Thursday, 31 August 2023

جاگ میرے شہر


*10 دسمبر 1991*

مالیگاوں محنت کشوں کا شہر ہے، دین داروں کا شہر ہے، پاور لوم کا شہر ہے، یہ سب درست ہے لیکن کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ اس سے الگ کون سا نام تجویز کر سکتے ہیں تب میں کہوں گا، مالیگاوں باتیں کرنے والوں کا شہر ہے۔ ہوٹلوں میں، کلبوں میں، بیٹھکوں میں، سڑکوں اور چوراہوں پر، بینچوں پر یہاں تک کہ راستہ چلتے ہوئے بھی باتیں ہی باتیں سنائی دیتی ہیں۔ رہی سہی کسر وہ لوگ پوری کر دیتے ہیں جنہیں اسٹیج لگا کر لاوڈ اسپیکر پر چلانے کا شوق ہے۔ اس ہفتہ مختلف مقامات پر جو باتیں میرے کانوں میں پڑیں اس نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ مثلا ایک جگہ کچھ لوگ یوں گفتگو کر رہے تھے۔ 
"کیوں یار! زبیدہ سرتاج (بلدیہ کی ایک رکن جو صدر بلدیہ بنانے کے کھیل میں روپوش ہو گئ تھیں) ملی کہ نہیں؟" 
"ابھی تک تو نہیں ملی مگر ایک تازہ خبر ہے۔ سنا ہے وہ سلہوڑ نام کے کسی مقام پر نظر آئی تھی۔"
"اچھا! اور وہ جو اجمیر جانے کی بات تھی اس کا کیا ہوا؟"
"معلوم ہوا ہے کہ وہ اجمیر گئی تھی مگر پھر وہاں سے کسی نامعلوم مقام کے لئے روانہ ہو گئی۔۔۔۔"
"اور وہ نامعلوم مقام یو پی میں ہونا چاہیے کیونکہ پولس اس کی تلاش میں یو پی گئی ہے۔"
"یار پولس کو کیا معلوم وہ کہاں ہے؟ مجھ سے پوچھو۔۔۔ وہ نظام آباد کے علاوہ اور کہیں نہیں ہو سکتی۔ خیر پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ دیکھو 'جاگ میرے شہر' والے الیاس صدیقی بیٹھے ہیں۔ انہیں سے پوچھ لیتے ہیں۔ انہیں ضرور پتہ ہوگا۔ بڑی دور کی خبر رکھتے ہیں۔"
"آخر بات کیا ہے؟" میں نے ان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا۔
"کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ زبیدہ سرتاج کو کہاں چھپایا گیا ہے؟" ایک نے پوچھا۔
"ہاں میں جانتا ہوں۔" میں نے مسکرا کر کہا۔ 
"تو پھر جلدی بتائیے نا!" وہ سب تقریبا ایک زبان ہو کر بولے۔
"مگر ایک شرط ہے۔ آپ سب کو میرے ایک سوال کا جواب دینا ہوگا۔" میں نے ان کے قریب کھسکتے ہوئے کہا، " کیا آپ کا کوئی بچہ اسکول جاتا ہے؟"
"ہاں ہاں! کیوں نہیں ہم سبھی کے بچے اسکول جاتے ہیں۔ مگر اس بات کا زبیدہ سرتاج سے کیا تعلق؟"
میں نے کہا "تعلق ہے! کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کل آپ کا بچہ اسکول گیا تھا یا نہیں؟"
میرا سوال سن کر سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ پھر ان میں سے ایک شخص آہستگی سے بولا "یار! کہہ نہیں سکتا۔ دن بھر تو کارخانے میں نکل جاتا ہے۔ رات کو کھانا کھا کر ذرا دوستوں کی محفل میں وقت گزارنے آ جاتے ہیں۔ لڑکے کے اسکول کے بارے میں تو کچھ معلوم ہی نہیں پڑتا۔"
میں نے ان سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ "آپ لوگ بھی خوب انسان ہیں، زبیدہ سرتاج کہاں تھی؟ کہاں ہے؟ کہاں جائے گی؟ آپ سب کو معلوم ہے لیکن یہ نہیں پتہ کہ آپ کا بچہ اسکول گیا تھا یا نہیں؟ مارچ اور اپریل میں بچوں کے امتحانات ہوتے ہیں۔ کسی کا بچہ میٹرک میں ہوگا، کسی کا بارہویں میں، کسی اور کسی کلاس میں۔ لیکن آپ سے یہ نہیں ہوتا کہ تھوڑا وقت نکال کر گھر پر اس کے امتحان کی تیاری کروائیں۔ یا کم از کم اس کی نگرانی کریں تا کہ آپ کا بچہ پڑھ لکھ کر دنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل بن سکے۔" مجھے غصے میں بولتا دیکھ کر انہوں نے سر جھکا لیا۔ میرا بھی موڈ خراب ہو چکا تھا اس لئے میں بھی اٹھ گیا۔

ایک دوسری جگہ جو گفتگو سنی وہ تو بڑی عالمانہ تھی۔ ایک صاحب کسی وارڈ کے الیکشن پر بڑے پرجوش انداز میں تبصرہ کر رہے تھے۔
"تو میں کہہ رہا تھا اگر گھڑی والا 238 ووٹ نہ لے جاتا اور سیڑھی والا 92 ووٹ نہ کھا جاتا تو میرے حساب سے چکر کی ووٹ 644 اور پنجے کی ووٹ 580 ہو جاتی اور الیکشن کا نتیجہ بالکل الٹ ہو جاتا۔ یعنی آج جو کانگریس کا امیدورا 142 ووٹوں سے چن کر آیا ہے وہ جنتا دل کے مقابلے میں 64 ووٹ سے ہار جاتا۔"

مجھ سے رہا نہیں گیا۔ میں نے انہیں بیچ میں ٹوکتے ہوئے کہا۔ "واہ صاحب واہ! آپ تو الیکشن کے حساب کتاب کے ایکسپرٹ معلوم ہوتے ہیں۔ کتنی باریکی اور عرق ریزی سے آپ نے وارڈ کے الیکشن کا جائزہ پیش کیا ہے۔کمال کیا آپ نے۔" میری بات سن کر انہوں نے سینہ پھلا لیا۔ میں نے اپنی بات جاری رکھی۔ "مگر میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں صاحب! کیا آپ کا کوئی لڑکا اسکول جاتا ہے؟"
وہ فخریہ انداز میں بولے۔ "جی ہاں! میرا بڑا لڑکا میٹرک میں ہے۔"
میں نے پھر پوچھا۔ "کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پچھلے مہینے میں اس کا جو ششماہی امتحان ہوا تھا تو اردو کے پرچے میں اس کو کتنے مارکس ملے تھے؟"
وہ بولنے لگے "پاس تو میرے خیال میں وہ ضرور ہوا تھا۔ مگر الگ الگ پرچوں کے مارکس یاد نہیں۔"
میرا پارہ ایکدم چڑھ گیا۔ "یہ بھی کوئی بات ہے؟ گاوں بھر کے ہر وارڈ میں ایک ایک امیدوار کے ووٹوں کی تفصیل تو آپ کو زبانی یاد ہے۔ لیکن اپنے بچوں کے مارکس یاد نہیں۔ جو میٹرک میں ہے۔ مارچ میں جس کا امتحان ہے، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس کا کون سا مضمون کمزور ہے؟ کس میں محنت کی ضرورت ہے؟ لیکن آپ غیر ضروری ووٹوں کے حساب کتاب پر اپنی صلاحیت ضائع کر رہے ہیں۔ جناب عالی! الیکشن کا سانپ نکل گیا۔ اب لکیر پیٹنے سے کیا فائدہ؟ اپنے بچے کی طرف دیکھئے۔ اس کی دشواریوں کو حل کیجئے۔ یہی بچہ آپ کا مستقبل ہے۔"

یہ کہہ کر میں اٹھ گیا۔ میں نہیں جانتا میری بات ان صاحب کو اچھی لگی یا بری؟ یہ تو چند مثالیں ہیں ورنہ پورے شہر کا حال کچھ ایسا ہی ہے۔ میرے شہر کے یہ عجیب لوگ گمشدہ کونسلر کے بارے میں تو پل پل کی خبر رکھتے ہیں، اپنے بچے اور بچی کی انہیں کوئی خبر نہیں، یہ ووٹوں کا حساب کتاب تو جانتے ہیں، بچے کے مارکس انہیں نہیں معلوم۔ یہ لوگ گیارنٹی کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ صدر بلدیہ کون بنے گا؟ لیکن یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کے بچے کا کلاس ٹیچر کون ہے؟ یہ جانکار لوگ جانتے ہیں کہ صدر بلدیہ بننے کے لئے کون کتنے لاکھ روپے آفر کر رہا ہے لیکن ان کو یہ نہیں معلوم کہ ان کے بچے کے کمپاس بکس میں پنسل اور ربر ہے یا نہیں؟ ان کو یہ تو معلوم ہے کہ فلاں ممبر کے ساتھ کتنے آدمی ہیں؟ لیکن یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے بچے کے بستے میں کتنی بیاضیں کم ہیں؟ ان کو صدر بلدیہ کے چناو کی تاریخ، دن بلکہ وقت بھی معلوم ہے لیکن اپنے بچے کے امتحان کا مہینہ نہیں۔

ایسے ہی والدین کو جب میں دیکھتا ہوں، جب ان کی روش اور غفلت کو دیکھتا ہوں، جب ایسے طالب علموں پر نظر جاتی ہے جو اپنے سرپرستوں کی توجہ نہ دینے کے سبب پڑھائی کرنے کے بجائے گلیوں میں کھیل کود میں وقت گذارتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ ایک بورڈ لکھوں اور قدوائی روڈ پر رکھ دو، جس پر لکھا ہو کہ "ایک لڑکا ملا ہے بھائیو! یہ لڑکا وارث ہوتے ہوئے بھی لاوارث ہے۔ والد کے حیات ہوتے ہوئے بھی یتیم ہے۔ سرپرست رکھتے ہوئے بھی سرپرستی سے محروم ہے۔ گھر میں رہتا ہے مگر گم ہو چکا ہے۔ جس کسی بھائی کا ہو وہ نام بتا کر لے جائے۔"
ممکن ہے یہ بورڈ پڑھ کر سیاسی گفتگو میں وقت ضائع کرنے والے، ہوٹلوں کے بینچ پر وقت برباد کرنے والے لوگ، کلبوں میں شطرنج اور تاش کھیلنے والے لوگ، رات کو ایک بجے تک غیر ضروری کاموں میں جاگنے والے لوگ میرے پاس آئیں تو میں انہیں بتا سکوں کہ آپ کا بچہ ابھی گم نہیں ہوا ہے۔ لیکن آپ نے اپنا طریقہ نہیں بدلا تو آپ کا بچہ برا ہو کر جاہل اور ان پڑھ رہ جائے گا اور اس وسیع دنیا میں ایسا گم ہو گا کہ پتہ بھی نہیں چلے گا۔ پھر میں انہیں یہ بتاوں گا کہ زبیدہ سرتاج آج نہیں تو کل آئے گی۔ صدر بلدیہ بھی ایک نہیں تو دوسرا بنے گا لیکن آپ کا بچہ فیل ہو گیا تو اس کا کھویا ہوا مستقبل نہ آپ ڈھونڈ کر لا سکیں گے نہ آپ کا بچہ۔ اس لئے اگر آپ اس کے سرپرست ہیں تو سر پرستی کیجئے۔ گھر پر اس کی پڑھائی میں مدد کیجیے اور اگر خدانخواستہ آپ پڑھے لکھے نہیں ہیں تو گھر پر موجود رہ کر کم از کم یہ دیکھئیے کہ وہ امتحان کی تیاری میں لگا ہے یا کھیل کود میں۔ پھر؟ کیا خیال ہے آپ کا؟ بورڈ لگاوں یا نہیں۔۔۔ ؟

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ مو...