Tuesday, 14 November 2023

علامہ اقبال

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔[حوالہ درکار] بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔

علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد نے خواب دیکھا تھا کہ
”لق ودق میدان ہے۔ ایک سفید کبوتر براق فضا میں چکّر لگا رہا ہے۔ کبھی اتنا نیچے اترآتا ہے کہ بس اب زمین کی قسمت جاگی اور کبھی ایسی اونچائی پکڑتا ہے کہ تارا بن کر آسمان سے جڑ گیا۔ ادھر بہت سے لوگ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اسے پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سب کے سب دیوانے ہو رہے ہیں مگر وہ کسی کے ہاتھ نہیں آتا۔ کچھ وقت گزر گیا تو اچانک اس نےغوطہ لگایا اور میری جھولی میں آن گرا۔ آسمان سے زمین تک ایک قوس بن گئی“۔[17][18]

جب شیخ نور محمد یہ خواب دیکھ کر اٹھے تو اپنے دل کو اس یقین سے بھرا ہوا پایا کہ خدا انھیں ایک بیٹا عطا کرے گا، جو دین اسلام میں بڑا نام پیدا کرے گا

علامہ محمد اقبال 21 اپریل 1938ء بمطابق 20، صفر المصفر 1357ء کو فجر کے وقت اپنے گھر جاوید منزل میں طویل علالت کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے اور ان کو لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ مو...