Wednesday, 15 November 2023

محمد شامی کو گرفتار نہ کریں

ملک میں کرکٹ عالمی کپ جاری ہے اور ہر کوئی اس کا دیوانہ ہے۔ ہندوستانی ٹیم عالمی کپ میں ناقابل تسخیر رہی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میچ میں ٹیم انڈیا کی جیت کا سلسلہ جاری رہا۔ ہندوستان نے نیوزی لینڈ کو 70 رنز سے شکست دے کر فائنل میں رسائی حاصل کی۔ اس جیت کے لیے جس قدر ویراٹ کوہلی اور شریاس ایئر کی سنچریوں کی بات کی جا رہی ہے، وہیں محمد شامی کی جان لیوا بولنگ کی بھی بات ہو رہی ہے۔

محمد شامی نے اس میچ میں 7 وکٹیں لے کر میچ بھارت کے کھاتے میں ڈال دیا۔ ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ میچ ہندوستان کے ہاتھ سے چلا جائے گا، لیکن شامی نے جس طرح سے ٹیم انڈیا کی میچ میں واپسی کی وہ قابل تعریف ہے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی اور ممبئی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر محمد شامی کی بولنگ کو لے کر کافی دلچسپ ٹویٹس کئے ہیں۔ شامی کے حوالے سے دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کیا۔ ذیل میں ہیں دونوں کے ٹویٹ ۔

دہلی پولیس نے ایکس پر محمد شامی کے بارے میں ممبئی پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا، 'ممبئی پولیس، ہمیں امید ہے کہ آپ محمد شامی کو آج کیے گئے حملے کے لیے گرفتار نہیں کریں گے۔' اس کے جواب میں ممبئی پولیس نے جواب دیا، 'دہلی پولیس، آپ لاتعداد لوگوں کے دل چرانے کے لیے دفعہ لگانا بھول گئے ہیں اور ساتھ ہی آپ نے شریک ملزمان کی فہرست بھی نہیں دی ہے۔'
نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 397 رنز کا بڑا اسکور بنایا۔ ویراٹ کوہلی نے اپنے ون ڈے کیریئر کی 50ویں سنچری اسکور کی اور اس طرح وہ کرکٹ کے اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بلے باز بن گئے۔ انہوں نے عظیم بلے باز سچن تندولکر کو پیچھے چھوڑ دیا۔ شریاس ایر نے بھی 70 گیندوں پر 105 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔ اس کے بعد جب ہندوستانی گیند باز پچ پر آئے تو انہوں نے بھی تہلکہ مچا دیا۔
شامی نے پہلے نیوزی لینڈ کے دونوں اوپنرز کو پویلین کا راستہ دکھایا۔ لیکن اس کے بعد کپتان کین ولیمسن اور ڈیرل مچل نے جس طرح سے بلے بازی کی، اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ میچ بھارت کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ لیکن شامی نے اپنے دوسرے اسپیل میں ولیمسن کی وکٹ حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے رکنے کے آثار نہیں دکھائے لیکن سات کیوی بلے بازوں کو ایک ایک کر کے پویلین بھیج کر بھارت کو فتح دلا دی۔

شرد پوار کی مارک شیٹ اور مہاراشٹر میں مراٹھا-او بی سی تنازعہ کا جال

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) سپریمو شرد پوار نے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کی ذات اس کی پیدائش سے ہی ہوتی ہے اور اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’میری ذات پوری دنیا جانتی ہے... میں نے (وائرل ہو رہے) سرٹیفکیٹس کو دیکھا ہے، ایک میرا اسکول چھوڑنے والا سرٹیفکیٹ ہے اور یہ مہاراشٹر ایجوکیشن سوسائٹی کے ہائی اسکول سے جڑا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ اصلی ہے۔ اس پر لکھی ہوئی باتیں درست ہیں۔ اس کے علاوہ ایک انگریزی میں لکھا ہوا ڈاکیومنٹ جاری ہوا ہے جس میں میری ذات کو او بی سی بتایا گیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’میں او بی سی کا پورا احترام کرتا ہوں لیکن میں اپنی ذات چھپا نہیں سکتا جو مجھے پیدائش سے ملی ہے۔‘‘

شرد پوار نے یہ باتیں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ان دو دستاویزات کے سلسلے میں کہی ہیں جن میں شرد پوار کو او بی سی بتایا گیا ہے۔ شرد پوار نے کہا کہ وہ ذات کا استعمال سیاست کے لیے نہیں کرتے ہیں اور ایسا کبھی نہیں کریں گے، لیکن وہ مراٹھا طبقہ کے ایشوز کو حل کرنے کی پوری کوشش کرتے رہیں گے۔ اس سوال پر کہ کیا ریزرویشن کو لے کر او بی سی اور مراٹھا طبقہ کے درمیان دشمنی بڑھ رہی ہے، شرد پوار نے کہا کہ ’’دونوں طبقات کے درمیان ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ او بی سی اور مراٹھوں کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ لوگ ایسا ماحول ضرور بنانا چاہتے ہیں۔‘‘

وائرل ہو رہے دستاویزات کو لے کر شرد پوار کی بیٹیا سپریا سولے نے بھی کہا ہے کہ یہ سیاسی سازش ہے۔ بارامتی سے این سی پی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا کہ ذات سرٹیفکیٹ کے دعوے غلط ہیں اور سرٹیفکیٹس فرضی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ شرد پوار کو بدنام کرنے کی سازش ہے، یہ کسی کی بچکانی حرکت ہے۔ یہ سوچنا چاہیے کہ جب شرد پوار دسویں درجہ میں پڑھتے تھے تب کیا انگلش میڈیم اسکول تھے؟‘‘
غور طلب ہے کہ شرد پوار کی پیدائش 1942 میں ہوئی تھی اور انھوں نے بارامتی میں مراٹھی زبان والے اسکول سے تعلیم حاصل کی تھی۔ بعد میں پونے کے انگریزی میڈیم کالج میں گئے تھے۔ وہ 57-1955 کے درمیان اسکول سے پاس آؤٹ ہوئے ہوں گے۔ یہاں دلچسپ ہے کہ اس وقت او بی سی (دیگر پسماندہ طبقہ) وجود میں ہی نہیں تھا۔ آئین میں صرف ایس سی اور ایس ٹی کو منظوری دی گئی تھی۔ او بی سی کا ذکر تو وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت میں 80 کی دہائی میں پہلی بار منڈل کمیشن کی رپورٹ سے سامنے آیا تھا۔

مدلل طور پر دیکھیں تو اس طرح شرد پوار کی ذات کو او بی سی بتانا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ اس کے علاوہ شرد پوار تو خود کو فخر کے ساتھ ’می مرد مراٹھا‘ (میں ایک مراٹھا مرد ہوں) کہتے رہے ہیں۔ ایسے میں شرد پوار خود کو او بی سی کے طو رپر کیسے اسکول میں رجسٹر کرا سکتے ہیں۔
تو سوال ہے کہ آخر شرد پوار کا فرضی سرٹیفکیٹ کیوں وائرل ہو رہا ہے؟ موٹے طور پر دیکھیں تو اس کی جڑیں مہاراشٹر میں چل رہی مراٹھا ریزرویشن تحریک سے جڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اس تحریک کو سنبھالنے میں موجودہ شندے حکومت نے آگ پر چلنے جیسا کام کیا ہے۔ شندے حکومت نے تحریک کرانے والے مراٹھوں کو کنبی ذات کا سرٹیفکیٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

کنبی دراصل مراٹھوں کی ہی ایک ذیلی ذات ہے جو روایتی طور پر کھیتی کسانی سے جڑے لوگوں کا طبقہ ہے۔ لیکن موجودہ سیاسی منظرنامہ میں وہ مراٹھا نظر آتے ہوئے بھی او بی سی ریزرویشن کا فائدہ لینا چاہتے ہیں۔ غالباً اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے کہا تھا ’’وہ اپنی بیٹی کی شادی کے وقت تو مراٹھا ہو جاتے ہیں، لیکن ملازمتوں میں فائدے کے لیے او بی سی بننے سے پرہیز نہیں کرتے۔‘‘

شرد پوار کو او بی سی بنانے کے پیچھے ایک دیرگ سیاسی وجہ بھی مانی جا سکتی ہے۔ 80 کی دہائی کی منڈل تحریک کے دوران مراٹھوں نے پہلی بار او بی سی کیٹگری میں ریزرویشن کا مطالبہ کیا تھا، تو اس وقت شرد پوار مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ تھے۔ انھوں نے اس مطالبہ کو خارج کر دیا تھا۔ البتہ انھوں نے 52 چھوٹی اور بے اہم ذاتوں کو او بی سی میں شامل کر لیا تھا۔ اسی لیے جہاں او بی سی اس کے لیے انھیں سب سے عظیم او بی سی لیڈر کی شکل میں تعریفیں کر رہے ہیں، وہیں کچھ لوگ اسی بات کو سیاسی شرارت کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

مہاراشٹر کے ووٹرس میں مراٹھوں کی آبادی تقریباً 33 فیصد ہے۔ لیکن سارے مراٹھے ایک جیسے نہیں ہیں۔ مراٹھوں کے تقریباً 96 ’کل‘ (زمرے) ہیں۔ ان میں سے 6 کو راج شاہی کل مانا جاتا ہے، جیسے بڑودہ کے گائیکواڈ، گوالیر کے سندھیا، اندور کے ہولکر، بھوسلے، دیشمکھ اور جادھو۔ لیکن ایسے بھی کل ہیں جن کا شجرہ راجستھان کے چوہان اور سسودیا سے ملتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ وقت کے مہاراشٹر میں سب سے مضبوط لیڈر مانے جانے والے شرد پوار ان میں سے کسی بھی نسل سے نہیں ہیں۔ وہ ایک معمولی مراٹھا کسان کنبہ سے آتے ہیں اور شاید اسی لیے وہ خود کو کسان ہی کہتے رہے ہیں۔

غالباً یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ ایس وی چوہان، پرتھوی راج چوہان اور ولاس راؤ دیشمکھ جیسے دیگر مراٹھا لیڈران سے ان کی زیادہ بنتی نہیں ہے۔ شرد پوار کی سیاست ہمیشہ اشرافیہ مراٹھا کو سیاست میں یا سرکاری سطح پر اعلیٰ عہدہ پر فائز ہونے سے روکنے والی رہی ہے۔ لیکن وہ اس میں ہمیشہ کامیاب بھی نہیں ہوئے ہیں۔
شرد پوار کو او بی سی ثابت کرنے کی شرارت کے پیچھے وہ سیاسی بحث بھی ہو سکتی ہے جس میں ملک کی آبادی میں حصہ داری کے مطابق حق دینے کی دلیل دی جا رہی ہے اور ذات پر مبنی مردم شماری کو بڑے سیاسی ایشوز کے طور پر سامنے رکھا جا رہا ہے۔

کالی مرچ کے فوائد

کالی مرچ معدے کے امراض کے لیے مفید ہونے کے ساتھ اس میں صحت کے لیے بہت سے فوائد موجود ہیں اور کالی مرچ کے استعمال کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

کالی مرچ کو ہاضمے کے لیے بھی اچھا کہا جاتا ہے اور یہ جسم کے زہریلے مادوں کو دور کرکے کینسر سے بچاتی ہے جب اس مصالحے کو کھانے میں شامل کیا جاتا ہے تو یہ آپ کے کھانے کا ذائقہ بہتر کرکے مصالحہ دار بنا دیتی ہے

کالی مرچ کے بارے میں اہم حقائق
کبھی سوچا ہے کہ کالی مرچ کو ‘مصالوں کا بادشاہ’ کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مصالا آپ کے جسم کے لیے بہت سے فوائد رکھتا ہے اس حیرت انگیز مصالحے کے بارے میں کچھ حقائق یہ ہیں۔

۔1 آپ کے جسم کو زہریلے مادو ں سے صاف کرتی ہے۔

۔2 کینسر سے بچاتی ہے آپ کی آنتوں اور معدہ کو صاف کرتی ہے۔

۔3 اس میں پوٹاشیم ہوتا ہے جو دل کی دھڑکن اور ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتی ہے۔

۔4 سرخ خون کے خلیات پیدا کرنے میں مدد کرتی ہے۔

۔5 وٹامن بی سے بھرپور اور کیلشیم پیدا کرتی ہے۔

۔6 قبض کو دور کرتی ہے جلد کی خرابی اور جھریوں کو روکتی ہے۔
۔7 اپنی روزمرہ کی خوراک میں ایک چٹکی کالی مرچ شامل کرنا آپ کو صحت مند رکھ سکتا ہے۔

کالی مرچ کے صحت بخش فوائد
اس مصالے کے بہت سے فوائد ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اسے ‘کنگ آف اسپائس’ کا نام دیا تھا یہاں کالی مرچ کے صحت بخش فوائد موجود ہیں اور یہ کیسے جراثیم کش کے طور پر کام کر سکتی ہے جو کئی بیماریوں سے بچا سکتی ہے۔

۔1 کسی بھی قسم کے کینسر سے بچاتی ہے
کالی مرچ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے ہلدی کے ساتھ ملا کر پینے سے کینسر سے بچا جا سکتا ہے اس کو ہلدی اور کالی مرچ ملا کر دودھ کے ساتھ پیا جا سکتا ہے یہ مشروب عام طور پر شدید سردی میں مبتلا افراد کو دیا جاتا ہے۔

اخلاص کی قوت اور عجیب واقعہ

امام محمد غزالیؒ نے احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا، جو ہر وقت عبادت میں مشغول رہتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک جماعت اس کے پاس آئی اور کہا کہ یہاں ایک قوم ہے، جو ایک درخت کو پوجتی ہے۔ یہ سن کر اس کو غصہ آیا اور کلہاڑا کندھے پر رکھ کر اس کو کاٹنے کیلئے چل دیا۔ راستے میں اسے شیطان ایک پیر مرد کی صورت میں ملا۔ عابد سے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا فلاں درخت کو کاٹنے جارہا ہوں۔ شیطان نے کہا: تمہیں اس درخت سے کیا غرض، تم اپنی عبادت میں مشغول رہو۔ تم نے اپنی عبادت کو ایک مہمل اور بے کار کام کیلئے چھوڑ دیا۔ عابد نے کہا لوگوں کو شرک سے بچانا یہ بڑی عبادت ہے۔
شیطان نے کہا: میں تمہیں نہیں کاٹنے دوں گا، پھر دونوں کا مقابلہ ہوا، وہ عابد اس کے سینے پر چڑھ گیا۔ شیطان نے اپنے کو عاجز دیکھ کر خوشامد کی اور کہا کہ اچھا ایک بات سن لے۔ عابد نے اس کو چھوڑ دیا۔ شیطان نے کہا: خدا نے تجھ پر اس درخت کو کاٹنا فرض تو کیا نہیں، تیرا اس سے کوئی نقصان نہیں تو اس کی پرستش و پوجا نہیں کرتا۔ خدا کے بہت سے نبی ہیں، اگر وہ چاہتا تو کسی نبی کے ذریعے اس کو کٹوا دیتا۔ عابد نے کہا میں ضرور کاٹوں گا۔ پھر دونوں میں مقابلہ ہوا، وہ عابد پھر اس کے سینے پر چڑھ گیا۔ شیطان نے کہا اچھا سن، ایک فیصلہ کن بات جو میں تیرے نفع کی کہوں گا۔ عابد نے کہا کہہ۔ شیطان نے کہا کہ تو غریب آدمی ہے۔ دنیا پر بوجھ بنا ہوا ہے تو اس کام سے باز آ۔ میں تجھے روزانہ تین دینار دیا کروں گا، جو روزانہ تیرے سرہانے کے نیچے رکھے ہوئے ملا کریں گے۔ تیری بھی ضرورتیں پوری ہو جایا کریں گی، اپنے اعزہ و اقارب پر بھی احسان کر سکے گا۔ فقیروں کی بھی مدد کرسکے گا اور بہت سے ثواب کے کام حاصل کرے گا۔ درخت کاٹنے میں تو فقط ایک ہی ثواب ہوگا اور وہ بھی رائیگاں جائے گا، وہ لوگ پھر دوسرا درخت لگالیں گے۔ عابد کو سمجھ میں آگیا (کسی نے پنجابی میں کیا خوب کہا ہے ’’جدوں رب رسے تے مت کھسے‘‘ یعنی جب رب ناراض ہو تو عقل ختم ہو جاتی ہے) اس عابد نے قبول کرلیا اور گھر آگیا۔ دو دن تک دینار تکیے کے نیچے سے ملے، تیسرے دن کچھ بھی نہ ملا۔ عابد کو پھر غصہ آیا اور اسی طرح کلہاڑا لے کر چلا، راستہ میں وہ بوڑھا اسے پھر ملا، تو پوچھا جناب کہاں جا رہے ہو؟ عابد نے کہا کہ اسی درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں۔ بوڑھے نے کہا تو اس کو نہیں کاٹ سکتا۔ دونوں میں لڑائی ہوئی اور وہ بوڑھا (یعنی شیطان) غالب آگیا اور عابد کے سینے پر چڑھ گیا۔ عابد کو بڑا ہی تعجب ہوا۔ اس سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ تو اس مرتبہ غالب آگیا؟ شیطان نے کہا کہ پہلی مرتبہ تیرا غصہ خالص خدا کیلئے تھا، اس لئے خدا نے مجھے مغلوب کردیا اور تجھے غالب۔ اس مرتبہ تیرے دل میں دیناروں کا دخل تھا۔ خدا کی رضا اور اخلاص نہ تھا، اس لئے تو مغلوب ہوا اور میں غالب۔
حق یہ ہے کہ جو بھی کام اخلاص اور رب تعالیٰ کی رضا جوئی کیلئے کیا جائے تو اس میں بڑی قوت و برکت ہوتی ہے اور جس کام میں حرص و لالچ کا دخل ہو، اس عمل میں کوئی طاقت اور برکت نہیں ہوتی، جیسا کہ اس مذکورہ واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ (فضائل ذکر ص 514)
خلوص نیت کا مطلب یہ ہے کہ مطلوبہ کام صرف اور صرف رب تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کیا جائے، جس میں تصنع اور ریاکاری اور کسی قسم کے لالچ کا دخل نہ ہو۔ نیت میں اخلاص کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اعمال روشن، وزنی اور قابل قبول ہوں گے۔ بصورت دیگر اعمال صرف ڈھانچے بن کر رہیں گے۔ جس طرح اعضائے بدن کی کارکردگی روح پر منحصر ہے، اسی طرح اعمال صالحہ بھی خلوص نیت پر موقوف ہیں۔ حضور اقدسؐ کا فرمان مبارک ہے: اعمال کے زندہ ہونے کا مدار بلاشک نیتوں پر ہے۔ مسجد میں جاتے وقت اگر کوئی اپنے جوتوں کی حفاظت اس لئے کرتا ہے کہ مبادا کوئی اپنی عاقبت خراب نہ کر بیٹھے یا مکان بناتے وقت روشندان اس لئے رکھتا ہے کہ اذان کی آواز بھی سنائی دے، تو یہ عمل اس کیلئے عمل ثواب اور عمل بقا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ روز قیامت اعمال گننے کے بجائے اعمال تولے جائیں گے۔ علی ہذا القیاس اخلاص نیت کے ہوتے ہوئے چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی بڑا اور عدم اخلاص کی صورت میں بڑا عمل بھی چھوٹا اور بے وزن ثابت ہو گا۔

19 نومبرکو خلیل اسکول گراؤنڈ میں ایک روزہ محسن انسانیت کانفرنس

   پریس ریلیز:- مورخہ15نومبر2023 ءبروز بدھ بعد نماز عشاء اہل حدیث منزل گولڈن نگر میں صوبائی جمعیت اہل حدیث مہاراشٹر کے امیر ڈاکٹر سعید احمد فیضی اور صوبائی جمعیت کے ناظم اعلیٰ حافظ عنایت اللہ محمدی اور مقامی جمعیت کے امیر مولانا شکیل احمد فیضی نے مشترکہ پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی جمعیت اہل حدیث مہاراشٹراپنی بنیاد سے ہی مالیگاؤں کے مرکزی دفتر سے پورے صوبے میں اپنی ضلعی وذیلی اکائیوں کے ساتھ دینی دعوتی وتعلیمی نیز اجلاس وکانفرنس اور سماجی وفلاحی سرگرمیوں میں اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔
19نومبر2023ء بروزاتوارعصر بعدتارات دس بجے گولڈن نگر کے سیٹھ محمد خلیل ہائی اسکول گراؤنڈ میں صوبائی جمعیت اہل حدیث مہاراشٹرکا صوبائی سطح کادینی اجلاس منعقد ہونے جارہاہے۔ ان شاء اللہ جس میں ائمہ حرمین شریفین کے استاذ، محدث مکہ مکرمہ،مفتی ومدرس حرم علامہ وصی اللہ عباس مدنی صاحب، مکہ مکرمہ سے تشریف لاچکے ہیں،ان کے علاوہ ملک کے کئی ممتازو مشاہیراہل علم وفضل شریک ہوکرحاضرین سے خطاب فرمائیں گے اور اس کانفرنس سےپوری ریاست سے استفادہ کرنے والے سامعین کی ایک بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
صوبائی جمعیت اپنےاجلاس میں مختلف عناوین کے تحت، ملک کے مشاہیر اہل علم وفضل کے ذریعے محسن انسانیت حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سچی تعلیمات کوعام کرنا چاہتی ہے۔جس میں مسنون نکاح کی ترویج اوربے جا رسومات وخرافات کی تردید، معاشرے کی اصلاح میں نوجوانوں کے کردار کواجاگر کرنا،حالات حاضرہ میں ہماری ذمہ داریاں،برادران وطن کے ساتھ حسن سلوک اوران کے شرعی حقوق کی تعلیمات کو عام کرنا،مسلمانوں میں بے دینی کے اسباب وعلاج اسی طرح قرآن کے پیغام اور اس کے احکام کولوگوں تک پہونچانا۔
واضح ہوکہ محسن انسانیت کانفرنس کے علاوہ صبح کے وقت خواتین کے لئے ان کےحقوق و فرائض اور ان کے امتیازی مسائل کی جانکاری کے لئے خلیل اسکول کیمپس میں حقوق نسواں کانفرنس کاانعقاد کیاجارہاہے،علاوہ ازیں مفتی ومدرس حرم مکی کی صدارت میں مسجد اہل حدیث گولڈن نگر میں صوبائی جمعیت کے ارکان شوری وعاملہ نیز پورے مہاراشٹر کے ائمہ وعلماء کرام کے لئے ایک سیمپوزیم بعنوان تحریک اہل حدیث ماضی و حال۔ تاریخ کے آ ئینے میں منعقد ہوگا۔
 جس میں تاریخ پر گہری نگاہ رکھنے والےاہل علم واصحاب وفکرونظر مختلف موضوعات مثلاہندوستان میں تحریک اہل حدیث کی ابتداء اور علماء اہل حدیث کی دیگر ملی ،دینی،سیاسی تنظیموں میں شراکت اور گراں قدر خدمات کونسل نو تک پہونچانے کی کوشش کریں گےاس کے علاوہ تحریک اہل حدیث کے تنزلی کے اسباب اور اس کے علاج مزید تحریک اہل حدیث کس طرح منظم ہوکر اپنا دعوتی فریضہ انجام دے سکتی ہے اس پر اپنے قیمتی مقالات پیش کریں گے۔ ان شاءاللہ۔ صوبائی جمعیت اہل حدیث مہاراشٹرکے جملہ ذمہ داران کا مذکورہ پروگراموں کامقصد یہ ہیکہ آپس کی غلط فہمیوں کو دور کرنا بلاتفریق مسلک ومذہب قربت ومحبت کاماحول بنانا کیونکہ یہ چیزیں ہمارے لئے، ہمارے سماج اور ملک کی تعمیروترقی کیلئے انتہائی مفید ہے ۔
یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ ہمیں وطن سے محبت ہو اور وطن میں رہنے والوں سے محبت ناہو،اس لئے آئیے ملک میں محبت کا ماحول بنائیں نفرت کوختم کریں اورملک وملت کی تعمیر میں اپنامثبت کردار ادا کریں اس کے علاوہ مسلمانان عالم کی جان ومال اور ان کی عزت وآبرو کیلئے دعاکریں بالخصوص فلسطین کے مسلمانوں پر ہورہے ظلم وزیادتی کو نہ بھولیں اور ان پر ظلم وستم کرنے والی باطل طاقتوں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ جاری رکھیں اور نماز میں قنوت نازلہ کااہتمام کریں،اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطاء فرمائے۔آخر میں ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعے بلاتفریق مسلک اہلیان شہر سے گذارش کریں گے کہ اس کانفرنس میں شریک ہوکر مفتی ومدرس حرم مکی اورنامورعلماء کرام کے مواعظ حسنہ سے مستفیدہوں۔ آمین

این سی ای آر ٹی

نئی دہلی: انڈیا کی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے اسکولی تعلیم میں ایک اہم تبدیلی کا آغاز کیا ہے۔ نیشنل سلیبس اینڈ ٹیچنگ لرننگ میٹریل کمیٹی (این ایس ٹی سی) کے تحت مشیل ڈنینو کی سربراہی میں 35 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی کلاس 6 سے 12 کے لیے سوشل سائنس کے نصاب کو از سر نو ترتیب دینے پر کام کرے گی۔

این سی ای آر ٹی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، نیشنل کریکولم فریم ورک برائے اسکول ایجوکیشن (این سی ایف ایس ای) اگست میں جاری کیا گیا تھا۔ این سی ایف-ایس سی ملک بھر میں اسکولی تعلیم کے لیے نصاب اور نصابی کتب کی تیاری کے لیے رہنما کے طور پر کام کرے گا۔
این ایس ٹی سی کے تحت کریکولم ایریا گروپس موضوع کے لحاظ سے نصاب اور ٹیچنگ لرننگ میٹریل (ٹی ایل ایم) تیار کریں گے، جس میں نصابی کتابیں بھی شامل ہوں گی۔

اس کے تحت سماجی علوم (تاریخ، جغرافیہ، سیاسیات، سماجیات اور نفسیات) کے لیے ایک نصابی ایریا گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ گروپ، اکنامکس گروپ کے ساتھ مل کر، چھٹی سے بارہویں جماعت کے لیے سماجی سائنس کا نصاب اور اساتذہ کا تدریسی مواد تیار کرے گا۔ یہ گروپ ابتدائی طور پر تین زبانوں ہندی، انگریزی اور اردو میں اساتذہ کا تدریسی مواد تیار کرے گا۔ اس کا بعد میں دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا۔
این سی ای آر ٹی نے اس گروپ کو مختلف کاموں کے لیے ایک آخری تاریخ بھی دی ہے۔ اس کے مطابق کتابوں کا پہلا مسودہ، اساتذہ کا تدریسی مواد، ورک بک وغیرہ اگلے سال 20 جنوری تک تیار ہو جانا چاہیے۔ اسی طرح فائنل ڈرافٹ کے لیے 10 فروری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اساتذہ کے لیے ’ہینڈ بک‘ 25 فروری تک تیار کرنا ہوگی۔

عالمی کپ 2023: سیمی فائنل میں 50ویں سنچری بناتے ہی وراٹ کوہلی نے توڑے کئی ریکارڈ

وراٹ کوہلی نے ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جا رہے پہلے سیمی فائنل میچ میں سنچری بنا کر ایک ایسا ریکارڈ قائم کر دیا ہے جس کے بارے میں کوئی بھی کرکٹر تصور بھی نہیں کر سکتا۔ وراٹ کوہلی نے یک روزہ کرکٹ میں اپنی 50ویں سنچری بنا لی اور اس کے ساتھ ہی سچن تندولکر کی 49 سنچری کے عالمی ریکارڈ کو توڑ دیا۔ جب انھوں نے یہ سنچری بنائی تو سچن تندولکر بھی اسٹیڈیم میں بیٹھ کر میچ دیکھ رہے تھے۔ سچن نے کوہلی کی سنچری پر کھڑے ہو کر تالیوں سے ان کے ریکارڈ کا استقبال کیا۔ کوہلی نے بھی ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔
وراٹ کوہلی نے نیوزی لینڈ کے خلاف یہ سنچری 106 گیندوں پر ایک چھکا اور آٹھ چوکوں کی مدد سے مکمل کیے۔ 117 رن (113 گیندوں پر 2 چھکوں اور 9 چوکوں کے ساتھ) کے اسکور پر جب وہ آؤٹ ہوئے تو ہندوستان بہت مضبوط پوزیشن (44 اوورس میں 2 وکٹ کے نقصان پر 327 رن) میں پہنچ چکا تھا۔ جب وہ پویلین لوٹ رہے تھے پورے اسٹیڈیم میں تالیوں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

بہرحال، وراٹ نے اپنی اس اننگ کے دوران صرف یک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچری بنانے کا ریکارڈ ہی نہیں توڑا، بلکہ کچھ اور بھی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ مثلاً ایک عالمی کپ میں سب سے زیادہ رن بنانے کا ریکارڈ بھی اب کوہلی نے اپنے نام کر لیا ہے۔ یہ ریکارڈ بھی سچن تندولکر کے نام تھا۔ سچن نے 2003 کے عالمی کپ میں 11 اننگ میں 673 رن بنائے تھے، اور کوہلی نے اب تک 10 اننگ میں 711 رن بنا لیے ہیں۔ ہندوستان فائنل میں کھیلتا ہے (جیسا کہ معلوم پڑ رہا ہے) تو یہ 800 رن کے قریب بھی پہنچ سکتا ہے۔

وراٹ کوہلی کو لے کر ایک بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہوگا کہ انھوں نے آج سے پہلے عالمی کپ کے ناک آؤٹ میچ میں کبھی بھی نصف سنچری بھی نہیں بنائی تھی۔ ان کا سب سے بڑا اسکور 34 رن تھا جو 2011 کے عالمی کپ فائنل مقابلہ میں انھوں نے بنایا تھا۔ یعنی آج وراٹ کوہلی کی کھیلی گئی اننگ نے ناک آؤٹ میں ان کی خراب کارکردگی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...