Thursday, 31 July 2025

مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں این آئی اے کورٹ کا فیصلہ، سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت سبھی 7 ملزمان بری

نئی دہلی: 17 سال کے لمبے انتظار کے بعد قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت معاملے کے سبھی 7 ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ مالیگاؤں دھماکے کے بارے میں جج نے کہا کہ سرکاری ٹیم اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہی کہ بم دھماکہ ہوا تھا۔ تاہم حکومتی فریق یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ دھماکہ بائیک میں ہوا تھا۔

ایکسپرٹس نے ثبوت اکٹھے نہیں کیے: جج

عدالت نے کہا کہ واقعے کے بعد ایکسپرٹس کی جانب سے ثبوت اکٹھے نہیں کیے گئے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں ہنگامہ آرائی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ مقامی لوگوں نے پولیس فورس پر حملہ کر دیا۔ عدالت نے فوجی افسر کرنل پرساد پروہت کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے سے پہلے لی گئی منظوری پر سوال اٹھایا ہے۔


عدالت نے کہا کہ اے ٹی ایس اور این آئی اے کی چارج شیٹ میں بہت فرق ہے۔ استغاثہ ثابت نہیں کر سکا کہ بم موٹر سائیکل میں تھا۔ پرساد پروہت کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس نے بم بنایا تھا یا سپلائی کیا تھا۔ یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ بم کس نے لگایا تھا۔ ایکسپرٹس نے واقعے کے بعد ثبوت اکٹھے نہیں کیے جس کی وجہ سے ثبوتوں میں گڑ بڑی ہوئی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ دھماکے کے بعد پنچنامہ درست نہیں کیا گیا، جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس نہیں لیے گئے اور موٹر سائیکل کا چیسس نمبر بھی کبھی ریکور نہیں ہوا۔ ساتھ ہی، وہ موٹر سائیکل سادھوی پرگیہ کے نام سے تھی، یہ بھی ثابت نہیں ہو پایا۔

کیا تھا سارا معاملہ

دراصل، 29 ستمبر 2008 کو مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے مالیگاؤں میں ایک بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 6 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ نماز ادا کرنے جا رہے تھے۔ بم دھماکے کے ایک دن بعد 30 ستمبر 2008 کو مالیگاؤں کے آزاد نگر تھانے میں کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

بم دھماکے سے کیسے جڑا پرگیہ کا نام

اس معاملے کی ابتدائی جانچ پولیس نے کی تھی، لیکن اس کے بعد پوری تفتیش اے ٹی ایس کے ہاتھ میں چلی گئی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایل ایم ایل فریڈم کی موٹر سائیکل میں بم لگایا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے دھماکہ ہوا،لیکن موٹر سائیکل پر نمبر غلط لگا ہوا تھا۔ جب موٹر سائیکل کی جانچ شروع کی گئی تو دعویٰ کیا گیا کہ یہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے نام پر تھی۔ دھماکے کے تقریباً ایک ماہ بعد سادھوی پرگیہ سمیت 2 اور لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس معاملے میں کل 11 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

آپ کو بتا دیں کہ عدالت نے مالیگاؤں دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ کے طور پر دو دو لاکھ روپے دینے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ زخمیوں کو پچاس پچاس ہزار روپے دینے کا حکم دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Wednesday, 30 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر *

روس، جاپان اور ہوائی میں سونامی کی تباہ کاریاں، بندرگاہوں کو نقصان، عمارتیں منہدم، لوگوں کی بڑے
روس کے کام چٹکا جزیرہ نما پر شدید زلزلہ نے تباہی کا منظر پیدا کر دیا ہے۔ زبردست سونامی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ کئی ملکوں میں سونامی کی لہریں ساحلوں سے ٹکرا چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سونامی کی یہ لہریں 4 میٹر تک ہو سکتی ہیں۔ سونامی لہریں پہلے ہی روس کے کُریل جزائر گروپ اور جاپان کے شمالی جزیرہ ہوکائیڈو کے کچھ حصوں تک پہنچ چکی ہیں۔ جاپان اور روس کے ساحلی علاقوں میں ان لہروں کے ٹکرانے سے شدید نقصان ہوا ہے۔

زلزلہ کے جھٹکوں کے فوراً بعد جاپان اور روس کے کئی حصوں میں سونامی کا الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔ جاپان کی قومی نشریاتی ایجنسی این ایچ کے نے وارننگ دی ہے کہ بڑی لہریں ابھی اور آ سکتی ہیں۔ جاپان کے محکمہ موسمیات (جے ایم اے) نے بتایا کہ شمالی اور مشرقی علاقوں میں خاص کر ہوکائیدو سے لے کر واکایاما (اوساکا کے قریب) تک تین میٹر تک اونچی لہریں اٹھ سکتی ہیں۔

جاپان کی بی این او نیوز کے مطابق جاپان کے ساحل پر چار وہیل بہہ کر آ گئیِ جس سے سمندری زندگی پر اثر پڑا ہے۔ رائٹرس کے مطابق کچھ مقامات پر سونامی کی لہریں 4 میٹر تک اونچی تھیں، جس سے بندر گاہوں اور ساحلی علاقوں کی عمارتوں کو نقصان ہوا ہے۔ سوشل میڈیا میں وائرل ہو رہے ویڈیو میں روس کے ساحلی علاقوں میں عمارتوں کو زیر آب دیکھا گیا۔

زلزلہ کے بعد روس کے شمالی کُریل جزیرہ میں سیلاب آ گیا ہے، جس سے کئی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ علاقے میں رہنے والے سبھی لوگوں کو محفوظ طور پر نکال لیا گیا ہے۔ یہاں 15 فٹ تک اونچی سونامی لہریں دیکھی گئی ہیں۔ کُریل کے میئر الیکژنڈر اوسیانیکوف نے افسروں کے ساتھ ایمرجنسی میٹنگ کرنے اور ریسکیو آپریشن چلانے کا حکم دیا ہے۔

روس اور جاپان دونوں ہی ملکوں کے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ کام چاٹکا کے گورنر ولادیمیر سولودوف نے ویڈیو پیغام میں بتایا، ’’آج کا زلزلہ دہائیوں میں سب سے طاقتور تھا۔‘‘

روس میں آئے زلزلہ کے بعد سونامی کی لہروں کا اثر اب ہوائی جزیرہ گروپ پر جلد ہی دکھنے والا ہے۔ ہوائی کے گورنر جاش گرین نے بتایا کہ مڈوے ایٹول سے حاصل شدہ ڈاٹا کے مطابق سونامی کی لہریں چوٹی سے نیچے تک 6 فٹ (1.8 میٹر) پیمائش کی گئی ہیں۔ گرین نے ایک پریس کانفرنس میں صاف کیا کہ ہوائی سے ٹکرانے والی لہریں اس سے بڑی یا چھوٹی بھی ہو سکتی ہیں اور اس سائز کی سونامی کاروں کو ہلا سکتی ہیں اور باڑ کو بھی اڑا سکتی ہیں۔ لوگوں کو چوکس رہنے اور سبھی ہدایت پر عمل کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ یو ایس جیولاجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق روس میں آیا زلزلہ اب تک درج کیے گئے چھ سب سے بڑے زلزلوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مرکز روس کے پیترو پاؤلوسک کامچاتسکی شہر سے تقریباً 125 کلومیٹر مشرق-جنوب مشرق اور سمندر کی سطح سے 19 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔
لاڈلی بہن اسکیم میں4؍ ہزار 800؍ کروڑ روپے کا گھوٹالہ



مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں اہم رول ادا کرنے والی مہایوتی کی ’چیف منسٹر ماجھی لاڈکی بہین یوجنا‘ (لاڈلی بہن اسکیم ) سےمتعلق نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار)کی قومی کارگزار صدر سپریا سلے نے سنگین الزام عائد کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس اسکیم میں تقریباً4؍ ہزار 800 کروڑ روپے کی بدعنوانی ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ ۱۴؍ ہزار سے زیادہ مرد حضرات نے بھی اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا ہے ۔
  نئی دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپریا سلے نے مطالبہ کیا کہ اس گھوٹالے کیلئے پوری ریاستی حکومت ذمہ دار ہے اور اس کی ایس آئی ٹی کے ذریعے تحقیقات کروائی جانی چاہئے۔سپریا سلے نے کہا کہ والدین کے بعد بہن بھائی کا رشتہ سب سے مقدس ہوتا ہے لیکن مہاراشٹر حکومت نے اس رشتے کی بھی بے عزتی کی ہے۔ لاڈلی بہن اسکیم میں4؍ ہزار 800کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس اسکیم پر ایک وائٹ پیپر جاری کرے، پورے لین دین کا آڈٹ کروائے اور معاملے کی ایس آئی ٹی جانچ کرے۔ یہ تفتیش انتہائی شفاف طریقے سے ہونی چاہئے۔ اگر حکومت اس معاملے کی تحقیقات نہیں کرتی ہے تو ہم اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے اور مرکز سے اس اسکیم کی تحقیقات پر اصرار کریں گے۔ 
 این سی پی کی قومی کارگزار صدر نے کہا کہ ریاستی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق ریاست کی۲؍کروڑ۳۸؍ لاکھ خواتین کو اس اسکیم کا فائدہ فراہم کیا گیا ہے۔ ان میں سے۲۶؍ لاکھ یعنی۱۰؍فیصد کو اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد نااہل قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سرکاری(خاتون) ملازمین نے بھی اسکیم سے استفادہ کیا تھا۔
سپریہ سلے نے متعدد سوالا ت اٹھائے
 سپریاسلے نے لاڈلی بہن اسکیم سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’ کالج میں کم نمبروں کی وجہ سے طلبہ کے فارم مسترد کر دیئے جاتے ہیں۔ انشورنس اسکیموں کیلئے درخواست میں کوئی غلطی ہو جائے تو کسانوں کی عرضی کو بھی مسترد کردیا جاتا ہے۔ لاڈلی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے دستاویز طلب کئے گئے تھےجیسے آدھار کارڈ، بینک کی تفصیلات وغیرہ ۔ تو ان مردوں کے کھاتوں میں پیسہ کیسے آیا؟ لاڈلی بہن اسکیم میں مردوں کی طرف سے بھری گئی درخواستیں منسوخ کیوں نہیں کی گئیں؟ ڈیجیٹل انڈیا کی ٹیکنالوجی میں یہ غلطی کیسے ہوئی؟ یہ اسکیم اسمبلی انتخابات سے۳؍ماہ قبل متعارف کروائی گئی تھی۔ شروع میں سب کو وظیفے دیئے گئے اس کے بعد چھٹنی ہوئی تو انہیں (مردوں کو)ابھی تک نااہل کیوں کیا گیا؟ سپریا نے کہا کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کا محکمہ خواتین بہترین ہے تو اتنے بڑے پیمانے پر کرپشن کیسے ہوا؟ اگر اس اسکیم کے نفاذ میں غلط طریقے استعمال کئے گئے تو اسکی ذمہ دار پوری حکومت ہے۔ میں ادیتی تٹکرے پر الزام نہیں لگاؤں گی لیکن اس اسکیم کو لاگو کرنے میں جو وزیر اور نائب وزیر اعلیٰ نے اس کی قیادت کی ہے انہیں اس کی ذمہ داری لینا ہوگی۔
*ہم اپنی گھریلو زندگی کو خوشگوار کیسے بنائیں ؟*
 *از قلم: مولانا ریحان رئیس ندوی

ہر ذی مرد و عورت کی یہ فطری تمنا ہوتی ہے کہ اس کی ازدواجی زندگی محبت، سکون، عزت اور وقار سے بھرپور ہو اور اس کی گھریلو زندگی راحت و عافیت کے ساتھ گزرے ۔ اسے ایسا گھریلو ماحول میسر ہو جہاں دلوں کو سکون ملے، روح کو چین نصیب ہو، اور نسلیں نکھر کر پروان چڑھیں۔لیکن جب انسان عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے، تو اکثر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی راہ میں مشکلات اور پریشانیاں حائل ہوتی جا رہی ہیں۔ ہر نیا دن ایک نئی الجھن، ایک نئی بے چینی اور ایک نئی آزمائش لے کر آتا ہے۔ انسان سکون کا متلاشی ہوتا ہے، مگر اس کا ہر قدم اضطراب کی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ایسے حالات میں اگر ازدواجی جوڑے اور آفراد خانہ قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی تعلیمات اور عملی ہدایات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تو یقیناً ازدواجی اور گھریلو زندگی کی خوشگواریاں ہمارا مقدر بن سکتی ہیں۔ شریعتِ مطہرہ نے زندگی کے ہر گوشے خصوصاً معاشرت سے متعلق نہایت اہم  ہدایات عطا فرمائی ہیں، جن پر عمل کر کے نہ صرف ازدواجی زندگی بلکہ خاندانی نظام کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے، اور ایک مضبوط، صالح اور باوقار سماجی نظام بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ مگر افسوس! آج ہم نے اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات سے کاٹ کر خود ساختہ نظریات، جذباتی فیصلوں اور دنیاوی مفادات کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ازدواجی رشتوں میں دراڑیں آ گئیں، گھریلو جھگڑوں میں اضافہ ہوا، رشتہ کمزور پڑ گیا، اور بیزاری کا ماحول جنم لینے لگا۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے الزام تراشی، مقابلہ بازی اور انا کی جنگ میں مصروف ہو گئے ہیں۔ایسے نازک حالات میں اصلاح اور تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کریں، نرمی، برداشت، محبت اور عفو و درگزر کو فروغ دیں، اور سب سے بڑھ کر اپنے طرزِ زندگی کو شریعت کے نور سے منور کریں تو عجب نہیں خوشیاں، محبتیں اور کامیابیاں ہمارے قدم نہ چومیں۔اسی مقصد کے تحت شہر مالیگاؤں کے معزز علمائے کرام اور صفا فاؤنڈیشن کے فعال اراکین کی جانب سے"خوشگوار ازدواجی زندگی اور خوشحال خاندانی نظام"کے عنوان سے شہر کے مختلف علاقوں میں اصلاحی و تربیتی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی اس طرح کے پروگرام میں شریک ہوں؛ اپنے اہلِ خانہ، احباب اور متعلقین کو بھی شرکت کی دعوت دیں؛اور ان پروگراموں میں پیش کیے گئے سنہری اصولوں اور مفید نکات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یقین جانئے! جب ازدواجی اور گھریلو زندگی کا یہ سفر دین کی روشنی میں طے کیا جائے گا، تو ہر گھر سکون کا، ہر خاندان اتحاد و اتفاق کا، اور ہر رشتہ محبت کا گہوارہ بن جائے گا۔
نوٹ : خوشگوار ازدواجی زندگی اور خوشحال خاندانی نظام کے عنوان سے اگلا تربیتی پروگرام مورخہ 4 اگست بروز پیر بعد نماز عشاء فورا قاسمیہ مسجد نیا اسلام پورہ میں منعقد کیا جائے گا انشاءاللہ! پروگرام کی تفصیلات جلد ہی اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام کی جائیں گی۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*







بارشوں میں ہونے والی بیماریاں : گھر میں موجود 5 مسالوں سے علاج ممکن

بارشوں کے موسم میں متعدد بیماریاں عام ہوجاتی ہیں جن میں اسہال، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اے، اور وائرل بخار ہیں، جن کا علاج فوری طور کرنا بہتر ہے۔

برسات کے موسم میں اگر بارش میں نہ بھی بھیگیں تو کیڑے مکوڑے ضرور کسی نہ کسی علالت کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

موسم برسات میں ہونے والی یہ بیماریاں عام طور پر آلودہ پانی اور کھانے، یا متاثرہ شخص سے رابطے کے ذریعے پھیلتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق فوری آرام کیلیے ان 5 گرم مسالوں کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔ جن میں ادرک ہلدی دار چینی کالی مرچ اور لونگ شامل ہیں۔

ادرک (Ginger)

ادرک قدرتی طور پر اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل خصوصیات رکھتی ہے۔ برسات میں ہونے والی گلے کی خراش، کھانسی، نزلہ اور ہاضمے کی خرابی میں مفید ہے۔ پیٹ میں گیس، اپھارہ اور متلی میں آرام دیتا ہے۔

ہلدی(Turmeric)

ہلدی ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی سیپٹک ہے۔ برسات میں جلدی انفیکشنز، الرجی اور سوجن سے بچاتی ہے۔قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتی ہے۔اسے دودھ میں ملا کر ’’ہلدی دودھ‘‘ کے طور پر پینا چاہئے۔

دار چینی(Cinnamon
جسم کو گرمی پہنچاتی ہے اور ٹھنڈے ماحول میں جسمانی حرارت برقرار رکھتی ہے۔موسم باراں میں وائرل بخار اور زکام کے خلاف مؤثر ہے۔دار چینی بلڈ شوگر کو بھی متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

کالی مرچ(Black pepper)

برسات کے موسم میں کالی مرچ بلغم خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔سردی لگنے، زکام، یا سینے میں جکڑن کیلئے مفید ہے۔ہاضمہ بہتر کرتی ہے اور بھوک کو ابھارتی ہے۔اسے چائے یا قہوے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

لونگ(Clove)

لونگ میں طاقتور جراثیم کُش خصوصیات ہوتی ہیں۔کھانسی، گلے کی سوزش اور دانت درد میں مفید ہے۔برسات میں پیٹ کے کیڑوں اور انفیکشن سے بچاتی ہے۔چائے میں دو عدد لونگ ڈالنا مفید ہوسکتا ہے۔













جموں و کشمیر: گاندربل میں آئی ٹی بی پی اہلکاروں کی بس دریائے سندھ میں گر گئی، ریسکیو آپریشن جاری 
گاندربل، (فردوس احمد تانترے): جموں و کشمیر کے گاندربل ضلع میں ایک المناک حادثہ پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے گاندربل ضلع میں بدھ کے روز سکیورٹی اہلکاروں کو لے جانے والی ایک بس ندی میں گر گئی، حکام نے اس بات کی خبر دی ہے کہ آئی ٹی بی پی (ITBP) کے اہلکاروں کو لے جانے والی بس گاندربل ضلع کے کولن کے مقام پر شدید بارش کے دوران سندھ ندی میں گر گئی۔ حکام کے مطابق متعلقہ ایجنسیوں کی طرف سے بس میں سوار اہلکاروں کی تلاش اور بچاؤ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے لیکن ابھی تک کسی سے بھی واقعے کی تفصیلات نہیں ملی ہیں۔حادثہ زیر پورہ کلاں پل کے قریب نالہ سندھ میں پیش آیا۔ رات کے اوقات میں، ایک سول بس (Regd. JK01N-1007) جو ITBP ایڈہاک 11D/6 نے کرایہ پر لی تھی، حادثے کا شکار ہوئی اور زیرپورہ کلاں پل کے قریب سندھ نالہ میں گر گئی۔ اس حادثہ میں ڈرائیور وسیم احمد ڈار ولد علی محمد ڈار ساکن گنستان سنبل بانڈی پورہ زخمی ہوگیا۔ اسے فوری طور پر پی ایچ سی کلاں منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔جموں و کشمیر کے گاندربل ضلع میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ آئی ٹی بی پی کے اہلکاروں کو لے جانے والی بس دریائے سندھ میں گر گئی۔ کولان میں شدید بارش کے باعث پیش آنے والے اس حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ ادارے بس میں سفر کرنے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

بس میں موجود کچھ ہتھیار غائب

بس میں سوار فوجیوں کی تلاش جاری ہے۔ بچاؤ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی فوجی نہیں ملا۔ حکام نے یہ جانکاری دی ہے۔ ایس ڈی آر ایف گاندربل اور ایس ڈی آر ایف سب کمپوننٹ گنڈ کی طرف سے دریائے سندھ میں کلاں کے مقام پر ایک مشترکہ تلاش اور بچاؤ آپریشن شروع کیا گیا ہے جہاں آئی ٹی بی پی کے جوانوں کو لے کر جانے والی ایک بس کولن پل سے سندھ ندی میں گر گئی، جس میں کچھ ہتھیار غائب ہیں۔ اب تک تین ہتھیار برآمد ہوئے ہیں اور آپریشن ابھی جاری ہے۔

نوٹ: اس خبر کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ ہم اپنے تمام قارئین کو ہر لمحہ ہر خبر سے اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم تازہ ترین اور بریکنگ نیوز فوری طور پر آپ تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ موصول ہونے والی ابتدائی معلومات کے ذریعے ہم اس خبر کو مسلسل اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔ تازہ ترین بریکنگ نیوز اور اپ ڈیٹس کے لیے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ جڑے رہیں۔













نریندر مودی کی 100 منٹ کی تقریر مگر نہ طیاروں پر بات اور نہ ٹرمپ کی ثالثی کی تردید: ’14 بار نہرو کا نام لیا مگر چین کا نام ایک بار بھی نہ لے سکے‘
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کی شام پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر ہونے والی بحث سمیٹتے ہوئے پہلگام حملے میں مبینہ سکیورٹی غفلت، پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں انڈین طیاروں کے نشانہ بنائے جانے کی خبروں اور جنگ بندی کروانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں سے متعلق اپوزیشن کے سوالوں کا جواب نہیں دیا ہے۔
اپنی ایک گھنٹہ 40 منٹ طویل تقریر میں انھوں نے پاکستان سے زیادہ اپوزیشن جماعت کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ’کانگریس پاکستان کی ترجمان بن چکی ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا میں دہشت گردی اور پاکستان اور چین سے متعلق سارے مسائل نہرو، اندرا گاندھی اور منموہن سنگھ کی کمزور اور غیر دانشمندانہ پالیسیوں کے سبب پیدا ہوئے۔

اگرچہ انھوں نے اہم سوالوں کا جواب دینے سے تو گریز کیا مگر ’آپریشن سندور‘ میں اپنے ملک کی فوجی کامیابیوں سے متعلق بہت سے پرانے دعوؤں کو دہرایا اور چند نئے دعوے بھی کیے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





طاقت ورزلزلے کے بعد روس اورجاپان میں سونامی ، امریکہ،انڈونیشیا،فلپائن میں بھی الرٹ جاری
روس میں طاقتور ترین 8.8شدت کے زلزلے نے سونامی کو جنم دیا ہے۔حکام نے بتایا کہ اس زلزلے سے کریل جزائر پر 4 میٹر (13 فٹ) اونچائی تک سونامی پیدا ہوئی، جس سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ امریکی جیولوجیکل سروے ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ زلزلے کے بعد سونامی کی لہریں اٹھی ہیں اور الاسکا کے کچھ حصوں میں وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق،کامچٹکا جزیرہ نما پر زلزلے کے مرکز کے قریب واقع روسی علاقوں میں نقصان اور انخلاء کی اطلاع ہے، لیکن کوئی شدید زخمی نہیں ہوا۔مقامی گورنر ویلری لیمارینکو کے مطابق سونامی کی پہلی لہر ساحلی علاقے سیویرو-کورلسک سے ٹکرا گئی، جو کہ بحر الکاہل میں روس کے جزائر کریل پر واقع مرکزی بستی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی محفوظ ہیں اور بلندی پر اس وقت تک رہے جب تک کہ دوبارہ لہر کا خطرہ ختم نہ ہو جائے۔اب تک 9 جھٹکے کیے جاچکے ہیں محسوس
روس کے جزیرہ نما کامچٹکا کے قریب 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد اس علاقے میں طاقتور آفٹر شاکس مسلسل محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یو ایس جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلے جھٹکے کے تقریباً 45 منٹ بعد پیٹرو پاولوسک کامچٹسکی سے 147 کلومیٹر جنوب مشرق میں 6.9 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جب کہ چند منٹ بعد والیوچنسک سے 131 کلومیٹر دور 6.3 شدت کا ایک اور جھٹکا ریکارڈ کیا گیا۔ اب تک اسی علاقے میں کل 9 مزید جھٹکے (5.4 سے 5.8 شدت کے درمیان) محسوس کیے گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ ہائی الرٹ ہے۔جاپان میں سونامی کی وارننگ
جاپانی حکومت نے بھی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر سونامی کی ایڈوائزری کو وارننگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب وہاں ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ جاپانی نشریاتی سروس NHK کے مطابق حکومت نے لوگوں کو فوری طور پر ساحلی علاقوں سے نکلنے کا حکم دیا ہے۔ ہوکائیڈو سے واکایاما تک مشرقی ساحلی علاقوں میں وارننگ مؤثر ہے۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ سونامی کی لہریں کسی بھی وقت ساحل سے ٹکرا سکتی ہیں۔

امریکہ میں سونامی الرٹ
روس کے مشرق بعید کے علاقے میں آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد جزائر ہوائی کے تمام ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر (این ڈبلیو ایس) نے کہا ہے کہ پہلی لہر کے بعد بھی خطرہ کئی گھنٹوں تک برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ اس کے بعد آنے والی لہریں زیادہ تباہ کن ہوسکتی ہیں۔ وارننگ میں کہا گیا تھا کہ سمندری لہریں ہر سمت میں مؤثر ہیں، اس لیے ہر ساحل متاثر ہو سکتا ہے۔ پہلی لہر کے مقامی وقت کے مطابق شام 7:17 پر ہوائی پہنچنے کی توقع ہے۔ حکام نے لوگوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔فلپائن اور انڈونیشیا میں بھی سونامی کی وارننگ
روس کے زلزلے کی براہ راست خبر: فلپائن اور انڈونیشیا نے روس کے مشرقی ساحل پر 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد اپنے ساحلی علاقوں میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ فلپائن کے انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی (PHIVOLCS) کے مطابق، 1 میٹر تک اونچی لہریں دوپہر 1:20 سے 2:40 کے درمیان ملک کے بحر الکاہل کے ساحلی علاقوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ دریں اثنا، انڈونیشیا کی جیو فزیکل ایجنسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ بدھ کی سہ پہر کو 0.5 میٹر تک لہریں کچھ علاقوں سے ٹکر سکتی ہیں۔















پہلگام حملے پر نیا انکشاف، یو این ایس سی کی رپورٹ نے ایک بار پھر کیا بے نقاب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی ایک اہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ‘دی ریزسٹنس فرنٹ’ (TRF) نے دو بار جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے خوفناک دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور حملے کی جگہ کی تصاویر بھی جاری کی تھیں۔ یہ حملہ 22 اپریل 2025 کو ہوا جس میں 26 بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یہ معلومات اقوام متحدہ کی 1267 اسلامک اسٹیٹ (داعش) اور القاعدہ کی پابندیوں کی کمیٹی کو پیش کی گئی 36ویں سپورٹ اینڈ مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام پر حملہ کیا تھا۔ اسی دن ٹی آر ایف نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور حملے کی جگہ کی تصویر بھی شائع کی گئی۔ اگلے دن ایک بار پھر ٹی آر ایف نے ذمہ داری کا اعادہ کیا، لیکن 26 اپریل کو اس نے اپنا دعویٰ واپس لے لیا اور اس کے بعد گروپ کی طرف سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ ‘پہلگام حملہ لشکر کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا’رپورٹ کے مطابق ایک رکن ملک نے کہا ہے کہ یہ حملہ پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ساتھ ہی ایک اور رکن ملک نے ٹی آر ایف اور لشکر کو ایک ہی تنظیم قرار دیا ہے۔ تاہم، ایک رکن ملک نے اس کی تردید کی ہے اور لشکر کو ‘اب فعال نہیں’ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ٹی آر ایف کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) اور عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ علاقائی تعلقات انتہائی حساس صورتحال میں ہیں اور دہشت گرد تنظیمیں ان کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ پاکستان کے دباؤ پر ٹی آر ایف کا نام ہٹا دیا گیا۔غور طلب ہے کہ پہلگام حملے کے بعد 25 اپریل کو سلامتی کونسل نے ایک پریس بیان جاری کرکے مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس بیان میں ٹی آر ایف کا نام نہیں تھا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ پاکستان کے دباؤ میں اس پریس بیان سے ٹی آر ایف کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔ اس حملے کے جواب میں ہندوستان نے ‘آپریشن سندور’ شروع کیا تھا، جس میں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
رپورٹ میں اسلامک اسٹیٹ کے خراسان ماڈیول کو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ داعش کے تقریباً 2,000 جنگجو ہیں اور یہ تنظیم افغانستان اور پڑوسی ممالک میں بھی بچوں کو خودکش حملوں کی تربیت دے رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع مدارس میں تقریباً 14 سال کی عمر کے بچوں کو خودکش بمبار بننے کی تربیت دی جا رہی ہے۔















مدھیہ پردیش میں ایس ٹی ،ایس سی خواتین سے جنسی زیادتی کے اعدادوشمارچونکانے والے، عار ف مسعود کے سوال پراسمبلی میں حکومت نے دیئے جواب
خواتین کے خلاف تشدد کے معاملہ سنگین بحران ہے ۔ ملک میں بھی خواتین کے خلاف جرائم اور تشدد کی خبریں سرخیاں بنتی ہیں جو تشویش کاباعث ہیں ۔ مدھیہ پردیش میں درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کی خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے تعلق سے حیرت انگیزانکشاف ہوا ہے۔

میڈیا رپوٹس کے مطابق یہ انکشاف ہندوستانی معاشرے میں ذات پات اور جنس پر مبنی تشدد کی گہری جڑوں اجاگرکرتا ہے ۔ مدھیہ پردیش حکومت نے منگل کے روز اسمبلی میں اعداد و شمار پیش کیے جو درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کی خواتین کے خلاف جرائم کا تشویش ناک اورمضطرب کرنے والا پیٹرن پیش کرتا ہے۔دراصل اپوزیشن رکن اسمبلی عارف مسعود کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ، حکومت نے انکشاف کیا کہ 2022 سے 2024 کے درمیان، ایس ٹی، ایس سی خواتین کے خلاف کل 7,418 آبروریزی کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے تین برسوں میں مدھیہ پردیش میں ہر روز اوسطاً سات دلت یا آدیواسی خواتین کی عصمت دری کی گئی۔
اس اعدادوشمار سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ،ان ذاتوں کی 558 خواتین کو قتل کیا گیا جبکہ اسی عرصے کے دوران 338 خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

تقریباً 1,906 ایس ٹی ،ایس سی خواتین کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یعنی ان کمیونٹیز کی تقریباً دو خواتین کو روزانہ اپنے ہی گھروں میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
اس کے علاوہ چھیڑ چھاڑ کے 5,983 واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر روز تقریباً پانچ ایس ٹی، ایس سی خواتین کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مجموعی طور پر، پچھلے تین برسوں میں ایس ٹی ، ایس سی خواتین کے خلاف 44,978 جرائم ریکارڈ کیے گئے، جس کا مطلب ہے کہ مدھیہ پردیش میں ان پسماندہ طبقات کی خواتین کے خلاف اوسطاً روزانہ 41 جرائم کیے گئے۔مدھیہ پردیش میں درج فرست ذات اور درج فہرست قبائل کی مجموعی آبادی تقریبًا 38 فیصد ہے۔ان میں ایس کی 16 جبکہ ایس ٹی22 فیصد ہیں ۔

Tuesday, 29 July 2025

*🔴 سیف نیوز بلاگر*


غزہ میں اسرائیل کے حملے جاری ،60 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق، انسانی حقوق کے علمبردارعودہ کواسرائیلی آبادکارنے ماری گولی

غزہ پٹی میں اسرائیلی فورسز کے مختلف حملوں میں تاحال 60 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔مہلوکین میں امدادکے متلاشی19 افراد بھی شامل ہیں۔یہ ہلاکتیں اسرائیل کے ذریعہ تین علاقوں میں وقفے کے اعلان کے دوران ہوئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نٹزارم راہداری میں اسرائیلی فورسز کے حملوں میں امداد کے منتظر8 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ان حملوں میں38 فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں ۔ایک اسرائیلی آباد کار نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطہ میں فلسطینی کارکن عودہ محمد ہدالین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔

معروف انسانی حقوق علمبردارکو مادی گئی گولی
اسرائیلی آباد کار کے ہاتھوں ہلاک کیے گئے فلسطینی عودہ محمد ہدالین نے آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم No Other Land کی تکمیل میں بھی اہم رول اداکیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق،ایک اسرائیلی آباد کار نے معروف فلسطینی استاد، سماجی کارکن عودہ محمد ہدالین کو اُم الخیر نامی گاؤں میں گولی ماردی ۔

اقوام متحدہ کی دوریاستی حل کانفرنس کا امریکہ نے کیا بائیکاٹ
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اقوام متحدہ کی فلسطین اور اسرائیل کے بیچ دو ریاستی حل کے تعلق سے منعقدہ کانفرنس میں امریکہ نے شرکت سے انکارکیا۔امریکہ نے اس کانفرنس کوغیر مؤثر اور نامناسب وقت پر ہونے والی کانفرنس قرار دیا ۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ یہ کانفرنس دراصل ایک تشہیری حربہ ہے جو نہ صرف امن کی راہ میں رکاوٹ بنے گی بلکہ حماس کو مزید تقویت دے گی۔ٹیمی بروس نے مزید کہا کہ یہ اقدام 7 اکتوبر کے حملے میں مارے گئے لوگوں کی توہین اور دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق یہ کانفرنس جنگ بندی کی موجودہ کوششوں کو سبوتاژ کرتی ہے اور یرغمالیوں کی رہائی کے امکانات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔

حال ہی فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کے ذریعہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلان پر بھی ردعمل کا اظہار کیا گیا ۔ ٹیمی بروس نے میکروں کے بیان کے نکتہ چینی ۔ انھوں نے کہا کہ حماس نے میکروں کے اعلان کا خیر مقدم کیا، جو اس بات کا غمازہے کہ ایسے اعلانات حماس کی ہٹ دھرمی کو تقویت دیتے ہیں ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی یہ کانفرنس دراصل جون میں ہونی تھی،مگر اسرائیل۔ایران کشیدگی کے سبب یہ ملتوی کر دی گئی تھی۔
محمد اظہرالدین ممکنہ طور پر جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں کانگریس کے امیدوار

محمد اظہرالدین ممکنہ طور پر جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں کانگریس کے امیدوار
کانگریس پارٹی کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ سابق بھارتی کرکٹ کپتان اور ریاستی کانگریس کے ورکنگ صدر محمد اظہرالدین ممکنہ طور پر جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں امیدوار ہوں گے۔ اس بات کا اشارہ ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ و پسماندہ طبقات بہبود ، پونم پربھاکر نے ایک پریس کانفرنس میں دیا۔ ان کے ہمراہ اظہرالدین بھی موجود تھے۔
تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز میں ضمنی انتخاب کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب برسرِ اقتدار بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے رکن اسمبلی میگنتی گوپیناتھ 8 جون کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔)

پونم پربھاکر، جو حیدرآباد کے انچارج وزیر بھی ہیں، نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی کسی بھی ’’ باہر کے‘‘ شخص کو ٹکٹ نہیں دے گی بلکہ امیدوار اسی حلقے کا مقامی رہنما ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہی امیدوار کے انتخاب کا فیصلہ کرے گی، اور پارٹی کے تمام کارکنان متحد ہو کر پارٹی کے امیدوار کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے۔

تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز میں ضمنی انتخاب کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب برسرِ اقتدار بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے رکن اسمبلی میگنتی گوپیناتھ 8 جون کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔)

پونم پربھاکر، جو حیدرآباد کے انچارج وزیر بھی ہیں، نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی کسی بھی ’’ باہر کے‘‘ شخص کو ٹکٹ نہیں دے گی بلکہ امیدوار اسی حلقے کا مقامی رہنما ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہی امیدوار کے انتخاب کا فیصلہ کرے گی، اور پارٹی کے تمام کارکنان متحد ہو کر پارٹی کے امیدوار کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے

انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ کانگریس پارٹی جوبلی ہلز میں اپنا پرچم لہرائے گی۔

اظہرالدین کا دعویٰ اور پارٹی کا موقف

سابق رکن پارلیمنٹ اور بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد اظہرالدین نے 19 جون کو اعلان کیا تھا کہ وہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے اس حلقے کو اپنا ’’آبائی حلقہ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ یہاں سے الیکشن لڑیں گے۔

تاہم، اگلے ہی دن تلنگانہ کانگریس کے صدر مہیش کمار گوڑ نے میڈیا کو بتایا کہ پارٹی نے ابھی تک امیدوار کا باضابطہ فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس میں امیدو ار کے انتخاب کا ایک طویل عمل ہوتا ہے، جس میں پہلے امیدوار اپنی درخواست ریاستی یونٹ کو دیتے ہیں، پھر ان درخواستوں کو مرکزی انتخابی کمیٹی اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے حوالے کیا جاتا ہے جہاں حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔

2018 میں انہیں تلنگانہ کانگریس کا ورکنگ صدر مقرر کیا گیا اور انہوں نے ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھرپور انتخابی مہم چلائی، لیکن پارٹی نے انہیں کسی سیٹ سے امیدوار نہیں بنایا۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں انہیں جوبلی ہلز سے کانگریس کا امیدوار بنایا گیا، لیکن وہ بی آر ایس کے گوپی ناتھ سے 16,000 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ گوپی ناتھ نے جوبلی ہلز سے مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی تھی۔
اظہرالدین کو مقامی مسلم ووٹ بینک، شہرت، اور ان کے سابقہ کیریئر کی بنیاد پر اس حلقے میں بہتر امیدوار سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر جب پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ کسی ’’باہر والے‘‘ کو امیدوار نہیں بنایا جائے گا۔
احمدآبادطیارہ حادثہ: ایسی ہوتی ہے ماں، خود بری طرح جھلسی گئی لیکن بیٹے کودی نئی زندگی

جون کی وہ دوپہرکسی بڑے خواب کی سی ہے۔کئی گھر اجڑ گئے۔کئی خاندانوں کو یہ حادثہ زندگی بھر کا درد دے گیا۔ اس دکھ کی گھڑی میں کچھ کرشمے بھی ہوئے۔ جب طیارہ حادثہ ہوا اور احمد آباد کے میگھانی نگر میں واقع بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی عمارت پر ایئر انڈیا کا طیارہ گر کر تباہ ہوا،ہر طرف صرف آگ، دھواں اور چیخیں تھیں۔ لیکن اسی ملبے کے درمیان ایک ماں نے اپنے آٹھ مہینے کے معصوم بیٹے کوموت سے بچا لیا۔

30 سالہ منیشا کچھاڑیا اور ان کا بیٹا دھیانش اسی عمارت میں رہتے تھے جہاں طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔آگ اور دھوئیں کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن منیشا نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا اور کسی طرح باہر بھاگی۔ وہ دونوں اس آگ میں بری طرح جھلس گئے، لیکن زندہ تھے

میں نے سوچا کہ اب زندہ نہیں بچیں گے…’

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پانچ ہفتے تک اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد ماں بیٹے کو جمعہ کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ منیشا 25 فیصد جھلس چکی تھی۔ اس کا چہرہ اور ہاتھ بری طرح جھلس گئے تھے۔ جبکہ دھیانش 36 فیصد تک جھلس گیا۔ اس کے چہرے، پیٹ، سینے اور ہاتھوں اور ٹانگوں پر گہرے زخم تھے۔منیشا نے کہاکہ ایک لمحہ ایسا آیا جب مجھے لگا کہ ہم زندہ نہیں بچیں گے لیکن مجھے اپنے بیٹے کے لیے لڑنا پڑا۔ ہم نے جو درد سہا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔


جگرکے ٹکڑے کودی نئی زندگی 

کے ڈی اسپتال کے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ریتویج پاریکھ کے مطابق،کہ دھیانش بہت چھوٹا تھا۔ اس کے جسم سے صرف تھوڑی سی جلد لی جا سکتی تھی، اس لیے ہم نے منیشا کی جلد کو اس کے جسم پر پیوند کر دیا۔ انفیکشن کا زیادہ خطرہ تھا، لیکن ہمیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ اس کی نشوونما متاثر نہ ہو۔

ماں نے اپنے بیٹے کی جان ایک بار نہیں بلکہ دو بار اپنے جسم سے بچائی…پہلے اسے آگ سے بچا کر اور پھر اس کے جلے ہوئے جسم کو اپنی جلد سے نئی زندگی دے کر۔

جسم پر زخم، آنکھوں میں سکون

کے ڈی اسپتال نے طیارہ حادثے میں زخمی ہونے والے چھ مریضوں کا مفت علاج کیا جن میں کچھاڑیا ماں اور بیٹا بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی محنت اور ماں کی محبت سے یہ کرشما ہوا۔منیشا کے جسم پرزخم ہیں لیکن ان کی آنکھوں میں سکون ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے لیے اب زندگی صرف اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور اس کی سانسوں میں سکون ہے

۔دھیانش کے لیے اس کی ماں کی گود صرف پناہ گاہ نہیں تھی بلکہ آگ، درد اور موت کے سامنے ایک ڈھال تھی۔ اس حادثے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ماں صرف جنم دینے والی نہیں ہوتی، وہ زندگی کی آہنی دیوار ہوتی ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر *

مالیگاؤں کی نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر، منشیات مخالف خصوصی کارروائی کی فوری اپیل

مالیگاؤں میں منشیات کا کاروبار اب سنگین سماجی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کم عمر بچے، نوجوان، طلبہ اور مزدور طبقہ کھلے عام فروخت ہونے والی خطرناک نشہ آور اشیاء جیسے نیند کی گولی الپرازولم (کتّا گولی)، فینسڈیل سیرپ، ایم ڈی ڈرگس اور دیگر منشیات کے نشے کا شکار ہو رہے ہیں۔

نشے کے باعث شہر میں چاقو، کٹر، چاپر، بندوقوں کا استعمال، لڑائی جھگڑے، ذہنی بے سکونی، خودکشیوں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔

ہزاروں خواتین، بچے اور خاندان برباد ہو چکے اور اجڑ چکے ہیں۔ طلاق اور رشتے ٹوٹنے کی شرح بے حد بڑھ چکی ہے۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ اس غیرقانونی کاروبار کے پیچھے ممکنہ طور پر بعض بااثر سیاسی افراد، مقامی طاقتور طبقہ اور کچھ سرکاری اہلکاروں کا خفیہ تعاون بھی شامل ہے۔ مالیگاؤں سے لے کر ممبئی، ناشک، سورت اور احمد آباد جیسے شہروں تک یہ ریکٹ پھیلا ہوا ہے، جس میں کروڑوں روپے کا کالادھن گردش کر رہا ہے۔

کلیم اختر محمد یوسف عبداللہ نے سال ۲۰۱۸، اگست میں حکومتی اداروں کو پہلی مرتبہ اس موضوع پر خط لکھا تھا۔ اس کے بعد شہر میں چند کاروائیاں اور گرفتاریاں ہوئیں، ڈرگ مافیا کو روکا گیا لیکن افسوس، اس کے باوجود شہر میں نہ جانے کیوں منشیات کا کاروبار بڑھتا گیا اور آج صورت حال مزید بدتر ہو چکی ہے، جو ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور شک و شبہات پیدا کرتی ہے۔

لہٰذہ مفاد عامہ میں شہریانِ مالیگاؤں اور "گرین مالیگاؤں ڈرائیو" کی جانب سے درج ذیل فوری اقدامات کی مانگ کی جاتی ہے:

✅ مالیگاؤں میں نئے پولیس اسٹیشنز اور اضافی اہلکاروں کی تعیناتی  
✅ انسدادِ منشیات کا خصوصی دفتر قائم کیا جائے  
✅ ایف ڈی اے اور این سی بی کی مشترکہ ٹیم بنائی جائے  
✅ تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی جائے اور اہم ملزمین کو گرفتار کیا جائے  
✅ شہر کے حساس علاقوں میں CCTV اور خفیہ دستے تعینات ہوں  
✅ جنرل اسپتال میں ذہنی صحت و مشاورت مرکز قائم کیا جائے  
✅ عوامی بیداری مہم و بحالی پروگرام شروع کیے جائیں  
✅ غیرقانونی میڈیکل اسٹورز/دواخانے بند کیے جائیں  
✅ عوامی تحفظ کی ضمانت دی جائے  
✅ گر ممکن ہو تو ہر ماہ کارروائی کی رپورٹ جاری کی جائے  

ایک عوامی مہم کے تحت شہریانِ مالیگاؤں کی جانب سے مراٹھی زبان میں یہ خط درج ذیل آفسوں میں دیا گیا: 
1. چیف منسٹر، ریاست مہاراشٹر 
2. وزیر داخلہ، ریاست مہاراشٹر
3. ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، مہاراشٹر 
4. نارکوٹکس کنٹرول بیورو، ممبئی ڈویژن 
5. فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کمشنر، مہاراشٹر 
6. ضلع کلکٹر، ناشک، مہاراشٹر 
7. پولیس سپرنٹنڈنٹ، ناشک (دیہی)
8. مہاراشٹر اسٹیٹ انسانی حقوق کمیشن (ہیومن رائٹس کمیشن)
9. محکمہ انسداد بدعنوانی ACB، مہاراشٹر 
10. سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کی وزارت، حکومت ہند 

مالیگاؤں کے مستقبل کو بچانے کے لیے اب فیصلہ کن قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔  
یہ پریس نوٹ عوام، میڈیا، اور ذمہ دار حکام کی فوری توجہ کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

جن لوگوں نے اب تک ای میل نہیں کیا وہ درج ذیل پی ڈی ایف فائل کا استعمال کرکے اپنے اپنے ناموں سے ای میل کریں اور اپنے بیدار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
جنتا بینک پھر نمبر ون، شہر عظمیٰ پونہ میں ملا ایوارڈ

جنتا کو آپریٹیو بینک کے ڈائریکٹرس کو راشٹریہ اربن کو آپریٹیو بینکنگ سمت اینڈ ایوارڈس کی جانب سے مورخہ 25 جولائی 2025 بروز جمعہ عظمیٰ شہر پونہ کی فائیو اسٹار ہوٹل کانریڈ میں بیسٹ کو آپریٹیو بینک ایوارڈ کے لئے طلب کیا گیا جس میں چئیرمن محمد لقمان،وائس چئیرمین محمد عارف تڑوی سمیت بورڈ آف ڈائریکٹرس محمد ایوب،اکرام سیٹھ،سہیل ماسٹر،محمد اسماعیل، سی او شرجیل صاحبان نے شرکت کی ۔ اس باوقار تقریب میں چئیرمن راشٹریہ اربن کو آپریٹیو بینکنگ اینڈ ایوارڈس الکا شریواستو کے ہاتھوں بیسٹ کو آپریٹیو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ یہ ایوارڈ تعمیری محاذ کیساتھ ساتھ اسٹاف،شئیر ہولڈرس، کے لئے بھی باعث افتخار ہے ۔ نئے سافٹ وئیر کے ساتھ موبائل بینکنگ IMPS ( ڈیبٹ کریڈٹ) کا آغاز ہو چکا ہے جلد ہی UPI,گوگل پے،فون پے، کا آغاز بھی ہوگا جس کا فائدہ اکاؤنٹ ہولڈرس کو ہوگا ۔
*محسن شیخ کو ٹریفک پولیس ڈیپارٹمنٹ سے جڑنے پر دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد*

یہ نہ صرف محسن شیخ کی محنت اور لگن کا ثمر ہے بلکہ عوام کی خدمت اور قانون کی پاسداری کے لیے ایک اہم قدم بھی ہے۔ اس قبل محسن شیخ ممبئی پولس سے جڑے ہوئے تھے۔ وی آئی پی لوگوں کی سیکوریٹی پر بھی مامور رہے ۔ محسن شیخ نے ممبئی پولیس کے ڈٹیکشن محکمہ (V P Road police station) میں بھی اپنی خدمات انجام دی۔

*محسن شیخ کا گھر مالیگاؤں کے جونا آزاد نگر میں ہے* ۔

 ممبئی پولس سے جڑنے سے قبل محسن شیخ نے مالیگاؤں میں ہوم گارڈ محمکہ میں بھی اپنی خدمات انجام دی - رکشاء ڈرائیور کے فرزند کی محنت اور جدوجہد کا ہی یہ ثمرہ ہے کہ محسن شیخ آج ممبئی پولس محکمہ کے مختلف ڈیپارٹمنٹ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

دعا ہے کہ اللہ محسن شیخ کو ایمانداری، جرأت اور کامیابی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی توفیق دے۔ محسن شیخ کا یہ سفر دوسروں کے لیے بھی باعثِ فخر و حوصلہ ہو۔
ایک نئی شروعات، ایک نئی پہچان — بہت بہت مبارک ہو محسن شیخ ۔

مالیگاؤں کلب کی جانب سے محسن شیخ کے مستقبل کے لئیے نیک خواہشات

*🔴سیف نیوز بلاگر*








چہرے کی جھریاں : بچاؤ کیلیے ان ہدایات پر عمل کریں
بڑھتی عمر کے ساتھ جسمانی کمزوریاں اور تبدیلی فطری عمل ہے، ان تبدیلیوں سے صحت زیادہ متاثر ہوتی ہے، خاص طور پر چہرے کی جھریاں انسان کی ظاہری شخصیت کو متاثر کرتی ہیں۔

چہرے پر جھریاں پڑجانا باعث تشویش ہے لیکن کچھ اقدامات ایسے ہیں کہ جن پر عمل کرنے سے بڑھاپے کی اس علامت کو کافی حد تک دور رکھا جاسکتا ہے۔

جلد پتلی ہونے کی وجہ سے خواتین کے چہروں پر جھریاں زیادہ جلدی پڑتی ہیں۔ مردوں کی جلد نسبتاً زیادہ موٹی ہونے کے باعث ان کے چہروں پر جھریاں دیر سے پڑتی ہیں۔اس کے علاوہ ہارمونز کے مسائل اور بچوں کی پیدائش کے وقت کمزوری کی وجہ سے خواتین کے چہروں پر جھریاں پڑنا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

علاج اور احتیاطی تدابیر
ماہرین صحت کے مطابق والدین کو چاہیئے کہ چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو سن بلاک استعمال کرنے کی عادت ڈالیں۔ جلد سے متعلق کسی بھی قسم کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور علاج کرائیں۔ شروع سے بچوں کو متوازن غذا کھلائیں اور متوازن طرز زندگی اپنانے میں ان کی مدد کریں۔

جھریاں پڑنے کی صورت میں چند بنیادی امور پر عمل ضروری ہے۔ ان کاسمیٹکس کا استعمال کریں جس میں وٹامن سی کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے موئسچرائزر کا استعمال کریں جن میں سیرامائڈ مقدار زیادہ ہو۔

اس سب چیزوں کے ساتھ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی چیز کا استعمال ایک دن میں فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا، لہٰذا بہتر نتائج کے لیے ان تمام چیزوں کو عادت بنانے کی ضرورت ہے۔

چہرے کے معاملے میں گھریلو ٹوٹکے استعمال کرنے سے گریز کریں، کوئی بھی چیز ہاتھ یا بازو پر ٹیسٹ کیے بغیر چہرے کی جلد پر استعمال نہ کریں۔













غزہ میں بھوک مری، ٹرمپ کا دل پگھلا، کہا: غزہ میں حقیقی فاقہ کشی، نیتن یاہو کو لگا ’کرنٹ‘ -
غزہ سٹی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو "حقیقی فاقہ کشی" کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امدادی ایجنسیاں خوراک کی امداد پہنچانے کے لیے کچھ فوجی آپریشنز پر اسرائیلی "سٹریٹجک توقف" کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اسکاٹ لینڈ میں ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیان کے برعکس باتیں کہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نیتن یاہو نے قحط کے خدشات کو حماس کے پروپیگنڈے کے طور پر مسترد کر دیا تھا کہ غزہ میں غذائی قلت کے حالات ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی غزہ میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو خوراک فراہم کرنے کے لیے فوڈ سینٹر قائم کرنے میں مدد کریں گے۔ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کی طرف سے بھی ایسی ہی وارننگ دی گئی ہیں۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ غزہ کے باشندوں کو بھوک اور غذائی قلت کی مہلک لہر کا سامنا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا، "ہمیں اچھی اور مضبوط خوراک ملے گی، ہم بہت سے لوگوں کو بچا سکتے ہیں۔ میرا مطلب ہے، ان میں سے کچھ بچے - یہ واقعی بھوک کی صورت حال ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں بچوں کو کھانا کھلانا ہے۔ ٹرمپ کا یہ ریمارکس اتوار کو نیتن یاہو کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ’’غزہ میں بھوک نہیں ہے، غزہ میں فاقہ کشی کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔‘‘

امریکی فوڈ سینٹرز: امریکہ پہلے ہی غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے تحت فوڈ سینٹرز کی مدد کرتا ہے، لیکن جی ایچ ایف کی کارروائیوں کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سینکڑوں فلسطینی اس کے مراکز تک پہنچنے کی کوشش میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ امدادی گروپوں نے فاؤنڈیشن پر اسرائیل کے فوجی اہداف کو فروغ دینے کا الزام بھی لگایا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ اور یورپی یونین کھانے کے نئے مراکز کی حمایت کریں گے جن تک رسائی آسان ہو گی۔ "جہاں لوگ بغیر کسی حد کے آ سکتے ہیں۔"غزہ 22 مہینوں سے جنگ کی لپیٹ میں ہے، جس نے ایک شدید انسانی بحران پیدا کیا ہے، جو مارچ سے مئی کے آخر تک اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔

ناکہ بندی میں نرمی GHF کی کارروائیوں کے آغاز کے ساتھ ہوئی، جس نے غزہ کے اقوام متحدہ کی زیر قیادت امداد کی ترسیل کے روایتی نظام کو مؤثر طریقے سے نظرانداز کر دیا، اور جس پر انتہائی ناکافی کے طور پر تنقید کی گئی۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے پیر کو جان بچانے والی امداد پر پابندیوں کو کم کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا، لیکن کہا کہ یہ "اس ڈراؤنے خواب کو ختم کرنے کا حل نہیں ہے۔" حالیہ دنوں میں، بڑھتے ہوئے بین الاقوامی غم و غصے کے درمیان، اسرائیلی فوج کی طرف سے لڑائی میں روزانہ "سٹریٹجک توقف" کا اعلان کرنے اور محفوظ امدادی راستے کھولنے کے بعد اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے اداروں نے خوراک کے مزید ٹرکوں کی ترسیل شروع کر دی ہے۔

جمیل صفادی نے بتایا کہ وہ دو ہفتوں سے فجر سے پہلے اٹھ کر کھانا تلاش کر رہے تھے اور پیر کو انہیں پہلی کامیابی ملی۔ "مجھے تقریباً 5 کلو گرام آٹا ملا، جسے میں نے اپنے پڑوسی کے ساتھ بانٹ دیا،" 37 سالہ صفادی نے کہا، جو اپنی بیوی، چھ بچوں اور بیمار والد کے ساتھ تل الحوا میں ایک خیمے میں رہتا ہے۔

غزہ کے دوسرے لوگ اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔ کچھ لوگوں نے شکایت کی کہ امدادی ٹرکوں کو امریکی حمایت یافتہ ڈسٹری بیوشن سنٹرز کے قریب سیکورٹی فورسز نے چوری کیا یا ان پر فائرنگ کی گئی۔

33 سالہ امیر الراش نے کہا، "میں نے زخمی اور مردہ لوگوں کو دیکھا۔ لوگوں کے پاس ہر روز آٹا لینے کی کوشش کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔"

اسرائیل کی نئی اسٹریٹجک پابندیاں صرف مخصوص علاقوں پر لاگو ہوتی ہیں اور غزہ کے شہری تحفظ کے ادارے نے پیر کو اسرائیلی حملوں میں 54 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے شہری امور کے ادارے COGAT نے کہا کہ اقوام متحدہ اور امدادی تنظیمیں اتوار کو غزہ کے اندر 120 ٹرک امداد لینے اور تقسیم کرنے میں کامیاب ہوئیں اور مزید پیر کو بھیجی جائیں گی۔

بنیادی سامان: اردن اور متحدہ عرب امارات نے ایئر لفٹنگ امداد شروع کر دی ہے، جب کہ مصر نے رفح بارڈر کراسنگ سے ٹرک غزہ کے اندر اسرائیلی چوکی تک بھیجے ہیں۔

جرمنی نے پیر کے روز کہا کہ وہ اردن کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور غزہ کے لیے امداد کو ہوائی جہاز سے پہنچانے کے لیے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ تعاون کرے گا۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی UNRWA نے محتاط انداز میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ کو روزانہ کم از کم 500 سے 600 ٹرک بنیادی خوراک، ادویات اور حفظان صحت کی اشیاء کی ضرورت ہے۔

UNRWA نے کہا کہ "تمام گزرگاہوں کو کھولنا اور غزہ کو امداد سے بھرنا ہی قحط کو مزید بگڑنے سے روکنے کا واحد طریقہ ہے۔"

نیتن یاہو نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر شہریوں کو بھوکا مار رہا ہے، لیکن پیر کو انسانی حقوق کے دو مقامی گروپس، B'Tselem اور Physicians for Human Rights نے اسرائیل پر "نسل کشی" کا الزام لگایا، جو اسرائیلی این جی اوز کے لیے پہلی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے تک پہنچنے والی امداد کی مقدار ابھی تک ضرورت سے کہیں کم ہے۔ انہوں نے مستقل جنگ بندی، مزید سرحدی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے اور طویل مدتی، بڑے پیمانے پر انسانی بنیادوں پر آپریشن شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کی ترجمان اولگا چیریوکو نے غزہ سے اے ایف پی کو بتایا، "ہمیں ان نئے اقدامات کو نافذ کیے ہوئے ڈیڑھ دن ہو چکے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ان کا زمین پر کوئی اثر ہو رہا ہے۔"

غزہ میں جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے ہوا، جس کے نتیجے میں 1,219 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کی انتقامی مہم میں 59,921 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔













ایشیا کپ میں پاکستان اور انڈیا کا آمنا سامنا، ’ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ میچ دیکھوں‘
انڈیا کی مذہبی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ ’میرا ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ دیکھوں۔‘
ایشیا کپ کے لیے طے شدہ میچ پہلگام واقعے کے تقریباً پانچ ماہ بعد کھیلا جا رہا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق 14 ستمبر کو ہونے والے اس میچ کا اعلان تین روز قبل ہی کیا گیا تھا، جس کی انڈیا میں وسیع پیمانے پر مخالفت سامنے آئی اور پاکستان کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا۔پارلیمان میں آپریشن سندور کے موقع پر بحث کے دوران اویس الدین نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ کا نکتہ اٹھایا اور کہا کہ ان کا ضمیر کبھی اس کی اجازت نہیں دے گا کہ وہ یہ میچ دیکھیں۔
ان کے مطابق ’جب پاکستان کے جہاز ہماری فضائی اور کشتیاں آبی حدود میں نہیں آ سکتیں، تجارت روک دی گئی ہے۔ ایسے میں کیسے آپ پاکستان کے ساتھ میچ کھیل سکتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب ہم ان کو پانی نہیں دے رہے اور 80 فیصد تک پانی روک رہے ہیں اور کہہ بھی رہے ہیں کہ پانی اور خون نہیں بہے گا، ایسے وقت میں آپ کرکٹ میچ کھیلیں گے۔‘
حیدر آباد سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کیا حکومت میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ 25 مرنے والوں سے کہے کہ ہم نے آپریشن سندور کا بدلہ لے لیا ہے اور اب پاکستان کے ساتھ میچ دیکھیں۔‘
ایشیا کپ 2025 میں آٹھ ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جو 9 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔
شیڈول کے مطابق پاکستان اور انڈیا 14 ستمبر کو ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے۔ دونوں ٹیموں کو سپر فور مرحلے لیے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے اور ٹورنامنٹ کے دوران ایک بار پھر بھی آمنے سامنے آ سکتی ہیں۔
اگر دونوں ٹیمیں فائنل تک رسائی حاصل کرتی ہیں تو پھر دونوں کے درمیان تیسرا میچ بھی ہو سکتا ہے۔حالیہ دنوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان چیمپیئن شپ آف لیجنڈز کا طے شدہ میچ اس لیے کینسل کیا گیا تھا کہ متعدد انڈین کھلاڑیوں نے خود کو اس سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
22 اپریل کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ایک حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔
انڈیا کی جانب سے پاکستان پر الزام لگایا کہ اس میں وہ ملوث ہے تاہم اسلام آباد نے اس کی تردید کی۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی بڑھتی گئی اور انڈیا نے پانی کی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سات مئی کو انڈیا نے پاکستان میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں پاکستان نے 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات انڈیا کے اندر کئی مقامات پر بمباری کی۔
بعدازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*







پہلگام حملے میں ملوث تینوں دہشت گردوں کومارگرایا گیا، لوک سبھامیں وزیرداخلہ امت شاہ کا بیان،کانگریس پرجم کرسادھانشانہ
آپریشن سندور پر ویرداخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں خطاب کیا۔انھوں نے کہا کہ پہلگام حملے میں شامل تینوں دہشت گردوں کو مار گرایا گیا ہے۔ انھوں نے آپریشن مہادیو کی کامیابی پر سکیورٹی اہلکاروں کو مبارک باد دی اور کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں پر بھارت کے عوام کو فخرہے۔ا نھوں نےمزید کہا کہ تینوں دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے کے ثبوت ملے ہیں ۔

امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اس کی تفصیل بتائی ۔ انہوں نے رائفل کنکشن کے ذریعے بتایا ہے کہ رائفل کے بیرل اور گولے کیسے آپس میں ملتے تھے، تب ہی اس بات کی تصدیق ہوئی کہ آپریشن مہادیو میں مارے گئے دہشت گرد پہلگام حملے میں شامل دہشت گرد تھے۔ ایف ایس ایل رپورٹ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔وزیر داخلہ امت شاہ نے سابق وزیر داخلہ چدمبرم پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کو کلین چٹ دے دی ۔ وہ دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔ وہ پاکستان کو بچانے کی سازش کر رہے ہیں ۔ ملک کے عوام یہ سب دیکھ رہے ہیں۔
امت شاہ نے مزیدکہا کہ پہلگام حملے کے فوراً بعد 22 مئی کو آپریشن مہادیو شروع ہوگیا تھا۔ 23 اپریل کو ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کو کسی قیمت پر ملک سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔ انٹیلی جنس افسران ان دہشت گردوں کو تلاش کرنے کے لیے پہاڑیوں میں گھومتے رہے۔ پھر سینسر کے ذریعے ان کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں اور انہیں 28 جولائی کو ختم کر دیا گیا۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ این آئی اے پہلے ہی ان لوگوں کو حراست میں لے چکی ہے جنھوں نےدہشت گردوں کو پناہ دی ۔ انہوں نے ان دہشت گردوں کی نشاندہی کی۔ اس کے باوجود ہم نے بہت سی تکنیکی مدد لی اور ان دہشت گردوں کی نشاندہی کی۔اپنے خطاب کے دوران ،پورے معاملے پر تفصیل سے بتاتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ نے
کہا کہ پہلگام حملے کی ذمہ داری لشکر اور ٹی آر ایف نے لی تھی، پھر ہم نے اس حملے کی تحقیقات این آئی اے کو سونپ دی۔ این آئی اے نے 1055 افراد سے تین ہزار گھنٹے سے زیادہ پوچھ تاچھ کی۔ امت شاہ نے آپریشن سندور کے بارے میں بتایا کہ ہماری فوج نے ان دہشت گردوں کو بھی مارگرایا جو کانگریس کے دور میں فرار ہوگئے تھے۔ فوج نے ایسے 100 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے













غزہ کے بحران پرمودی حکومت بنی خاموش تماشائی ،وزیراعظم کو اٹھانی ہوگی بھارت کی آواز۔ سونیا گاندھی
7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں بے گناہ مردوں، خواتین اور بچوں پر حماس کے وحشیانہ حملوں یا اس کے بعد اسرائیلی عوام کو مسلسل یرغمال بنانے کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کر سکتا۔ اس کی بار بار اور بلاشرط مذمت کی جانی چاہیے، لیکن عالمی برادری کے رکن اور اس سے بڑھ کرانسان ہونے کے ناطے یہ تسلیم کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کا ردعمل اور انتقامی کارروائیاں نہ صرف قابل مذمت بلکہ صریح مجرمانہ ہیں۔

گزشتہ تقریباً دو برسوں میں 55ہزار سے زیادہ فلسطینی شہری مارے جا چکے ہیں جن میں 17ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ میں زیادہ تر رہائشی عمارتوں کو مسلسل فضائی بمباری کے ذریعے جان بوجھ کر زمین بوس کر دیا گیا ہے، جن میں اسپتال بھی شامل ہیں۔ وہاں کا سماجی تانہ بانہ مکمل طور پرتباہ ہوگیا ہے۔ اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک کے واقعات پریشان کن ہیں ۔ حالیہ مہینوں میں صورتحال مزید نہ گفتہ بہ ہوگئی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک ظالمانہ حکمت عملی کے تحت انسانی امداد کو بھی ہتھیار بنایا گیا ہے۔اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ادویات، خوراک اور ایندھن کی سپلائی کو سختی سے روک دیا گیاہے۔ بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور عام شہریوں کا بے دریغ قتل عام ایک انسانی المیے کا باعث بنا ہے۔ ناکہ بندی نے اس صورتحال کومزید ابتر کردیا ہے۔ لوگوں کو بھوک سے مرنے پر مجبور کرنے کی حکمت عملی بلاشبہ انسانیت سوز اورمجرمانہ ہے۔

اس تباہی کے درمیان اسرائیل نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی انسانی امداد کو یا تو یکسر مسترد کر دیا ہے یا روک دیا ہے۔ انسانیت کے ہر تصور کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں نے ان لوگوں پر وحشیانہ فائرنگ کی ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے امدادکے منتظر تھے۔ خود اقوام متحدہ نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کو بھی اس ہولناک حقیقت کو قبول کرنا پڑا ہے۔
غزہ پر اسرائیل کے فوجی قبضے کے تقریباً تمام ماہرین کے تجزیوں کے مطابق ،یہ یک ایسی مہم ہے جو نسل کشی کے مترادف ہے اور اس کا مقصد غزہ پٹی سے نسلی طور پر فلسطینیوں کا صفایا کرنا ہے۔ اس کے پیمانے اور نتائج 1948 کے سانحہ نقبہ کی یاد دلاتے ہیں، جس میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا تھا۔ یہ ظلم کچھ انتہائی مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کیا جا رہا ہے، جس میں نوآبادیاتی ذہنیت سے لے کر کچھ لالچی رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز کے خود غرض مفادات شامل ہیں۔

بدقسمتی سے، غزہ کے بحران نے عالمی نظام میں سب سے زیادہ سنگین کمزوریوں میں سے ایک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ سلامتی کونسل عام شہریوں پر حملوں اور غزہ کے بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کی وجہ سے اسرائیلی حکومت پر پابندیاں عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے 26 جنوری 2024 کو اسرائیل کو حکم دیا تھاکہ وہ نسل کشی کی کارروائیوں کو روکے اور شہریوں کو ضروری خدمات اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

ان کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ امریکہ کی طرف سے ظاہری اور خفیہ حمایت نے نہ صرف اسرائیل کو یہ اقدامات کرنے کی ترغیب دی بلکہ انہیں ممکن بھی بنایا۔ بین الاقوامی قوانین اور اداروں کے عملی طور پر ناکارہ ہونے کے بعد، غزہ کے لوگوں کے مفادات کے تحفظ کی جنگ اب دوسرے ممالک تک پہنچ گئی ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا جرأت مندانہ قدم اٹھایا اور اب برازیل بھی اس کوشش میں شامل ہو گیا ہے۔

فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور برطانیہ، کینیڈا جیسے ممالک نے غزہ میں جارحیت کو فروغ دینے والے اسرائیلی لیڈروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ خود اسرائیل میں بھی احتجاج کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ اس کے ایک سابق وزیر اعظم نے غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ اس انسانی بحران کی طرف بڑھتے ہوئے عالمی شعور کے درمیان، یہ قومی شرم کی بات ہے کہ ہندوستان انسانیت کی اس توہین پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔

ہندوستان طویل عرصے سے عالمی انصاف کی علامت رہا ہے۔ اس نے استعمار کے خلاف عالمی تحریکوں کو متاثر کیا، سرد جنگ کے دور میں سامراجی تسلط کے خلاف آواز اٹھائی اور جنوبی افریقہ کے نسل پرستی کے خلاف بین الاقوامی جدوجہد کی قیادت کی ۔ ایک ایسے وقت میں جب بے گناہوں کا بے دردی سے قتل عام کیا جا رہا ہے، بھارت کا اپنی اقدار سے دستبردار ہونا قومی ضمیر پر داغ ہے، ہماری تاریخی خدمات کو نظر انداز کرنے اور ہماری آئینی اقدار سے روگردانی ہے۔

ریاستی پالیسی کے تئیں رہنما اصول حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دینے، قوموں کے درمیان منصفانہ تعلقات کو برقرار رکھنے اور بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کے فرائض کے احترام کے لیے مؤثر اقدامات کرے، لیکن اسرائیل کی بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور انصاف کے بنیادی تصورات کی صریح تضحیک اور ہماری موجودہ حکومت کی اخلاقی بزدلی اسی قدر آئینی اقدار کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ہندوستان ہمیشہ سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل اور منصفانہ امن کا حامی رہا ہے۔ 1974 میں، اندرا گاندھی کی قیادت میں، ہندوستان پہلا غیر عرب مل بنا جس نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کو فلسطینی عوام کا واحد اور جائز نمائندہ تسلیم کیا۔ 1988 میں، ہندوستان فلسطین کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھا۔غزہ کے عوام کے خلاف اسرائیل کے مسلسل مظالم کے خلاف وزیر اعظم مودی کی شرمناک خاموشی سخت مایوس کن ہے۔ یہ اخلاقی بزدلی کی انتہا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ واضح اور جرأت مندانہ الفاظ میں اس وراثت کی طرف سے بات کریں جس کی ہندوستان نمائندگی کرتا ہے۔ گلوبل ساؤتھ ایک بار پھر ایک ایسے معاملے پر قیادت کے لیے ہندوستان کی طرف دیکھ رہا ہے جو پوری انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
















23 سالہ آئی ٹی انجینئر نے دفتر میں خودکشی کی، سوسائڈ نوٹ بھی برآمد، جانئے پورا معاملہ
پونے کے ہنجے واڑی علاقے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ آئی ٹی کمپنی میں کام کرنے والے 23 سالہ انجینئر نے اپنے ہی دفتر کی عمارت کی ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ پیر کی صبح تقریباً 10:30 بجے پیش آیا۔ خودکشی کرنے والے نوجوان کا نام پیوش اشوک کاواڈے ہے جو ناسک کا رہنے والا تھا اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے اٹلس کوپکو نامی ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کر رہا تھا۔

وہ سینے میں درد کی شکایت کرتے ہوئے میٹنگ سے چلا گیا…یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دفتر میں معمول کے مطابق کام جاری تھا۔ پیوش ایک میٹنگ میں جا رہے تھے کہ اچانک انہیں سینے میں درد کی شکایت ہوئی اور وہ اٹھ کر میٹنگ سے باہر چلے گئے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ چند منٹوں کے بعد اتنا بڑا قدم اٹھا لے گا۔ دفتر میں موجود لوگوں نے اسے عمارت سے گرتے دیکھا تو سب حیران رہ گئے۔ پولیس کو فوری اطلاع دی گئی۔

پیوش خود کو ناکام سمجھتا تھا
پولیس کو موقع سے ایک خودکشی نوٹ ملا، جو پیوش نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ اس نوٹ میں انہوں نے لکھا کہ میں زندگی میں ہر جگہ ناکام ہوا ہوں، مجھے معاف کر دیں۔ انھوں نے اپنے والد کے لیے ایک پیغام بھی چھوڑا، جس میں انھوں نے کہا کہ وہ ان کے لیے لائق بیٹا نہیں ہیں اور اپنے قدم پر معافی مانگتے ہیں۔خودکشی نوٹ کو پڑھنے کے بعد، یہ واضح ہے کہ پیوش خود کو بہت ٹوٹا ہوا اور اندر سے ناکام سمجھتا تھا۔ لیکن اس نے کہیں بھی ملازمت سے متعلق کسی پریشانی یا دفتری دباؤ کا ذکر نہیں کیا۔

کام سے متعلق کسی دباؤ کا ذکر نہیں کیا گیا
اس پورے واقعہ کے بعد جب پولیس نے تفتیش شروع کی تو دفتر میں کام کرنے والے باقی ملازمین سے بات کی گئی۔ اس کے علاوہ عمارت کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق خودکشی نوٹ میں دفتر یا کام سے متعلق کوئی شکایت نہیں لکھی گئی ہے لیکن پھر بھی ہر زاویے سے تفتیش کی جارہی ہے تاکہ کوئی اور وجہ سامنے آسکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ کیا وجہ تھی جس نے ایک پڑھے لکھے اور ملازمت پیشہ نوجوان کو ہمت ہارنے کا سوچنے پر مجبور کیا۔

****

ذہنی تناؤ بہت خطرناک ہو سکتا ہے!
پیوش کی موت کے بعد ایک بار پھر ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسے مسائل خاص طور پر نوجوانوں میں سامنے آئے ہیں۔ آج کے دور میں جب ہر کوئی اپنے کیرئیر میں مصروف ہے، کئی بار لوگ اپنے احساسات اور مسائل کسی سے شیئر نہیں کرتے۔ باہر سے سب کچھ ٹھیک نظر آتا ہے لیکن اندر سے انسان بہت کچھ سے گزر رہا ہے۔

🔴*سیف نیوز بلاگر*

آپریشن سندور پر ویرداخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں خطاب کیا۔انھوں نے کہا کہ پہلگام حملے میں شامل تینوں دہشت گردوں کو مار گرایا گیا ہے۔ انھوں نے آپریشن مہادیو کی کامیابی پر سکیورٹی اہلکاروں کو مبارک باد دی اور کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں پر بھارت کے عوام کو فخرہے۔ا نھوں نےمزید کہا کہ تینوں دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے کے ثبوت ملے ہیں ۔

امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اس کی تفصیل بتائی ۔ انہوں نے رائفل کنکشن کے ذریعے بتایا ہے کہ رائفل کے بیرل اور گولے کیسے آپس میں ملتے تھے، تب ہی اس بات کی تصدیق ہوئی کہ آپریشن مہادیو میں مارے گئے دہشت گرد پہلگام حملے میں شامل دہشت گرد تھے۔ ایف ایس ایل رپورٹ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے سابق وزیر داخلہ چدمبرم پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کو کلین چٹ دے دی ۔ وہ دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔ وہ پاکستان کو بچانے کی سازش کر رہے ہیں ۔ ملک کے عوام یہ سب دیکھ رہے ہیں۔

امت شاہ نے مزیدکہا کہ پہلگام حملے کے فوراً بعد 22 مئی کو آپریشن مہادیو شروع ہوگیا تھا۔ 23 اپریل کو ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کو کسی قیمت پر ملک سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔ انٹیلی جنس افسران ان دہشت گردوں کو تلاش کرنے کے لیے پہاڑیوں میں گھومتے رہے۔ پھر سینسر کے ذریعے ان کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں اور انہیں 28 جولائی کو ختم کر دیا گیا۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ این آئی اے پہلے ہی ان لوگوں کو حراست میں لے چکی ہے جنھوں نےدہشت گردوں کو پناہ دی ۔ انہوں نے ان دہشت گردوں کی نشاندہی کی۔ اس کے باوجود ہم نے بہت سی تکنیکی مدد لی اور ان دہشت گردوں کی نشاندہی کی۔

اپنے خطاب کے دوران ،پورے معاملے پر تفصیل سے بتاتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ نے

کہا کہ پہلگام حملے کی ذمہ داری لشکر اور ٹی آر ایف نے لی تھی، پھر ہم نے اس حملے کی تحقیقات این آئی اے کو سونپ دی۔ این آئی اے نے 1055 افراد سے تین ہزار گھنٹے سے زیادہ پوچھ تاچھ کی۔ امت شاہ نے آپریشن سندور کے بارے میں بتایا کہ ہماری فوج نے ان دہشت گردوں کو بھی مارگرایا جو کانگریس کے دور میں فرار ہوگئے تھے۔ فوج نے ایسے 100 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے


غزہ کے بحران پرمودی حکومت بنی خاموش تماشائی ،وزیراعظم کو اٹھانی ہوگی بھارت کی آواز۔ سونیا گاندھی

اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں بے گناہ مردوں، خواتین اور بچوں پر حماس کے وحشیانہ حملوں یا اس کے بعد اسرائیلی عوام کو مسلسل یرغمال بنانے کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کر سکتا۔ اس کی بار بار اور بلاشرط مذمت کی جانی چاہیے، لیکن عالمی برادری کے رکن اور اس سے بڑھ کرانسان ہونے کے ناطے یہ تسلیم کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کا ردعمل اور انتقامی کارروائیاں نہ صرف قابل مذمت بلکہ صریح مجرمانہ ہیں۔

گزشتہ تقریباً دو برسوں میں 55ہزار سے زیادہ فلسطینی شہری مارے جا چکے ہیں جن میں 17ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ میں زیادہ تر رہائشی عمارتوں کو مسلسل فضائی بمباری کے ذریعے جان بوجھ کر زمین بوس کر دیا گیا ہے، جن میں اسپتال بھی شامل ہیں۔ وہاں کا سماجی تانہ بانہ مکمل طور پرتباہ ہوگیا ہے۔ اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک کے واقعات پریشان کن ہیں ۔ حالیہ مہینوں میں صورتحال مزید نہ گفتہ بہ ہوگئی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک ظالمانہ حکمت عملی کے تحت انسانی امداد کو بھی ہتھیار بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ادویات، خوراک اور ایندھن کی سپلائی کو سختی سے روک دیا گیاہے۔ بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور عام شہریوں کا بے دریغ قتل عام ایک انسانی المیے کا باعث بنا ہے۔ ناکہ بندی نے اس صورتحال کومزید ابتر کردیا ہے۔ لوگوں کو بھوک سے مرنے پر مجبور کرنے کی حکمت عملی بلاشبہ انسانیت سوز اورمجرمانہ ہے۔


اس تباہی کے درمیان اسرائیل نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی انسانی امداد کو یا تو یکسر مسترد کر دیا ہے یا روک دیا ہے۔ انسانیت کے ہر تصور کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں نے ان لوگوں پر وحشیانہ فائرنگ کی ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے امدادکے منتظر تھے۔ خود اقوام متحدہ نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کو بھی اس ہولناک حقیقت کو قبول کرنا پڑا ہے۔


غزہ پر اسرائیل کے فوجی قبضے کے تقریباً تمام ماہرین کے تجزیوں کے مطابق ،یہ یک ایسی مہم ہے جو نسل کشی کے مترادف ہے اور اس کا مقصد غزہ پٹی سے نسلی طور پر فلسطینیوں کا صفایا کرنا ہے۔ اس کے پیمانے اور نتائج 1948 کے سانحہ نقبہ کی یاد دلاتے ہیں، جس میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا تھا۔ یہ ظلم کچھ انتہائی مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کیا جا رہا ہے، جس میں نوآبادیاتی ذہنیت سے لے کر کچھ لالچی رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز کے خود غرض مفادات شامل ہیں۔


بدقسمتی سے، غزہ کے بحران نے عالمی نظام میں سب سے زیادہ سنگین کمزوریوں میں سے ایک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ سلامتی کونسل عام شہریوں پر حملوں اور غزہ کے بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کی وجہ سے اسرائیلی حکومت پر پابندیاں عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے 26 جنوری 2024 کو اسرائیل کو حکم دیا تھاکہ وہ نسل کشی کی کارروائیوں کو روکے اور شہریوں کو ضروری خدمات اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔


ایک حرف کی غلطی نے چھین لی ساری خوشیاں، 22 دن کی جیل، 17 سال چلا مقدمہ، انصاف کی اس لڑائی سے عدالت بھی حیران

مین پوری : راجویر سنگھ یادو وہ شخص نہیں تھے، جسے پولیس گرفتار کرنا چاہتی تھی۔ پولیس ان کے بھائی رامویر کو گرفتار کرنا چاہتی تھی، لیکن ایک حرف کی غلطی نے پورے معاملے کو پلٹ کر رکھ دیا۔ ٹائپنگ کی غلطی کی وجہ سے نام بدل دیا گیا اور راجویر کو 22 دن کے لیے جیل جانا پڑا۔ حالانکہ پولیس نے چند ہفتوں میں اپنی غلطی تسلیم کر لی لیکن وہ غلطیاں کرنے سے باز نہیں آئی ۔ یہ مقدمہ 17 سالوں تک عدالت میں چلتا رہا۔ اس سے ایک معصوم کی روزی روٹی، اس کے بچوں کی تعلیم اور ان کا ذہنی سکون چھن گیا۔ اب 55 سال کی عمر میں راجویر کو بالآخر بری کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے ہفتے کے روز راجویر سنگھ یادو کو بے قصور قرار دیا اور ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جن کی “سخت غفلت” کی وجہ سے وہ تقریباً دو دہائیوں تک اذیت کا شکار رہے۔

یہ چونکا دینے والا معاملہ مین پوری کا ہے۔ یہ واقعہ 31 اگست 2008 کا ہے۔ سٹی کوتوالی کے اس وقت کے انسپکٹر اوم پرکاش نے نگلا بھنت کے رہنے والے منوج یادو، پرویش یادو، بھولا اور راجویر کے خلاف گینگ کرائم کا مقدمہ درج کرایا۔ کیس کی تفتیش تھانہ ڈنہار کو دی گئی۔ اس وقت کے ایس آئی شیو ساگر دیکشت، جنہوں نے جانچ کی، راجویر کو یکم دسمبر 2008 کو گینگسٹر ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ تفتیش میں کہا گیا کہ اس کی مجرمانہ تاریخ ہے اور اس کے خلاف پہلے ہی تین مقدمات درج ہیں۔ حالانکہ یہ مقدمات راجویر کے بھائی رامویر کے خلاف درج تھے۔

راجویر مین پوری کے گینگسٹر کیسوں کی سماعت کے لیے آگرہ کی عدالت گئے تھے۔ یہاں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے ان کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کر کے اسے جیل بھیج دیا ہے۔ آگرہ کی عدالت نے سٹی کوتوالی کے انسپکٹر اوم پرکاش اور تفتیش کار شیو ساگر دیکشت کو طلب کیا۔ انسپکٹر اوم پرکاش نے عدالت میں تسلیم کیا کہ کیس میں راجویر کا نام غلط درج کیا گیا تھا۔ مجرمانہ تاریخ اس کے بھائی رامویر کے خلاف ہے۔

تاہم تفتیشی افسر نے یہاں پھر سے کھیل کردیا ۔ اس نے راجویر کا نام ہٹا کر اس کے بھائی رامویر کا نام شامل کرنے کی بجائے عدالت میں پرویش، بھولا، منوج کے ساتھ راجویر کے خلاف چارج شیٹ داخل کردی۔ یہ کیس 2012 میں زیر سماعت آیا۔ ہفتہ کو آنے والے حتمی فیصلے میں راجویر کے وکیل نے کہا کہ 17 سال بعد اے ڈی جے اسپیشل گینگسٹر ایکٹ سوپن دیپ سنگھل نے شواہد کی بنیاد پر راجویر کو کیس سے بری کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ پولیس نے غفلت برتی، افسران نے بھی نظر انداز کیا، غلطی پکڑے جانے کے بعد بھی عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا گیا۔ عدالت نے راجویر کو باعزت بری کر دیا ہے اور ایس پی کو اس لاپرواہی کے قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

Monday, 28 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


مالیگاؤں بھکو چوک بم دھماکہ مقدمہ، فیصلے کا انتظار

تاریخ بتاریخ تفصیل

انصاری احسان الرحیم

مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ کا فیصلہ اگلے چند ایام میں منظر عام پر آجائے گا، فیصلہ کس کے حق میں ہوگا یہ پتہ نہیں لیکن آج ہم شہید ہمنت کرکرے کی جرأت کو سلام کرتے ہیں جنہوں بے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت، سمیر کلکرنی جیسے بھگوا دہشت گردوں کو پکڑا تھا۔ اس وقت کی کانگریس حکومت نے ملزمین کے خلاف مکوکا جیسے سخت قانون کا اطلاق کیا تھا لیکن پھر مرکز اور ریاست میں سرکار کی تبدیلی کے بعد سے ہی بھگوا ملزمین کو رعایتیں ملنا شرو ع ہوگئی، بھلا ہو مظلوموں کی مسیحا تنظیم ا س کے اکابرین بالخصوص مولاناسید ارشد مدنی اور مرحوم گلزار اعظمی کا جنہوں نے بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے لگاتار نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک مداخلت کی اور ان بھگوا ملزمین کو ٹرائل کا سامنا کرنے لیئے مجبور کیا ورنہ مقدمہ اے ٹی ایس اے این آئی اے کے پاس منتقل ہونے کے ملزمین مقدمہ سے ڈسچارج ہوجاتے۔جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے سینئر وکلاء بی اے دیسائی، نتیا راما کرشنن، گورو اگروال، امریندر شرن، عبدالواہاب خان، شریف شیخ اور معاون وکلاء ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ اعجاز شیخ و دیگر نے ہر موڑ پر بھگواملزمین کی مخالفت کی جس میں ضمانت عرضداشت، مقدمہ سے ڈسچارج کی عرضداشت یاپھر کوئی اور عرضداشت ہو۔اس مقدمہ میں بطور گواہ ڈاکٹر سعید فارنی، ڈاکٹر سعید فیضی، ڈاکٹر تیل راندھے اوردیگر ڈاکٹروں نے بھی گواہی دی ہے۔اس مقدمہ ایک جانب جہاں 40/ گواہ منحرف ہوئے وہیں مالیگاؤں سے تقریباً دیڑھ سو گواہان نے گواہی دی لیکن کوئی بھی اپنے بیان سے منحرف نہیں ہوا۔شہر مالیگاؤں کی دیگر ملی تنظیموں نے بھی اپنا احتجاج درج کرایا اور انصاف کے لیئے آواز اٹھائی۔حکومت کو، اے ٹی ایس چیف کو میمورنڈم دیا گیا۔
29/ ستمبر 2008کو (رمضان المبارک) عشاء کی نماز کے عین وقت پر بھکو چوک میں شکیل گڈس ٹرانسپورٹ کمپنی کے پاس موٹر سائیکل پر بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 6/ لوگ شہید اور 101/ زخمی ہوئے تھے۔ بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں کے نام فرحین شگفتہ شیخ لیاقت، شیخ مشتاق شیخ یوسف، شیخ رفیق شیخ مصطفی، عرفان ضیاء اللہ خان، سید اظہر سید نثار اور ہارون شاہ محمد شاہ ہے۔30/ ستمبر 2008 کو رات 3/ بجے مقامی آزاد نگر پولس اسٹیشن نے ایف آئی آر داخل کی جس کر نمبر 130/2008ہے۔
21/اکتوبر2008کو مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مقدمہ کی تفتیش اپنے ہاتھوں میں لیکر مقدمہ کو دوبارہ درج کیا جس کا نمبر 18/2008/ دیا گیا جس کے بعد کل 12/ ملزمین کی گرفتاری عمل میں آئی جن کے نام سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت، میجر اپادھیائے، اجئے راہیکر، سمیر کلکرنی، سدھاکر دھر دویدی،سدھاکر اونکار چتروید، راکیش دھاؤڑے، جگدیش چنتامن مہاترے،شیونارائن گوپال سنگھ کلسانگرا،شیام شاہو اور پروین وینکٹیش ٹکلی ہیں۔
20/جنوری 2009کو اے ٹی ایس نے خصوصی مکوکا عدالت میں ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔
1/ مارچ 2011/ کو قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے اے ٹ ایس سے مقدمہ اپنے ہاتھ میں لیا اور مقدمہ دوبارہ رجسٹر ڈ کیا جس کا نمبر 5/2011/ دیا گیا۔
21/ مارچ2011/ کو اے ٹی ایس نے خصوصی این آئی اے عدالت میں ملزمین کے خلاف اضافی چارج شیٹ داخل کی۔
مئی2014/ میں مرکزی سرکار تبدیل ہونے کے بعد خصوصی وکیل استغاثہ روہنی سالیان نے استعفیٰ دیا جس کے بعد خصوصی سرکاری وکیل اویناس رسال نے چارج لیا۔
13/جون2016کو این آئی اے نے عدالت میں اضافی چارج شیٹ داخل کی اور سادھوی پرگیہ سنگھ کو کلین چٹ دیا۔این آئی اے کی اضافی تفتیش کی بنیاد پر بامبے ہائی کورٹ نے سب سے پہلے 25/ اپریل 2017/ کو سادھوی پرگیہ سنگھ کو ضمانت دی اس کے سپریم کور ٹ آف انڈیا نے کرنل پروہت کو 21/ اگست 2017کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو نظیر بنا کر خصوصی این آئی اے عدالت نے یکے بعد دیگرے تمام ملزمین کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔
27/ دسمبر 2017کو خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ایس ڈی ٹکالے نے تمام ملزمین کی مقدمہ سے ڈسچارج کی عرضداشت پر ایک ساتھ فیصلہ صادر کرتے ہوئے 7/ ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت، میجر اپادھیائے، اجئے راہیکر، سمیر کلکرنی، سدھاکر دھر دویدی اورسدھاکر اونکار چتروی کے خلاف چارج فریم کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیا دپر ملزمین شیو نارائن گوپال سنگھ کلسنگرا، شیام شاہو اور پروین ٹکلی کو مقدمہ سے ڈسچارج کیئے جانے کا حکم جاری کیا جبکہ ملزمین راکیش دھاؤڑے اور جگدیش چنتا من مہاترے کے مقدمات کو پونے اور تھانے عدالتوں میں بالترتیب بھیج دیا۔ ان دونوں ملزمین کے خلاف آرمس ایکٹ کی دفعات 3,5,25/ کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم جاری کیا گیا۔
30/ اکتوبر 2018کو خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمین کے خلاف آئی پی سی، یو اے پی اے اور ایکسپلوزیو سبسٹنس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم جاری کیا۔
3/ دسمبر 2018کو خصوصی این آئی اے عدالت میں پہلے سرکاری گواہ کی گواہی عمل میں آئی جبکہ 4/ستمبر2023کو آخری سرکاری گواہ نمبر 323کی گواہی کا اختتام ہوا۔اس درمیان 40/ سرکاری گواہان اپنے بیانات سے منحرف ہوئے۔
19/ ستمبر 2023کوسی آر پی سی کی دفعہ 313/ کے تحت ملزمین کے بیانات کا اندراج شروع ہوا جس کا اختتام 12/ اگست 2024کو ہوا۔
26/جون 2024سے 20/جولائی2024/ کے درمیان عدالت نے 8/ دفاعی گواہان کے بیانات کا اندراج کیا۔
27/ ستمبر 2024کو وکیل استغاثہ کی حتمی بحث کا اختتام عمل میں آیا جبکہ 3/ مارچ2025کو ددفاعی وکلاء اور اپنا دفاع خود کرنے والے ملزم سمیر کلکرنی کی حتمی بحث کا اختتام عمل میں آیا۔
19/ مارچ2025کو خصوصی این آئی اے عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
دوران سماعت عدالت نے 10842/ دستاویزات کو اپنے ریکارڈ پر لیا جبکہ 405/ آرٹیکل بھی عدالتی کارروائی میں درج ہوئے۔ اس مقدمہ اے ٹی ایس اور این آئی اے نے کل 495/ سرکاری گواہان کو ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لیئے نامزد کیا تھا جس میں 323/ گواہان کو عدالت میں طلب کیا۔ دوران سماعت 25/ گواہان کی موت ہونے کی وجہ سے انہیں گواہی کے لیئے طلب نہیں کیا جاسکا جبکہ بقیہ گواہان کی گواہی کو استغاثہ نے اہمیت نا دیتے ہوئے انہیں عدالت میں طلب نہیں کیا۔
اس مقدمہ کی پانچ خصوصی ججوں نے سماعت کی جن کے نام وائی ڈی شندے، ایس ڈی ٹیکالے، ونود پڈالکر، پی آر سٹرے اور ای کے لاہوٹی ہیں۔
خصوصی این آئی اے عدالت میں این آئی اے کی جانب سے اضافی چارج شیٹ داخل کیئے جانے کے بعد سے بم دھماکہ متاثرین نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے مداخلت کرنا شروع کیا۔تمام ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں اور مقدمہ سے ڈسچارج کی ٹرائل کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک مخالفت کی۔ملزمین کی جانب سے یو اے پی اے قانون کے اطلاق کو چیلنج کرنے والی عرضداشت کی سپریم کور ٹ تک مخالفت کی۔سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے الیکشن لڑنے کے خلاف نچلی عدالت میں عرضداشت داخل کی گئی۔ عدالتی کارروائی بند کمرے میں کیئے جانے کی ملزمین کی عرضداشت کی مخالفت کی گئی۔بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے عدالت میں تحریری بحث داخل کرکے ملزمین کو سخت سے سخت سزا دیئے جانے کی عدالت سے گذارش کی گئی۔

*مالیگاؤں سدھار کمیٹی اور جمعیت علماء کے زیر اہتمام نشہ مخالف پروگرام سے اہلیان شھر کو اہم پیغام*

*نشہ خودکشی قتل وغارت گری سے سماج ومعاشرہ تباہ وبرباد ہوجاتا ہے* 
*مولانا جمال ناصر ایوبی*


*مالیگاؤں سدھار کمیٹی اور جمعیت علماء سلیمانی چوک کے اشتراک سے ایک اہم نشہ مخالف اصلاحی جلسہ مورخہ 27 جولائی 2025 ء بروز اتوار بعدِ نمازِ عشاء فوراً سلیمانی مسجد میں منعقد ہوا جس میں مذکورہ عنوان کی مناسبت سے حضرت مولانا جمال ناصر ایوبی صاحب نے خطاب فرمایا ہے اپنی گفتگو میں انھوں نے کہا کہ زندگی بہت بڑی نعمت ہےایسی نعمت جس کا بدل نہیں، جو جانے کے بعد واپس نہیں آتی دنیا کی زندگی اللہ پاک کی چاہت اور مشیت سے ملی ہے انسان اپنی زندگی اور جان کا مالک نہیں بلکہ محافظ وامین ہے ایک مسلمان کا خود کشی کرنا قابل افسوس ہے خود کشی کرنا اسلام میں حرام ہے ایسا کرنے والا دونوں جہان میں ناکام ہوتا ہے نوجوانوں کو اس انتہائی قدم اٹھانے سے ہرممکن بچنا چاہیے اور جو بھی حالات ہوں وہ اپنے سے بڑوں کو بتاکر معاملہ حل کرلینا چاہیے اسی طرح کسی بھی قسم کا نشہ نہیں کرنا اس سے عقل ودماغ ماؤف ہوجاتا ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے بندہ اللہ کی نافرمانی پر اتر آتا ہے اس لیے شراب افیون ایم ڈی سُلیسن اور دیگر نشہ کی چیزوں سے دور رہ کر ایک اچھی زندگی گذارنا چاہیے ہمارے سماج اور معاشرہ میں سودی کاروبار بھی بہت پھیلتا جارہا ہے جس پر روک لگانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے سود کو اللہ نے حرام کیا ہے سود کی رقم لینا اور دینا دونوں ہی حرام ہے اور اللہ کی لعنت کا سبب ہے اسی طرح کسی مسلمان کا قتل کرنا ناحق اس کو تکلیف پہنچانا ماں باپ کی نافرمانی کرنا پڑوسیوں کو تکلیف دینا یہ سب اسلام میں منع ہے اس سے ہر حال میں ہم کواحتیاط کرنا چاہیے اور سماج میں پنپ رہی برائیوں کو دیکھ کر اسے روکنے ٹوکنے اور بند کرنے کی کوشش ہونا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کی زندگی جان مال ایمان اور عقیدہ محفوظ رہ سکے ان تمام برائیوں پر مولانا جمال ناصر ایوبی صاحب نے روشنی ڈالی اور والدین کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی واقعات کے ذریعے دنیا کی بے ثباتی کو بھی واضح کیا اس طرح کے اور بھی پروگرام منعقد کرنے کا عندیہ بھی ظاہر کیا یہ اصلاحی جلسہ عام مولانا آصف شعبان صدر جمعیت علماء سلیمانی چوک کی صدارت میں ہوا*

 *اس موقع پر قاری اخلاق احمد جمالی شاکر شیخ سر مولانا صغیر احمد شمسی مولانا ابو زید حافظ عبدالعزیز رحمانی مولانا نیازملی مفتی محمد اسلم جامعی مفتی شعیب انوری مفتی عبداللہ ہلال حافظ محسن کریم محمدی حافظ رمضان اشاعتی عبدالودود سر صابر شیخ حاجی ادریس چکن خلیل احمد ایم ایم مدنی عارف بھائی کے علاوہ عوام الناس کثیر تعداد میں شریک تھے*
مولانا غلام وستانوی کی خدمات قوم و ملت کیلئے مشعل راہ ، مسلمان انکے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے


آصف شیخ کا جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا دورہ ،مولانا حذیفہ وستانوی سے ملاقات، موجودہ حالات پر تبادلہ خیال



ہم ہر حالات میں جامعہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، حکمت عملی اور اتحاد و اتفاق سے ملی مسائل حل کرنیکا عندیہ



مالیگاؤں : 27 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ)دین اسلام کی تعلیمات قوم و ملت تک پہنچانے والے خادم القرآن و المساجد حضرت مولانا غلام محمد وستانوی مرحوم کے تعمیر کردہ جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا میں آج مالیگاؤں شہر کے سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دورہ کیا ۔مولانا حذیفہ وستانوی سے ایک خصوصی وفد کی شکل آصف شیخ نے ملاقات کی ،اس موقع پر مولانا نے آصف شیخ کا والہانہ استقبال کیا ۔یہاں مولانا اور آصف شیخ کے درمیان موجودہ حالات پر تبادلہ خیال ہوا ۔اس موقع پر آصف شیخ نے کہا کہ مولانا غلام وستانوی کی خدمات قوم و ملت کیلئے مشعل راہ ہے ۔مسلمان انکے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا ۔مولانا کی دینی ملی خدمات پورے ملک کے مسلمانوں کیلئے باعث افتخار ہے ۔آصف شیخ نے ریاستی و ملکی حالات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر حالات میں جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔اس موقع پر خوشگوار ماحول میں تفصیلی بات چیت ملی مسائل پر دونوں کے درمیان ہوئی ۔یہاں مفتی عبد القیوم اشاعتی ، مفتی جعفر ملی ۔حافظ جمیل اشاعتی، حافظ عبد العظیم اشاعتی کی رہنمائی میں جامعہ کیمپس کے مختلف شعبہ جات کا آصف شیخ نے وفد کے ہمراہ دورہ کیا۔اس موقع پر آصف شیخ نے مولانا غلام وستانوی مرحوم کی قبر پر حاضری لگائی اور دعائے مغفرت بھی کی ۔خیال رہے کہ نندوربار میں مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کی وقف کانفرنس کے سلسلے میں آصف شیخ نندوربار پہنچے اس موقع پر انہوں نے جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کا بھی دورہ کیا ۔اس وفد میں آصف شیخ کے ساتھ نوید خطیب احمد ،عبد المطلب شیخ ،شفیق بھنیہ،حلیم صدیقی، ہارون عاشق علی، اخلاق شاہ ،رضوان میمن زاہد سر ،جنید عالم وغیرہ موجود تھے ۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...