۱۸۵۷کی جنگ آزادی کی ناکامی پر مسلمانوں میں احساسِ شکست ، احساسِ کمتری اور ایک عام مایوسی پھیلتی جارہی تھی۔ اس نازک حالت میں دو قسم کی قیادتیں ابھر کے سامنے آئیں، پہلی قیادت مولانا قاسم نانوتوی ؒ (۱۸۳۳-۱۸۸۰ )کررہے تھے، دوسری قیادت جس کا پرچم سر سید احمد خاں (۱۸۱۷-۱۸۹۸ ) کے ہاتھ میں تھا۔
مولانا محمد اسحاق جلیس ندوی رقم طراز ہیں ’’ سر سید کی تعلیم پرانے اصولوں پر ہوئی ، مذہب کے آغوش میں انہوںنے پرورش پائی تھی، انہوں نے جب شعور کی آنکھیں کھولیں تو سلطنت مغلیہ کا آفتاب لبِ بام آچکا تھا، ان کا خاندان عرصہ سے دربار مغلیہ سے متعلق تھا، وہ خود ابتدائی زمانہ میں دربار میں آتے جاتے تھے، اس طرح انہیں زوال پذیر سلطنت مغلیہ کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا، انہوں نے وہ ابتری اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی، جس کا ہلکا سا نقشہ انہوں نے اپنے نانا نواب دبیر الدولہ امین الملک خواجہ فرید الدین خاں کے حالات ’’سیرت فریدیہ‘‘ میں کھینچا ہے، ان کے کانوں میں وہ آوازیں گونج رہی تھیں، جب مغل شہزادے محلات کی چھتوں پرچڑھ چڑھ کر چلاتے تھے، ہم بھوکے مرتے ہیں ہم بھوکے مرتے ہیں، ان کی نظر اس اخلاقی ، سیاسی ، سماجی اور اقتصادی بیماری پر تھی، جو گھن کی طرح مغلیہ سلطنت کو کھارہی تھی۔
العلماء حصہ اول ، ص ۴۵،۴۶)
سر سید کی شخصیت ہمہ جہت تھی ، ۔ ہر فن میں ہوں طاق مجھے کیا نہیں آتا ؟سر سید احمد خاں کا تذکرہ متعدد پہلؤوں سے کیا جاسکتا ہے، سر سید بحیثیت ایک وفادار قوم و ملت کے خادم ، سر سید بحیثیت ہندو و مسلم اتحاد کے ایک عظیم علم بردار ، سرسید بحیثیت ایک ماہر تعلیم ، سر سید بحیثیت ایک انقلاب آفریں شخصیت ، سر سید بحیثیت ایک دیانت دار اور کہنہ مشق صحافی، سر سید بحیثیت ایک ممتاز اردو ادیب، سر سید بحیثیت ایک مورخ ، سرسیدبحیثیت ایک نامور خطیب، سر سید بحیثیت ایک عمدہ ایڈیٹر ،سر سید بحیثیت ایک باکما ل مصنف، سرسید بحیثیت ایک بے لوث ترجمان قوم و ملت ، سر سید بحیثیت ایک ناقد، سر سید بحیثیت ایک ماہر منتظم ، سر سید بحیثیت ایک مشفق والد، سرسید بحیثیت ایک وفادار شوہر، سرسید بحیثیت قوم کے غریبوں ودکھیاروں کا ایک سچامسیحاو غیرہ
سر سید احمد خاں نے ۲۴؍ مئی ۱۸۷۵ء کو مد رسۃ العلوم (ایم۔ اے۔ او۔ ہائی اسکول ) قائم کیا جس کا افتتاح سر ولیم کے ہاتھوں ہوا۔ سر سید اس زمانے میں بنارس میں تھے۔ جولائی ۱۸۷۶ء میں پینشن پاکر علی گڑھ میں مقیم ہوئے، یہ مدرسہ ۸؍ جنوری ۱۸۷۷ء میں کالج میں تبدیل ہوا،جس کا افتتاح لارڈ لٹن وائسرائے و گورنر جنرل ہند نے کیا، سر سید احمد خاں ۲۸؍ مارچ ۱۸۹۸ء میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئےتدفین مسلم یونیور سٹی علی گڑھ کے کیمپس میں ہوئی،