Thursday, 2 November 2023

پاکستان میں افغانیوں سے جانوروں جیسا سلوک

پاکستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگتی نے تصدیق کی ہے کہ افغان شہریوں کو ملک سے واپس بھیجنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اس کارروائی سے تقریباً 20 لاکھ افغان شہری متاثر ہوں گے جو بغیر دستاویزات کے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں، انسانی حقوق کے کارکنان اور افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت انتظامیہ نے اس مہم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بغیر کاغذات کے ملک میں مقیم افغانوں کو گرفتار کرنے اور ملک بدر کرنے کی مہم شروع کر دی ہے اور حکومت کی طرف سے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد درجنوں افراد کو افغانستان واپس جانے کے لیے خبردار کیا ہے۔
اس کارروائی کا سب سے زیادہ اثر بغیر دستاویزات کے رہنے والے تارکین وطن پر پڑا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ پاکستان میں 20 لاکھ کے قریب افغان باشندے بغیر دستاویزات کے مقیم ہیں۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد تمام غیر دستاویزی یا غیر رجسٹرڈ غیر ملکیوں کو نشانہ بنانا ہے۔

اس مہم کو اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، حقوق گروپوں اور افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت انتظامیہ کی طرف سے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ بدھ کے روز 64 افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا، حراست میں لیا گیا اور ملک بدر کیا گیا۔
گذشتہ منگل کو ہزاروں پناہ گزینوں کو ٹرکوں اور بسوں میں لایا گیا تھا۔ گرفتاری سے بچنے اور وطن واپسی کے لیے اسے دو ملکوں کی سرحدیں عبور کرنا پڑا۔

اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق پاکستان میں 20 لاکھ سے زائد افغان شہری موجود ہیں۔ سال 2021 میں جب سے طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا، تقریباً 600,000 سے 800,000 افغان پاکستان ہجرت کر چکے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...