Tuesday, 14 November 2023

اخلاص اور اخلاق

 اخلاص کی ابتدا اپنے مفاد کی نفی سے ہوتی ہے اور اس کی انتہا اپنے مزاج کی نفی پرا اخلاص در حقیقت سرتاپا فی سبیل اللہ ہو جانے کا نام ہے۔

اخلاص کا مسافر جب زمین کا سفر طے کرتا ہو تو اس کے طرز سفر کو اخلاق کا نام دیا جاتا ہے۔ مفاد کی نفی کرنا قدرے آسان ہے، کیونکہ مفاد بالعموم ظاہر کی دنیا سے تعلق رکھتا ہے، اس کی رکاوٹ انسان کو خود بھی معلوم اور محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ وہ حجاب ہے جسے پہچاننا انسان کیلئے آسان ہوتا ہے۔ خود احتسابی کا کوئی لمحہ ، تنہائی کا کوئی سمے' اسے اس رکاوٹ سے آگاہ کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس مزاج کا حجاب پہنچاننا ایک امر دشوار ہے کیونکہ مزاج اس کے وجود کا حصہ ہونے کے سبب اس کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ اس کی تندی اور تیزی دوسرے محسوس کر سکتے ہیں .... محسوس کر سکتے ہیں لیکن وہ بتا نہیں سکتے ....کہیں

پانے کے مترادف ہے۔ بشریت کے حجاب میں حجاب اوّل یہی مزاج کا حجاب ہے ۔ سفر الی اللہ عزیمت کا سفر ہے.... عظمت اس کا مدعا نہیں نتیجہ ہے۔ انسان اگر مسافر الی اللہ ہونے کا عزم رکھتا ہے تو اسے ظاہر اور باطن کے

جملہ حجابوں سے نکلنے کیلئے سفرِ عزیمت اختیار کرنا ہوتا ہے!! اخلاق کی پشت پر اگر اخلاص نہ ہو تو اخلاق کے نام پر ہم ایک منافقت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی معاشی یا معاشرتی مفاد کی خاطر اختیار کیا گیا اخلاق" ایک سوداگری کے چلن کے سوا کچھ نہیں۔ رکھ رکھاؤ اور چیز ہے، اخلاق چیزی دیگر!! اخلاق فی سبیل اللہ مخلوق خدا کیلئے اپنی پیشانی

کشادہ کرنے کا نام ہے۔ خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو راحت مہیا کرنے کا نام اخلاق ہے۔ اخلاق کی اصل داستان اس غریب اور کمزور آدمی کے ساتھ ہمارے رویے سے شروع ہوتی ہے جو ہماری تنہائی میں مخل ہونے کیلئے آن ٹپکتا ہے.... وہ ہماری مرضی کی خدمت قبول نہیں کرتا .... اور اپنی مرضی

کی خدمت اور اجرت طلب کرتا ہے۔ یعنی ہمارے مفاد اور مزاج دونوں پر سنگ باری کرنے والا یہ کمزور اور جاہل شخص ہمارے اخلاق کا اصل امتحان

ہے۔ شکر ہے کی تمنا اخلاق کا صلہ وصول کرنے کی خواہش ہے۔ اخلاق کے جواب میں اخلاق کی طلب رکھنا اخلاق کی منزل سے ایک زینہ نیچے اترنے کی کہانی ہے۔ اخلاق کی داد مخلوق سے چاہنا اخلاق کے نام پر خود نمائی کا افسانہ ہے. اخلاق اگر خوش مزاجی ہے تو خوش مزاج وہ ہے جو دوسروں کا

مزاج برداشت کرے۔ اخلاق کے منظر نامے میں داخل ہونے والا اپنے مزاج کو گھر میں رکھ کر آتا ہے۔ خوش اخلاق اپنے غصے کی تلوار کو ضبط کی نیام میں رکھنا جانتا ہے۔ ایک غصیلہ آدمی اخلاق کی سرحد سے اتنا ہی دور ہوتا ہے جتنا مشرق سے
مغرب!! اخلاق جزو وقتی رویہ نہیں بلکہ ہمارے وجود کا ایک پیغام اخلاص میں سرتایا ڈھل جانے کا نام ہے. ایک خوش اخلاق شخص نہ صرف یہ کہ ہمہ حال بے ضرر ہوتا ہے بلکہ مخلوق خدا کیلئے ہمہ وقت منفعت بخش بھی
ثابت ہوتا ہے۔ کسی انسان کے خوش اخلاق ہونے کی کم سے کم نشانی یہ ہے کہ اس کے دروازے پر ہر شخص بلاتکلف اور بلاجھجک دستک دے سکے۔ وگرنہ اپنے مزاج میں اسیر شخص اپنی پسند ناپسند کا پیشگی اعلان علی الاعلان کر چکا ہوتا ہے۔ بدمزاج شخص خواہش کے باوجود منفعت بخش نہیں ہو سکتا، اس کی سخاوت اس کے مزاج کے ہمراہ ہوتی ہے .... اس کی سخاوت ایسی کڑوی گولی بن جاتی ہے جسے نگلا جائے ہے نہ اگلا جائے۔ اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ بدمزاج آدمی اس نشے میں مست ہوتا ہے کہ میں اندر باہر سے ایک ہوں جو میرے دل میں ہے وہی زبان پر ہے۔ یہ بات دل پر ایک بہتان باندھنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ وہ جسے دل کہہ رہا ہے دراصل وہ اس کا نفس ہے ' جو مزاج کی شکل اختیار کرنے کے بعد اس کے ہمراہ مثل "فساء قرينا" چل رہا ہے۔ دل بمنزلہ حرم ہے.... اور حرم میں سوائے پاکیزگی کے کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی . حرم میں داخل ہونے کیلئے پاکیزگی کا احرام باندھا چاہے ..... جس پر کسی مفاد اور مزاج کا

پیوند نہ لگا ہو۔ منفی جذبات کی آماجگاہ نفس ہے۔ نفس نرگسیت پسند ہونے کے سبب اپنے لیے وہ وہ الفاظ اور خطاب استعمال کرتا ہے جو قطعاً اس کے لایق نہیں ہوتے۔ دراصل علائق کے ساتھ کوئی اخلاق کے لائق نہیں ٹھہرتا۔

خوش اخلاقی اور خوش گفتاری میں بھی فرق ہے۔ گفتگو ایک ہنر ہے.... خوش گفتار ہونا ہنر مند ہونا ہے۔ ہر ہنر مند سعادت مند نہیں ہوسکتا۔ اخلاق سعادت کی راہ ہے، اخلاص سعید ہونے کی سند ہے. اخلاص سے جدا ہو کر کسی ہند میں طاق ہونا مخلوق کی توجہ تو کھینچ لیتا ہے لیکن اس توجہ کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ ہجوم اکٹھا کرنا ظاہر پرستی ہے ، فرد کی جانب متوجہ ہونا باطن کی داستان ہے ۔ مخلص انسان ہجوم کے حجاب سے نکل چکا ہوتا ہے۔ بندہ اخلاص ہجوم سے اعراض کرے گا اور فرد کی طرف اپنے

پورے وجود سے متوجہ ہوگا .... کیونکہ اس کی منزل دوسروں کا دل ہے، وجود نہیں۔ لطیف روحوں کے نازل ہونے کی جگہ قلب ہے! لوچ دار آواز ، لچھے دار جملوں اور لفظوں کی پرکشش نشست و برخواست

کو خوش اخلاقی قرار دینے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ خطیب خوش

گفتار کا مدعا و منزل کیا ہے... وہ اپنے مخاطب کو کس منزل کی طرف بلا

رہا ہے۔ تاثیر خوش اخلاقی کی میراث ہے۔ دلوں کا متاثر ہونا .... تاثیر ہے۔ گھن گرج کانوں کو متوجہ کرتی ہے ' دلوں کو نہیں!! صرف تقاریر کا نہیں تحاریر کا حال بھی یہی ہے۔ لفظوں کی پیوند کاری، جملوں کی گلکاری اگر موضوع سے انصاف نہ کرے تو کاغذ اور وقت دونوں کا اسراف ہے۔ لفظوں کا
اسراف کرنے والا بھی تو کسی کا بھائی ہو گا!!

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ مو...