Wednesday, 27 September 2023

اُنہیں کے آنے کی خوشیاں منانے آئیں ہیں


موبائل :- 9021809898

کیا شان احمدی کا چمن میں ظہور ہے
ہر گُل میں ہر شجر میں محمد کا نور ہے
برسہا برس بلکہ ہزاروں لاکھوں برس تک نور محمدی علیہ السلام خالقِ کائنات کی تسبیح و تقدس میں مشغول رہا یہاں تک کہ حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، تو اس مقدس نور کو ان کی پیشانی مبارک میں امانت رکھا. پھر یہ سلسلہ بہ سلسلہ درجہ بہ درجہ نور محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مقدس پیٹھوں سے مبارک شکموں کی طرف تفویض ہوتا رہا، جن مقدس پیشانیوں میں یہ نور چمکتا رہا، ہر جگہ عجیب عجیب معجزات و خوارق عادات کا ظہور ہوتا رہا یہ نور معظم ربیع الاول کے ماہ مبارک کو بارہویں شریف کے مقدس متبرک موقع پر کائنات کا نجات دہندہ، آفتاب نبوت، ماہ رسالت، سرکار دو عالم مالک مختار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم بن کر ظہور پذیر ہوا، سرکار کے جلوہ فگن ہوتے ہی کفر و ضلالت کی تمام ظلمتیں کافور ہوگئیں صداقت و ہدایت کے سر چشمے جاری ہوگئے ساری کائنات کا ذرہ ذرہ جگمگانے لگا، رنگ و نسل کے تمام امتیازات کو مٹاکر اتحاد و یگانگت کی راہ پر چلادیا، وہ لوگ جو بجائے انسانوں کے خوں خوار درندے بن چکے تھے وہ کمال انسانیت پر فائز ہوکر اخلاق و اعمال کے پیکر بن گئے. اخوت و محبت کا ایسا عظیم و پختہ رشتہ قائم فرمایا کہ عربی و عجمی اور آقا و غلام میں امتیاز ختم ہوگیا. فارس کے سلمان حبش کے بلال روم کے صہیب (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) ایک خاندان کے فرد بن گئے.
سرکار علیہ الصلوۃ والتسلیم کی ولادت کے مبارک و مسعود موقع پر اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی محفلیں منعقد کرتے چلے رہے ہیں اس مبارک دن کا خاص اہتمام کرتے اور خوشی کے ساتھ کھانا پکاتے، دعوتیں کرتے، خوشی و مسرت کا اظہار کرتے نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم پر ہدیہ عقیدت تحفہ صلواۃ سلام پیش کرکے سعادت حاصل کرتے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی سیرت، فضائل، کمالات اور حمد و نعت کے پُر کیف نغموں سے قلوب کو منور کرتے، مجدد اسلام امام احمد رضا محدث بریلوی کے شہزادے حضور مفتی اعظم ہند نور اللہ مرقدہ نے کیا خوب فرمایا.....

رُسل انہیں کا تو مژدہ سنانے آئے ہیں
اُنہیں کے آنے کی خوشیاں منانے آئے ہیں
متعدد علماء و صلحاء اور بزرگانِ دین کے اقوال پیش کررہے ہیں تاکہ عید میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے متعلق بے بنیاد باتوں کی بجائے ہمارے اسلاف کے طریقہ کار کے مطابق عید میلاد منانے کا جذبہ بیدار ہو...
* راس المحدثین حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فقیر کے مکان پر سال میں دو مجلسیں ایک محفل مولود اور دوسری ذکر شہادت حسین ہوتی ہیں سینکڑوں آدمی جمع ہوتے درود شریف و قرآن کریم پڑھا جاتا وعظ ہوتا اور پھر سلام پڑھا جاتا بعد ازاں کھانے پر ختم شریف پڑھ کر حاضرین کو کھلایا جاتا اگر یہ سب باتیں فقیر کے نزدیک ناجائز ہوتیں تو فقیر کبھی نہ کرتا. (بحوالہ فتاویٰ عزیزیہ جلد اول)
* حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفل مولود میں شریک ہوتا ہوں بلکہ ذریعہ برکات سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں". (بحوالہ فیصلہ ہفت مسئلہ)
* شاہ عبدالغنی صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "ترجمہ، اور حق یہ ہے کہ حضور صل اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے ذکر میں اور فاتحہ پڑھ کر آیا کہ روح پُر فتوح کو ثواب پہنچانے میں اور میلاد شریف کی خوشی کرنے میں ہی انسان کو کامل سعادت ہے" (بحوالہ شفاءالسائل)
* سید احمد ذینی وحلان شافعی مفتی مکہ فرماتے ہیں لوگوں کی عادت جاری ہے کہ جب ولادت پاک کا ذکر سنتے ہیں تو حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم کی تعظیم کے لئے قیام کرتے ہیں یہ قیام مستحسن ہے. (بحوالہ سیرت النبی ص 44)
* علامہ یوسف بن اسمٰعیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اس شخص پر جس نے میلاد کی راتوں کو عید بنایا. (بحوالہ انوار محمدیہ، ص29)
جب یہ بات بالکل اظہر من الشمس کی طرح صاف اور واضح ہوگئی تو ہمیں بھی چاہیے کہ ولادت مبارک کی محافل کا ادب احترام سے انعقاد کریں خوب فیوض و برکات سے اپنے دامن کو بھریں نہ کہ اس کے متعلق بے بنیاد باتیں کرکے دین میں بگاڑ پیدا کریں اور فتنہ کی فضاء قائم کریں اللہ جل شانہ نبی کریم علیہ السلام کی ولادت مبارک کی خوشی منانے والوں کو فیض پہنچائے اور نہ منانے والوں کو ہدایت کاملہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین بجاہ نبی الکریم رؤف الرحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم.

*🛑سیف نیوز اُردو*

نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحا...