ہے تو کبھی بیوی کا چہرہ دیکھتا ہے پھر سینے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ میری دنیا اجڑ گئی میرے بچوں کا مستقبل تاریک ہوگیا حاجی صاحب آپ نے پیسہ نہیں دیا، میری بیوی کا علاج اور آپریشن نہیں ہوسکا، حاجی صاحب آپ نے تو انسانیت کا بھی فرض نہیں نبھایا اور میں آپ کا ڈرائیور لیکن پھر بھی آپ نے میرا خیال نہیں کیا آپ حج کے لئے گئے ادھر میری بیوی مالک حقیقی کے پاس گئی۔

 ڈرائیور پھر ایک بار چیخ مارتے ہوئے کہتا ہے کہ حاجی صاحب میں نہیں جانتا کہ آپ کا حج قبول ہوگا کہ نہیں لیکن میں اتنا تو جانتا ہوں کہ کوئی حاجی ہوسکتا ہے، نمازی ہوسکتا ہے، بظاہر عابد و زاہد ہوسکتا ہے، عالم و فاضل ہوسکتا ہے، مفکر، مقرر، محدث، مناظر ہوسکتا ہے مگر اس کے سامنے کوئی اللہ کا بندہ سخت بیماری اور تکلیف میں مبتلا رہے کراہتا رہے مگر اس پر رحم نہ آئے اور دل میں اس کی تکلیف کا احساس نہ ہو تو وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی مومن نہیں ہوسکتا، مومن نہیں ہوسکتا ،مومن نہیں ہوسکتا اور مومن ہونا تو دور کی بات وہ نیک بھی نہیں ہوسکتا ۔ 
     +++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی














نانِ شبینہ کا فریب: جب پیٹ سوالوں کو خاموش کر دیتا ہے

زندہ رہنے کی جدوجہد، آزاد ہونے کی جنگ سے بڑی کیوں؟
مالیگاؤں( ایس این انصاری) دنیا بھر میں طاقتور طبقات، سیاسی قوتیں، نجی و حکومتی نظام ، طبی و تعلیمی ادارےاور انتظامیہ اکثر ایک ہی حکمت عملی کو اپناتے ہیں۔ عوام کو اس قدر مصروف اور مجبور کر دو کہ وہ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے پیٹ کی بھوک مٹانے کے چکر میں لگے رہیں۔ جب انسان کا سارا دھیان دو وقت کی روٹی، بلوں کی ادائیگی، بچوں کی فیس، بیمار والدین کے علاج، اور روزگار کے بندوبست میں جکڑا ہوتا ہے، تو اس کے پاس نہ وقت بچتا ہے، نہ طاقت اور نہ ہی شعور کہ وہ اس نظام پر سوال کرے جس نے اسے اس حال تک پہنچایا ہے۔ یہی وہ "فریب" ہے جو برسوں سے رائج ہے۔ اس فریب کو ہم "نانِ شبینہ کا فریب" کہہ سکتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ حقیقت لگتی ہے کہ ہر شخص کو اپنی زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے، لیکن اصل میں یہ محنت ایک نہ ختم ہونے والا چکر بن چکی ہے۔ ایک ایسا چکر جس سے نکلنا آسان نہیں، کیونکہ اسے طاقتور طبقے نے بہت سوچ سمجھ کر تخلیق کیا ہے۔

"جب انسان زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہا ہو، تو وہ آزاد ہونے کی جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہتا۔" یہ جملہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ جب ایک فرد کی ساری توانائی صرف زندہ رہنے پر صرف ہو جائے، تو وہ اپنے ذہن کو بلند تر خیالات، نظریات یا جدوجہد کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ وہ بس یہ سوچتا ہے کہ آج کا دن کسی طرح گزر جائے، کل پھر دیکھا جائے گا۔طاقتور طبقے یہی چاہتے ہیں۔ ان کا اصل خوف عوام کا باشعور ہونا ہے۔ اگر لوگ باشعور ہو جائیں، سوال کرنا سیکھ جائیں، تو وہ طاقت کے ایوانوں میں ہلچل پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن جب وہ صرف اپنے بچوں کی فیس کے پیچھے بھاگتے ہیں، اپنے گھر کے کرایے یا راشن کی قیمتوں کی فکر میں گم رہتے ہیں، تو وہ نظام پر تنقید نہیں کرتے۔ وہ صرف شکایت کرتے ہیں، سوال نہیں۔سوال اور شکایت میں فرق ہے۔ شکایت کمزور کی زبان ہے، جبکہ سوال ایک باشعور دماغ کی طاقت۔ اس لیے انہیں اس قابل ہی نہیں رہنے دیا جاتا کہ وہ سوال کر سکیں۔
خوف، غربت، بیروزگاری، تعلیم کی کمی، صحت کی سہولیات کا فقدان – یہ سب وہ ہتھیار ہیں جو عوام کو خاموش رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ سوچ دی جاتی ہے کہ:"سیاست گندی چیز ہے، اس سے دور رہو۔"، "تمھاری حیثیت کیا ہے جو تم سوال کرو؟"،"جو ہو رہا ہے، وہی نظام ہے۔ اسی میں خیر ہے۔"،جب عوام کو بار بار یہ باور کروایا جائے کہ ان کی آواز کی کوئی اہمیت نہیں، تو وہ آہستہ آہستہ یقین کرنے لگتے ہیں کہ خاموشی میں ہی عافیت ہے۔ یہ وہ خاموشی ہے جو طاقتور طبقے کی بقا کی ضمانت ہے۔ ایک باعزت نظام میں عوام کے سوالات کو برداشت کیا جاتا ہے، ان کا جواب دیا جاتا ہے۔ لیکن ظالم نظام میں سوال کرنے والا "غدار"، "ملک دشمن" یا "فتنہ پرور" قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام خاموش رہنے کو ہی نجات سمجھنے لگتے ہیں۔

سب سے پہلے تعلیم کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ تعلیم وہ چراغ ہے جو ذہن کو روشن کرتا ہے، سوال پیدا کرتا ہے، نظام پر تنقید کی صلاحیت دیتا ہے۔ ایک کمزور تعلیمی نظام عوام کو اس قابل ہی نہیں بناتا کہ وہ سوچ سکیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ تعلیم کو مہنگا، بے سمت اور بے مقصد بنا دیا جاتا ہے تاکہ عوام صرف ڈگری کے پیچھے بھاگتے رہیں، لیکن سیکھ نہ سکیں۔ جب شعور ختم ہو جائے، تو پھر غلامی صرف جسم کی نہیں بلکہ ذہن کی بھی ہو جاتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کو اپنی روزمرہ کی زندگی گزارنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف جیتے رہنے کے لیے زندہ ہیں؟ کیا ہمارا کوئی اجتماعی مقصد نہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو بھی یہی نظام دے کر جائیں گے جہاں وہ بھی صرف دو وقت کی روٹی کے لیے غلامی کریں؟ حل صرف ایک ہے: شعور۔

جب ہم سوچنا شروع کریں گے، سوال کریں گے، تب ہی تبدیلی آئے گی۔ ہمیں تعلیم، بحث، مکالمہ، اور باہمی سمجھوتے کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں عوام صرف زندہ نہ رہیں، بلکہ باوقار زندگی گزاریں۔
نانِ شبینہ کا فریب ایک زہر ہے، جو روزانہ ہماری رگوں میں اتارا جاتا ہے، کبھی میڈیا کے ذریعے، کبھی مہنگائی کے ذریعے، اور کبھی امیدوں کے جھوٹے خواب دکھا کر۔ اس فریب کو پہچاننا پہلا قدم ہے۔ جب انسان یہ سمجھ جائے کہ اسے ایک خاص مقصد کے تحت روکا گیا ہے، تو وہ بیدار ہو جاتا ہے۔ اور ایک بیدار انسان، سب سے خطرناک ہوتا ہے۔ لہٰذا، اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں محض زندہ رہنے سے نکل کر آزاد جینے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ کیونکہ زندہ رہنا کافی نہیں، وقار سے جینا، شعور سے جینا، سوال سے جینا ہی اصل زندگی ہے۔
















*🚭 مالیگاؤں میں نشہ مخالف ریلی، سینکڑوں طلباء کی شرکت 🚭*
مالیگاؤں (نامہ نگار) مالیگاؤں سدھار کمیٹی کے زیر اہتمام اور گلشن عکرمہ فاؤنڈیشن و مدرسہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کے اشتراک سے بروز سنیچر مورخہ 12 جولائی 2025 ایک باوقار نشہ مخالف ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی میں مدرسہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کے تقریباً 400 طلباء نے پرجوش شرکت کی۔

یہ ریلی مدرسہ حضرت عکرمہ سے شروع ہوکر کسمبا روڈ سے گزرتے ہوئے نیا بس اسٹینڈ پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے شرکاء ہاتھوں میں نشہ کے خلاف پلے کارڈز اور بینرز تھامے، معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے کے عزم کے ساتھ پرامن طور پر آگے بڑھتے رہے۔

🌿 اس ریلی کا مقصد نوجوان نسل کو نشہ جیسی تباہ کن لعنت سے محفوظ رکھنا اور معاشرے میں شعور و بیداری پیدا کرنا تھا۔

نیا بس اسٹینڈ پر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گلشن عکرمہ فاؤنڈیشن کے صدر حضرت قاری محمد ریحان صاحب فردوسی نے کہا:
> “نشہ ایک ایسا ناسور ہے جو صرف فرد ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو کھوکھلا کردیتا ہے۔ آج نوجوان نسل اپنی قیمتی زندگیوں کو ہلاکت میں ڈال رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کاجو اور بادام آج سستے ہیں لیکن گٹکا مہنگا ہے، پھر بھی نوجوان گٹکے پر پیسہ خرچ کر کے اپنی صحت تباہ کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ہمیں بیداری پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔”

📸 ریلی کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے کو سدھارنے اور نئی نسل کو محفوظ رکھنے کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔

🎉 کامیاب ریلی کے انعقاد پر شہر کے معززین اور عوام نے گلشن عکرمہ فاؤنڈیشن و مدرسہ حضرت عکرمہ کے اس اقدام کو خوب سراہا اور مبارکباد پیش کی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...