Wednesday, 27 September 2023

سرسید احمد خان

’’سرسید ۱۷؍اکتوبر ۱۸۱۷؁ ء کو دہلی کے ایک خوددارگھرانے میںپیداہوئے نام احمد رکھا گیا،حسینی سید تھے،خان کا خطاب خاندانی تھااور سر کا خطاب حکومت کی جانب سے ملاتھا،اس بنا پرسرسید احمد خاںکے نام سے مشہور ہوئے،اللہ نے انھیںاعلیٰ دماغ اور باحوصلہ قلب عطا فرمایا تھازندگی کے سفر کا آغازسرکاری ملازمت سے ہوئی مگر پوری زندگی ملک و ملت کی خدمت میں گزار دی سر سید کی  زندگی سے ہمیںبیش بہا سبق ملتے ہیں۔اپنے نصب العین پرآخر دم تک جمے رہنا،اس کے حصول کے لئے ہر جائز ذریعہ کو کام میں لانا، مخالفانہ سرگرمیوں سے مایوس نہ ہونا بلکہ ان کا خندہ پیشانی اور دلیری سے مقابلہ کرنا، محنت و مشقت سے کبھی جی نہ چرانا ، اپنے ضمیر کی آواز  کو بلند کرنے کے سلسلے میں کسی دباؤ و اثر یا اختلاف سے مرعوب نہ ہونا، سر سید کی زندگی کا جز لاینفک بن گئے تھے، وہ نہ صرف عزم و استقلال کے پہاڑ تھے بلکہ انتہائی خوددار بھی تھے   کسی ایسی بات کو جو خود داری کے خلاف ہوتی برداشت نہ کرتے‘‘ 
۱۸۵۷کی جنگ آزادی کی ناکامی پر مسلمانوں میں احساسِ شکست ، احساسِ کمتری اور ایک عام مایوسی پھیلتی جارہی تھی۔ اس نازک حالت میں دو قسم کی قیادتیں ابھر کے سامنے آئیں، پہلی قیادت مولانا قاسم نانوتوی ؒ  (۱۸۳۳-۱۸۸۰ )کررہے تھے، دوسری قیادت جس کا پرچم سر سید احمد خاں  (۱۸۱۷-۱۸۹۸ ) کے ہاتھ میں تھا۔
مولانا محمد اسحاق جلیس ندوی رقم طراز ہیں  ’’ سر سید کی تعلیم پرانے اصولوں پر ہوئی ، مذہب کے آغوش میں انہوںنے پرورش پائی تھی، انہوں نے جب شعور کی آنکھیں کھولیں تو سلطنت مغلیہ کا آفتاب لبِ بام آچکا تھا، ان کا خاندان عرصہ سے دربار مغلیہ سے متعلق تھا، وہ خود ابتدائی زمانہ میں دربار میں آتے جاتے تھے، اس طرح انہیں زوال پذیر سلطنت مغلیہ کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا، انہوں نے وہ ابتری اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی، جس کا ہلکا سا نقشہ انہوں نے اپنے نانا نواب دبیر الدولہ امین الملک خواجہ فرید الدین خاں کے حالات  ’’سیرت فریدیہ‘‘ میں کھینچا ہے، ان کے کانوں میں وہ آوازیں گونج رہی تھیں، جب مغل شہزادے محلات کی چھتوں پرچڑھ چڑھ کر چلاتے تھے، ہم بھوکے مرتے ہیں ہم بھوکے مرتے ہیں، ان کی نظر اس اخلاقی ، سیاسی ، سماجی اور اقتصادی بیماری پر تھی، جو گھن کی طرح مغلیہ سلطنت کو کھارہی تھی۔
العلماء حصہ اول ، ص  ۴۵،۴۶)
سر سید کی شخصیت ہمہ جہت تھی  ، ۔  ہر فن میں ہوں طاق مجھے کیا نہیں آتا  ؟سر سید احمد خاں کا تذکرہ متعدد پہلؤوں سے کیا جاسکتا ہے، سر سید بحیثیت ایک وفادار قوم و ملت کے خادم ،  سر سید بحیثیت ہندو و مسلم اتحاد کے ایک عظیم علم بردار ، سرسید بحیثیت  ایک ماہر تعلیم ، سر سید بحیثیت ایک انقلاب آفریں شخصیت ، سر سید بحیثیت ایک دیانت دار اور کہنہ مشق صحافی، سر سید بحیثیت ایک ممتاز اردو ادیب،  سر سید بحیثیت ایک مورخ ، سرسیدبحیثیت ایک نامور خطیب،  سر سید بحیثیت ایک عمدہ ایڈیٹر ،سر سید بحیثیت ایک باکما ل مصنف، سرسید بحیثیت ایک بے لوث ترجمان قوم و ملت ، سر سید بحیثیت ایک ناقد، سر سید بحیثیت ایک ماہر منتظم ، سر سید بحیثیت ایک مشفق والد، سرسید بحیثیت ایک  وفادار شوہر،  سرسید بحیثیت  قوم کے غریبوں ودکھیاروں کا ایک سچامسیحاو غیرہ
سر سید احمد خاں نے  ۲۴؍ مئی  ۱۸۷۵ء کو  مد رسۃ العلوم  (ایم۔ اے۔ او۔  ہائی اسکول  )  قائم کیا جس کا افتتاح سر ولیم کے ہاتھوں ہوا۔ سر سید اس زمانے میں بنارس میں تھے۔ جولائی  ۱۸۷۶ء ؁  میں پینشن پاکر علی گڑھ میں مقیم ہوئے، یہ مدرسہ ۸؍ جنوری ۱۸۷۷ء ؁  میں کالج میں تبدیل ہوا،جس کا افتتاح لارڈ لٹن وائسرائے و گورنر جنرل ہند نے کیا، سر سید احمد خاں  ۲۸؍ مارچ  ۱۸۹۸ء میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئےتدفین مسلم یونیور سٹی علی گڑھ کے کیمپس میں ہوئی،

*🛑سیف نیوز اُردو*

نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحا...