Sunday, 23 March 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





شبِ قدر: رمضان کی سب سے مبارک رات، جب رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
لیلتہ القدر رمضان المبارک کی سب سے بابرکت اور عظیم رات ہے، جسے “شبِ قدر” بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رات کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے، یعنی اس ایک رات کی عبادت 83 سال 4 مہینے کی عبادت سے زیادہ اجر رکھتی ہے۔ لیلتہ القدر وہ عظیم رات ہے جس میں اللہ کی رحمتیں اور مغفرت برستی ہیں۔ اس رات کو عبادت، دعا، ذکر اور استغفار میں گزاریں تاکہ اللہ کی قربت، مغفرت اور بے شمار اجر حاصل کر سکیں۔

لیلتہ القدر کی فضیلت
قرآن مجید میں اس کا ذکر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “ہم نے اس (قرآن) کو لیلتہ القدر میں نازل کیا۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ لیلتہ القدر کیا ہے؟ لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔”گناہوں کی مغفرت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا “جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے لیلتہ القدر میں عبادت کرے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں: اس رات اللہ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام سمیت فرشتے زمین پر آتے ہیں اور اللہ کی رحمت اور سلامتی پھیلاتے ہیں۔

تقدیر کے فیصلے لکھے جاتے ہیں: اس رات میں پورے سال کے مقدرات لکھے جاتے ہیں، یعنی زندگی، موت، رزق اور دیگر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

لیلتہ القدر کون سی رات کو ہوتی ہے؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ لیلتہ القدر رمضان کے آخری 10 دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو (21ویں، 23ویں، 25ویں، 27ویں، 29ویں)۔
زیادہ تر علماء اور امت کا رجحان 27ویں شب پر ہے، لیکن یقین کے ساتھ کسی مخصوص رات کا تعین نہیں کیا گیا۔

لیلتہ القدر میں کیا عبادات کرنی چاہئیں؟
نوافل پڑھیں: زیادہ سے زیادہ نفل نماز پڑھیں، خاص طور پر تہجد اور صلاۃ التسبیح۔
قرآن مجید کی تلاوت کریں: اس رات قرآن سے جُڑنا سب سے بڑی عبادت ہے۔
دعا اور استغفار کریں: نبی کریم ﷺ نے لیلتہ القدر میں یہ دعا سکھائی: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما)۔
درود شریف کی کثرت کریں: نبی کریم ﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجیں۔
صدقہ و خیرات کریں: اس رات میں دیا گیا صدقہ کئی گنا زیادہ اجر رکھتا ہے۔
اللہ سے حاجات مانگیں: اپنی دنیاوی اور آخرت کی تمام حاجات اللہ سے طلب کریں۔لیلتہ القدر وہ عظیم رات ہے جس میں اللہ کی رحمتیں اور مغفرت برستی ہیں۔ اس رات کو عبادت، دعا، ذکر اور استغفار میں گزاریں تاکہ اللہ کی قربت، مغفرت اور بے شمار اجر حاصل کر سکیں۔







بچوں کا حد سے زیادہ سکرین ٹائم ان کی ذہنی صحت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
آج کے دور میں بچوں کا حد سے زیادہ سکرین ٹائم ایک تشویشناک مسئلہ بن گیا ہے۔ سکرینز ہماری زندگیوں کا ایک اہم حصہ بن گئی ہیں۔ لیکن پہلے ہمیں سمجھنا ہو گا کہ سکرین ٹائم کا مطلب کیا ہے؟
این ڈی ٹی وی کے مطابق سکرین ٹائم وہ کُل وقت ہے جو روزانہ سکرین دیکھنے میں صرف ہوتا ہے جیسے کہ موبائل فون، ٹی وی، کمپیوٹر، ٹیبلیٹ، یا ہاتھ سے پکڑے ہوا کوئی بصری آلہ۔
جس طرح ہم متوازن غذا کھاتے ہیں، اسی طرح سکرینوں کو بھی صحیح طریقے سے منتخب کرنے اور صحیح مقدار اور صحیح وقت پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔سکرین کا وقت ہمارے استعمال کے طریقے کی بنیاد پر صحت مند یا غیرصحت بخش ہو سکتا ہے۔ تعلیمی، سماجی سرگرمیوں جیسے سکول کا کام، دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ بات چیت کے لیے سکرین پر وقت گزارنا صحت مند طریقہ ہے، جبکہ نامناسب ٹی وی شو دیکھنا، غیرمحفوظ ویب سائٹس پر جانا، نامناسب پُرتشدد ویڈیو گیمز کھیلنا غیرصحت مند سکرین ٹائم کی کچھ مثالیں ہیں۔
انڈین اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کی سکرین ٹائم گائیڈلائنز کے مطابق دو برس سے کم عمر کے بچوں کو کسی بھی قسم کی سکرین کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ دو سے پانچ برس کی عمر کے بچوں کے لیے یہ دورانیہ ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
بڑے بچوں اور نوعمروں کے لیے ضروری ہے کہ سکرین کے وقت کو دیگر سرگرمیوں جیسے جسمانی سرگرمی، مناسب نیند، سکول کے کام کے لیے وقت، کھانے، مشاغل، اور خاندانی وقت کے ساتھ متوازن رکھیں۔سکرین کے زیادہ استعمال کے مضر اثرات
سکرین کا زیادہ استعمال چھوٹے بچوں سے لے کر نوعمروں تک تمام عمر کے بچوں کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ بچوں میں تاخیر سے بولنے، جارحیت، تشدد، فوری تسکین کی خواہش، نظرانداز ہونے کا خوف، چھوڑے جانے کا خوف، منشیات کے استعمال، خود کو نقصان پہنچانے، اضطراب اور ڈپریشن کا باعث بن سکتا ہے۔
سکرین کا حد سے زیادہ استعمال نہ صرف ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ بالواسطہ طور پر جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔









اسرائیل کے فضائی حملوں میں حماس رہنما سمیت 19 فلسطینی ہلاک
جنوبی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں میں حماس کے سینیئر سیاسی رہنما سمیت کم از کم 19 فلسطینی ہلاک ہوئے۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دوسری طرف یمن میں ایران کے حمایت یافتہ اور حماس کے اتحادی حوثی باغیوں نے اسرائیل پر میزائل حملہ کیا، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسے ناکام بنا دیا گیا۔
اتوار کو اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر رفع کے لوگوں سے اپیل کی وہ علاقے کو خالی کر دیں کیونکہ وہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ علاقے میں اس حوالے پمفلٹ بھی گرائے گئے۔جنوبی غزہ میں دو ہسپتالوں نے کہا کہ وہاں 17 لاشیں لائی گئیں جن میں کئی بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔ یورپی ہسپتال نے کہا کہ خان یونس میں مرنے والوں میں پانچ بچے اور ان کے والدین شامل تھے۔ ایک اور حملے میں دو بچیاں اور ان کے والدین تھے۔ کویتی ہسپتال نے کہا کہ ایک خاتون اور بچے کی لاش لائی گئی۔
حماس نے کہا کہ خان یونس کے پاس فلسطینی پارلیمنٹ اور پولیٹیکل بیورو کے ممبر صالح بردیول اور ان کی اہلیہ ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے۔
اسرائیل نے گذشتہ ہفتے حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی ختم کر دی تھی اور فضائی حملے شروع کیے تھے جس میں سینکڑوں فلسطینی مارے گئے تھے۔
یمنی باغیوں کو نشانہ بنانے والے حالیہ امریکی حملوں کے باوجود حوثیوں نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اسرائیل پر اپنے حملے دوبارہ شروع کیے۔
جنوری میں ہونے والی جنگ بندی نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی 15 ماہ کی شدید لڑائی کو روک دیا تھا۔
25 اسرائیلی یرغمالیوں اور دیگر آٹھ افراد کی لاشیں سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیل کے حوالے کی گئی تھیں۔
فریقین کو جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر فروری کے شروع میں بات چیت کا آغاز کرنا تھا جس میں حماس کو باقی 59 یرغمالیوں کو رہا کرنا تھا جن میں سے 35 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم یہ مذاکرات شروع نہیں ہو سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...