Monday, 10 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





داخلی عازمین کو حج پیکج کی 3 قسطوں میں ادائیگی کی سہولت
سعودی وزارت حج و عمرہ نے اس سال حج 1446ھ مطابق 2025 کے لیے داخلی عازمین کی کمپنیوں کے پیکجز کا شیڈول بنایا ہے۔ جس کے تحت عازمین پیکج کی رقم 3 قسطوں میں ادا کر سکیں گے۔
عکاظ اخبار کے مطابق وزارت نے وضاحت کی پہلی قسط 20 فیصد ہوگی جس کی ادائیگی بکنگ کی تاریخ کے 72 گھنٹوں کے اندر کرنا لازمی ہوگی۔
وزارت کا کہنا ہے دوسری اور تیسری قسط 40، 40 فیصد ہوگی۔ دوسری قسط کی ادائیگی 20 رمضان 1446ھ مطابق 20 مارچ 2025 تک کرنا ہوگی۔ تیسری اور آخری قسط کی ادائیگی اس کے ایک ماہ بعد یعنی 20 شوال 1446ھ مطابق 18 اپریل 2025 تک کرنا ضروری ہوگی۔
 ہر قسط کی ادائیگی کی الگ الگ انوائس جاری کی جائے گی۔ ریزرویشن کا سٹیٹس ’غیرمصدقہ‘ ظاہر ہوگا جب تک کہ تیسری قسط کی ادائیگی مکمل نہ ہوجائے۔ پیکج کی پوری رقم یکمشت بھی ادا کی جا سکتی ہے۔
وزارت حج نے کہا کہ سعودی شہری اور مقیم غیرملکیوں کے لیے ضروری ہے کہ حج کے لیے ان کی عمر ہجری کیلنڈر کے مطابق کم از کم 15 برس ہو۔ خلیجی ممالک کے شہری یا وزٹ ویزے یا ورک ویزے پر آنے والے حج کے لیے درخواست نہیں دے سکتے۔ صرف شہری اور اقامہ ہولڈر ہی حج کے لیے درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔
 پہلی مرتبہ حج کا ارادہ کرنے والے پہلی ترجیح ہوں گے اس شرط سے حج کا ارادہ کرنے والی ایسی خاتون کا محرم مستثنی ہوگا۔ بچوں کو ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہوگی اس کے علاوہ 2 ویکسین سیزنل انفلوائنزا اور میننجائٹس لازمی ہیں۔



بے روزگاری میں ذہن کو ’شیطان کا گھر‘ بننے سے کیسے بچایا جائے؟
بے کاری کی حالت میں جسم کی اوپری منزل میں پڑی سب سے اہم شے کو ’شیطان کا گھر‘ کہا گیا ہے، اس وقت وہاں جانے کیا کچھ چل رہا ہوتا ہے، ایسا ہوتا تو ویسا ہوتا، ویسا ہو جائے تو ایسے ہو جائے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مایوسی اور منفی پن پر پھیلانے لگتے ہیں۔
بہرحال اس دورانیے میں کرنے کے کچھ کام ایسے ہیں جن سے یہ ’امید کا گھر‘ بن سکتا ہے۔
عربی میگزین سیدتی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ایسے کچھ نکات بتائے گئے ہیں، اس لیے اگر آپ بھی بے روزگاری سے گزر رہے ہیں تو ان کو پڑھیے، کیونکہ اس دوران کافی کچھ ایسا حاصل ہو سکتا جو اچھی ملازمت دلوائے گا۔
تعلقات عامہ کے ماہر مصطفیٰ الصالحہ کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کا عرصہ پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو بڑھانے کا اہم موقع ہوتا ہے۔
غیر روایتی نیٹ ورک اور پچھلی ملازمت
ویسے تو لوگ اس جائے ملازمت کے لیے زیادہ اچھے جذبات نہیں رکھتے جہاں سے جانا پڑا ہو یا نکال دیا گیا ہو، تاہم اس نیٹ ورک کا آغاز اسی نکتے سے ہوتا ہے کہ اپنے سابقہ کولیگز کا پتہ لگائیں۔
اس کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اہم ذریعہ ہیں، سوچیے کچھ کوئی ایسا شخص جو برسوں تک آپ کے ساتھ کام کرتا رہا، آپ کی اس کے ساتھ بھلے اچھی علیک سلیک نہ بھی ہو تو اس سے رابطہ کریں۔
عین ممکن ہے کہ وہ کسی اور کمپنی میں اچھے عہدے پر چلا گیا ہو اور آپ جیسے ہی بندےکی ہی تلاش ہو۔
ڈیجیٹل مواصلات کی طاقت
اسے کسی طور نظرانداز مت کریں۔ کہیں بھی آپ کے شعبے سے متعلق بحث ہو رہی ہو تو اس میں حصہ لیں۔ ہو سکتا ہے کسی موقع پر وہ آپ کو غیراہم اور فضول سی بھی لگے تو بھی اس میں اپنی موجودگی کا احساس دلائیں کیونکہ یہی گفتگو دروازے کھول سکتی ہے۔ یہیں پر کوئی اہم عہدیدار ہو سکتا ہے۔ اس لیے بیروزگاری جتنا بھی طویل ہو جائے ڈیجیٹل کمیونیکیشن سے خود کو الگ کبھی نہ کریں۔
رضاکارانہ سرگرمیاں
یہ اس وقت کا بہترین مصرف ہو سکتا ہے جو آج کل آپ کے پاس بہت ہے۔
مثال کے طور پر اگر شہر میں کوئی ادارہ صفائی یا صحت سے متعلق کوئی واک یا آگاہی کے حوالے سے کوئی سرگرمی کر رہا ہے تو اس میں شریک ہوں۔
اس سے آپ کو امدادی اداروں میں آنے والی نئی ملازمتوں کے بارے میں علم ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں میں کام کرنے والے افراد میں ایسے افراد کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے جو رضاکارانہ طور پر آگے آئے اور ان میں اچھے عہدوں پر فائز ہیں۔
مقامی کانفرنسز
اگرچہ کشش بڑی سطح کی کانفرنسز ہی رکھتی ہیں مگر مقامی طور پر ہونے والی کانفرنسز شاید ان سے زیادہ اہم ہیں، یہی وہ مقام ہوتی ہیں جہاں آپ کھل کر دکھا سکتے ہیں کہ آپ کون سی خصوصیات رکھتے ہیں۔ اس لیے بے روزگاری کے دنوں میں ہونے والی مقامی کانفرنسز پر نظر رکھیں اور ان میں شرکت کریں۔ یہی وہ پگڈنڈی ثابت ہو گی جو آپ کو بڑے بڑے ہوٹلز میں ہونے والی کانفرنسز تک لے جائے گی۔
خود کو الگ تھلگ نہ کریں
خود کو سب سے الگ تھلک کر دینا ایک ایسی غلطی ہے جو اس دورانیے کو طویل کر سکتی ہے۔
ایسے وقت میں زیادہ سے زیادہ ملاقاتیں ضروری ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ہر جاننے والے سے ملیں خصوصی طور پر اپنی فیلڈ کے افراد سے۔
ایسی مثالیں موجود ہیں جن کا آغاز ایک عام سی ملاقات یا کافی کے کپ پر ہوا تاہم اسی کی بدولت ہی آگے چل کر اچھی ملازمت ہاتھ لگی۔
سٹارٹ اپس کے ساتھ ملیں
بعض اوقات سٹارٹ اپس اپنے کام کی سپورٹ کے لیے مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں اور ان کے یہ مواقع آپ کو بھی موقع دلا سکتے ہیں۔
اسی طرح برطانوی ویب سائٹ یو کے انڈیڈ پر بھی کچھ نکات بتائے گئے ہیں۔
مشغلہ اپنائیں
بے روزگاری میں کوئی اچھا مشغلہ اپنایا جا سکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اچھا مشغلہ انسان کو دباؤ سے نکلنے میں مدد دیتا ہے جبکہ بے روزگاری کے دنوں میں تو سٹریس ویسے بھی زیادہ ہوتا ہے اس لیے ایسا مشغلہ چنیں جو ایکسائٹمنٹ کا بھی باعث ہو جبکہ ملازمت ملنے کے بعد بھی اس کو جاری رکھیں۔ 
ورزش نہ چھوڑیں
ان دنوں میں ورزش کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس وقت دباؤ کے باعث بھوک نہیں لگتی اور ورزش نہ ہونے سے صحت گرنے لگتی ہے۔ اس لیے اگر ورزش کی جائے تو انسان کو بھوک لگتی ہے اور اچھی خوراک لینے کے بعد جسم میں جو توانائی آتی ہے وہ نئی ملازمت ڈھونڈنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
ترتیب نہ توڑیں
 ملازمت کے دنوں میں انسان کا ایک شیڈول بن جاتا ہے مگر بے روزگاری میں سب کچھ اتھل پتھل ہو جاتا ہے، سونے اور کھانے کے اوقات بدل جاتے ہیں۔
یہ ضروری نہیں کہ سارا دن بھی بیڈ پر پڑے رہیں۔ جلدی اٹھیں، اپنے دن کے ٹاسک سیٹ کریں۔
نوکری چھوٹ جانے کے بعد بھی اپنی زندگی کو ترتیب میں رکھیں۔ اس سے آپ کو بے روزگاری کی زیادہ شدت محسوس نہیں ہو گی اور نئے مواقع ملنے کے چانسز بھی بڑھیں گے۔
کچھ نیا سیکھیں
ایسا کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کریں جس سے آپ کی پروفیشنل سکلز میں بہتری آئے۔ آن لائن شاٹ کورسز کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں ایسی منفرد ٹیکنیکس سیکھ سکتے ہیں جو آپ کو نئی ملازمت کے لیے اچھا امیدوار بنا سکتی ہیں۔
 سی وی کا جائزہ لیں
اگرچہ پرانے سی وی نے آپ کو پچھلی ملازمت دلائی تھی تاہم ضروری نہیں کہ وہ اب کے تقاضوں کے بھی مطابق ہو۔ اس لیے اس کا جائزہ لیں، نئے سٹائل کا سی وی بنانے کے لیے آن لائن مدد بھی حاصل کی جا سکتی ہے اسی طرح بے روزگاری کے دنوں میں آپ نے جتنی بھی سرگرمیوں میں حصہ لیا، نئے کام سیکھے ان کو بھی اس کا حصہ بنائیں۔
سفر پر نکلیں
سفر کو وسیلہ ظفر بھی کہا جاتا ہے، اس کی بدولت انسان نئے لوگوں سے ملتا ہے، مشاہدات بڑھتے ہیں نئے تجربات سامنے آتے ہیں، یہ چیزیں جہاں دباؤ سے نکلنے کا ذریعہ ہوتی ہیں وہیں نئی ملازمت ملنے کا موقع بھی بن سکتی ہیں۔
فیملی اور دوست
اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ وقت صرف کریں کیونکہ اس سے قبل آپ ان سے لگے بندھے وقت میں ہی مل پاتے تھے۔ گھروالوں اور دوستوں کے ساتھ پکنک وغیرہ کے لیے نکلیں، زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملیں اور تعلقات کو دوبارہ بحال کریں۔ یہ تمام کام آپ کو بے روزگاری کے دنوں کے مشکل کام کو جھیلنے میں مدد دیں گے۔
بری عادتوں سے جان چھڑائیں
یہ وقت کسی بری عادت سے چھٹکارا دلانے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے جیسا کہ سموکنگ، ڈرنکنگ، جنک فوڈ ایٹنگ اور کم سونے کی عادت، اگرچہ دباؤ میں سگریٹ وغیرہ کے عادی کو زیادہ طلب محسوس ہوتی ہے تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے اس وقت ارادے کی قوت عام دنوں سے زیادہ ہوتی ہے اس لیے کوشش کریں کہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور بری عادتوں سے کنارہ کش ہو جائیں۔
 آن لائن کام
اگر آپ کے پاس عام نوکری نہیں ہے تو اپنی فیلڈ کے مطابق آن لائن کام کر سکتے ہیں جو آپ کو اتنے پیسے تو نہیں دے گا جتنے عام ملامت میں ملتے ہیں تاہم کسی حد تک گزارہ ہو سکتا ہے۔ اس سے آپ کے نئے لوگوں کے ساتھ تعلقات بنیں گے، سکلز میں بہتری آئے گی اور یہیں سے نئی ملازمت کی راہ بھی کھل سکتی ہے۔
اپنا جائزہ لیں
ملازمت کی تلاش ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور دباؤ کا باعث بھی بنتا ہے جس سے صحت کے ساتھ ساتھ آگے جانے کی لگن اور جستجو بھی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تلاش میں ان چیزوں سے دوچار ہونے سے بچنے کے لیے اپنا جائزہ بھی لیتے رہیں اور ہفتے میں ایک بار وقفہ لے کر خود کو ری چارج کریں۔
 نہا دھو کر فریش ہوں، واک کے لیے نکل جائیں، کوئی مووی دیکھ لیں۔ اپنے لیے خود کھانا تیار کریں اور آنے والے ہفتے کے لیے شیڈول بنائیں۔
مالی معاملات درست رکھیں
ملازمت چھن جانے کے بعد مالی معاملات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ حالات کی مناسبت سے اپنا بجٹ بنائیں۔
اس بات کا جائزہ لیں آپ اپنے کتنے اخراجات پر کٹ لگا سکتے ہیں اور اس سے بچنے والے پیسے کو آگے کیسے استعمال میں لا سکتے ہیں۔
ذہن میں رکھیے کہ بے روزگاری کے دنوں میں مہینے کے آغاز پر تنخواہ نہیں آئے گی اس لیے ان چیزوں کی طرف جائیں جو سستی ہوں۔
کتابیں پڑھیں
ملازمت کے دنوں میں کتابیں پڑھنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ملتا اس لیے زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھیں۔
اس وقت چونکہ مالی معاملات بھی بہتر نہیں ہوتے اس لیے ضروری نہیں کتابیں خریدی جائیں بلکہ لائبریریوں سے کرائے پر بھی حاصل کی جا سکتی ہیں اور دوستوں سے بھی لی جا سکتی ہیں۔
یاد رکھیے کتابیں آپ کی علمی صلاحیتوں کو بڑھاتی ہیں اور اگر اپنے پیشہ امور سے متعلق نئی کتابیں پڑھی جائیں تو ان سے نئی ملازمت کی تلاش میں مدد بھی مل سکتی ہے۔



جوتے کا ترجمہ…
لاہور میں ایک چینی موچی کی دکان ہے۔ سڑک پر گزرتے ہوئے ایک صاحب نے اس دکان کے شو کیس میں رکھا ہوا ایک انوکھا اور خوب صورت جوتا دیکھا۔ فوراً وہیں رک کر دکان میں داخل ہوئے اور اس کے مالک سے پوچھنے لگے، اس جوتے کے کیا دام ہیں؟ دکان دار بولا مگر آپ اسے خرید کر کیا کیجیے گا، یہ آپ کے پاؤں کا جوتا نہیں ہے۔ وہ صاحب بولے "مگر میں تو اسے خریدنا چاہتا ہوں۔ میں اس کا ترجمہ کروں گا۔”

یہ صاحب ابنِ انشا تھے۔ ایک پر اسرار اور انوکھی، طباع اور رومانی شخصیت۔ "جوتے کا ترجمہ” تو محض ان کی "خوش طبعی” کا ایک مظاہرہ تھا مگر اس جوتے کی بدولت انہیں چینی شاعری کی تلاش ہوئی۔ طرح طرح کے مجموعے اور انتخابات ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائے اور ان کے منظوم ترجمے اردو میں کر ڈالے۔ اور چینی نظمیں کے نام سے ایک کتاب بھی شائع کی۔ اس کتاب میں قدیم چین کے لوک گیت ہیں۔ صحیفۂ کنفیوشش کی نظمیں ہیں، چرواہوں کی تانیں، جوگیوں اور بیراگیوں کی خود کلامیاں اور ان کے اقوالِ دانش ہیں اور عہدِ جدید کے منظومات بھی۔

شخصیت کی اسی پر اسراریت اور انوکھے پن کی وجہ سے وہ ایڈگر ایلن پو کو اپنا "گرو دیو” کہتے تھے۔ ایڈگر ایلن پو کی انوکھی شخصیت اور اس کی شاعری نے سب سے پہلے ہمارے یہاں میرا جی کو اپنا دلدادہ بنایا تھا اور انہوں نے بہت پہلے پو کی شخصیت اور شاعری پر ادبی دنیا میں ایک مضمون لکھا تھا اور اس کی کچھ نظموں کے منظوم تراجم بھی کیے تھے۔ پو کے دوسرے عاشق ابنِ انشا تھے جنہوں نے پو کی پُراسرار کہانیوں کو اردو میں منتقل کیا اور اسے "اندھا کنواں” کے نام سے ایک مجموعے کی صورت میں شائع کیا۔ اس کتاب کے دیباچے میں انہوں نے اپنے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ پو کی تنقیدیں بھی خاصے کی چیز ہیں اور آیندہ وہ اس کے تنقیدی مضامین کا ترجمہ بھی کریں گے۔ معلوم ہوتا ہے اس ارادے کی تکمیل نہ ہو سکی۔

خود ابنِ انشا کی اپنی شاعری میں یہی پُراسراریت اور نرالی فضا ہے۔ ان کی نظمیں اگرچہ عصری آگہی کے اظہار میں اپنے عہد کے کسی شاعر سے پیچھے نہیں ہیں، مگر ان نظموں کی فضا اور ان کا تانا بانا اپنے عہد کے مروجہ اسالیب سے بالکل الگ ہے۔ ان کے پہلے مجموعے کا نام "چاند نگر” ہے جو ۱۹۵۵ء میں مکتبۂ اردو، لاہور سے شائع ہوا تھا۔ اس مجموعے کا نام بھی پو کی ایک نظم سے مستعار ہے۔

ابن انشا اپنی اس رومانیت کے باوجود اپنے زمانے کے سماجی مسائل اور عوام کے دکھ درد کے ہی شاعر تھے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: "گِرم کی پریوں کی کہانیوں میں ایک ضدی بونا سر ہلا کر کہتا ہے کہ انسانیت کا دھیلا بھر جوہر میرے نزدیک دنیا بھر کی دولت سے زیادہ گراں قدر ہے۔ میری کتنی ہی نظمیں اس دھیلا بھر انسانیت کے متعلق ہیں۔ ان میں بھوک کا جاں گداز درد بھی ہے اور جنگ کا مہیب خوف بھی۔ بھوک اور احتیاج سے رست گاری کی جدوجہد مارکس سے ہزاروں برس پہلے شروع ہوئی تھی اور اب بھی جاری ہے۔”
واقعہ یہ ہے کہ ابن انشا ایک ترقی پسند شاعر تھے مگر ان کی ترقی پسندی تحریک، منشور اور پارٹی لائن والی ترقی پسندی سے مختلف تھی۔ جنگ اور امن کے موضوع پر اردو میں ترقی پسند شاعروں نے ہنگامی اور صحافتی انداز کی کیا کیا نظمیں نہیں لکھیں لیکن ان میں سے آج ہمارے حافظے میں کون سی نظم محفوظ رہ گئی ہے؟ مگر ابنِ انشا نے اس موضوع کو جو بظاہر وقتی اور ہنگامی ہے اپنے شاعرانہ خلوص اور فن کارانہ ایمان داری کے بدولت جاوداں کر دیا ہے۔ مضافات، امن کا آخری دن، افتاد، شنگھائی، کوریا کی خبریں، کوچے کی لڑائی وغیرہ نظمیں آج بھی شعریت سے بھرپور معلوم ہوتی ہیں۔

۱۹۵۵ء میں "چاند نگر” کی اشاعت اس سال کا ایک اہم ادبی واقعہ تھی۔ ناصر کاظمی کی "برگ نے” اور راقم الحروف کا "کاغذی پیرہن” بھی اسی سال شائع ہوئے اور اس دور کے کئی نقادوں نے ان تینوں مجموعوں میں کچھ مشترک عناصر کی نشان دہی پر بطور خاص زور دیا۔ میں تو خیر کس شمار قطار میں تھا اور میرا مجموعہ دراصل میری ادھ کچری تخلیقات کا ایک البم تھا، لیکن نئے تنقیدی رویے کی بدولت مجھے بھی اچھی خاصی پذیرائی ملی۔ مگر سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ ابن انشا اور ناصر کاظمی دونوں سے میری ذہنی قربت دوستی میں تبدیل ہو گئی۔ یہ دوستی محض خط و کتابت تک ہی محدود تھی۔ ایک کراچی میں تھا (ابنِ انشا)، دوسرا لاہور میں (ناصر کاظمی) اور تیسرا علی گڑھ میں (راقم الحروف) مگر نصف ملاقاتوں کے ذریعہ خوب پینگیں بڑھیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...