ایک تھی قادر خان کی ماں ،
اردو کے شاہکار افسانے
تکلف برطرف : سعید حمید
صرف ماہ رمضان کی کیا بات ہے ؟ عام دنوں میں بھی یہ نظارہ دکھائی دیتا ہے ۔
جس سڑک سے ہمارا گذر ہوتا ہے ، وہ ملی جلی آبادی والا علاقہ ہے ،
یہاں ایک عمارت کے نیچے ایک عارضی مسجد ہے ۔
اسلئے ، روزانہ ، ایک دو برقعہ پوش خواتین بیٹھی رہتی ہیں ۔
ان کے ساتھ دو معصوم بچے ، جو کرتا پائجامہ اور ٹوپی پہنا کرتے ہیں ۔
ان کی اسکول جانے کی عمر ہے ، لیکن اسکول نہیں جاتے کیونکہ وہ اپنی برقعہ پوش ماں کے ساتھ ہی
صبح سے شام تک اس سڑک پر بیٹھے رہتے ہیں اور بھیک مانگا کرتے ہیں ۔
اس سڑک کی دوسری طرف ایک بڑی غریب بستی مراٹھی باشندوں کی بھی ہے ، لیکن اس سڑک
یا آس پاس کی سڑک پر کوئی مراٹھی خاتون اپنے بچوں کو لیکر باقاعدگی سے بھیک مانگتی
نظر نہیں آتی ہے ۔۔۔۔!!!
رمضان میں تو اس علاقے میں برقعہ پوش عورتوں کی بھیڑ لگ جاتی ہے ۔
ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے بھی بڑی تعداد میں ہوا کرتے ہیں ، جن کو وہ اپنے ساتھ صبح
سے لیکر شام تک رکھا کرتی ہیں ، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بچے بھی اسکول نہیں جاتے ہیں ۔
ان کی مائیں ہی ان سے بھیک منگوانے کا کام کروا رہی ہیں ۔
خود بھی بھیک مانگتی ہیں اور اپنے بچوں کو بھی بھیک منگوانے کا کام کروارہی ہیں ۔
اس علاقہ میں کئی اعلی طبقات کی ہاؤسنگ سوسائتٹیز بھی ہیں ، جہاں گھریلو خادماؤں کی بڑی ڈیمانڈ ہے
اور بہت سے خاندان گھریلو خادماؤں کو پندرہ تا بیس ہزار روپئے ماہانہ تنخواہ دیا کرتے ہیں ۔
یہ برقعہ پوش خواتین ان گھروں میں کا کیوں نہیں کرتی ہیں ؟
مسجد کے باہر کیوں بھیک مانگتی ہیں ؟ اور اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی بجائے انہیں بھی کیوں سڑک
پر لاکھڑا کردیتی ہیں ؟ اور انہیں کیوں بھکاری بنا نا چاہتی ہیں ؟
مسجد کے ایک خادم نے بتایا کہ جب یہ عورتیں بھیک مانگ کر ہی ماہانہ بیس پچیس ہزار
روپئے کمالیتی ہیں ، اور پھر ان کے ساتھ جو بچے ہوتے ہیں ، وہ بھی آسانی سے
دس دس ہزار روپئے کما لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر یہ عورتیں گھریلو خادمہ کا محنت والا کام کیوں کریں گی ، اور ان کے بچے فٹ پاتھ پر
ہاتھ پھیلا کر مسجدوں کے خادموں سے بھی زیادہ روپیہ کما لیں گے ، تو پھر ان کی مائیں
اپنے بچوں کو اسکول کیوں بھیجیں گی ؟
تو ہمیں اپنے ایک مضمون کی یاد آگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک زمانہ میں انتہائی غربت
کے باوجود قادر خان کی ماں تھی ، جس نے اپنے بچے کو بھنگار چننے کا کام کرنے نہیں دیا ،
اور بس یہی نصیحت کی ، بیٹا ، لکھ پڑھ ، لکھ پڑھ ، اور کچھ مت کر ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم روکھی سوکھی کھا کر گذارا کرلیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں ہے ، قادر خان کی ماں جیسی کوئی ماں ؟
اور سڑک پر اپنے بچوں کا مستقبل کچھ روپوں کیلئے تباہ کرتی ان ، برقعہ پوش ماؤں کو دیکھ کر ہمیں
اپنا جو مضمون یاد آیا ، وہ حسب ذیل ہے :
قادر خان ؛ کماٹی پورہ سے بالی ووڈ تک ؛
کماٹی پورہ پہلی گلی سے لیکر پانچویںگلی تک مختلف عمارتوں میں پٹھان بھی رہا کرتے تھے ۔ سرحد سے آنے والا کوئی نیا پٹھان بھی اسی لئے انہی علاقوںمیں آجاتا تھا ۔ قادر خان کی والدہ بھی اپنے چھوٹے بچے کو لیکر کماٹی پورہ پہلی گلی آگئی ۔ اس گلی میںقحبہ خانہ تھے ، اور خاص طور سے ہجڑوں کی یہاںزیادہ آبادی تھی ۔
ممبئی : ایک زمانہ میں کماٹی پورہ ایک بدنام بستی تھا ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب مشہور فلم اسٹار قادر خان نے اپنا بچپن اس علاقہ میں گذاراتھا ۔ حالانکہ قادر خان کی پیدائش پشاور میں ہوئی تھی لیکن ان کی والدہ کی طلاق ہو گئی ۔ اس زمانہ میں ممبئی میں بڑی تعداد میں پٹھان رہا کرتے تھے ۔ ان پٹھانوں کی رہائش ڈونگری ، عرب گلی اور کماٹی پورہ میںتھی ۔ یہ پٹھان پورٹ ، ممبئی ڈاک میں کام کرتے تھے ۔ یاپھر تجارت کرتے تھے ، کچھ پٹھان سود پر پیسہ دینے اور انڈر ورلڈ کیلئے بھی کام کیا کرتے تھے ۔ ڈونگری کا مشہور ڈان کریم خان عرف کریم لالہ ان پٹھانوں کا لیڈر تھا ۔
کماٹی پورہ پہلی گلی سے لیکر پانچویںگلی تک مختلف عمارتوں میں پٹھان بھی رہا کرتے تھے ۔ سرحد سے آنے والا کوئی نیا پٹھان بھی اسی لئے انہی علاقوںمیں آجاتا تھا ۔ قادر خان کی والدہ بھی اپنے چھوٹے بچے کو لیکر کماٹی پورہ پہلی گلی آگئی ۔ اس گلی میںقحبہ خانہ تھے ، اور خاص طور سے ہجڑوں کی یہاںزیادہ آبادی تھی ۔
اس کے پاس ہی بھارت لوکھنڈ بازار تھا ۔ غریب گھرانوں کے بچے ، جوان ، بوڑھے اسکریپ ، بھنگار اکٹھا کرکے یہاں فروخت کیا کرتے تھے ، اس سےان کو دو وقت کی روٹی کا سہارا مل جاتا تھا ۔ علاقہ میں جگہ جگہ منشیات کے اڈے ، جوئے کے اڈے ، قحبہ خانے قائم تھے اور اس ماحول میںبچوں کی پرورش آسان کام نہیں تھی ۔
قادر خاں کی والدہ نے اپنے بیٹے کو کماٹی پورہ پہلی گلی کے سامنے کے علاقہ کمہارواڑہ ، درگا دیوی ادیان میدان کے پاس ایک میونسپل پرائمری اسکول میں داخل کروادیا ۔اردو میڈیم اسکو ل میں اس طرح قادر خان کی ابتدائی تعلیم شروع ہوئی ۔لیکن ایک حساس بچہ کو اس بات کا احساس تھا کہ اس کی ماں بڑی مشکل سے گھر چلاتی ہے ، اور بمشکل دو وقت کے کھانے کا انتظام ہوتا ہے۔کبھی کبھی فاقہ کی بھی نوبت آتی ہے ۔
قادر خان کے ساتھ کے کچھ بچوں نے اسے بتایا کہ بھنگار یا اسکریپ اکٹھا کرکے اسے پاس کے بھارت لوکھنڈ بازار کی دکانوں میں بیچ کر آٹھ آنہ ، روپیہ روز کمایا جاسکتا ہے ۔ قادر خان نے یہ سوچ لیا کہ وہ اب گھر چلانے میں ماں کی مدد کرے گا ، اور ایک دن وہ اسکول کا بیگ لئے بغیر جانے لگا ۔ اس کی ماں نے اس کا ارادہ بھانپ لیا ۔ پھر اپنے کم سن بچے کو تلقین کی کہ بیٹا اگر آج تو حالاتسے گھبرا کر تعلیم چھوڑ دے گا ، اور آٹھ آنہ ، ایک روپیہ کے پیچھ بھاگے گا تو زندگی بھر صرف آٹھ آنہ ایک روپیہ کےپیچھے بھگتا رہے گا ، لیکن اگر تو نے تعلیم کا دامن نہیں
چھوڑاتو ایک دن یہی تعلیم تجھ کو ایک بہت بڑا آدمی بنائے گی ، اور روپیہ تیرے پیچھے بھاگ کر آئے گا ۔ آج کا وقت تو کسی طرح گذر جائے گا لیکن تعلیم نہیںترک کرنا ۔
قادر خان پر اپنی ماں کی بات کا بہت اثر ہوا ۔
اس نے اپنا بیگ دوبارہ اٹھایا اور اسکول چل دیا ۔
پھر اس نے جان توڑ محنت کی اور ایک دن بالی ووڈ کا سب سے مہنگا ڈائیلاگ رائٹر بن گیا ۔
لیکن آج کیا ایسی مائیں غریب بستیوں میں قدرے کم نہیں دکھائی دے رہی ہے ؟ جیسی قادر خان کی ماں ہوا کرتی تھی ؟
_________
*سائبرجرائم کے طریقے اور ان سے بچاؤ کی ترکیبیں*
*20/03/2025 by Insaaf* *
*محمدفخر عالم (بی.پی.ایس)*
*ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر، ارریہ*
ہم جس زمانہ میں رہتے ہیں اس کو آئی ٹی (IT) ایج (دور) کہتے ہیں۔ دنیا کے تقریباً 67.5فیصد لوگ (یعنی 5.52بلین لوگ )انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ 2015ء کے بعد تیز رفتاری سے مزید 45فیصد لوگ انٹرنیٹ کی دنیا سے جڑے ہیں۔
ہندوستان کے تقریباً 52.4؍فیصد لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کا استعمال کرکے طرح طرح کے جرائم انجام دیے جارہے ہیں۔ کچھ ایسے جرائم جو آج کل بہت مشہور سے ہوگئے ہیں جن کی مدد سے سائبر کی دنیا میں اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرکے لوگوں کے بینک کھاتوں سے پیسے نکالےجارہے ہیں۔
عوام طرح طرح کے جرائم سے پریشان ہوکر سرکاری دفتروں کے چکر لگاتی ہیں۔ مختلف جرائم جو آج کل دیکھنے کو مل رہی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
(1) ڈیجیٹل اریسٹ(Digital Arrest): اس طرح کے جرم میں سائبر کریمنل نقلی پولیس آفیسر، سی بی آئی، ای ڈی، بینک اور دیگر اداروں کا نمائندہ بن کر فون کر دھوکہ دیتے ہیں کہ اس کے کھاتے میں اتنا پیسہ بھیج دو ورنہ جیل بھیج دیے جاؤگے۔ فون اٹھانے والے انسان سے کہتے ہیں کہ آپ کا بیٹا عصمت دری کے معاملہ میں پکڑا گیا ہے اور اس کو جیل بھیج رہے ہیں، اگر بچانا ہوتو اتنے پیسے بھیج دو، ایک خوف زدہ ماحول بنا کرانسان کو سوچنے کا موقع نہیں دیتے ہیں اور پیسہ بھیجنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔
(2) ڈیجیٹل عصمت دری: اس طرح کے معاملوں میں سائبر کریمنل خواتین؍اسکولی بچیوں اور یہاں تک کہ مردوں کی تصاویر کو (Morph) مارف کرکے عریاں کرکے سوشل میڈیا پہ ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کی عزت کا فالودہ ہوجاتاہے۔
(3) سائبر اسٹاکنگ(Cyber Stalking): اس طرح کے جرم میں مرد، لڑکے، یہاں تک کہ خواتین سوشل میڈیا پہ کسی خاتون کو فون یا میسیج بھیجتے ہیں یہاں تک کہ ای میل بھیج کر ان کا پیچھا کرتے ہیں توان سے زبردستی دوستی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(4) کریڈٹ کارڈ فراد: جب کسی سائبر کریمنل کو کریڈیٹ کارڈ نمبر مل جاتا ہے تو وہ اس کے موبائل پر پیسے کالنک بھیج کر کلک کرنے پر مجبور کرتاہے۔ اس طرح اس کے کھاتے کا، پاس کوڈ اس کو مل جاتاہے جس کی مدد سے وہ پیسے نکال لیتاہے۔
(5) سلامی حملہ(Salami Attack): اس طرح کے جرم میں سائبر کریمنل روزانہ کسی کھاتے سے محض کچھ روپےجیسے ایک، دو، تین یا چار روپے نکال لیتے ہیں۔ عام انسان ایسے نکالے گئے پیسوں پہ توجہ نہیں دیتے ہیں۔ یہ پیسے اکٹھاہوکر لاکھوں اور کروڑوں میں جمع ہوجاتے ہیں جن کو دوسرے جرائم انجام دینے میں استعمال کیا جاتاہے۔
(6) سائبر دہشت گردی: اس طرح کے جرم میں سائبر کریمنل کچھ لوگوں کو دہشت گردی کے کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ روزانہ ان کو اپنے مذہب، ملک، قبیلہ اور قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کو اکساتے ہیں۔
(7) پارسل فراڈ: اس طرح کے جرم میں نقلی کوریئر والے لڑکے نقلی پارسل لے کر کسی کے گھر پہنچتے ہیں اور اس سے اپنے موبائل پر ایک لنک کا بٹن دبانے کو بولتے ہیں۔ اس طرح اس کے بینک کھاتے کے پاس کوڈ لے لیتے ہیں اور اس کے کھاتے سے پیسے اڑالیتے ہیں۔
(8) پیسوں کو ڈبل (دوگنا) کرنے والے فراڈ: اس طرح کے جرم میں سوشیل میڈیا کے ذریعہ کسی انسان کو کم وقت میں پیسے دوگنا کرنے کے لیےآمادہ کرالیتے ہیں اور بعد میں اپنے موبائل بند کردیتے ہیں۔ اس طرح خرچ کیےگئے پیسے واپس نہیں ہوپاتے ہیں۔
(9) عرب ملکوں کے لیے مفت ویزا کے نام پر فراڈ: آج کل یہ جرم بہت بڑھاہوا ہے۔ برصغیر کے لوگ جزیرہ نما عرب میں کام کرنے کے لیےکسی بھی حال میں ویزا حاصل کرنے کوپریشان رہتے ہیں۔ ان کی اس ذہنیت کا فائدہ اٹھاکر سائبر کریمنل ان سے پیسے منگوالیتے ہیں اور ان کو جعلی ویزا دے کر دھوکہ دے کر نکل جاتے ہیں۔
(10) اے پی کے (APK) فائل بھیج کر کھاتے کو خالی کرنا: ایسے فائل کو کمپیوٹر اور موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرانا آج کل بہت عام بات ہے۔ شادی کے کارڈ نما اے پی کے فائل بناکر سائبر کریمنل دھوکے سے پیسے چرالیتے ہیں۔
(11) شادی کے نام پر جرم کرنا : میٹری مونیل (Matrimonial) جعلی پروفائل بناکر سائبر کریمنل لڑکیوں سے دوستی کرتے ہیں۔ ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہیں مہنگے تحفے دینا چاہتے ہیں۔ لڑکیوں کو ایسے میں بہت جلد یقین ہوجاتاہے۔ ان سے پھر کچھ ہزار روپئے پیشگی لیتے ہیں اور تحفہ بھی نہیں دیتے پھر اپنا جعلی پروفائل بند کردیتے ہیں۔
(12) سیکس ٹورشن (Sextortion): اس طرح کے جرم میں کریمنل لڑکوں، لڑکیوں اور دیگر عوام سے سوشل میڈیا کے ذریعہ دوستی کرکے ذاتی عریاں تصاویر مانگ کر اپنے موبائل اور کمپیوٹر میں رکھتے ہیں اور پھر بعد میں ان سے پیسے مانگتے ہیں۔ نہیں دینے پر دھمکی دیتے ہیں کہ ان کی ذاتی تصاویر کو سوشل میڈیا پر ڈال کر وائرل کردیں گے۔ خوف زدہ ہوکر لوگ پیسے دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
بچاؤ کی ترکیبیں
(1) اجنبی لوگوں سے دوری بناکر رکھیں اور گھر کے بچوں اور خواتین کو اس کے بارے میں سمجھائیں۔
(2) ذاتی تصاویر اجنبیوں سے ساجھا نہ کریں۔
(3) کسی انجان آدمی کے موبائل پر پیسے نہ بھیجیں، نہ اپنے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات، ذاتی کاغذات یا کسی بھی طرح کے پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
(4) مالدار ہونے کا کوئی طریقہ اچانک نہیں ہوجاتا ہے۔ کم وقت میں بہت زیادہ منافع کمانے والے لالچی باتوں سے گریز کریں۔
(5) صرف ضروری کام کے لیےہی اپنی تصویر کسی کوبھیجیں۔ غیر ضروری تصاویر بھیجنے سے بعد مشکلات پیدا ہو سکتے ہیں۔
______--__-____
انتخاب ۔۔۔۔۔ شین زاد
بجوکا (سریندر پرکاش)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ﭘﺮﯾﻢ ﭼﻨﺪ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎﮨﻮﺭﯼ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﻮﻭٔﮞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻢ ﭘﮍﮔﯿﺎﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺴﯿﮟ ﺳﺎﻧﻮﻟﮯ ﮐﮭُﺮﺩﺭﮮ ﮔﻮﺷﺖ ﺳﮯ ﺍُﺑﮭﺮ ﺍٓﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺍﺛﻨﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺩﻭ ﺑﯿﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺟﻮ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮔﻨﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮈﻭﺏ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺍ؟ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍٓﺩﻣﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍِﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺑﺲ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺑُﻮﮌﮬﮯ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻞ ﮐﮯ ﮨﺘﮭﮯ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮈﮬﯿﻠﮯ ﭘﮍﮮ ﺫﺭﺍ ﮐﺎﻧﭙﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﺮﻓﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﯿﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺎﻧﮏ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻞ ﮐﺎ ﭘﮭﻞ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﺳﯿﻨﮧ ﭼﯿﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﺳﻮﺭﺝ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﭽﮫ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯽ ﺳﺮﺥ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺍٓﻧﮕﻦ ﮐﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﭘﺎﻧﭽﻮﮞ ﺑﭽﮯ ﻧﻨﮓ ﺩﮬﮍﻧﮓ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻧﮩﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺑﮩﻮ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮑﺎﻝ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺑﺎﺭﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﺍُﻧﮉﯾﻠﺘﯽ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍُﭼﮭﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﻨﮉﺍ ﻣﻠﺘﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺍُﭼﮭﺎﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﮩﻮ ﺑﮍﯼ ﺑﮍﯼ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭼﻨﮕﯿﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺭﯼ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﭙﮍﮮ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﭘﮕﮍﯼ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮕﮍﯼ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻃﺎﻗﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﺍٓﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﯾﮑﮭﺎ ، ﺳﺎﺭﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﮑﯿﺮﯾﮟ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﻟﭩﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻨﻮ ﻣﺎﻥ ﺟﯽ ﮐﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺍٓﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﺍٓﮔﯿﺎ۔ ’’ ﺳﺐ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ ؟ ‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺪﺭﮮ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘُﻮﭼﮭﺎ۔ ’’ ﮨﺎﮞ ﺑﺎﭘُﻮ۔۔۔ ‘‘ ﺳﺐ ﺑﭽﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻝ ﺍُﭨﮭﮯ۔ ﺑﮩﻮﻭٔﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﭘﮩﻠﻮﺩﺭﺳﺖ ﮐﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﮨﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﺐ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﯾﮧ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺑﮭﮕﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﺟﯿﺴﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﻧﮧ ﺩﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﮍﺍ ﺩﮬﮍ ﻣﺮﻧﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﻧﮧ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﮨﻢ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﺳﭻ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﭘﻮﺗﮯ ﭘﻮﺗﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻮﺋﯿﮟ ۔۔۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﻮ ﺳﭻ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﺗﻨﺪﮨﯽ ﺳﮯ ﺟُﭧ ﮔﺌﯿﮟ ۔ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﮐﭩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﻭﺯﺍﺭ ﻧﮑﺎﻟﮯ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺳﭻ ﻣُﭻ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮭﯿﺖ ﻟﮩﻠﮩﺎ ﺍُﭨﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻓﺼﻞ ﭘﮏ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺝ ﮐﭩﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮩﻮﺍﺭ ﮨﻮ۔ ﺳﺐ ﺑﮍﮮ ﭼﺎﻭٔ ﺳﮯ ﺟﻠﺪ ﺍﺯ ﺟﻠﺪ ﮐﮭﯿﺖ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﮐﺮﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺎﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﻮﭼﮭﺎ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﭼﺎ۔ ﮐﺘﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻤﮯ ﺍٓﭘﮩﻨﭽﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺍﮨﻠﻤﺪ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻧﺲ ﻧﮧ ﺑﻨﺌﮯ ﮐﺎ ﮐﮭﭩﮑﺎ ﻧﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﯽ ﺯﻭﺭ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺯﻣﯿﻨﺪﺍﺭ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ۔۔۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﺮﮮ ﮨﺮﮮ ﺧﻮﺷﮯ ﺟﮭﻮﻡ ﺍﭨﮭﮯ۔ ’’ ﭼﻠﻮ ﺑﺎﺑﻮ ‘‘ ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﭘﻮﺗﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭘﮑﮍ ﻟﯽ ‘ ﺑﺎﻗﯽ ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﮯ۔ ﺑﮍﯼ ﺑﮩﻮ ﻧﮯ ﮐﻮﭨﮭﺮﯼ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﮩﻮ ﻧﮯ ﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﻮﭨﻠﯽ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ۔ ﺑﯿﺮ ﺑﺠﺮﻧﮕﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺳﺐ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺍٓﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﻃﺮﻑ ﻣُﮍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ‘ ﮔﻠﯿﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮩﻞ ﭘﮩﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻟﻮﮒ ﮐﮭﯿﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺎﺭ ﭼﮭﻮﭨﺘﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﮑﯽ ﻓﺼﻠﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭼﻤﮏ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ۔ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻞ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺫﺭﺍ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺍٓﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ﻭﮦ ﺑﺎﻟﮏ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻟﮓ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺳﺎﻧﻮﻟﮯ ﻣﺮﯾﻞ ﺳﮯ۔۔۔ ﺟﻮ ﺟﯿﭗ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﭘﮩﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯽ ﺍٓﮨﭧ ﺳﮯ ﮈﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮩﻮﺋﯿﮟ ﻭﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﮦ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﭼﮩﺮﮮ ﮔﮭﻮﻧﮕﮭﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼُﮭﭙﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺳﻠﻮﭦ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﯾﺒﯽ ﺟﻮﻭٔﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮭُﭙﯽ ﺑﯿﭩﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﮐﺮ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﮯ ﺍٓﺧﺮﯼ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﺍٓﮔﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﮐﮭﯿﺖ ﺗﮭﮯ۔ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﺭﮨﭧ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﻧﯿﻢ ﮐﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺑﮯ ﻓﮑﺮﯼ ﺳﮯ ﺳﻮﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺩُﻭﺭ ﻃﻮﯾﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮔﺎﺋﯿﮟ ‘ ﺑﮭﯿﻨﺴﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻞ ﭼﺎﺭﮦ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮭﻨﮑﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺩُﻭﺭ ﺩُﻭﺭ ﺗﮏ ﻟﮩﻠﮩﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﮐﮭﯿﺖ ﺗﮭﮯ۔۔۔ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﮭﯿﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺫﺭﺍ ﺩُﻭﺭ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﮭﯿﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﻧﺎﻟﮧ ﭘﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻟﮓ ﺗﮭﻠﮓ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﮐﮭﯿﺖ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻧﺎ ﭘﮏ ﮐﺮ ﺍﻧﮕﮍﺍﺋﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺳﺐ ﭘﮕﮉﻧﮉﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩُﻭﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﮓ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮕﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﻮﮐﮭﯽ ﮔﮭﺎﺱ ﭘﺮ ﺭﯾﻨﮓ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ۔۔۔ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺗﮭﻞ ﺗﮭﺎ۔ ﺩُﻭﺭ ﺩُﻭﺭ ﺗﮏ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﮨﺮﯾﺎﻟﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺍٓﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﺲ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﻣﭩﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻭٔﮞ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﮬﻨﺲ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﯾُﻮﮞ ﺑُﮭﺮﺑﮭﺮﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﮉﯾﺎﮞ ﭼﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻞ ﮐﺮ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺭﯾﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ﻭﮦ ﺗﮭﻞ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺍٓﯾﺎ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﻭ ﮨﺎﺗﮫ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﺍٓﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ﮨﻮﺭﯼ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺑﭽﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺗﮭﻞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮭﯿﺖ ﺗﮏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﻞ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﭘﮕﮉﻧﮉﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﮧ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻨﮕﮯ ﭘﺎﻭٔﮞ۔۔۔ ﺳﻮﺭﺝ ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﻭٔﮞ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺍﭦ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﺌﯽ ﺍِﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﮐﮯ ﮐﮭﯿﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﮐﭩﺎﺋﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺍٓﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮐﻮ ﺭﺍﻡ ﺭﺍﻡ ﮐﮩﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﮯ ﺟﻮﺵ ﺍﻭﺭ ﻭﻟﻮﻟﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭨﮩﻨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﺳﮯ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺎﺭﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﻧﺎﻟﮧ ﭘﺎﺭ ﮐﯿﺎ۔ ﻧﺎﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔۔۔ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﺭﯾﺖ ﻣﻠﯽ ﻣﭩﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺧﺸﮏ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﻧﻘﺶ ﻭ ﻧﮕﺎﺭ ﺑﻨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻟﮩﻠﮩﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮭﯿﺖ ﻧﻈﺮ ﺍٓﺭﮨﺎﺗﮭﺎ۔ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺑﻠﯿﻮﮞ ﺍُﭼﮭﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔۔۔ ﻓﺼﻞ ﮐﭩﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍٓﻧﮕﻦ ﭘُﮭﻮﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﭨﮭﺮﯼ ﺍﻧﺎﺝ ﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﭩﯿﺎ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﺕ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﺍٓﺋﯿﮕﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﮈﮐﺎﺭﯾﮟ ﺍٓﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﭘﯿﭧ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﭼﺎ۔ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﺭُﮎ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺑﮭﯽ ﺭُﮎ ﮔﺌﮯ۔ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺳﺐ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﯽ ﺳﯽ ﭘُﮭﺮﺗﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺋﯽ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﻨﺪ ﻗﺪﻡ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﺟﻮﺵ ﺳﮯ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻟﮕﺎﺋﯽ۔ ’’ ﺍﺑﮯ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ۔۔۔ ﮮ۔۔۔ ﮮ۔۔۔؟ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﮭﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﻣﻼ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﺍٓﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﺮﺍﭖ ﺳﺮﺍﭖ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺻﺎﻑ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﺐ ﻗﺪﺭﮮ ﺳﮩﻢ ﮔﺌﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﮨﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﮨﻤﺖ ﺳﮯ ﻟﻠﮑﺎﺭﺍ۔ ’’ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﺟﻨﺎ۔۔۔ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ؟ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍﯼ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﺳﻮﻧﺖ ﻟﯽ۔ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﮯ ﭘﺮﻟﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﮬﺎﻧﭽﮧ ﺳﺎ ﺍُﺑﮭﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﻮ۔۔۔ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯼ۔ ’’ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﺎﮐﺎ۔۔۔ ﺑﺠﻮﮐﺎ ‘‘! ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍﯼ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﻓﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﮨﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻣﺎﺭﮮ ﺧﻮﻑ ﮐﮯ ﮔُﮭﭩﯽ ﮔُﮭﭩﯽ ﺳﯽ ﭼﯿﺦ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﺯﺭﺩ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﮔﻮﯾﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﭙﮍﯼ ﺳﯽ ﺟﻢ ﮔﺌﯽ۔۔۔ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺐ ﺳﮑﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍٓﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﮯ۔۔۔ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﺘﻨﯽ ﺗﮭﯽ؟ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﺍﯾﮏ ﺻﺪﯼ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﯾُﮓ۔۔۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ۔ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﻏﺼﮧ ﺳﮯ ﮐﺎﻧﭙﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻧﮧ ﺳﻨﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ۔ ’’ ﺗﻢ ۔۔۔ ﺑﺠﻮﮐﺎ۔۔۔ ﺗﻢ۔ ﺍﺭﮮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔ﺑﺎﻧﺲ ﮐﯽ ﭘﮭﺎﻧﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﮨﺎﻧﮑﺎ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮭﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﺎﮐﯽ ﮐﭙﮍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺗﯿﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﮨﺎﻧﮉﯼ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺳﯽ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﭨﻮﭘﺎ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺭﮮ ﺗﻮ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﭘﺘﻼ ﻣﯿﺮﯼ ﻓﺼﻞ ﮐﺎﭦ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ؟ ‘‘ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﺎﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺛﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ۔۔۔ ﻓﺼﻞ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺗﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﭧ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﺌﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺭﮨﺎﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓﮔﺌﯽ۔۔۔ ﻭﮦ ﮐﺌﯽ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﺑﺠﻮ ﮐﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔ ﻣﮕﺮ ﺍٓﺝ ۔۔۔ ﻭﮦ ﺍٓﺩﻣﯽ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮔﻮﺷﺖ ﭘﻮﺳﺖ ﮐﺎ ﺍﻥ ﺟﯿﺴﺎ ﺍٓﺩﻣﯽ ۔۔۔ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻮﺭﯼ ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮ ﺍُﭨﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺯﻭﺭﺩﺍﺭ ﺩﮬﮑﺎ ﺩﯾﺎ۔۔۔ ﻣﮕﺮ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﮧ ﮨﻼ۔ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﮨﻮﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﺯﻭﺭ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﻭﺭ ﺟﺎﮔﺮﺍ۔۔۔ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﭼﯿﺨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﮯ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺮ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔۔۔ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﻑ ﺯﺩﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ۔ ’’ ﺗَﻮ۔۔۔ ﺗُﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺑﺠﻮﮐﺎ ! ﻣﺠﮫ ﺳﮯ۔۔۔؟ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﺼﻞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ‘‘ ۔ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﺣﺴﺐِ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﻣﺴﮑﺮﺍﺭﮨﺎﺗﮭﺎ ‘ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ۔ ’’ ﺗﻢ ﺧﻮﺍﮦ ﻣﺨﻮﺍﮦ ﺧﻔﺎ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﺎﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﯽ ﻓﺼﻞ ﮐﺎﭨﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺗﮭﺎﺋﯽ۔۔۔ ‘‘ ’’ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ۔ ﺗﻢ ﮐﻮﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ؟ ‘‘ ’’ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﻖ ﮨﮯ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﺎﮐﺎ۔۔۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﯽ ﮨﮯ ‘‘ ۔ ’’ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﭼﯿﺰ ﮐﺎﮐﻮﺋﯽ ﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓﮔﺌﯽ؟ ‘‘ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺯﻭﺭ ﺩﺍﺭ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ’’ ﺗﻢ ﺑﮍﮮ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮ ﮨﻮﺭﯼ ﮐﺎﮐﺎ۔ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮ۔۔۔؟ ‘‘ ’’ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻢ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ۔۔۔؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ‘‘! ’’ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍٓﭖ ﺳﮯ ﺍٓﭖ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ۔۔۔ ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﻧﺲ ﮐﯽ ﭘﮭﺎﻧﮑﯿﮟ ﭼﯿﺮﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﭘﮭﭩﮯ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﻻﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﮨﺎﻧﮉﯼ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ‘ ﻧﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻥ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺍﻥ ﺳﺐ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻠﺒﻼ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﺼﻞ ﭘﮑﻨﮯ ﺗﮏ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮭﮍﺍﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺭﮨﯽ ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻓﺼﻞ ﭘﮏ ﮔﺌﯽ ﻭﮦ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔۔۔ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺝ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﺼﻞ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﺍٓﺋﮯ ﮨﻮ۔۔۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ﮐﺎﭦ ﻟﯿﺎ ‘ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮕﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ‘‘ ۔۔۔ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﻧﮯ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺳﺐ ﮐﮩﺎ ۔۔۔ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ۔ ’’ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﺎﺯﺵ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﺐ ﭼﮭﻼﻭﮦ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﭽﺎﺋﺖ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﺍﻭٔﮞ ﮔﺎ۔
ﺗﻢ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﻭ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﻨﮑﺎ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔۔۔ ‘‘ ﮨﻮﺭﯼ ﭼﯿﺨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ۔ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﭘﺎﻝ ﭘﺮ ﭘﻨﭽﺎﺋﺖ ﻟﮕﯽ۔۔۔ ﭘﻨﭻ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﭘﻨﭻ ﺳﺐ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ۔ ﮨﻮﺭﯼ ۔۔۔ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻮﺗﮯ ﭘﻮﺗﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﻨﭻ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﺎﺭﮮ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻣُﺮﺟﮭﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮩﻮﺋﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﺝ ﭘﻨﭽﺎﺋﺖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻓﺮﯾﻖ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﺩﮮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﺧﺮ ﺩُﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﺧﺮﺍﻣﺎﮞﺨﺮﺍﻣﺎﮞ ﺍٓﺗﺎ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺎ۔۔۔ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﺍُﭨﮫ ﮔﺌﯿﮟ ﻭﮦ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﺭﮨﺎﺗﮭﺎ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﭼﻮﭘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ۔ ﺳﺐ ﻏﯿﺮﺍﺭﺍﺩﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍُﭨﮫ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺗﻌﻈﯿﻤﺎًﺟﮭﮏ ﮔﺌﮯ۔ ﮨﻮﺭﯼ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﺷﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺗﮍﭖ ﺍُﭨﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎﺿﻤﯿﺮ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﻨﭽﺎﺋﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺗﯿﺰ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺑﺲ ﺍٓﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺎﻭٔﮞ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ’’ ﺳﻨﻮ۔۔۔ ﯾﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍٓﺧﺮﯼ ﻓﺼﻞ ﮨﮯ ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮭﻞ ﮐﮭﯿﺖ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺩُﻭﺭﯼ ﭘﺮ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ‘ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﺼﻞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﻧﺎ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺑﺮﺱ ﺟﺐ ﮨﻞ ﭼﻠﯿﮟ ﮔﮯ ۔۔۔ ﺑﯿﺞ ﺑﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﺎ ﺍﻣﺮﺕ ﮐﮭﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﻧﭙﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﻢ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻧﺲ ﭘﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ۔۔۔ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﺐ ﺗﮏ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻓﺼﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﻭﮞﮕﺎ ‘ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﮭﻞ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﯽ ﻣﭩﯽ ﮐﻮ ﻧﮕﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﮭﯿﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﭩﯽ ﺑُﺮﺑﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ ﮐﮧ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔ ﺍٓﭖ ﺳﮯ ﺍٓﭖ ﺍﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﺗﮭﻤﺎﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﺼﻞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺗﮭﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺣﻖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‘‘ ۔ ﮨﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺗﯿﺎﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮩﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮒ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﮨﻮﺭﯼ ﮔﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ‘ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﻮﺗﮯ ﭘﻮﺗﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻧﺲ ﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﺷﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺑﺠﻮﮐﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﭨﻮﭘﺎ ﺍُﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﺩﯾﺎ۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭
__________
اشعار جن میں لفظ اردو کا استعمال ہوا ہے:
..
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
..
نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
.....
گیسوئے اردو ابھی منّت پذیرِ شانہ ہے
شمع یہ سودائیِ دل سوزئ پروانہ ہے
...
اہلِ ادب غنیمت جانیں قمرؔ کی ہستی
اک شمع جل رہی ہے اردو کی انجمن کی
اُستاد قمرؔ جلالوی
......
اردو کو اک رسالۂ الہام دوں ولی
لوگوں کو دورِ ہادیٔ عالم عطا کروں
محمد ولی رازی
....
خدا رکھے زباں ہم نے سنی ہے میر و مرزا کی
کہیں کس منہ سے ہم اے مصحفی اردو ہماری ہے
(غلام ہمدانی مصحفی)
....
تھا عرش پہ اک روز دماغِ اردو
پامالِ خزاں آج ہے باغِ اردو
غفلت تو ذرا قوم کی دیکھو کاظم
وہ سوتی ہے بجھتا ہے چراغِ اردو
کاظم بنارسی
....
مٹ جائیں گے مگر ہم مٹنے نہ دیں گے اس کو
ہے جا ن و دل سے پیاری ہم کو زباں ہماری
(اختر شیرانی)
....
اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی
میں میر کی ہمراز ہوں غالب کی سہیلی
اقبال اشعر
....
مثلِ گُل ہے خوشبو جیسی ہے
وہ تو بالکل اردو جیسی ہے
نفیس فاروق
....
ہر شخص کو زبانِ فرنگی کے باٹ سے
جو شخص تولتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
افسر کو آج تک یہ خبر ہی نہیں ہوئی
اُردو جو بولتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
(انور مسعود)
....
پوچھئے حضرتِ حالی سے وقارِ اردو
خیمہ زن باغ میں شبلی کے بہار اردو
سرسے کیفی کے نہ اترے گا خمارِ اردو
دل حسینی بھی ازل سے ہے نثار اردو
خوشہ چیں ہیں اسی گلشن کے منیف اور سہیل
سیکڑوں زندۂ جاوید ہیں اردو کی طفیل
ڈاکٹر دل حسینی (مئو،یوپی)
...
سب میرے چاہنے والے ہیں، میرا کوئی نہیں
میں بھی اِس ملک میں اُردُو کی طرح رہتا ہوں
حسن کاظمی
.....
یارانِ خوش مذاق نے اللہ کی پناہ
اردو کو بے قصور مسلمان کر دیا
(منور رانا )
.....
وہ اردو کیا ہے، یہ ہندی زباں ہے
کہ جس کا قائل اب سارا جہاں ہے
(مراد شاہ)
کچھ لوگوں کے خیال میں یہ وہ پہلا اردو شعر ہے جس میں لفظ اردو بطور اردو زبان کے آیا ہے۔ یاد رہے کہ مراد شاہ اور مصحفی کا دور تقریباً ایک ہی ہے۔
....
وہ گُلِ رنگیں ترا رخصت مثالِ بُو ہوا
آہ! خالی داغؔ سے کاشانۂ اُردو ہوا
(اقبال)
...
یا باہم پیار کے جلسے تھے، دستورِ محبت قائم تھا
یا بحث میں اُردو ہندی ہے یا قربانی یا جھٹکا ہے
(اقبال)
...
کس قدر نرم سی نازک سی ہے اردو کی طرح
صرف محسوس کیا کر اسے خوشبو کی طرح
منصور آفاق
....
سیکڑوں اور بھی دنیا میں زبانیں ہیں مگر
جس پہ مرتی ہے فصاحت وہ زباں ہے اردو
(نا معلوم)
....
تُو جانتا ہے ساری زبانیں تو کیا کرُوں
اُردو میری زَبان ہے اُردو میں بات کر
(نا معلوم)
.......
کہہ دو کہ نہ شکوہ لب مغموم سے نکلے
اُردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
رئیس امروہی
....
فضا کیسی بھی ہو وہ رنگ اپنا گھول لیتا ہے
سلیقے سے زمانے میں جو اردو بول لیتا ہے
سلیمؔ صدیقی
....
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
(نامعلوم)
....
مرے کانوں میں مصری گھولتا ہے
کوئی بچہ جب اردو بولتا ہے
(مشتاق دربھنگوی)
....
ناز و انداز میں شائستہ سا وہ حسنِ نفیس
ہُو بہُو جانِ غزل ہے مری اردو کی طرح
عطا تراب
....
نسیمِ دہلوی، ہم موجدِ بابِ فصاحت ہیں
کوئی اردو کو کیا سمجھے کہ جیسا ہم سمجھتے ہیں
(اصغر علی خان نسیم دہلوی)
....
بچّو، یہ سبق آپ سے کل بھی میں سنوں گا
وہ آنکھ ہے نرگس کی جو ہرگز نہیں سوتی
عنقا ہے وہ طائر کہ دکھائی نہیں دیتا
اردو وہ زباں ہے کہ جو نافذ نہیں ہوتی
(انور مسعود)
....
اصفر بجا ہے جادوئے بنگال بھی مگر
اُردو زباں کے فیض سے جادو بیاں ہوں میں
(اصغر بنگالی)
....
گو لاکھ ہو رنگت پھولوں میں خوشبو جو نہیں تو کچھ بھی نہیں
اس ملک میں چاہے ہُن برسے اردو جو نہیں تو کچھ بھی نہیں
(جسٹس آنند نرائن مُلّا)
....
وہ دشمنِ اُردو ہیں وہ ہیں دشمنِ مِلّت
کرتے ہیں جو اُردو کی سلاست کو سبوتاژ
(اکبر لاہوری)
....
مِلا اردو کو اس کا حق نہ جمہوری نظام آیا
ہوئے پورے نہ جو وعدے کیے تھے ہم نے قائد سے
(سید قاسم جلال)
....
کانوں میں رس جو گھول دے اردو ہے وہ زباں
اردو فروغ پارہی بولو میاں !کہاں
خدمت میں رات دن ہے لگی کون انجمن
بزمِ سخن وراں ہے وہ،بزمِ سخن وراں
منظور احمد
....
اپنے محبوب کی خاطر تھا خدا کو منظور
ورنہ قرآن بھی اترتا زبانِ اردو
(اکبر الہ آبادی)
....
شہد و شکر سے شیریں اردو زبان ہماری
ہوتی ہے جس کی بولی میٹھی زبان ہماری
(الطاف حسین حالی)
...
وہ عطردان سا لہجہ مرے بزرگوں کا
رَچی بسی ہوئ اُردو زباں کی خوشبُو.
...
میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں
جو بھی میں کہتا گیا حسنِ بیاں بنتا گیا
(فراق گورکھپوری)
....
بعد نفرت پھر محبت کو زباں درکار ہے
پھر عزیزِ جاں وہی اردو زباں ہونے لگی
(یعقوب عامر)
....
بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا
(منیش شکلا)
....
جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشکِ فارسی
گفتۂ غالب ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
(مرزا غالب)
....
گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے
(میر تقی میر)
...
اردو زباں
یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا،
مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پر
کہ جیسے پان میں مہنگا قمام گھلتا ہے
یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا۔۔۔۔
نشہ آتا ہے اردو بولنے میں
گلوری کی طرح ہیں منہ لگی سب اصطلاحیں
لطف دیتی ہے، حلق چھوتی ہے اردو تو، حلق سے جیسے مے کا گھونٹ اترتا ہے
بڑی ارسٹوکریسی ہے زباں میں
فقیری میں نوابی کا مزا دیتی ہے اردو
اگرچہ معنی کم ہوتے ہے اردو میں
الفاظ کی افراط ہوتی ہے
مگر پھر بھی، بلند آواز پڑھیے تو بہت ہی معتبر لگتی ہیں باتیں
کہیں کچھ دور سے کانوں میں پڑتی ہے اگر اردو
تو لگتا ہے کہ دن جاڑوں کے ہیں کھڑکی کھلی ہے، دھوپ اندر آ رہی ہے
عجب ہے یہ زباں، اردو
کبھی کہیں سفر کرتے اگر کوئی مسافر شعر پڑھ دے میرؔ، غالبؔ کا
وہ چاہے اجنبی ہو، یہی لگتا ہے وہ میرے وطن کا ہے
بڑی شائستہ لہجے میں کسی سے اردو سن کر
کیا نہیں لگتا کہ ایک تہذیب کی آواز ہے, اردو
گلزار
....
غریبِ شہر نے رکھی ہے آبرو ورنہ
امیرِ شہر تو اردو زبان بھول گیا
(ہاشم رضا جلالپوری)
....
چار صدیاں پہلے آیا اک انوکھا انقلاب
محفلِ فطرت میں اک ہنگامہ ہر سو ہو گیا
چاندنی، شبنم، شفق، نکہت، تجلی، کہکشاں
جب ہوئے یکجا تو ان کا نام اردو ہو گیا
لتا حیا
....
سینکڑوں اور بھی دنیا میں زبانیں ہیں مگر
جس پہ مرتی ہے فصاحت وہ زباں ہے اُردو
موج کوثر کی طرح نرم و رواِں ہے اردو
طبع دشمن پہ مگر پھر بھی گراں ہے اردو
....
ریختہ کاہے کو تھا اس رتبۂ اعلیٰ میں میرؔ
جو زمیں نکلی، اسے تا آسماں میں لے گیا
میر تقی میرؔ
....
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے
معتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا
....
کرتا ہے آبیاری لہو سے ادیب جو
وہ دل ہے ، جسم و جان ہے اردو زبان کا
آئیں رکاوٹیں جو ترقی میں اس کی کچھ
سمجھو یہ امتحان ہے اردو زبان کا
پائے گا جلد منزلِ مقصود بالیقیں
جاری جو کاروان ہے اردو زبان کا
عزت سخنورانِ ادب کی اسی سے ہے
شاعرؔ بھی ترجمان ہے اردو زبان کا
شاعر علی شاعر
....
یارب رہے سلامت اردو زباں ہماری
ہر لفظ پر ہے جس کے قربان جاں ہماری
مصری سی تولتا ہے ، شکر سی گھولتا ہے
جو کوئی بولتا ہے میٹھی زباں ہماری
ہندو ہو پارسی ہو عیسائی ہو کہ مسلم
ہر ایک کی زباں ہے اردو زباں ہماری
دنیا کی بولیوں سے مطلب نہیں ہمیں کچھ
اردو ہے دل ہمارا ، اردو ہے جاں ہماری
دنیا کی کل زبانیں بوڑھی سی ہو چکی ہیں
لیکن ابھی جواں ہے اردو زباں ہماری
اپنی زبان سے ہے عزت جہاں میں اپنی
گر ہو زباں نہ اپنی عزت کہاں ہماری
اردو کی گود میں ہم پل کر بڑے ہوئے ہیں
سو جاں سے ہم کو پیاری اردو زباں ہماری
آزاد و میر و غالب آئیں گے یاد برسوں
کرتی ہے ناز جن پر اردو زباں ہماری
افریقہ ہو عرب ہو امریکہ ہو کہ یورپ
پہنچی کہاں نہیں ہے اردو زباں ہماری
مٹ جائیں گے مگر ہم مٹنے نہ دیں گے اس کو
ہے جا ن و دل سے پیاری ہم کو زباں ہماری
(اختر شیرانی)
....
اردو کو آپ تھوپ رہے ہیں جو قوم پر
اردو نوازیوں کے زمانے گزر گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قوم کیسی کس کو اب اردو زباں کی فکر ہے
غم غلط کرنا ہے بس اور آب و ناں کی فکر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہا جو میں نے کہ ان کی ادا انوکھی ہے
کہا بتوں نے کہ اردو میاں کی چوکھی ہے
....
واللہ کیا زباں ہے اردو زباں ہماری
فطرت کی ترجماں ہے اردو زباں ہماری
آبا کی داستاں ہے اردو زباں ہماری
مظلوم کی فغاں ہے اردو زباں ہماری
ہندو بھی بولتے ہیں مسلم بھی بولتے ہیں
دو جسم ایک جاں ہے اردو زباں ہماری
تعمیر کی ہے اس کی خود کو مٹا مٹا کر
اسلاف کا نشاں ہے اردو زباں ہماری
میٹھا اک ایک جملہ پر کیف ہر مقالہ
الحق شکر فشاں ہے اردو زباں ہماری
الفاظ چاند تارے بن کر چمک رہے ہیں
رفعت میں آسماں ہے اردو زباں ہماری
غالبؔ نسیمؔ کیفیؔ چکبستؔ ذوقؔ سرشارؔ
ہر شخص کی زباں ہے اردو زباں ہماری
اک اک کتاب اس کی پھولا پھلا چمن ہے
گلزار بے خزاں ہے اردو زباں ہماری
منشی پریمؔ اس پر ہوتے نہ کیوں تصدق
مانی ہوئی زباں ہے اردو زباں ہماری
ہر آدمی کے دل میں گھر کر رہی ہے شاطرؔ
محبوب مہرباں ہے اردو زباں ہماری
(شاطر حکیمی)
اچھا جتنا بھی ہو لہجہ وہ صدا ہوتی ہے
بات کر لے جو سخن گر تو جدا ہوتی ہے
باغِ اردو کی مہک رازِ خدا ہوتی ہے
کوچہ اردو میں ہوا بادِ صبا ہوتی ہے
حرف ملتے ہیں جو دل سے تو ندا آتی ہے
معنی لفظوں سے ملیں تو وہ ردا ہوتی ہے
شعر پڑھنے پہ یونہی داد نہیں ملتی انہیں
اردو تو شیریں دہن پر ہی فدا ہوتی ہے
سننے والوں کو کسی اور نگر لے جائے
اردو والوں کی زباں رب کی عطا ہوتی ہے
لہجہ مل جائے جو اردو سے تو وہ ناز کرے
اردو لہجے سے ملے تو وہ ادا ہوتی ہے
خوشبو اردو کی نظر آتی ہے دل والوں میں
کھنک اردو کی تو بولی میں سدا ہوتی ہے
آفتاب شاہ
چاند چہرے مجھے اچھے تو بہت لگتے ہیں
عشق میں اس سے کروں گا جسے اردو آئے
عباس تابش
جڑتی نہیں ہے قوم جو اپنی زبان سے
کب سر اٹھا کے جیتی ہے دنیا میں شان سے
ڈاکٹر بدر منیر
اس خوشی کا بیان کیسے ہو
آج اردو میں خواب دیکھا ہے
اسحاق وردگ
کٹھن تھا کھولنا اردو کی زلف کا ہر پیچ
کھلا ضرور ، مگر *مِیر* کے سخن سے کُھلا
*آفتاب مضطر*
آپ کے پیار کا مرکز ہوئی غیروں کی زباں
اور توجہ کی طلبگار زبان اردو
نورین طلعت عروبہ