Wednesday, 12 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






اسرائیل نے حماس کے ساتھ مذاکرات ملتوی کر دیئےاسرائیل نے غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ مذاکرات دوسرے مرحلے کے لیے معطل کر دیے ہیں جب تک کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں 9 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی طے نہیں ہو جاتی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں ایک نامعلوم عہدیدار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اُمید ہے کہ حماس ان 9 زندہ قیدیوں کو حوالے کرے گی جنہیں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں آنے والے دنوں میں رہا کرنا ہے۔

بیان کے مطابق اسرائیل جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں جانے کے لیے مذاکرات میں اس وقت تک حصہ نہیں لے گا جب تک کہ زیر بحث 9 قیدیوں کو رہائی نہیں مل جاتی۔

ایک ویڈیو پیغام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اگر حماس نے ہفتے کی دوپہر تک ہمارے قیدیوں کو رہا نہیں کیا تو جنگ بندی ختم ہو جائے گی اور اسرائیل اپنے شدید حملوں کا سلسلہ شروع کردے گا۔ جو اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حماس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حماس کی عسکری شاخ عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے اعلان کیا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے کا عمل، جو 15 فروری کو ہونا تھا، اس بنیاد پر معطل کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا جن میں سے زیادہ تر زندہ تھے۔



برطانوی حکومت کا غیر قانونی تارکین کو شہریت نہ دینے کا فیصلہبرطانوی حکومت نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ملک پہنچنے کے بعد غیر قانونی تارکین کی جانب سے شہریت کے حصول کو تقریباً ناممکن بنانے کے لیے امیگریشن قوانین کو سخت کر رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شہریت کے قوانین کے حوالے سے جاری نئی گائیڈنس کے مطابق سمندر کے ذریعے یا گاڑیوں میں چھپ کر برطانیہ آنے والے تارکین وطن کو شہریت نہیں دی جائے گی۔
برطانیہ کے محکمہ داخلہ کے ایک ترجمان کے مطابق اس گائیڈنس نے ان اقدامات کو مزید سخت کیا ہے جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ برطانیہ میں غیرقانونی داخل ہونے والے افراد بشمول کشتیوں سے آنے والوں کی شہریت کی درخواستیں مسترد ہوں۔
وزیراعظم کیئر سٹارمر کی لیبر پارٹی کی حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ برطانیہ آنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد کو کم کرے کیونکہ گذشتہ عام انتخابات میں تارکین وطن مخالف انتہائی دائیں بازو کی جماعت ریفارم پارٹی نے 40 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔
تاہم ان ضوابط میں تبدیلیوں پر لیبر پارٹی کے کچھ اراکین پارلیمان نے تنقید کی ہے۔
ممبر پارلیمان سٹیلا کریسی نے ایکس پر لکھا کہ ’اگر ہم کسی کو ریفیوجی کا درجہ دیتے ہیں تو پھر یہ غلط ہوگا کہ ہم ان کے لیے شہریت حاصل کرنے کا راستہ ہی بند کر دیں۔‘
’یہ پالیسی ان کو ہمیشہ کے لیے دوسرے درجے کا فرد بنا دے گی۔‘
امیگریشن قوانین کے حوالے سے بلاگ ’فری مومنٹ‘ کا کہنا ہے کہ مذکورہ تبدیلیوں سے ایک بڑی تعداد میں تارکین وطن فوری اور موثر طور پر برطانوی شہری بننے سے محروم ہو جائیں گے۔
فری مومنٹ کے مطابق یہ گائیڈنس ’غیر معمول طور پر نفرت انگیز اور انضمام کے لیے نقصاندہ ہے۔‘
حکومت کی جانب سے یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے اراکین پارلیمان نے حکومت کے نئے ’بارڈر سکیورٹی، اسائلم اور امیگریشن بل‘ پر بحث کا آغاز کیا۔
اس بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انسداد دہشت گردی کی طرز پر اختیارات دیے جائیں گے جن کو استعمال کرکے وہ ان منظم گینگز کی سرکوبی کرسکیں گے جو رودبار انگلستان کے ذریعے غیرقانونی تارکین کو برطانیہ پہنچاتے ہیں۔
برطانیہ پہنچنے والے قانونی اور غیرقانوی تارکین دونوں کی تعداد اس وقت تاریخی طور پر بہت زیادہ ہے۔ 2024 کے انتخابات کے دوران تارکین وطن کا ایشو بڑا انتخابی ایشو تھا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں کیئر سٹارمر اقتدار میں آئے تھے۔
عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم سٹارمر نے اپنے پیش رو رشی سونک کے غیرقانوی تارکین کو روکنے کے منصوبے کو ختم کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت برطانیہ پہنچنے والے غیرقانونی تارکین کو روانڈا ڈی پورٹ کیا جانا تھا۔
وزیراعظم سٹارمر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ روانڈا پلان کے بجائے ان گینگز کو توڑ کر غیرقانونی تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو کم کریں گے جو ان کو برطانیہ لاتے ہیں۔
برطانیہ کی وزارت داخلہ کے غیر حتمی اعداد و شمار کے مطابق فرانس اور برطانیہ کے درمیان انگلش چینل (رودبار انگلستان) سے 2024 کے دوران 36 ہزار 816 افراد گزرے جو کہ 2023 کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔
2023 کے دوران 29 ہزار 437 افراد گزرے تھے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین کے حوالے سے شہریت کے ضوابط میں تبدیلی سے پاکستان سمیت مختلف ممالک سے برطانیہ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن متاثر ہوں گے۔



پاکستان کی فضاؤں میں مودی کا طیارہ 46 منٹ تک کیوں اڑتا رہا؟ وجہ سامنے آگئی - MODI PAKISTAN AIR SPACE
نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے طیارے ’انڈیا 1‘ نے نئی دہلی سے پیرس کے سفر کے دوران پاکستان کی فضائی حدود استعمال کی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب افغان فضائی حدود بند تھی۔ جس کی وجہ سے بھارتی طیارے کو اجازت لے کر پاکستان کی سرحد کے اندر پرواز کرنا پڑی۔ اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ایم مودی کا طیارہ شیخ پورہ، حافظ آباد، چکوال اور کوہاٹ جیسے پاکستانی علاقوں سے گزرا اور تقریباً 46 منٹ تک پاکستانی فضائی حدود میں رہا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی وزیراعظم کے طیارے نے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کی ہو۔ اس سے قبل اگست 2024 میں یوکرین سے دہلی کے دورے کے دوران پی ایم مودی کے طیارے نے بھی پاکستانی فضائی حدود کا استعمال کیا تھا۔ اس وقت بھی طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا اور 46 منٹ تک وہاں رہا۔ یہ طیارہ پہلے چترال کے راستے پاکستان میں داخل ہوا اور امرتسر سے پہلے اسلام آباد اور لاہور کے ایئر کنٹرول زونز سے گزرا۔

فضائی حدود کی پابندی اور اس کی وجہ
پلوامہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے درمیان پاکستان نے 2019 میں اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔ اس حملے میں پیرا ملٹری پولیس کے 44 اہلکار ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود پر کئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ تاہم، مارچ 2019 میں، پاکستان نے ان پابندیوں کو ہٹا دیا اور شہری پروازوں کے لیے اہم ٹرانزٹ ایئر کوریڈور کو دوبارہ کھول دیا۔

اثرات اور سفارتی تعلقات

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کئی معاملات پر سفارتی تناؤ رہا ہے، خاص طور پر جموں و کشمیر سے متعلق مسائل پر۔ اگست 2019 میں، بھارت نے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو گئے۔ دونوں ممالک نے اپنے سفارتی تعلقات کو کم کر دیا اور دو طرفہ تجارت معطل کر دی۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی حدود کے استعمال پر کئی بحثیں اور تنازعات ہوئے ہیں، لیکن وزیر اعظم مودی کا دورہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض حالات میں تقاضے جغرافیائی اور سفارتی حدود سے تجاوز کر سکتے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...