مالیگاؤں : مالیگاؤں کے کتب فروشوں کی جانب سے منعقد ہونے والے مالیگاؤں کے اردو کتاب میلے کے تناظر میں انٹر نیشنل ہیومن رائٹس کے حضرت صابر نورانی (مدنی دربار )نے اردو دوستو حضرات سے مودبانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ادیب و مسلم اور سہیل و اختر کی سر زمین مالیگاؤں اردو زبان کا ایسا گہوارہ ہے جس کی تاریخ ما قبل آزادی اس طرح دستیاب ہو جاتی ہے کہ آزادی سے قبل بھی یہاں اردو زبان پر منضبط کتابیں اس طرح شائع ہوا کرتی تھیں کہ ان کی طباعت یوپی جیسی دور دراز ریاست میں ہوا کرتی تھیں. حالانکہ آج اردو کے حق میں حالات اس قدر سازگار ہو گئے ہیں کہ اردو زبان کی بے شمار کتابیں اسی سرزمین سے با آسانی شائع ہو جایا کرتی ہیں. ہندوستان کا شاید ہی ایسا کوئی شہر ہوگا جہاں سے اتنی کثیر تعداد میں روز نامے اور ہفت روزہ اخبارات پابندی کے ساتھ شائع ہوتے ہوں گے. یہی وہ سر زمین ہے جہاں سے کبھی مرحوم سلطان سبحانی کے ذریعے نشانات اور ہم زباں جیسے عالمی سطح کے ادبی جرائد نکلتے رہے تھے. اسی سر زمین سے ترقی پسندوں کا ترجمان جواز جیسا ماہنامہ بھی برسوں سید عارف کی ادارت میں نکلتا رہا تھا. توازن برسوں تک عتیق احمد عتیق کی کاوشات کے طفیل ادب نوازوں کی بزم کی زینت رہا تھا. یہ اردو کا گہوارہ صرف اخبار و جرائد اور کتابوں کی وجہ سے ہی چہار وانگ عالم میں مشہور نہیں ہے بلکہ یہاں اردو کے قارئین کی کثیر تعداد اس بات کی غماز ہے کہ حکومت وقت اس زبان کے ساتھ چاہے جتنا سوتیلا سلوک کر لے لیکن اردو کا یہ چراغ بجھنے والا نہیں بلکہ اس کی ضو فشانی دن بدن بڑھتی ہی جائے گی. آج محبان اردو کتب فروشوں کی انجمن کے ذریعے اگر کتاب میلے کا انعقاد کیا جارہا ہے تو یہ اردو زبان کی مقبولیت ہی نہیں بلکہ قارئین کی دلچسپی کا مظہر بھی کہلائے گا. یاد رہے یہ وہی انجمن کتب فروشوں کی تنظیم ہے جس نے اس سے قبل بھی مالیگاؤں ہی نہیں بلکہ دھولیہ جلگاؤں اورنگ آباد جیسے شہروں میں کتاب میلوں کا کامیاب انعقاد کرتے ہوئے قارئین کی تعداد اور کتابوں سے شغف رکھنے والے افراد کی ذہنی آبیاری کا فریضہ بھی انجام دیا ہے. حضرت صابر نورانی نے اردو دوست حضرات سے مودبانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یکم جنوری تا 7 جنوری تک ہونے والے مالیگاؤں کے اردو کتاب میلے کا شایان شان استقبال ہونا چاہیے تاکہ اردو زندہ رہے اور ہم یہ فخر سے کہہ سکیں کہ۔۔۔۔۔۔۔
اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے