حاجی اسماعیل حاجی حبیب مسافر خانہ ٹرسٹ سے متعلق
مہاراشٹر وقف بورڈ کے آرڈر پر ٹریبونل کا اسٹے
اورنگ آباد مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ نے سروے رپورٹ اور دفعہ 40 کے تحت کہا کہ حاجی اسماعیل حاجی حبیب مسافرخانه ٹرسٹ وقف نہیں ہے۔ واضح ہو کہ حاجی اسماعیل حاجی حبیب مسافرخانه ٹرست مسلم وقف ایکٹ 1929 کے تحت رجسٹرڈ ہے جو 1944 کے حکومت کے وقف گزٹ نوٹیفکیشن کے ساتھ ساتھ نوٹیفکیشن 2003 میں بھی ظاہر ہوا ہے کہ اس میں مسجد اور مسافر خانہ ہے۔ اسکے بعد مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ نے ریفری میں 441/2019 کے تحت رجسٹرڈ کیا۔ مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ نے بھی ہائی کورٹ کے حکم کو 743/1 W. NO کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ اور سیفی برہانی ٹرسٹ نے انکوائری کے لیے رضا مندی دی کہ مذکورہ کی جائیداد وقف ہے یا نہیں اور سپریم کورٹ نے 17/05/202 کو انکوائری کرنے کا حکم دیا ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ نے جواب دہندہ کی طرف سے جمع کرائے گئے اور کاغذات کو نظر انداز کیا ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ نے بڑی مشکل سے آرڈر پاس کیا جس کی کاپی مدعا علیہ کو نہیں دی گئی بلکہ مسجد کو مسمار کرنے کا حکم حاصل کرنے کے لئے براہ راست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ایڈوکیٹ یوسف باغ والا نے ٹریبونل میں درخواست دائر کی اور تمام جواب دہندگان اور درخواست کو سننے کے بعد معزز ٹریبونل نے بورڈ کی طرف سے دیے گئے حکم نامہ میں اپیل کو بھرنے تک حکم امتناعی اور اسے جاری کیا۔ اس معاملہ میں مسجد کو مد عاعلیہان سے بچانے کے لئے جو وکلاء پیش ہوئے ان میں یوسف ایس باغ والا ایڈوکیٹ شاہ باغ والا ایڈوکیٹ رو پارسینی اور ایڈوکیٹ عبدالحکیم خان ایڈوکیٹ روہت ہواسکر ایڈوکیٹ شیخ مشتاق نے کامیاب پیروی کی۔
کشمیر میں جھڑپیں، انڈین فوج کے افسر اور تین مشتبہ عسکریت پسند ہلاک
انڈین فوج نے کہا ہے کہ کشمیر میں اُس کا ایک افسر اور تین مشتبہ عسکریت پسند دو الگ الگ کارروائیوں میں مارے گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے بدھ کے روز انڈٰیا کے زیرِانتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کشتواڑ کے ایک جنگل میں اس اطلاع کے بعد محاصرہ کیا کہ وہاں عسکریت پسندوں کا ایک گروپ موجود ہے۔
بیان کے مطابق فوجیوں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا تو عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں ابتدائی طور پر بدھ کو رات دیر گئے ایک جنگجو مارا گیا تھا۔انڈین فوج نے مزید کہا کہ خراب موسم کے باوجود اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ برقرار رکھا، اور فائرنگ کے مزید تبادلے کے نتیجے میں سنیچر کو مزید دو عسکریت پسند مارے گئے۔
تاہم ایک الگ واقعے میں انڈین فوج کے ایک افسر مارے گئے ہیں۔ فوج نے کہا کہ جنوبی اکھنور کے علاقے میں اس کے اہلکاروں نے جمعے کو دیر گئے کشمیر کے متنازع ہمالیائی علاقے کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے قریب عسکریت پسندوں کے ایک گروپ کو روکا۔
اس علاقے میں دونوں طرف فوجی اہلکاروں کی بھاری موجودگی ہے۔
انڈیا کی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ اس کارروائی میں اس کا ایک افسر مارا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی طرف کے آزاد کشمیر سے انڈیا کے زیرِانتظام علاقے میں عکسریت پسند دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔‘
ان دونوں واقعات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
انڈیا اور پاکستان دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک کشمیر کے خطے پر اپنی مکمل ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔کشمیر کے انڈیا کے زیر انتظام حصے میں عسکریت پسند 1989 سے نئی دہلی کی حکمرانی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
انڈیا الزام لگاتا آیا ہے کہ کشمیر میں عسکریت پسندی پاکستان کی طرف سے سپانسر شدہ ’دہشت گردی‘ ہے۔
پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے جبکہ بہت سے کشمیری اسے ایک جائز آزادی کی جدوجہد سمجھتے ہیں۔ اس لڑائی میں دسیوں ہزار شہری، عسکریت پسند اور انڈین فورسز کے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ علاقہ 2019 سے احتجاج کی لپیٹ میں ہے جب نئی دہلی نے اس خطے کی نیم خود مختار حیثیت کو ختم کر دیا اور انسداد بغاوت کے نام پر کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے اختلاف رائے، شہری آزادیوں اور میڈیا کی آزادیوں پر سختی سے پابندی لگا دی۔
گرمی کے موسم میں جِلد کو متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے؟
زیادہ گرمی بہت زیادہ پسینے، کیل مہاسوں، سوزش اور جلد کے دیگر مسائل کا باعث بنتی ہے۔ چکنی جلد والے افراد کو عام طور پر اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن خشک جلد والے لوگوں کے لیے بھی گرمیاں آسان نہیں ہوتیں۔ مرطوب موسم خشک جلد کو مزید خشک کر دیتا ہے، جو اکثر خارش کا باعث بنتا ہے۔
اس کے لیے عارضی طور پر کاسمیٹک مصنوعات کو آزمایا جاتا ہے لیکن جلد کو غذا کے ذریعے ٹھیک کرنے سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے اور ایسا یقینی طور پر ہو سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق شدید گرمی اور ایئر کنڈیشنر کے ٹھنڈے جھونکے بیک وقت آپ کی جلد متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے غذا کی مدد سے اس صورت حال کو متوازن بنایا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں سات ایسی غذائیں بتائی گئیں جن سے موسم گرما کے دوران جلد صاف اور نرم رہتی ہے۔
موسمی پھل
اس وقت دستیاب تمام پھل جیسے آم، تربوز اور انناس وغیرہ کا استعمال کریں۔ ان میں پانی کی مقدار زیادہ ہونے کے علاوہ یہ جلد کی نشونما کے لیے غذائیت سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آم کو پورشن کے ساتھ کھائیں۔
وٹامن سی
وٹامن سی نہ صرف قوت مدافعت بڑھانے کے لیے ہی اچھا ہے، بلکہ یہ کولیجن کو برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے، کولیجن جلد کی اندرونی تہہ بناتا ہے، اور اسے صحت مند رہنے میں مدد کرتا ہے۔ تو لیموں، ٹماٹر اور موسم گرما کی سبز پتوں والی سبزیاں گھر میں رکھیں تاکہ آپ کی جلد میں وٹامن سی شامل ہو۔جسم کو ٹھنڈا رکھیں
ہم یہ تجویز نہیں کر رہے ہیں کہ آپ ایئر کنڈیشنر کے سامنے بیٹھیں اور برف کھائیں۔ آپ کے ارد گرد بہت سے کھانے اور مشروبات ہیں جو ٹھنڈی تاثیر رکھتے ہیں۔ گرمی سے نمٹنے کے لیے موسمی پھل کھائیں جیسے تربوز اور انناس، اور کھیرا۔ اس کے پیاز اور سبز پتوں والی سبزیاں بھی کھا سکتے ہیں۔ اور ٹھنڈے مشروبات جیسے ناریل کا پانی اور لیمونیڈ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اپنے کھانے میں دہی اور پودینہ بھ شامل کریں۔
مصالحہ دار کھانوں سے دور رہیں
مصالحہ جسم میں گرمی پیدا کرتا ہے اور آپ اس انتہائی گرم موسم میں ایسا نہیں چاہیں گے۔ لہذا، جتنا ممکن ہو مصالحہ دار کھانوں سے پرہیز کریں یا کھانے میں اس کی مقدار کو کم کریں۔ لال مرچ کے بجائے ہری مرچ اور کالی مرچ کا پاؤڈر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
روزانہ اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور غذائیں کھائیں
اینٹی آکسیڈنٹس بیکٹیریا اور بیماری پیدا کرنے والے وائرس کو دور کرتے ہیں۔ گری دار میوے، ٹماٹر، بروکولی اور راجما اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔زیادہ پانی استعمال کریں
پانی جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے، زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے، اور نظام ہاضمہ کو ہموار رکھتا ہے۔ یہ جلد کو صحت مند اور چمکدار رکھنے کا اہم عنصر ہے۔ گری دار میوے اور بیجوں کو کھانا مت چھوڑیں۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ گری دار میوے اور بیج صرف سردیوں میں کھانے کے لیے ہیں تو ایسا نہیں ہے۔
یہ درست ہے کہ خشک میوہ جات کی تاثیر گرم ہوتی ہے لیکن اچھی جسمانی اور جلد کی صحت کے لیے سال بھر ان کا استعمال ضروری ہے۔ گرمیوں میں ہر روز ایک کھانے کا چمچ گری دار میوے اور بیج اپنے سلاد، سموتھیز، دہی، اور میٹھے وغیرہ میں شامل کرکے کھائیں۔