رمضان میں رہنا ہے دن بھر توانا اور ہائیڈریٹ تو سحری اور افطار میں کریں ان چیزوں کا استعمال
علی گڑھ: رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ رمضان کے مقدس ماہ میں 30 دن کے روزے رکھے جاتے ہیں۔ اس دوران روزہ داروں کو کچھ اہم چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے، تاکہ ان کی صحت پر برا اثر نہ پڑے اور وہ اچھی رہی۔ روزہ دار انسان پورا دن کھانا کھائے بغیر اور پانی پیئے بغیر روزہ رکھتے ہیں۔ جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے روزہ داروں کو موسم کے مطابق کچھ باتوں کا خیال رکھنا چاہیے تو وہ پانی کی کمی جیسے مسائل سے بچ سکتے ہیں اور اپنی صحت کا بھی خیال رکھ سکتے ہیں۔
آسانی سے ہضم ہونے والی غذا کا کریں استعمالڈاکٹر مدنی خان نے بتایا کہ شام کو روزہ افطار کیا جاتا ہے۔ پورا دن کچھ نہیں کھایا پیا ہے۔ زیادہ دیر تک پانی نہیں پینے سے زیادہ تر پانی کی کمی، چکر آنے، گیس، قے جیسی پریشانیاں پیدا ہوسکتی ہیں ۔ ایسے میں افطار کے وقت لئے جانے والے کھانے میں ایسی چیزیں شامل کی جائیں جو آسانی سے ہضم ہوں اور دن بھر جسم میں پانی کی مطلوبہ مقدار موجود رہے۔ شدید گرمی اور دن بھر پانی نہ پینے کی وجہ سے پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ ایسے میں جب بھی آپ کچھ کھاتے یا پیتے ہیں تو ایسی چیزیں ضرور کھائیں جس سے جسم کو مناسب مقدار میں پانی مل سکے۔
کن چیزوں کا کریں استعمال
علی گڑھ میں ایک پرائیویٹ اسپتال چلانے والے ڈاکٹر مدنی خان کا کہنا ہے کہ سحری یا افطار کے دوران ہمیشہ تلی ہوئی چیزیں کم کھائیں کیونکہ ایسا کھانا کھانے سے پیاس لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ سحری کے دوران پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذائیں زیادہ استعمال کریں۔ آپ ملٹی گرین بریڈ، پھلوں کے چھلکے، انڈے، پنیر، چکن وغیرہ کھا سکتے ہیں۔ فائبر سے بھرپور کھانا پیاس کو روکتا ہے اور پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھتا ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ ہری پتوں والی سبزیاں اور سلاد کا استعمال کرنا چاہیے جس میں کھیرا، خربوزہ، تربوز، نارنگی، انگور وغیرہ کھائے جا سکتے ہیں۔سحری کے دوران کیفین والی چیزوں کے استعمال سے بچیں
ان پھلوں میں پانی اور فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ سحری کے دوران کیفین والی اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں۔ چائے یا کافی جسم سے پانی جذب کرتی ہے اور آپ کو بار بار پیاس کا احساس دلاتی ہے۔ چائے اور کافی کی بجائے آپ لیموں کا پانی اور جوس زیادہ پی سکتے ہیں۔ افطار کا آغاز ہلکی پھلکی چیزوں جیسے کھجور، لیمونیڈ یا سوپ سے کریں۔ روزے کی حالت میں نیند بہت ضروری ہے، اس لیے مناسب نیند لیں۔ اگر آپ صبح سحری کی وجہ سے پوری نیند نہیں لے پا رہے ہیں تو آپ دن میں ضرور آرام کر سکتے ہیں۔
اردو کو تکنیکی زبان کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت
بھاگلپور: اردو ڈائریکٹوریٹ، حکومت بہار کے زیر اہتمام بھاگلپور میں واقع ٹاؤن ہال میں ایک روزہ فروغِ اردو سیمینار، مشاعرہ اور ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا افتتاح ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر کم انچارج ڈسٹرکٹ آفیسر، پردیپ کمار سنگھ نے کیا۔ اس موقع پر پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر پردیپ کمار سنگھ نے کہا کہ اردو ایک ایسی زبان ہے جو ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے، اسے ایک تکنیکی زبان کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت ہے۔
پروگرام میں مندوب کی حیثیت سے شامل رہے مونگیر یونیورسٹی کے اردو پی جی شعبہ صدر پروفیسر شاہد رضا جمال نے پروگرام کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور امید جتائی کے اس سے اردو کی ترویج اشاعت میں مدد ملے گی۔
اس موقع پر متھیلیش سنگھ، سینئر ڈپٹی کلکٹر، ڈائریکٹر ڈی ار ڈی اے اور شری رستم علی اسسٹنٹ پروگرام آفیسر (ایجوکیشن) بھاگلپور سمیت دیگر معزز مہمانان بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ ضلع کے تمام اردو اساتذہ کے لیے انتظامیہ کی طرف سے لازمی قرار دیا گیا تھا کہ وہ پروگرام میں شریک رہیں۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر شاہد رضا جمال (ڈاکٹر شاہد رزمی ) نے کی۔
اردوزبان سیل بھاگلپور کے زیر اہتمام منعقدہ اس پروگرام میں ڈاکٹر خالدہ ناز محمد شہاب الدین اور پروفیسر صفدر امام قادری نے بطور مقالہ خواں شرکت کی اور ڈاکٹر تسلیم عارف اور پروفیسر ڈاکٹر شاہد رضا جمال نے مندوبین کے طور پر شرکت کی جبکہ جوثر ایاغ، مظہر مجاہدی، رخشاں ہاشمی، ارشد پرویز، شبیر احمد جعفری، سیدہ محمد حسین ،فیض رحمن فیض، اکرام حسین شاد، کلیم آذر اور محمد معین الدین مہور نے اپنی نظمیں سنائیں۔
سات ستارے ایک ہی لائن میں پہلی بار تصویر میں آگئے
ایک شاندار تصویر نے آسمان میں ہمارے ساتوں پڑوسی سیاروں کو ایک ہی وقت میں کیپچر کیا ہے جو کہ ممکنہ طور پر پہلی بار ہے۔
فلکیاتی فوٹوگرافر جوش ڈوری کی طرف سے کھینچی گئی تصویر میں مریخ، مشتری، یورینس، زحل، زہرہ، نیپچون اور مرکری کو ایک نایاب سیاروں کی پریڈ کی وجہ سے سیدھ میں دکھایا گیا ہے۔
یہ سیاروں کی پریڈ 1982 کے بعد پہلی بار حال ہی میں ہوئی۔ 1982 میں ناسا کے وائجر 1 نے خلا سے آسمان کے تمام سیاروں کو ایک ساتھ کیپچر کیا تھا۔
زمینی کیمرے حال ہی میں اتنے ترقی یافتہ ہوئے ہیں کہ ان سیاروں کو ایک لائن میں کیپچر کرسکیں۔