Sunday, 23 March 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






سنبھل تشدد : شاہی جامع مسجد کے سربراہ ظفر علی کو گرفتار کیا گیا
سنبھل : اترپردیش میں سنبھل تشدد معاملے میں اب تک کی سب سے بڑی گرفتاری ہوئی ہے۔ جامع مسجد کے سربراہ ظفر علی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سنبھل پولیس کے مطابق ظفر علی کو 24 نومبر 2024 کو ہوئے تشدد کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتاری پوچھ گچھ کے بعد کی گئی ہے۔ ظفر کو جلد چندوسی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ صدر ظفر علی کو پولیس نے آج اتوار کی سہ پہر حراست میں لے لیا۔ اسے اس کے گھر سے اٹھا کر سنبھل پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ جہاں گزشتہ سال 24 نومبر کو ہوئے تشدد کے سلسلے میں ایس آئی ٹی نے ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔

ظفر علی نے شاہی جامع مسجد کمیٹی کے وکیل ہیں۔ ظفر کو 24 نومبر کو ہونے والے تشدد کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس تشدد میں چار افراد مارے گئے۔ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے تھانے میں PAC اور RRF سمیت بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ اس کے بعد فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔
بتا دیں کہ گزشتہ سال 24 نومبر کو سنبھل میں جامع مسجد سروے کو لے کر تشدد ہوا تھا۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ پہلے ہری ہر مندر تھا جسے بابر نے 1529 میں مسمار کر کے مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس کے بارے میں سنبھل کورٹ میں 19 نومبر 2024 کو ایک عرضی دائر کی گئی تھی۔ اسی دن سول جج سینئر ڈویژن آدتیہ سنگھ نے مسجد کے اندر سروے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد جب مسجد کے اندر سروے کیا جا رہا تھا۔ پھر باہر تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس میں چار افراد کی موت ہوگئی تھی ۔سنبھل تشدد کیس میں اب تک پولس 50 سے زیادہ لوگوں کو جیل بھیجا جاچکا ہے جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب شاہی جامع مسجد کمیٹی کے سربراہ سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔









جموں وکشمیر : راجوری میں سیکورٹی فورسیز کی گاڑی کے قریب دھماکہ، سیکورٹی فورسز الرٹ موڈ پر
جموں : جمعرات کو راجوری کے تھانہ منڈی علاقے میں دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسیز کی گاڑی پر حملہ کردیا۔ واقعے کے فوری بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیا۔ پولیس اور فوج کی ایک ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے۔ یہی نہیں گھنے جنگلات میں سیکورٹی فورسز کو الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔ تاہم راحت والی بات یہ ہے کہ اس حملے میں سبھی پولیس اہلکار محفوظ ہیں۔اس سے پہلے، سیکورٹی فورسز نے بدھ کو جموں و کشمیر کے بانڈی پورہ اور پلوامہ اضلاع سے دو آئی ای ڈی برآمد کئے۔ پولیس کے مطابق بانڈی پورہ سری نگر قومی شاہراہ پر سن سیٹ پوائنٹ کے قریب ایک آئی ای ڈی برآمد کیا گیا۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) نے بغیر کسی نقصان کے بم کو ناکارہ بنا دیا۔
اہلکار نے بتایا کہ اس کے علاوہ سیکورٹی فورسز نے جنوبی کشمیر میں پلوامہ ضلع کے اونتی پورہ علاقے کے گھاٹ توکونا گاؤں میں سڑک کے کنارے سے ایک پریشر کوکر آئی ای ڈی برآمد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریپڈ ایکشن فورس نے بی ڈی ایس اسکواڈ کے ساتھ مل کر اسے ناکارہ بنا دیا۔افسر نے بتایا کہ الگ کیے گئے حصوں کو تفتیش کے لیے لے جایا گیا ہے۔









بنگلہ دیش میں فوج کر رہی ہے بغاوت کی تیاری، ڈھاکہ میں بکتر بند گاڑیاں کر رہی ہے تعینات
بنگلہ دیش کی فوج محمد یونس کی نگراں حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ہم ایسا کوئی دعویٰ نہیں کر رہے لیکن بنگلہ دیش سے آنے والی خبریں کچھ ایسا ہی اشارہ دے رہی ہیں۔ فوج نے جمعہ کو 9ویں ڈویژن کے فوجیوں کو بکتر بند گاڑیوں میں بڑی تعداد میں ڈھاکہ میں جمع ہونے کا حکم جاری کیا۔ ہر بریگیڈ سے 100 فوجی تعینات ہیں۔ یہ قدم بنگلہ دیشی فوج اور طلباء کے درمیان کشیدگی کے درمیان اٹھایا گیا ہے۔ ایسے میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ آرمی چیف تمام غلطیوں کا ذمہ دار محمد یونس کو ٹھہرا کر ملک میں دوبارہ اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتے ہیں۔

شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں نئی ​​حکومت کے قیام تک محمد یونس کو عبوری حکومت کا سربراہ بنا دیا گیا۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ یونس بنگلہ دیش کے ڈوبتے جہاز کو بچا لیں گے لیکن ان کے دور میں نہ صرف بھارت کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے بلکہ امریکہ کے ساتھ بھی حالات زیادہ دیر تک اچھے نہ رہے۔ بنگلہ دیش کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع نے بتایا کہ فوج کو ملک پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں مزید چند دن لگیں گے۔ جس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔بنگلہ دیشی فوج کیوں ہے خوفزدہ؟

بنگلہ دیش کی فوج کے 10 ڈویژن ہیں۔ 9 ویں انفنٹری ڈویژن ساور میں واقع ہے، جبکہ فارمیشن 19 ویں انفنٹری ڈویژن گھٹائیل میں تعینات ہے۔ بنگلہ دیشی فوج کے خوف کی بہت سی وجوہات ہیں۔ حال ہی میں دیہی ترقی اور کوآپریٹو کی وزارت کے مشیر آصف محمود شاجیب بھویاں کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ آرمی چیف جنرل وقار الزمان نہیں چاہتے تھے کہ نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کو عبوری اتھارٹی کا سربراہ بنایا جائے، تاہم انہوں نے اس پر اتفاق کیا۔ اس سے قبل ایک طالب علم رہنما حسنات عبداللہ نے 11 مارچ کو جنرل زمان سے خفیہ ملاقات کے بعد عوامی سطح پر فوج کے خلاف تحریک چلانے کی دھمکی دی تھی۔ ایسے میں آرمی چیف حکومت سے ناراض ہیں۔
فوج میں طلبہ کی تحریک کا خوفبنگلہ دیشی فوج کو خدشہ ہے کہ بھویاں کے انکشافات اور عبداللہ کی فیس بک پوسٹ کے بعد طلبہ کی نئی تحریک جنم لے سکتی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ فوج سخت کارروائی کرے گی یا نہیں۔ یونس 26 مارچ کو تین روزہ دورے پر چین جا رہے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال خراب ہونے پر یونس اپنا دورہ چین منسوخ کر سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں زیادہ تر لوگ 11 مارچ کے اجلاس کی تفصیلات سے حیران رہ گئے، جو آرمی چیف کو “بری روشنی” میں دکھانے اور ایک ناکام تحریک کو بحال کرنے کی کوشش کے طور پر عام کی گئی تھیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...