بہار: جے ڈی یو میں مسلم لیڈروں کی لگاتار گر رہی وکٹیں، مگر سیاسی پچ پر کہاں کھڑے ہیں نتیش؟
Bihar Politics : وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور ہونے کے بعد اب صدر کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ لیکن اس حوالے سے شروع ہونے والا سیاسی ہنگامہ ابھی نہیں تھما ہے۔ خاص طور پر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے اور اب تک جے ڈی یو سے ایک کے بعد ایک پانچ لیڈر استعفی دے چکے ہیں۔ ان لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ وقف بل پر وزیر اعلی نتیش کمار کے موقف سے متفق نہیں ہیں۔ پارٹی چھوڑنے والوں میں محمد قاسم انصاری، ندیم اختر، نواز ملک، ایم راجو نیر اور تبریز صدیقی شامل ہیں۔ تاہم جنتا دل یونائیٹڈ نے کہا ہے کہ ان لیڈروں کی پارٹی میں کوئی حیثیت نہیں ہے اور ان کے جانے سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ حالانکہ سیاسی ماہرین کی اس بارے میں الگ رائے ہے۔
آئیے پہلے جانتے ہیں کہ جے ڈی یو سے استعفیٰ دینے والے یہ لیڈران کون ہیں اور وہ کن عہدوں پر فائز تھے اور پارٹی میں ان کی کیا حیثیت تھی۔ ان میں سب سے پہلے محمد قاسم انصاری مشرقی چمپارن میں جے ڈی یو کے میڈیکل سیل میں افسر تھے۔ وہیں جے ڈی یو اقلیتی سیل کے سکریٹری نواب ملک نے بھی پارٹی کو الوداع کہہ دیا ہے۔ مظفر پور کے محمد تبریز صدیقی نے بھی اپنا استعفیٰ وزیراعلی نتیش کمار کو بھیج دیا، وہ جے ڈی یو کے اقلیتی محکمہ کے ریاستی جنرل سکریٹری تھے۔اس کے علاوہ مظفر پور کے ایم راجو نیر نے بھی جے ڈی یو کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نیر یووا جے ڈی یو کے ریاستی سکریٹری تھے اور انہوں نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا کہ انہیں وقف بورڈ پر مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے بل سے تکلیف ہوئی ہے اور اس لئے انہوں نے جے ڈی یو چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ بل مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہے۔
اسمبلی انتخابات پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟
بتا دیں کہ اس سے پہلے جے ڈی یو کے سینئر لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ احمد اشفاق کریم، ایم ایل سی غلام غوث اور سابق ایم ایل سی غلام رسول بلیاوی نے بھی وقف بل کی حمایت میں پارلیمنٹ میں پارٹی کی ووٹنگ کی مخالفت کی تھی۔ غلام رسول بلیاوی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اب سیکولر اور فرقہ پرست میں کوئی فرق نہیں رہا۔ خیال رہے کہ بہار میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ایسے میں جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں کی ناراضگی پارٹی کے لیے مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔
نہیں نہ ہوجائے کوئی نیا سیاسی کھیل؟
ایسے میں سیاست سے واقفیت رکھنے والے اسے الگ انداز سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ سینئر صحافی اشوک کمار شرما کا کہنا ہے کہ پہلی نظر میں آپ کو جے ڈی یو لیڈروں کی ناراضگی کی وجہ سے مسلم ووٹ بینک کھونے کا خدشہ ہو سکتا ہے، لیکن اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ جہاں 2014 میں نتیش کمار نے وزیراعظم مودی کی قیادت والی این ڈی اے سے دور رہ کر مسلمانوں کے ووٹوں کا ایک بڑا حصہ حاصل کیا تھا تو وہیں جب انہوں نے آر جے ڈی سے ہاتھ ملایا تو اس میں مزید اضافہ ہوا۔ لیکن 2015 کے بعد حالات بدلنے لگے اور نتیش کمار کے لیے مسلم ووٹوں کی حمایت میں کمی آنے لگی۔ اس کے باوجود وہ اقتدار میں ہے۔تاہم نتیش کمار کی شبیہ یہ ہے کہ وہ ایک سیکولر لیڈر ہیں اس لیے ووٹوں سے زیادہ شبیہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔ تاہم مسلمانوں میں پسماندہ اور اشرافیہ کے درمیان سیاست نے جس طرح ایک نیا رخ اختیار کیا ہے، کہیں یہ کچھ اور سیاسی کھیل نہ کردے ۔
تمل ناڈو: مسجد کے مینار پر نصب ’اللہ اکبر‘ کے ایل ای ڈی بورڈ کو چھپانے پر تنازع، جانئے مسجد انتظامیہ نے کیا کہا؟
چنئی: تمل ناڈو میں زبان کے تنازع کے درمیان رامناتھ پورم میں ایک نیا تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ رام ناتھ پورم کی ایک مسجد کے مینار پر اللہ اکبر لکھا ہوا تھا، جسے ترپال سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ریاست میں نیا تنازعہ شروع ہو گیا۔ اب مسجد کے منتظمین نے اس معاملہ پر اپنا موقف پیش کیا ہے ۔
نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق رامناتھ پورم کی ایک مسجد کے مینار پر نصب ایل ای ڈی بورڈ کو ترپال سے ڈھانپنے پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے جس پر ’اللہ اکبر‘ لکھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ اسے وزیر اعظم نریندر مودی کے 6 اپریل کو ہونے والے مجوزہ دورہ سے جوڑ رہے ہیں لیکن مسجد انتظامیہ نے اس کا کچھ اور ہی جواب دیا ہے۔
مسجد انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جاری تعمیراتی کام کے حصے کے طور پر بورڈ کو ڈھانپ دیا تھا۔ لیکن ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ جماعت کو بورڈ کو چھپانے پر مجبور کیا گیا۔ تاہم تنازع کے بعد دو گھنٹے کے اندر ترپال کو ہٹا دیا گیا۔ رمضان المبارک کے دوران مسجد کے مینار پر 50 فٹ کی بلندی پر بورڈ لگایا گیا تھا۔ 16 مارچ کو منڈپم پولیس نے ایک سمن جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ضابطہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اتنی اونچائی پر ڈسپلے بورڈ لگایا گیا تھا۔
سمن میں پولیس نے کہا تھا کہ اتنی اونچائی پر بورڈ لگانے کے لیے جمعہ مسجد کو محکمہ پولیس اور ضلع کلکٹر سے اجازت لینی ہوگی۔ پولیس نے اس کو لگانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ بورڈ سمندر سے دیکھنے پر لائٹ ہاؤس سے مشابہت رکھتا ہے اور اس سے نیویگیشن میں پریشانیاں پیدا ہوں گی۔مسجد کے سکریٹری اے سید محمد نے کہا کہ جاری تعمیراتی کام کے دوران اسے نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے بورڈ کو ترپال سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’کسی نے ہمیں ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا۔‘‘ وہیں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے، ایس ڈی پی آئی کے ریاستی جنرل سکریٹری محمد نووی نے کہا کہ یہ واقعہ ہمیں شمالی ہندوستان میں ہولی کے تہوار کے لیے مساجد کو ترپال سے ڈھانپنے کے واقعات کی یاد دلاتا ہے۔
محمد جاوید اور اسد الدین اویسی نے وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل کی عرضی
نئی دہلی : وقف ترمیمی بل جمعرات دیر رات کو راجیہ سبھا میں بھی پاس ہوگیا ۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں کی منظوری کے بعد اب یہ بل صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے پاس جائے گا اور ان کی منظوری کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کرلے گا ۔ وہیں یہ معاملہ اب سپریم کورٹ تک بھی پہنچ گیا ہے اور اس سلسلہ میں عدالت عظمی میں دو عرضیاں داخل کی گئی ہیں ۔
وقف ترمیمی بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف ترمیمی بل کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے اور اسے مسلم کمیونٹی کے خلاف امتیازی اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بتایا ہے۔ سپریم کورٹ جلد ہی اس معاملے کی سماعت کا وقت طے کرسکتا ہے۔کانگریس ممبر پارلیمنٹ محمد جاوید کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے وقف بل پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ وقف ترمیمی ایکٹ پر سپریم کورٹ میں دائر کی گئی یہ دوسری عرضی ہے۔وقف ترمیمی بل کو اگلے ہفتے مل سکتی ہے صدرجمہوریہ کی منظوری
دریں اثنا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے بعد اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق وقف ترمیمی بل کو آئندہ ہفتے کے اوائل میں صدرجمہوریہ کی منظوری ملنے کا امکان ہے جس کے بعد حکومت جلد ہی رولز کو نوٹیفائی کر دے گی۔