Tuesday, 4 March 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





اردو ’ کٹھ ملاّ ' کی نہیں آنند نارائن ' ملاّ ' کی زبان ہے۔

معصوم مرادآبادی

اردو سے متعلق یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا وہ بیان آج کل سرخیوں میں ہے، جس میں انہوں نے اردو کو 'کٹھ ملّوں' کی زبان قرار دیا ہے۔ اپوزیشن نے جب ایوان کی کارروائی میں دیگر زبانوں کے ساتھ اردو کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیاتو وزیراعلیٰ بھڑک اٹھے۔انھوں نے اپنے عہدے کے وقار کو پس پشت ڈال کرکہا ہے ”اردو پڑھ کر لوگ کٹھ ملا اور مولوی بنتے ہیں، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔“یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ بیان اسی لکھنؤ میں دیا ہے، جہاں کسی زمانے میں اردو کاجادو سر چڑھ کربولتا تھا۔ جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں نے اس زبان کو اپنے خون جگر سے سینچا تھا۔ حالانکہ آج صورتحال ویسی نہیں ہے، لیکن لکھنؤ کو آج بھی تہذیب و شائستگی کا شہر اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے درودیوار میں اردو زبان اور اس کے کلچر کی بوباس موجود ہے۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اردو کا نام سن کر جو کچھ کہا،وہ دراصل ان کی ذہنیت کی بھرپور عکاسی ہے۔ جب اپوزیشن لیڈر ماتا پرشاد پانڈے نے مطالبہ کیا کہ انگریزی کی بجائے اردو کو ایوان کی زبان بنایا جائے تو اس پر وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بہت تیکھے تیور میں کہا کہ ”سماجوادی پارٹی کے لوگ اپنے بچوں کو انگریزی اسکول میں پڑھائیں گے اور دوسروں سے کہیں گے کہ اپنے بچوں کو اردو پڑھاؤ، یہ لوگ انھیں کٹھ ملا اور مولوی بنانا چاہتے ہیں، لیکن اب یہ نہیں چلے گا۔“
ہمیں وزیراعلیٰ کے منہ سے ’کٹھ ملا‘ کا لفظ سن کر اردو کے شاعراور اور ادیب جسٹس آنند نارائن’ملا‘بہت یاد آئے، جنھوں نے ایک بار کہا تھا کہ”اردو میری مادری زبان ہے، میں اپنا مذہب چھوڑ سکتا ہوں مگر مادری زبان نہیں چھوڑ سکتا۔“
آنند نارائن ملا اسی لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے، جہاں وزیراعلیٰ یوگی نے اردو کے خلاف بیان دیا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ان کانام سنا ہے یانہیں؟ اگر یوگی جی ان سے واقف ہوتے تو یقینا اردو سے متعلق اتنی شدت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرتے، کیونکہ اردو کے شیدایوں میں میرانیس اور میردبیر کے ساتھ پنڈت دیا شنکر نسیم اور برج نارائن چکبست بھی ہیں۔ علی سکندر جگر مرادآبادی کے ساتھ رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری بھی ہیں۔ منشی پریم چند اور کرشن چندر بھی ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھایا ہے جس کے ساحل پر آج کل صدی کا سب سے بڑا کمبھ اشنان ہورہا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم جسٹس آنند نارائن ملا کے بارے کچھ اور آپ کو بتانا چاہیں گے۔ ہم نے انھیں کئی بار یہاں دہلی میں دیکھا اورسنا ہے۔وہ کشمیری الاصل تھے، لیکن ان کے اجداد لکھنؤ آکر بس گئے تھے اور یہیں پنڈت جگت نارائن ملا کے یہاں 24/ اکتوبر1901کو ان کی پیدائش ہوئی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پنڈت آنند نارائن ملاکی ابتدائی تعلیم’فرنگی محل‘ میں ہوئی جو ایک مدرسہ تھا۔ ان کے استادکا نام برکت اللہ فرنگی محلی تھا۔اس کے بعد انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1955میں لکھنؤ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔بطور جج ان کا وہ تبصرہ بہت مشہور ہوا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ”پولیس،جرائم پیشہ لوگوں کا سب سے منظم گروہ ہے۔“
جسٹس آنند نارائن ملا نے سبکدوشی کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور 1967کے لوک سبھا الیکشن میں لکھنؤ سے آزاد امیدوار کے طورپر کامیاب ہوئے۔ بعدازاں 1972میں راجیہ سبھا کے ممبر منتخب ہوئے۔ وہ انجمن ترقی اردو ہند کے صدر بھی رہے۔ان کا انتقال 12/جون1997کو دہلی میں ہوا۔ان کا ایک مشہور شعر یوں ہے
لب مادر میں لوریاں جس نے سنائی تھیں 
اب وہ دن آیا ہے کہ اسے غیروں کی زباں سمجھو
جسٹس آنند نارائن ملا کے تعارف میں یہ سطریں ہم نے اس لیے لکھی ہیں کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ یہ جان سکیں کہ اس ملک میں اردو زبان اور تہذیب کی نمائندگی صرف ’مسلمان‘ ہی نہیں کرتے بلکہ وہ لوگ بھی کرتے ہیں جو اعلیٰ ذات کے ہندو تھے اور وہ اپنی مادری زبان اردو کی خاطر اپنا مذہب چھوڑنے تک کو تیار تھے۔ آنند نارائن ملا کی تعلیم بھی ایک مدرسے میں ہوئی تھی جو یوگی جی کی نگاہ میں شدت پسندوں کی آماجگاہ ہے۔ اگر مدرسوں میں شدت پسندی کی تعلیم دی جاتی تو وہاں سے آنند نارائن ملاجیسا روشن خیال انسان پیدا نہیں ہوتا۔ ضرورت اس بات کی ہے یوگی جی اپنی ریاست کی گنگا جمنی تہذیب اور تاریخ کا مطالعہ کریں۔ انھیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لکھنؤ میں منشی نول کشور بھی ملیں گے، جنھوں اپنی تمام زندگی اردو اور فارسی زبان کو فروغ دینے میں گزاری۔نول کشورنے اردو اخبارہی شائع نہیں کیا بلکہ اردو اور فارسی کی سیکڑوں کتابیں اپنے مطبع سے شائع کیں۔ اتنا ہی نہیں انھوں نے قرآن پاک بھی شائع کیا۔ جب ان کے پریس میں قرآن پاک کی طباعت ہوتی تو اس کے تقدس کا اتنا خیال رکھا جاتا تھا کہ مشینوں سے گزرنے والا پانی نالی میں نہ جانے پائے بلکہ اسے کسی دوسری دوسری جگہ محفوظ کیا جائے۔
ظاہر ہے یہ مذہبی ہم آہنگی اور خیر سگالی اس دور کی بات ہے جب یہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا اور ذہنوں میں فرقہ واریت نے ڈیرے نہیں جمائے تھے۔ یوگی جی دراصل جس سیاسی نظریہ کے ترجمان ہیں، اس میں مذہبی منافرت بنیادی عنصر ہے۔ اگرچہ وہ خود ایک مذہبی شخص ہیں اور زعفرانی لباس بھی زیب تن کرتے ہیں، لیکن جہاں کہیں مسلمانوں اور اردو زبان کا ذکر آتا ہے، وہاں ان کی تیوریاں چڑھ جاتی ہیں۔ جس وقت وہ اسمبلی کی کارروائی میں اردو کو شامل کرنے کی مخالفت کررہے تھے تو انھوں نے اس حقیقت کو فراموش کردیا تھا کہ ابھی پچھلے ہی ہفتہ ملک کی پارلیمنٹ میں خود اسپیکر اوم بڑلا نے یہ اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں اردوکو بھی شامل کیا جارہا ہے۔اوم برلا نے کہا تھاکہ’’اب بوڈو، ڈوگری، میتھلی، منی پوری، سنسکرت اور اردو زبان میں پارلیمنٹ کی کارروائی کا اردو ترجمہ ہوگا۔“حالانکہ پارلیمنٹ میں پہلے ہی سے اردو میں کام ہوتا ہے اور وہاں باقاعدہ اس کا عملہ موجود ہے، لیکن اسپیکر نے یہاں اردو کا نام لینا ضروری سمجھا۔ جبکہ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایوان کی کارروائی میں انگریزی کی جگہ اردو کو شامل کئے جانے کے مطالبہ پر اتنا شدید ردعمل ظاہر کیا کہ اس سے اردو کے تئیں ان کی مخاصمت پوری طرح عیاں ہوگئی۔ 
 یوپی اسمبلی میں اردوزبان کی مخالفت کوئی نئی بات نہیں ہے۔کئی بار ایسا ہوا ہے کہ یہاں اردومیں حلف لینے کا مطالبہ کرنے والے ممبران اسمبلی کواس سے بازرکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ معاملہ عدالت تک پہنچا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ1989 میں جب آنجہانی وزیراعلیٰ نارائن دت تیواری نے ریاست میں اردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان بنانے کا بل پیش کیا تھا تو اس کی کتنی شدید مخالف ہوئی تھی۔ خود ان کی کابینہ کے ایک وزیرواسودیو سنگھ نے اردو کے خلاف تقریر کی تھی۔اس موقع پر بدایوں میں فساد بھی پھوٹ پڑا تھا اور درجنوں بے گناہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس فساد کی وجہ دراصل زعفرانی عناصر کا اردو مخالف احتجاج تھا جس میں نعرہ لگایا گیا تھا کہ ”اردو تھوپی لڑکوں پر تو خون بہے گا سڑکوں پر۔“میں نے اس فساد کی چشم دید رپورٹنگ کی تھی۔
بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں اس وقت اردو بستر مرگ پر ہے۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے تمام گاؤوں کے نام تبدیل کررہے ہیں، جو اردو میں ہیں۔دوسری طرف راجستھان میں اردو اسکول بند کئے جارہے ہیں اور وہاں اردو کی جگہ سنسکرت ٹیچر بھرتی کئے جارہے ہیں۔سہ لسانی فارمولے میں اردو کی جگہ سنسکرت کو شامل کرلیا گیا ہے۔جبکہ2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک میں صرف 73ہزار لوگ ہی سنسکرت بولتے ہیں، جبکہ 2012 کی مردم شماری کے مطابق اردو بولنے والوں کی تعداد چھ کروڑ ہے، لیکن اس کے باوجود اردو کو تہہ تیغ کیا جارہا ہے۔ یہ دراصل خود ہماری بے حسی کا نتیجہ بھی ہے۔ اترپردیش میں ملائم سنگھ کے دور میں جن اردو اساتذہ اور مترجمین کی بھرتی ہوئی تھی، وہ دوسرے کام کررہے ہیں کیونکہ ہم اپنے بچوں کو اردو میڈیم اسکولوں کی بجائے انگلش میڈیم اسکولوں میں بھیج رہے ہیں۔ ہماری اس بے حسی نے ہی اردو کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔کاش ہم اپنے بچوں کو اردو پڑھاکر اپنی تہذیب اور ثقافت کو باقی رکھنے کے بارے میں سوچ سکیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔
_____________

*سپربوائز آف مالیگاؤں :- چند نوجوانوں کی جدوجہد کی کہانی*
*(مالیگاؤں کے شعلے جیسی فلمیں بنانے والے نوجوانوں کی زندگی پر مبنی یہ فلم اپنی مثال آپ ہے عمدہ ہداتیکاری کے ساتھ اچھی ادکاری دیکھنے کو ملتی ہے)*

🎞️فلم ریویوز محمد حبیب ( بہ شکریہ انقلاب ممبئی) 
🎞️انتخاب و ٹائپنگ :احمد نعیم _________
Super boys of Malegaon 
اسٹار کاسٹ :آدرش گورو، ششانک اروڑا، وینت کمار سنگھ، انوج سنگھ دوہان، انمول کحانی، اقبال شیخ، ثاقب ایوب، ہرشد شاہ
ڈائریکٹر :ریما کاگتی
رائٹر :- ورون گروور، شعیب نظیر
🎞️پروڈیوسر :- فرحان اختر، زویا اختر، ریما گاگتی، رتیش سدھوانی،
میوزک :- سچن جگر،سینما ٹو گرافی سوپنل سوناؤے
کاسٹنگ :کرن مالی، نندنی شریکانت
پروڈکشن ڈیزائن :- سیلی وھائٹ
کاسٹیوم ڈیزائن :- بھاؤنا شرما
ریٹنگ :- ⭐⭐⭐⭐🌟
مالیگاؤں ایک نہایت مشہور شہر ہے جو کئی اعتبار سے شہرت رکھتا ہے جن میں وہاں کی پاور لوم انڈسٹری کے علاوہ دیگر کئی چیزیں شامل ہیں کچھ برس قبل یہ علاقہ اپنی فلموں کیلئے بھی کافی مشہور ہوا تھا وہاں کے کچھ نوجوانوں نے بالی ووڈ اور ٹالی ووڈ کی طرح اپنے شہر کو مالی ووڈ بنانے کی کوشش کی تھی اس کوشش کے تحت" مالیگاؤں کے شعلے" "مالیگاؤں کا سپرمین" ا اور دیگر علاقوں میں بھی دیکھی گئی تھیں - ریما کاگتی نے انہی نوجوانوں کی زندگی پر فلم "سپربوائز مالیگاؤں" بنائی ہے
🎞️فلم کی کہانی
یہ فلم مالیگاؤں کی عام زندگی میں چھپی غیر معمولی کہانیوں کو سامنے لاتی ہے ناصر ( آدرش گورو) اپنے بھائی کے لوکل ویڈیو پارلر کی دنیا میں رچ بس گیا ہے شادیوں میں ویڈیو ریکارڈنگ سے لے کر ایڈییٹنگ سیکھنے تک، ناصر نے محدود و سائل میں ایسی فلمیں بنا ڈالیں جو مالیگاؤں کے لوگوں کے دلوں کو چھو گئیں - اپنے دوست فروغ جعفری (ونیت کمار سنگھ) اکرم (انوج دُہان) علیم (پلّو سنگھ) شفیق (ششانک اروڑا) اور عرفان (ثاقب ایوب) کی مدد سے ناصر نے بالی وڈ کی ہٹ فلم شعلے کا اسپوف "مالیگاؤں کے شعلے بنایا - لیکن جیسے ہی کامیابی کی راہ پر قدم بڑھتے ہیں دوستو کے درمیان اختلاف اور ذاتی جدوجہد سامنے آ جاتی ہیں جب شفیق کو پھیپھڑوں کے کینسر کی خبر ملتی ہے تو ناصر اپنے دوستو کے ساتھ مل کر شفیق کو ہیرو بناتے ہوے" سپر مین آف مالیگاؤں "بنانے کی ٹھان لیتا ہے یہ فلم ایک جذباتی موڑ پر لے جاتی ہے جہاں دوستی جنون اور زندگی کی جنگ ایک ساتھ نظر آتی ہے
🎞️ہدایت کاری 🎞️
ڈائریکٹر ریما کاگتی نے فلم کی ہر باریکی پر بھرپور توجہ دی ہے اور اداکاروں سے بہترین کارکردگی نکلوانے میں کامیاب رہی ہیں ورون گروور کی تحریر نے فلم کو ایک نیا رخ اور جذباتی گہرائی دی ہے ان کے مکالمے ناظرین کے دل میں اتر جاتے ہیں جیسے کہ "رائٹر ہی باپ ہوتا ہے" تکنیکی لحاظ سے بھی یہ فلم بہترین ہے فلم کے سینما ٹوگرافر سوپنل ایس سوناونے کا شاندار کیمرہ ورک اور پروڈکشن ڈیزائنر سیلی وائٹ کی تخلیقی سوچ نے مالیگاؤں کی باریکیوں کو خوبصورتی سے پردے پر پیش کیا ہے کاسٹیوم اور ہیرڈایزائن بھی حقیقت پسندانہ اور متاثر کن ہیں 
🎞️اداکاری 
 فلم کی سب سے بڑی خوبی اس کی حقیقت پر مبنی اور شاندار کاسٹنگ ہے ناصر کا کردار نبھانے والے آدرش گورو نے اس جذبے کو گہرائی سے پیش کیا ہے جو ہر جدوجہد کرنے والے آرٹسٹ کے اندر ہوتا ہے
فروغ کے کردار میں ونیت کمار سنگھ نے درد، حقیقت اور مصنف کی سنجیدگی کو اس انداز میں اجاگر کیا ہے کہ جب آپ اصلی فروغ جعفری کا ویڈیویوز دیکھیں گے تو ایسا لگے گا جیسے ونیت نے ان کی شخصیت پر جادو کر دیا ہو - شفیق کے کردار میں ششانک اروڑا کی زبردست اداکاری نے ناظرین کے دل میں گہری چھاپ چھوڑی ہے جس سے فلم کا ہر لمحہ حقیقت سے قریب تر محسوس ہوتا ہے
____موسیقی _____سچن - جگر کی موسیقی اس فلم کے تھیم کے مطابق بہترین ہے بیک گراؤنڈ میوزک نے ہر جذباتی لمحے کو مزید نکھار دیا ہے جبکہ جاوید اختر کا لکھا ہوا گانا - 'بندے ناظرین "میں ایک نئی توانائی پیدا کرتا ہے
____نتیجہ ____
اگر آپ ایک ایسی فلم دیکھنا چاہتے ہیں جو زندگی کی جدوجہد دوستی اور جنون کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرتی ہے -" تو سپربوائز آف مالیگاؤں "آپ کو ضرور پسند آے گی - بہترین ادکاری زبردست ہدایت کاری، جاندار تحریر اور تیکنکی مہارت کے ساتھ یہ فلم ان خوابوں کو جلا بخشتی ہے جو عام طور پر ناممکن سمجھے جاتے ہیں - اگر آپ مالیگاؤں کی حقیقتی کہانیوں میں کھو جانا چاہتے ہیں اور اپنے اندر چھپی امیدوں کو جگانا چاہتے ہیں تو یہ فلم ضرور دیکھیں
_____________
تقریب اجراء و اعزاز 
۲۷ فروری بروز جمعرات صبح گیارہ بجے ، بمقام شری رامپور ، اے پی جے عبد الکلام ہال میں ایک پر وقار ادبی ، تعلیمی و اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ احمد نگر ضلع اردو ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے شہر شری رامپور میں سلیم خان سر کی رہنمائی میں اردو ہفتہ منایا گیا۔ اس میں احمد نگر ضلع کی تمام اردو اسکولوں کے طلباء و اساتذہ نے اپنے طور پر حصہ لیا۔ اردو ہفتہ کے آخری روز ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں احمد نگر ضلع کےمنتخبہ اساتذہ کو مثالی مدرس اعزاز سے نوازا گیا۔ تقریب کی صدارت کے فرائض شہر مالیگاؤں سے تشریف لائے سبکدوش استاذ ، ماہر تعلیم جناب اشفاق عمر صاحب نے انجام دیے ۔اسی تقریب میں شہر مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے شرڈی اردو ہائی اسکول کے مدرس ، کالم نویس اور افسانہ نگار عظمت اقبال کی کتاب “ادھوری تخلیق “ کا اجراء ثانی شری رامپور کی مشہور شخصیت مراٹھی ساہتیہ کار، سبھا پتی پنچایت سمیتی محترمہ ڈاکٹر وندنا تائی مرکٹے کے دست مبارک سے عمل میں آیا۔ سلیم خان پٹھان ضلع صدر احمد نگر ضلع اردو ساہتیہ پریشد نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا ۔ مچھندر گھولپ چیف آفیسر شری رام پور نگر پریشد بھی اپنی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر تقریب میں شامل ہوئے۔ سلیم خان سر نے افسانوی مجموعہ “ادھوری تخلیق پر جامع انداز میں تبصرہ پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ عظمت اقبال نے اپنے افسانوں میں زندگی کے کئی رنگوں کو خوبصورتی سے الفاظ میں پرو کر پیش کیا ہے۔ اگر ہمیں زندگی کو قریب سے دیکھنا ہے تو “ادھوری تخلیق” کا مطالعہ ضرور ضرور کریں ۔ اس تقریب میں احمد نگر شہر سے محترم عابد خان صاحب سیکرٹری احمد نگر ضلع ساہتیہ اکیڈمی اور نرگس انعامدار ممبرا حمد نگر ضلع ساہتیہ اکیڈمی نے شریک ہو تقریب کو رونق بخشی۔
__________

ابابیلیں کب آئیں گی؟
از قلم : فرنود رومی، مالیگاؤں 

ہر مذہب کی اپنی عبادت گاہ ہوتی ہے.عموماًوہاں جاتے وقت آدمی خود کو پاک و صاف کرکے جاتا ہے.
مسجدوں میں تو ہم جاتے ہی رہے ہیں.وہاں پہنچ کر دل کی کیفیت الگ ہوجاتی ہے.کیوں کہ آپ کی روح کو اس کی غذا "روحانیت" مل گئی ہوتی ہے.
البتہ کچھ باتیں جو طبیعت کو مکدّر کرجاتی ہیں اور بعض اوقات خوف میں مبتلا کر دیتی ہیں، وہ عموماً دیواروں پر اپنے اپنے مسلک کے حوالے سے لکھی شرائط اور سخت جملے ہوجاتے ہیں جو ان سبھی خوشگوار کیفیات کو مجروح کرجاتے ہیں۔اور پھر ہوتا ہوں ہے کہ آدمی مخصوص مسجدوں میں ہی جانے کا من بنالیتا ہے.
ایک دفعہ ہمارا اتفاقاً گردوارہ جانا ہوا.وہاں ہر مذہب کے لوگوں کو آنے کی آزادی ہے.بس سر ڈھانکنا ضروری ہوتا ہے.کوئی بھید بھاؤ اور کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی.مزید یہ کہ لنگر کا انتظام ہر خاص و عام کے لیے بلاتفریق مذہب ہوتا ہے.آپ ٹوپی کرتا میں بھی چلے جائیں تو کوئی آپ کو اوپر سے نیچے تک نہیں دیکھے گا۔ہاں آپ کی پینٹ ٹخنے سے اوپر ہو تب بھی.
پرانے وقتوں میں یہی لنگر والا نظام صوفیت سے منسلک ہمارے بزرگوں نے اپنی خانقاہوں میں قائم کیا ہوا تھا، جس سے دوسرے مذاہب کے لوگ ان سے قریب ہوتے، اسلام کو سمجھتے اور متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوتے.
آج ہم جو باہم دست وگریباں ہیں، ایک کلمہ والا دوسرے کلمہ گو کو مسلمان نہیں سمجھتا.مسلکی اور نظریاتی اختلافات کی بنا پر دوریاں بنی ہوئی ہیں.اس کا سبب کیا ہے آخر؟
کسی نے لکھا کہ" اگر بفرض محال صحابہ کرام آج زندہ ہوجائیں تو وہ آج کے اسلام اور آج کے مسلمان کو دیکھ کر انہیں کسی اور ہی مذہب کا پیروکار سمجھ لیں گے "۔پھر اس پر طرہ یہ کہ پھر ہم اپنی زبوں حالی، پسماندگی اور تنزلی کا رونا روتے لگتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ابابیلیں آخر کب آئیں گی؟

~ 11 جولائی، 2022

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...