Saturday, 1 March 2025

*🔴سیف نیوز اردو*









جموں و کشمیر: فروری 2025 میں تین ہلاکتیں ریکارڈ، 25 سالوں میں گذشتہ ماہ سب سے زیادہ پرامن رہا
سرینگر: جموں و کشمیر میں فروری 2025 کے دوران صرف تین ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں جبکہ گزشتہ 25 سالوں میں فروری کا مہینہ دوسرا سب سے پرامن ماہ رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، خطے میں اس ماہ دو الگ الگ واقعات میں ایک شہری (سابق فوجی) اور دو فوجی اہلکاروں ہلاک ہوگئے۔

"پہلا واقعہ 3 فروری کو پیش آیا۔ ایک ریٹائرڈ فوجی، جس کی شناخت منظور احمد وگے کے طور پر ہوئی تھی۔ نامعلوم بندوق برداروں نے ضلع کولگام کے بیہی باغ علاقے میں ان پر حملہ کردیا تھا۔ فائرنگ کے واقعہ میں منظور احمد، ان کی اہلیہ اور بھتیجی زخمی ہوگئے تھے۔ دوسرا واقعہ، 11 فروری کو پیش آیا جس میں کیپٹن کرم سنگھ اور ایک فوجی اہلکار منجیت سنگھ ہلاک ہوگئے۔ جموں ضلع کے اکھنور تحصیل کے بھٹل گاؤں کے لالالی علاقے میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب مشتبہ عکسریت پسندوں نے دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی) دھماکہ کیا تھا جس میں دونوں فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

فوجی اہلکار نے بتایا کہ "2025 کے اعداد و شمار فروری 2013 کے اعداد و شمار سے ملتے جلتے ہیں، 2013 میں دو عسکریت پسند اور ایک عام شہری مارا گیا تھا جبکہ 2025 میں ایک عام شہری سمیت دو فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔
جموں و کشمیر پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، فروری 2001 میں، جموں و کشمیر میں 222 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 72 شہری، 45 سیکورٹی اہلکار، 100 عسکریت پسند اور پانچ نامعلوم افراد شامل تھے۔ 2002 میں یہ تعداد کم ہو کر 208 ہو گئی، جس میں 58 شہری، 20 سکیورٹی اہلکار، 129 عسکریت پسند اور ایک نامعلوم شخص مارا گیا۔ وہیں فروری 2000 میں عسکریت پسندی سے متعلق کوئی ہلاکتیں رپورٹ نہیں ہوئیں تھی۔

"جموں و کشمیر میں 2003 سے 2010 کے درمیان کل 536 افراد مارے گئے، جن میں 114 عام شہری، 77 سیکورٹی اہلکار، 344 عسکریت پسند اور ایک نامعلوم فرد شامل تھا۔ ان سالوں میں سب سے زیادہ اموات 2004 میں ہوئیں۔ اس دوران 156 افراد مارے گئے، جن میں 87 عسکریت پسند، 25 سیکیورٹی فورسز اور 44 عام شہری شامل تھے۔ 2011 سے 2020 تک کل 186 ہلاکتیں ہوئیں جن میں 17 شہری، 77 سیکورٹی اہلکار اور 92 عسکریت پسند شامل تھے۔اعداد و شمار کے بارے میں بات کرتے ہوئے، پولیس اہلکار نے کہاکہ "2005 کے آغاز کے بعد ماہ فروری پرامن رہا۔ 2019 میں ماہ فروری کے دوران تقریباً 40 سی آر پی ایف اہلکار عسکریت پسندانہ حملے میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جموں اور کشمیر میں انسدادی کارروائیوں کی وجہ سے حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں۔ سیکورٹی گرڈ اور بہتر انٹیلی جنس نیٹ ورک کی وجہ سے علاقے میں مقامی عسکریت پسندوں کی بھرتی میں کمی آئی ہے جبکہ سیکورٹی فورسز اپنی لگن اور بہتر کوآرڈینیشن کے ذریعہ غیر ملکی عسکریت پسندوں سے نمٹ رہے ہیں۔

جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے فراہم کردہ جانکاری کے مطابق ہلاکتوں کی تفصیلات:سال: 2000

کل ہلاکتیں: 0

عام شہری: 0

سیکیورٹی فورسز: 0

عسکریت پسند: 0

نامعلوم: 0

سال: 2001

کل ہلاکتیں: 222

عام شہری: 72

سیکورٹی فورسز: 45

عسکریت پسند: 100

نامعلوم: 5

سال: 2002

کل ہلاکتیں: 208

عام شہری: 58

سیکورٹی فورسز: 20

عسکریت پسند: 129

نامعلوم: 1

سال: 2003

کل ہلاکتیں: 120

عام شہری: 32

سیکورٹی فورسز: 11

عسکریت پسند: 76

نامعلوم: 1سال: 2004

کل ہلاکتیں: 156

عام شہری: 44

سیکیورٹی فورسز: 25

عسکریت پسند: 87

نامعلوم: 0

سال: 2005

کل ہلاکتیں: 69

عام شہری: 13

سیکورٹی فورسز: 9

عسکریت پسند: 47

نامعلوم: 0

سال: 2006

کل ہلاکتیں: 66

عام شہری: 14

سیکورٹی فورسز: 7

عسکریت پسند: 45

نامعلوم: 0

سال: 2007

کل ہلاکتیں: 44

عام شہری: 8

سیکورٹی فورسز: 12

عسکریت پسند: 24

نامعلوم: 0

سال: 2008

کل ہلاکتیں: 38

عام شہری: 1سیکورٹی فورسز: 4

عسکریت پسند: 33

نامعلوم: 0

سال: 2009

کل ہلاکتیں: 11

عام شہری: 0

سیکورٹی فورسز: 3

عسکریت پسند: 8

نامعلوم: 0

سال: 2010

کل ہلاکتیں: 32

عام شہری: 2

سیکورٹی فورسز: 6

عسکریت پسند: 24

نامعلوم: 0

سال: 2011

کل ہلاکتیں: 6

عام شہری: 3

سیکیورٹی فورسز: 0

عسکریت پسند: 3

نامعلوم: 0

سال: 2012

کل ہلاکتیں: 7

عام شہری: 2

سیکیورٹی فورسز: 0

عسکریت پسند: 5

نامعلوم: 0

سال: 2013

کل ہلاکتیں: 3

عام شہری: 1

سیکیورٹی فورسز: 0

عسکریت پسند: 2

نامعلوم: 0

سال: 2014

کل ہلاکتیں: 12

عام شہری: 1

سیکیورٹی فورسز: 0

عسکریت پسند: 11

نامعلوم: 0

سال: 2015

کل ہلاکتیں: 8

عام شہری: 0

سیکیورٹی فورسز: 0

عسکریت پسند: 8

نامعلوم: 0

سال: 2016کل ہلاکتیں: 21

عام شہری: 1

سیکورٹی فورسز: 7

عسکریت پسند: 13

نامعلوم: 0

سال: 2017

کل ہلاکتیں: 23

عام شہری: 3

سیکورٹی فورسز: 9

عسکریت پسند: 11

نامعلوم: 0

سال: 2018

کل ہلاکتیں: 23

عام شہری: 4

سیکورٹی فورسز: 11

عسکریت پسند: 8

نامعلوم: 0

سال: 2019

کل ہلاکتیں: 70

عام شہری: 1

سیکورٹی فورسز: 49

عسکریت پسند: 20

نامعلوم: 0

سال: 2020

کل ہلاکتیں: 13

عام شہری: 1

سیکورٹی فورسز: 1

عسکریت پسند: 11

نامعلوم: 0

سال: 2021کل ہلاکتیں: 13

عام شہری: 1

سیکورٹی فورسز: 3

عسکریت پسند: 9

نامعلوم: 0

سال: 2022

کل ہلاکتیں: 11

عام شہری: 1

سیکورٹی فورسز: 3

عسکریت پسند: 7

نامعلوم: 0

سال: 2023

کل ہلاکتیں: 5

عام شہری: 1

سیکورٹی فورسز: 1

عسکریت پسند: 3

نامعلوم: 0

سال: 2024

کل ہلاکتیں: 2

عام شہری: 2

سیکیورٹی فورسز: 0

عسکریت پسند: 0نامعلوم: 0

سال: 2025

کل ہلاکتیں: 3

عام شہری: 1

سیکورٹی فورسز: 2

عسکریت پسند: 0

نامعلوم: 0









رمضان کی مسنون دعائیں، اگر یاد نہیں تو ابھی یاد کر لیں

رمضان کی مسنون دعائیں، اگر یاد نہیں تو ابھی یاد کر لیں 

رمضان میں چاند دیکھنے سے لے کر سحری و افطار تک، نیز تینوں عشروں کی الگ الگ دعائیں منقول ہیں۔
رمضان کی مسنون دعائیں
رمضان کی مسنون دعائیں 

نیا چاند دیکھنے کی دعا

اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهٗ عَلَيْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ وَالتَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی، رَبِّيْ وَرَبُّكَ اللّٰهُ

ترجمہ: اے اللہ! تو اسے ہم پر برکت، ایمان، سلامتی اور اسلام اور ان (کاموں کی) توفیق کے ساتھ جلوہ فگن رکھ جنہیں تو پسند کرتا ہے اور جن سے تو راضی ہوتا ہے۔ (اے چاند) میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔

رمضان کے آغاز کی دعا

اللَّهُمَّ سَلِّمْنِي مِنْ رَمَضَانَ، وَسَلِّمْ رَمَضَانَ لِي، وَتَسَلَّمْهُ مِنِّي مُتَقَبَّلًا

ترجمہ: اے اللہ! تو رمضان میں مجھے سلامت رکھ، رمضان کو میرے لیے سلامت رکھ اور اس مہینے کو میری طرف سے قبول فرما۔​

سحر میں پڑھنے کی دعا

یا واسع المغفرہ

ترجمہ: اے سب سے زیادہ بخشنے والے

سحری کھانے کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلٰی بَرَكَةِ اللّٰهِ

ترجمہ: اللہ کے نام سے اور اللہ کی برکت پر (میں نے کھانا شروع کیا)۔





عمر عبداللہ کی محکمہ بجلی کو ہدایت، رمضان کے دوران بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں
سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے محکمہ بجلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ رمضان کے دوران بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے محکمہ سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ رمضان کے مہینے میں سحری اور افطار کے وقت بجلی کی کٹوتی نہ ہو۔

عبداللہ نے اتوار سے شروع ہونے والے ماہ رمضان کے لیے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام منتخب حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ انہیں اس مقدس مہینے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔

عبداللہ نے کہا کہ چونکہ رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہو رہا ہے اس لیے لوگ پر امید ہیں کہ حکومت تمام ضروری اقدامات کرے گی تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ لوگ چاہتے ہیں اور ہم کوشش کریں کہ سحری اور افطار کے دوران بجلی کی کٹوتی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ضروری کٹوتیوں کی اچھی طرح سے منصوبہ بندی کی جانی چاہئے اور ایک مناسب ٹائم ٹیبل کے مطابق دن کے وقت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ضروری ہو وہاں دیکھ بھال کا کام بھی صرف دن کے وقت ہی کیا جائے۔
انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ سسٹم سے متعلق مسائل یا خراب ٹرانسفارمرز کو فوری طور پر حل کریں تاکہ خلل سے بچا جا سکے۔ پانی کی فراہمی کے بارے میں، عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ حالیہ برف باری اور بارش کی وجہ سے صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیکن انہوں نے گھروں کو پینے کے پانی کی مناسب فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔

سی ایم عبداللہ نے کہا کہ اللہ کے فضل سے پچھلے کچھ دنوں میں ہونے والی بارش اس سلسلے میں فائدہ مند رہی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ خاص طور پر مساجد اور مذہبی مقامات کے ارد گرد صفائی، ٹریفک کے انتظام اور حفاظتی انتظامات پر توجہ دیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...