اردو کتاب میلے میں اب ہم بھی جائیں گے
جاکر وہاں سے فیض کتابوں کا پائیں گے
ساگر ہے علم کا وہاں گوہر ہیں علم کے
وہ بھی وہیں ملیں گے جو رہبر ہیں علم کے
ہم جہل کے جہاں کا اندھیرا مٹائیں گے
اردو کتاب میلے میں اب ہم بھی جائیں گے
علم و ہنر کا ایک خزینہ بھی ہے وہاں
تہذیب کی وقار و شرافت کی کہکشاں
علم و ہنر کی دولتِ انمول پائیں گے
اردو کتاب میلے میں اب ہم بھی جائیں گے
سوئے ہوئے دلوں کی دوا چل کے لیجئے
اسلاف کا شعورِ ادا چل کے لیجئے
سوئے ہوئے دلوں کو یقینًا جگائیں گے
اردو کتاب میلے میں اب ہم بھی جائیں گے
دنیا کی سیر کرنے کی خاطر چلو چلیں
اردو سے فیض پانے کی خاطر چلو چلیں
ذوق و ظفر کا میر کا فیضان پائیں گے
اردو کتاب میلے میں اب ہم بھی جائیں گے
اقبال غالب اور ہے خسرو کی داستاں
آزاد بسمل اور ہے مسلم کا گلستاں
جاکر وہاں کتابوں میں سر کو کھپائیں گے
اردو کتاب میلے" میں اب ہم بھی جائیں گے
حرفوں کے پھول ہیں وہاں لفظوں کی چاشنی
اردو کو چاہتا ہو جہاں دل سے ہر کوئی
اردو سے مالیگاؤں کی عظمت بڑھائیں گے
اردو کتاب میلے میں اب ہم بھی جائیں گے
عظمت زبانِ اردو کی عمران جوڑ کر
رکھ دیں گے ہم تو جہل کا پنجہ مروڑ کر
تاریک شب میں علم کی شمعیں جلائیں گے
اردو کتاب میلے میں اب ہم بھی جائیں گے
*عمران راشد*
مالیگاؤں
*9860477278