پاکستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگتی نے تصدیق کی ہے کہ افغان شہریوں کو ملک سے واپس بھیجنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اس کارروائی سے تقریباً 20 لاکھ افغان شہری متاثر ہوں گے جو بغیر دستاویزات کے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں، انسانی حقوق کے کارکنان اور افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت انتظامیہ نے اس مہم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بغیر کاغذات کے ملک میں مقیم افغانوں کو گرفتار کرنے اور ملک بدر کرنے کی مہم شروع کر دی ہے اور حکومت کی طرف سے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد درجنوں افراد کو افغانستان واپس جانے کے لیے خبردار کیا ہے۔
اس کارروائی کا سب سے زیادہ اثر بغیر دستاویزات کے رہنے والے تارکین وطن پر پڑا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ پاکستان میں 20 لاکھ کے قریب افغان باشندے بغیر دستاویزات کے مقیم ہیں۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد تمام غیر دستاویزی یا غیر رجسٹرڈ غیر ملکیوں کو نشانہ بنانا ہے۔
اس مہم کو اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، حقوق گروپوں اور افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت انتظامیہ کی طرف سے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ بدھ کے روز 64 افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا، حراست میں لیا گیا اور ملک بدر کیا گیا۔
گذشتہ منگل کو ہزاروں پناہ گزینوں کو ٹرکوں اور بسوں میں لایا گیا تھا۔ گرفتاری سے بچنے اور وطن واپسی کے لیے اسے دو ملکوں کی سرحدیں عبور کرنا پڑا۔