’جنگ کیلئے تیار...‘ ہندوستان کے سخت ایکشن سے بوکھلایا پاکستان، شہباز شریف نے دی گیدڑ بھبکی
اسلام آباد: پہلگام میں بھیانک دہشت گردانہ حملہ کے بعد ہندوستان نے پاکستان کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ 26 معصوم لوگوں کی جان لینے والے اس بزدلانہ حملے کے جواب میں ہندوستان نے نہ صرف سندھ طاس معاہدہ پر روک لگا دی ہے بلکہ اٹاری بارڈر بھی بند کر دیا اور پاکستانی شہریوں کے ویزے بھی منسوخ کر دیے اور انہیں 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ ان سخت اقدامات نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ بوکھلاہٹ میں شہباز شریف نے ہندوستان کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ کے لئے تیار ہے۔
شہباز شریف نے پہلگام حملے پر کہا کہ ہندوستان بغیر کسی ثبوت کے ‘جھوٹے الزامات’ لگا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اور ‘غیر جانبدارانہ تحقیقات’ کے لیے تیار ہے۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ دن پہلے واضح طور پر کہا تھا کہ ‘ہر دہشت گرد اور ان کے آقا کو دنیا کے کسی بھی کونے میں ڈھونڈ کر سزا دی جائے گی اور وہ بھی ایسی سزا ، جو ان کے تصور سے بھی بالاتر ہو گی۔’پانی کے لئے لڑیں گے
سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر تلملاتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پانی ہماری زندگی ہے، 24 کروڑ عوام اس کے لئے لڑیں گے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اسے ‘جنگ کا عمل’ بھی بتا دیا۔ اس سے پہلے ان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے دہشت گردوں کو آزادی پسند کہہ کر اپنے اصل رنگ کا انکشاف کیا تھا۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی جوہری ہتھیاروں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کو اس بات سے پریشان ہونا چاہئے کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی ہے۔ہندوستان کو دھمکیاں دے رہے شہباز
پہلگام دہشت گردانہ حملہ میں 26 لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ پلوامہ سے لے کر اڑی تک ہر بڑے دہشت گردانہ حملے میں پاکستان کا ہاتھ رہا ہے۔ اس کے باوجود شہباز شریف ’’منصفانہ تحقیقات‘‘ کی بات کرتے ہیں۔ اس دوران شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہندوستان کے کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔
کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہونے والی ہے؟ روس کی وارننگ کے بعد خدشات بڑھنے لگے، کیا پیوٹن کے پاس کوئی خفیہ خبر ہے؟
اسلام آباد: جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کشیدگی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے؟ ادھر روس نے کچھ ایسا کیا ہے جس سے خوف مزید گہرا ہوگیا ہے۔ روس نے اپنے شہریوں کے لیے غیر معمولی سفری وارننگ جاری کی ہے جس نے دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے 25 اپریل کو اپنے شہریوں کو پاکستان کا سفر کرنے سے مکمل طور پر گریز کرنے کا مشورہ دیا جسے تجزیہ کاروں نے ایک غیر معمولی اور سنجیدہ اقدام قرار دیا۔ سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ روسی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے کسی بڑی بات سے آگاہ ہیں؟
اپنے بیان میں، روس نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور “جنگ جیسی بیان بازی” کا حوالہ دیا۔ پاکستان میں روسی سفارت خانے نے کہا، پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں نئی کشیدگی اور حکام کی بیان بازی کے پیش نظر، ہم اپنے شہریوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے پاکستان کا سفر کرنے سے گریز کریں۔‘عام طور پر روس کی طرف سے اس طرح کے انتباہات نہیں دیکھے جاتے ہیں۔ روس سے پہلے امریکہ اور برطانیہ نے بھی ٹریول ایڈوائزری جاری کی تھی۔روس کے لیے پاکستان کو مکمل طور پر نشانہ بناتے ہوئے ایک انتباہ جاری کرنا غیر معمولی بات ہے، خاص طور پر چونکہ وہ بھارت کا قریبی سٹریٹجک پارٹنر ہے اور حالیہ برسوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ روسی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے کسی بڑے خطرے کی اطلاع کا اشارہ ہے؟
پاک بھارت کشیدگی
پہلگام حملے نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے جواب میں اٹاری واہگہ بارڈر بند کر دیا، پاکستانی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا اور تمام پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی اور تجارت معطل کر دی۔پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع ایک “مکمل جنگ” میں بدل سکتا ہے، حالانکہ انہوں نے بات چیت کے ذریعے حل کی امید بھی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے بھارت پر حملے کے ذریعے اشتعال انگیزی کا الزام لگایا۔ دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ زمین کے کسی بھی کونے سے حملے کے ذمہ داروں کو تلاش کرکے سزا دی جائے گی۔
دہشت گردوں کے مددگاروں کی گردن پر فوج کا ہاتھ، 2 دن میں 7 گرفتار، ہائیڈ آوٹ تک پہنچے سیکورٹی فورسیز کے جوان
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف ہندوستانی فوج کی کارروائی جاری ہے۔ سیکورٹی فورسز نے وادی کشمیر میں دو دنوں میں دہشت گردوں کے سات مددگاروں کو گرفتار کیا ہے۔ آج بانڈی پورہ کے گڑورا علاقے میں دہشت گردوں کے تین ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آج وادی کے گڑورا میں پولیس، فوج کی 13 ویں راشٹریہ رائفل اور تیسری بٹالین سی آر پی ایف کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ کے دوران شام تقریباً 6:30 بجے جوانوں نے تین مشتبہ افراد کو گڑورا کی سمت سے آتے ہوئے دیکھا۔ سیکورٹی فورسز نے جنوبی کشمیر کے ریشین گری احربل کے جنگلات میں دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پتہ لگایا ہے۔
سیکورٹی فورسز کے مطابق ان ٹھکانوں میں چھپے دہشت گردوں نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن فوجیوں نے انہیں اسلحہ اور گولہ بارود سمیت پکڑ لیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ نہیں پتہ چلا کہ وہ کسی دہشت گردانہ حملے میں براہ راست ملوث تھے یا نہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ نوجوان دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔پولیس نے ان کے قبضے سے ایک چائنیز پستول، 08 زندہ کارتوس کے ساتھ ایک میگ پستول اور دو دستی بم برآمد کئے ہیں۔ اس سلسلے میں ارگام تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں کل شام سے دہشت گردوں کے سات ساتھیوں کو سیکورٹی فورسز کے ذریعہ گرفتار جاچکا ہے۔جموں و کشمیر کے جنگلات میں فوج کا سرچ آپریشن
پہلگام حملے کے بعد سیکورٹی فورسز جموں و کشمیر میں سرچ آپریشن چلا رہی ہے۔ فوج کے جوان ہر جنگل میں ان دہشت گردوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف بھی فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ دی ریزسٹنس فرنٹ یعنی ٹی آر ایف نے پہلگام دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس حملے میں کل 26 افراد کی موت ہوگئی تھی ۔