Thursday, 31 July 2025
مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں این آئی اے کورٹ کا فیصلہ، سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت سبھی 7 ملزمان بری
Wednesday, 30 July 2025
*🔴سیف نیوز بلاگر *
*🔴سیف نیوز بلاگر*
*🔴سیف نیوز بلاگر*
Tuesday, 29 July 2025
*🔴 سیف نیوز بلاگر*
غزہ میں اسرائیل کے حملے جاری ،60 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق، انسانی حقوق کے علمبردارعودہ کواسرائیلی آبادکارنے ماری گولی
جون کی وہ دوپہرکسی بڑے خواب کی سی ہے۔کئی گھر اجڑ گئے۔کئی خاندانوں کو یہ حادثہ زندگی بھر کا درد دے گیا۔ اس دکھ کی گھڑی میں کچھ کرشمے بھی ہوئے۔ جب طیارہ حادثہ ہوا اور احمد آباد کے میگھانی نگر میں واقع بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی عمارت پر ایئر انڈیا کا طیارہ گر کر تباہ ہوا،ہر طرف صرف آگ، دھواں اور چیخیں تھیں۔ لیکن اسی ملبے کے درمیان ایک ماں نے اپنے آٹھ مہینے کے معصوم بیٹے کوموت سے بچا لیا۔
30 سالہ منیشا کچھاڑیا اور ان کا بیٹا دھیانش اسی عمارت میں رہتے تھے جہاں طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔آگ اور دھوئیں کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن منیشا نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا اور کسی طرح باہر بھاگی۔ وہ دونوں اس آگ میں بری طرح جھلس گئے، لیکن زندہ تھے
میں نے سوچا کہ اب زندہ نہیں بچیں گے…’
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پانچ ہفتے تک اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد ماں بیٹے کو جمعہ کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ منیشا 25 فیصد جھلس چکی تھی۔ اس کا چہرہ اور ہاتھ بری طرح جھلس گئے تھے۔ جبکہ دھیانش 36 فیصد تک جھلس گیا۔ اس کے چہرے، پیٹ، سینے اور ہاتھوں اور ٹانگوں پر گہرے زخم تھے۔منیشا نے کہاکہ ایک لمحہ ایسا آیا جب مجھے لگا کہ ہم زندہ نہیں بچیں گے لیکن مجھے اپنے بیٹے کے لیے لڑنا پڑا۔ ہم نے جو درد سہا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
جگرکے ٹکڑے کودی نئی زندگی
کے ڈی اسپتال کے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ریتویج پاریکھ کے مطابق،کہ دھیانش بہت چھوٹا تھا۔ اس کے جسم سے صرف تھوڑی سی جلد لی جا سکتی تھی، اس لیے ہم نے منیشا کی جلد کو اس کے جسم پر پیوند کر دیا۔ انفیکشن کا زیادہ خطرہ تھا، لیکن ہمیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ اس کی نشوونما متاثر نہ ہو۔
ماں نے اپنے بیٹے کی جان ایک بار نہیں بلکہ دو بار اپنے جسم سے بچائی…پہلے اسے آگ سے بچا کر اور پھر اس کے جلے ہوئے جسم کو اپنی جلد سے نئی زندگی دے کر۔
جسم پر زخم، آنکھوں میں سکون
کے ڈی اسپتال نے طیارہ حادثے میں زخمی ہونے والے چھ مریضوں کا مفت علاج کیا جن میں کچھاڑیا ماں اور بیٹا بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی محنت اور ماں کی محبت سے یہ کرشما ہوا۔منیشا کے جسم پرزخم ہیں لیکن ان کی آنکھوں میں سکون ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے لیے اب زندگی صرف اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور اس کی سانسوں میں سکون ہے
۔دھیانش کے لیے اس کی ماں کی گود صرف پناہ گاہ نہیں تھی بلکہ آگ، درد اور موت کے سامنے ایک ڈھال تھی۔ اس حادثے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ماں صرف جنم دینے والی نہیں ہوتی، وہ زندگی کی آہنی دیوار ہوتی ہے۔
*🔴سیف نیوز بلاگر *
*🔴سیف نیوز بلاگر*
*🔴سیف نیوز بلاگر*
🔴*سیف نیوز بلاگر*
وزیر داخلہ امت شاہ نے سابق وزیر داخلہ چدمبرم پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کو کلین چٹ دے دی ۔ وہ دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔ وہ پاکستان کو بچانے کی سازش کر رہے ہیں ۔ ملک کے عوام یہ سب دیکھ رہے ہیں۔
امت شاہ نے مزیدکہا کہ پہلگام حملے کے فوراً بعد 22 مئی کو آپریشن مہادیو شروع ہوگیا تھا۔ 23 اپریل کو ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کو کسی قیمت پر ملک سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔ انٹیلی جنس افسران ان دہشت گردوں کو تلاش کرنے کے لیے پہاڑیوں میں گھومتے رہے۔ پھر سینسر کے ذریعے ان کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں اور انہیں 28 جولائی کو ختم کر دیا گیا۔
وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ این آئی اے پہلے ہی ان لوگوں کو حراست میں لے چکی ہے جنھوں نےدہشت گردوں کو پناہ دی ۔ انہوں نے ان دہشت گردوں کی نشاندہی کی۔ اس کے باوجود ہم نے بہت سی تکنیکی مدد لی اور ان دہشت گردوں کی نشاندہی کی۔
اپنے خطاب کے دوران ،پورے معاملے پر تفصیل سے بتاتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ نے
کہا کہ پہلگام حملے کی ذمہ داری لشکر اور ٹی آر ایف نے لی تھی، پھر ہم نے اس حملے کی تحقیقات این آئی اے کو سونپ دی۔ این آئی اے نے 1055 افراد سے تین ہزار گھنٹے سے زیادہ پوچھ تاچھ کی۔ امت شاہ نے آپریشن سندور کے بارے میں بتایا کہ ہماری فوج نے ان دہشت گردوں کو بھی مارگرایا جو کانگریس کے دور میں فرار ہوگئے تھے۔ فوج نے ایسے 100 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے
غزہ کے بحران پرمودی حکومت بنی خاموش تماشائی ،وزیراعظم کو اٹھانی ہوگی بھارت کی آواز۔ سونیا گاندھی
اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں بے گناہ مردوں، خواتین اور بچوں پر حماس کے وحشیانہ حملوں یا اس کے بعد اسرائیلی عوام کو مسلسل یرغمال بنانے کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کر سکتا۔ اس کی بار بار اور بلاشرط مذمت کی جانی چاہیے، لیکن عالمی برادری کے رکن اور اس سے بڑھ کرانسان ہونے کے ناطے یہ تسلیم کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کا ردعمل اور انتقامی کارروائیاں نہ صرف قابل مذمت بلکہ صریح مجرمانہ ہیں۔
گزشتہ تقریباً دو برسوں میں 55ہزار سے زیادہ فلسطینی شہری مارے جا چکے ہیں جن میں 17ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ میں زیادہ تر رہائشی عمارتوں کو مسلسل فضائی بمباری کے ذریعے جان بوجھ کر زمین بوس کر دیا گیا ہے، جن میں اسپتال بھی شامل ہیں۔ وہاں کا سماجی تانہ بانہ مکمل طور پرتباہ ہوگیا ہے۔ اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک کے واقعات پریشان کن ہیں ۔ حالیہ مہینوں میں صورتحال مزید نہ گفتہ بہ ہوگئی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک ظالمانہ حکمت عملی کے تحت انسانی امداد کو بھی ہتھیار بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ادویات، خوراک اور ایندھن کی سپلائی کو سختی سے روک دیا گیاہے۔ بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور عام شہریوں کا بے دریغ قتل عام ایک انسانی المیے کا باعث بنا ہے۔ ناکہ بندی نے اس صورتحال کومزید ابتر کردیا ہے۔ لوگوں کو بھوک سے مرنے پر مجبور کرنے کی حکمت عملی بلاشبہ انسانیت سوز اورمجرمانہ ہے۔
اس تباہی کے درمیان اسرائیل نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی انسانی امداد کو یا تو یکسر مسترد کر دیا ہے یا روک دیا ہے۔ انسانیت کے ہر تصور کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں نے ان لوگوں پر وحشیانہ فائرنگ کی ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے امدادکے منتظر تھے۔ خود اقوام متحدہ نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کو بھی اس ہولناک حقیقت کو قبول کرنا پڑا ہے۔
غزہ پر اسرائیل کے فوجی قبضے کے تقریباً تمام ماہرین کے تجزیوں کے مطابق ،یہ یک ایسی مہم ہے جو نسل کشی کے مترادف ہے اور اس کا مقصد غزہ پٹی سے نسلی طور پر فلسطینیوں کا صفایا کرنا ہے۔ اس کے پیمانے اور نتائج 1948 کے سانحہ نقبہ کی یاد دلاتے ہیں، جس میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا تھا۔ یہ ظلم کچھ انتہائی مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کیا جا رہا ہے، جس میں نوآبادیاتی ذہنیت سے لے کر کچھ لالچی رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز کے خود غرض مفادات شامل ہیں۔
بدقسمتی سے، غزہ کے بحران نے عالمی نظام میں سب سے زیادہ سنگین کمزوریوں میں سے ایک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ سلامتی کونسل عام شہریوں پر حملوں اور غزہ کے بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کی وجہ سے اسرائیلی حکومت پر پابندیاں عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے 26 جنوری 2024 کو اسرائیل کو حکم دیا تھاکہ وہ نسل کشی کی کارروائیوں کو روکے اور شہریوں کو ضروری خدمات اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
ایک حرف کی غلطی نے چھین لی ساری خوشیاں، 22 دن کی جیل، 17 سال چلا مقدمہ، انصاف کی اس لڑائی سے عدالت بھی حیران
Monday, 28 July 2025
*🔴سیف نیوز بلاگر*
*🛑سیف نیوز اُردو*
’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل