Saturday, 26 April 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





پاکستان اور انڈیا میں سخت کشیدگی ہے، دونوں خود ہی اس کا حل نکال لیں گے: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’انڈیا اور پاکستان اپنے تعلقات خود ہی دیکھ لیں گے، وہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کو جانتے ہیں۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے سرکاری طیارے ایئرفورس ون میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔امریکی صدر سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ انڈیا اور پاکستان کے رہنماؤں سے رابطہ کریں گے تو انہوں نے اس کا سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔
 واضح رہے کہ 22 اپریل کو انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں فائرنگ کے واقعے میں سیاحوں سمیت 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات سخت کشیدہ ہو گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان اور انڈیا میں صورت حال سخت کشیدہ ہے، لیکن یہ ہمیشہ ہی رہی ہے۔ دونوں ممالک کسی نہ کسی طرح اس کا حل نکال لیں گے۔‘
انڈیا اور پاکستان دونوں نے کشمیر کے علاقے پر دعویٰ کیا ہے، اور اس پر دو جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔
پہلگام حملے کے بعد جنوبی ایشیا کے ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہو چکے ہیں، انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی انڈین ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے سمیت متعدد اقدامات کیے ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان تازہ کشیدگی کے تناظر میں جمعے کو انڈین سٹاک مارکیٹیں بدترین مندی کا شکار رہیں۔












کیلے کے چھلکے کا آٹا : فوائد جان کر حیران رہ جائیں گے
کیلے کے چھلکوں کا ایک نیا استعمال اور اس کے متعدد طبی فائدے ہیں لہٰذا چھلکوں کو پھینکیں نہیں بلکہ ان کو اچھی طرح ابال کر سکھا دیں اور پھر پیس کر رکھ لیں۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر کیلے کے چھلکوں سے آٹا تیار کرکے اسے گندم سمیت دیگر چیزوں کے آٹے ساتھ شامل کرکے غذائیں تیار کی جائیں تو وہ نہ صرف ذائقہ دار بنتی ہیں بلکہ وہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

ویب سائٹ ’’سائنس الرٹ‘‘ کے مطابق ایک سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کیلے کے چھلکوں کو ابال کر، خشک کرکے اور پیس کر بیکڈ اشیا میں اجزاء کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ذائقے اور فوائد کے لحاظ سے روایتی آٹے کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ماہرین نے کیلے کے چھلکے کے فوائد جاننے کے لیے صاف کیلوں کے چھلکوں کو خشک کرنے کے بعد اس کا آٹا تیار کیا اور پھر اسے گندم کے آٹے میں ملاکر اس سے کچھ غذائیں تیار کیں۔

ماہرین نے تیار کی گئی غذاؤں کا ذائقہ معلوم کرنے کے لیے 20 ماہر باورچیوں کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے تیار غذاؤں کے ذائقے میں فرق کی نشاندہی کی۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 7.5 فیصد کیلے کے چھلکے کے آٹے سے تیار کیے گئے کیک کو چکھنے والوں نے خوب پذیرائی حاصل کی۔ لوگوں نے عام کیک کے مقابلے ذائقے میں اس کیک میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں کیا۔
محققین نے پایا کہ کرسٹ سے افزودہ کیک فائبر، میگنیشیم، پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو دائمی بیماریوں اور کینسر سے لڑنے میں مدد کرتے ہیں۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 10 فیصد گندم کے آٹے کو کیلے کے چھلکے کے آٹے سے تبدیل کرنے سے روٹی میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور چکنائی کی مقدار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

علاوہ ازیں ماہرین نے نوٹ کیا کہ صرف گندم کے آٹے سے تیار کچھ خشک غذائیں تین ماہ کے اندر اپنا اثر چھوڑنے لگتتی ہیں مگر کیلے کے چھلکوں سے بنی غذاؤں میں تین ماہ بعد بھی ’اینٹی آکسیڈنٹ‘ نامی کیمیکل کی مقدار برقرار رہتی ہے، یہ کیمیکل انسانی جسم کے اعضا کو خراب یا بیمار ہونے سے بچاتا ہے۔











احمد فراز کی مشہور زمانہ غزل: سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں - Urdu Ghazal - URDU GHAZAL
غزل

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی

سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف

سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی

سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے

سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیںسو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی

جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں

مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میں

پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں

کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں

بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا

سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت

مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں

رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے

کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی

اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں

اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں

احمد فراز (سید احمد شاہ)

*🛑سیف نیوز اُردو*

صبح کافی سے پہلے برش دانتوں کی صحت کے لیے کیوں ضروری ہے؟ اگر آپ بھی صبح اٹھتے ہی ڈرامہ ’ٹو اینڈ اے ہاف مین‘ کے کردار...