Sunday, 20 August 2023

مولانا سید طاہر حسین گیاوی ؒ

 نامور عالم دین، ممتاز مناظر اسلام، ترجمان حق وصداقت، بے مثال خطیب، برجستہ گو اور حاضر جواب ، جامع مسجد امروہہ کے فارغین میں گل سر سبد، ماہر علم کلام، مصنف کتب کثیرہ، بانی دار العلوم حسینیہ پلاموں مولانا سید طاہر حسین گیاوی کا 10جولائی 2023مطابق 21ذی الحجہ 1444ھ روز سوموار پونے بارہ بجے دوپہر آرہ ضلع بھوجپور میں انتقا ل ہو گیا،وہ برسوں سے صاحب فراش تھے۔11جولائی 2023کو جنازہ کی نماز ان کی وصیت کے مطابق ان کے داماد مولانا ولی اللہ ولی نے پڑھائی، مولانا ولی اللہ احد کے قریب ایک مسجد کے امام ہیں، مدینہ منورہ میں قیام ہے، اللہ نے سہولت بہم پہونچائی اور وہ وقت پر مدینہ سے تشریف لے آئے، بعد نماز مغرب ولی گنج حویلی مسجد آرہ میں ہزاروں معتقدین کی موجودگی میں انہوں نے جنازہ کی نماز پڑھائی، تدفین آرہ کے روضہ گنج قبرستان میں ہوئی، پس ماندگان میں اہلیہ ، چار لڑکے مولانا عبد الغافر، مولانا عبد الناصر، عبد القادر ، عبد الظاہر، اور پانچ لڑکیاں شامل ہیں، مولانا عبد الغافر دار العلوم حسینیہ پلاموں اور مولانا عبد الناصر دار العلوم حسینیہ لوہردگا کے ناظم ہیں۔ مولانا کوئی چالیس سال قبل ہی کوچ بلاک واقع اپنے آبائی وطن کا برگاؤں سے نقل مکانی کرکے آرہ کے سندیش تھانہ علاقہ میں منتقل ہو گیے تھے، یہاں انہوں نے آرہ کے ولی گنج محلہ میں اپنا مکان بنالیا تھااور آخری سانس یہیں لی۔
ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب سے حاصل کرنے کے بعد ابو المحاسن مولانا محمد سجاد بانی امارت شرعیہ کے قائم کردہ مدرسہ انوار العلوم گیا میں داخلہ لیا اور عربی سوم تک کی تعلیم یہاں پائی، وہاں سے مدرسہ مظہر العلوم بنارس چلے گیے، متوسطات کی کتابیں یہیں پڑھیں ایک سال مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور میں بھی گذارا ۔ 1967مطابق 1386ھ میں دار العلوم دیو بند میں داخل ہوئے۔ دو سال تعلیمی سلسلہ جاری رہا، لیکن ہفتم کے سال 1969میں طلبہ کے اسٹرائک کی قیادت میں نامور ساتھیوں مولانا نور عالم خلیل امینی ، مولانا اعجاز احمد شیخو پور رحمھما اللہ کے ساتھ آپ بھی انتظامیہ کی نظر پر چڑھ گئے چنا نچہ آپ کا اخراج ہو گیا، مولانا سید فخر الدین صاحب ؒ کے مشورہ سے جامعہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ میں دورہ حدیث میں داخلہ لیا اور 1970مطابق 1399ھ میں یہیں سے فراغت پائی تعلیمی اسناد کے اعتبار سے آپ الٰہ آباد بورڈ سے عالم فاضل اور جامعہ اردو علی گڈھ سے ادیب کامل بھی تھے۔
 تدریسی زندی کا آغاز جامعہ اسلامیہ ریوڑی تالاب بنارس سے کیا، کم وبیش نو سال بنارس کے مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ 1984ء مطابق1404ھ میں انہوں نے دار العلوم حسینیہ کے نام سے پلاموں میں ایک مدرسہ قائم کیا، اسے پروان چڑھانے کے لیے کوشاں رہے، مگر مناظرہ ، خطابت اور مختلف قسم کے اسفار کی وجہ سے وہ اپنی پوری توجہ ادھر مرکوز نہیں کرسکے، اس لیے ادارہ کی اپنی کوئی شناخت نہیں بن سکی۔
 تقریر اور مناظرہ کی بے پناہ صلاحیت کے ساتھ اللہ رب العزت نے انہیں تصنیفی ملکہ اور تالیفی شعور سے وافر حصہ عطا کیا تھا، ان کی بیش تر کتابیں مناظرانہ انداز کی ہیں، ان میں عصمت انبیاء اور مودودی، اعجاز قرآنی، رضاخانیت کے علامتی مسائل، العدد الصحیح فی رکعات التراویح، نماز وں کے بعد کی دعا، شہید کربلااور یزید ، مقتدی پر فاتحہ واجب نہیں، انگشت بوسی سے بائبل بوسی تک ، ترک تقلید ایک بدعت ہے، بریلویت کا شیش محل، مسئلہ قدرت، حدیث ثقلین، خطبات مناظر اسلام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
 مناظرہ ان کا خاص موضوع تھا، کئی جگہ انہوں نے اپنے دلائل سے فتح کے جھنڈے گاڑے، کئی مناظروں میں ان کی شرکت مولانا ارشاد احمد صاحب مبلغ دار العلوم دیو بند کے ساتھ ہوئی، جھریا ، کٹک اور کٹیہار کے مناظرے ان کے یادگار مناظرے ہیں، جھریا کے مناظرے کی روداد اور تفصیلات مطبوعہ شکل میں موجود ہے۔
 مولانا کی خطیبانہ اور قائدانہ صلاحیتیں دار العلوم دیو بند کی طالب علمی کے دوران ابھر کر طلبہ کے سامنے آئیں، مولانا نور عالم خلیل امینی ؒ نے تفصیل سے ان کی اس صلاحیت کا تذکرہ اپنی کتاب ’’رفتگاں نا رفتہ‘‘ میں کیا ہے، یہاں ایک اقتباس کا نقل کرنا فائدے سے خالی نہیں ، لکھتے ہیں۔
 "وہ از خود یا کسی تجربہ کار کے مشورے سے اسٹرائک کے لائق وفائق اور مطلوبہ صلاحیت کے قائد بن کر ابھرے اور طلبہ کے انبوہ پر جس طرح چھا گئے، راقم نے اس کی مثال اپنی طالب علمانہ اور مدرسانہ دونوں زندگیوں میں تادم تحریر نہیں دیکھی۔ان کی زبان قینچی کی طرح چلتی، وہ سیلِ رواں کی طرح بہتی، کسی توقف یا انقطاع سے ان کا سلسلہ کلام جتنا نا آشنا تھا، اس کو میں صحیح تعبیر دینے سے بالکل قاصر ہوں۔ اس سے بڑھ کر یہ بات تھی کہ وہ طلبہ پرایسی حکومت کرنے لگے تھے، جیسی کوئی غیر معمولی رعب داب کا مالک مطلق العنان خودسر ڈکٹیٹر کرتا ہے، جس کے پاس اپنی بات من وعن منوانے کے لیے فوجی طاقت، اقتدار کی قوت، ملک کے سارے وسائل، انتظامی اداروں کی آہنی گرفت اور حدود و قیود نا آشنا اپنے عزم و ارادے کی زبردست کمک ہوتی ہے، وہ جب چاہے عوام کے سروں کی پکی ہوئی فصل کو یک لخت کاٹ ڈالنے کے لیے مکمل انتظام کے ساتھ تیار رہتا ہے۔ وہ طلبہ سے کہتے بیٹھ جاؤ،تو اسی سکنڈ میں سب بیٹھ جاتے، کہتے کھڑے ہو جاؤ، تو سبھی آن کی آن میں کھڑے ہو جاتے،سر جھکالو،تو سبھی اس لمحے سرنگوں ہو جاتے، صرف دائیں طرف دیکھو، تو کسی کی مجال نہ ہوتی کہ نفاذ حکم کے پورے دورانیے میں بائیں طرف دیکھ لے، سبھی طلبہ تین منٹ میں فلاں جگہ جمع ہو جائیں، تو دو ہی منٹ میں سب اس جگہ آ موجود ہوتے۔ ان کی ساری اداؤں میں نظم و ضبط ہوتا، ڈسپلن ہوتا، قائدانہ انداز ہوتا، خطیبانہ شان ہوتی، مربیانہ وقار ہوتا، استادانہ مہارت ہوتی،منتظمانہ دوررسی وحکمت عملی ہوتی اور وہ سب کچھ ہوتا، جس کی وجہ سے کوئی واجب التعظیم ومحترم المقام اور باعثِ فرماں برداری ہوتا ہے‘‘۔(ص:127-128)
اقتباس ذرا طویل ہو گیا، لیکن مولانا کی قائدانہ وخطیبانہ صلاحیتوں کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری تھا ، مولانا کی اسی خطیبانہ صلاحیت نے ملک اور بیرون ملک کے لوگوں کو ان کا گرویدہ بنا رکھا تھا، دلائل کی قوت اور طلاقت لسانی سے وہ مجمع پر چھا جاتے تھے اور دو تین گھنٹے تک مجمع انہیں پورے انہماک کے ساتھ سنتا رہتا تھا، مولانا کی مقبولیت ومحبوبیت میں جس قدر اضافہ ہوتا گیا ، مولانا کے وقت کی قیمت بھی بڑھتی چلی گئی،آخر میں تاریخ نوٹ ہونے کے لیے پیشگی" نوٹ "کی ادائیگی ضروری ہوا کرتی تھی، جلسہ والے ادائیگی کے بعد مطمئن ہوجاتے تھے، مولانا کس طرح جلسہ گاہ پہونچیں گے، یہ ان کا اپنا درد سر ہوتا تھا، بہت ہوا تو اسٹیشن یا بس اسٹینڈ سے جلسہ والے اپنی گاڑی میں لے جاتے تھے، اس موقع سے بھی مولانا اپنی غیرت اور خود داری سے سمجھوتہ نہیں کرتے تھے، گاڑی لینے نہیں پہونچی تو بلا توقف واپس ہوجاتے، مزاج کے خلاف بات ہو گئی تو اسٹیج پر خطبہ پڑھ کر واپس ہوتے بھی میں نے ان کو دیکھا تھا، ایسے موقع سے ہم چھوٹوں کی جان پر بن آتی، مولانا کے نام پر آئے مجمع کو سنبھالنا آسان کام نہیں ہوتا، مولانا کی سادہ زندگی اور بود وباش میں جو رعب تھا، وہ کم لوگوں کے حصہ میں آتا ہے۔
مولانا حق کے ترجمان تھے، اس لیے باطل قوتیں ان کے پیچھے پڑی رہا کرتی تھیں، ایک بار بھدرک اور کئی بار دوسری جگہوں پر مولانا پر قاتلانہ حملے ہوئے، لیکن اللہ نے حفاظت فرمائی، کئی بار ان کی شہادت کی افواہ اڑی، لیکن مولانا اپنا کام کرتے رہے، اور جب اللہ نے وقت مقرر کر رکھا تھا اس وقت دنیا سے تشریف لے گیے۔
 مولانا سے میری ملاقات امارت شرعیہ آنے سے قبل کی تھی، بہت ساری جگہوں پر اصلاح معاشرہ کے جلسوں کو ہم لوگوں نے ساتھ ساتھ خطاب کیا، ایک بار ہم دونوں دار العلوم دیو بند ساتھ ساتھ پہونچ گیے، مولانا دار العلوم کے مخرج تھے اور میں جمعیۃ الطلبہ کا سابق جنرل سکریٹری ، مولوی اظہار الحق مرحوم ان دنوں انجمن تقویۃ الایمان سے جڑے ہوے تھے،انہوں نے "نودرہ" میں ہم لوگوں کا استقبالیہ انتظامیہ کی بلا اجازت کے رکھ دیا، طلبہ اپنے ہم وطنوں کو استقبالیہ دیا بھی کرتے تھے، لیکن یہ بات طویل ہو گئی اور مولوی اظہار الحق کے اخراج کے لیے جو فرد جرم بنایا گیا، اس میں یہ بھی ایک سبب بن گیا، بعد میں مولانا دار العلوم کے اکابر کے نور نظر بن گئے ، کیوں کہ" ترجمان دیو بند" پورے ہندوستان میں ان کے طرز کا دوسرا کوئی نہیں تھا، جمعیت علماء سے بھی ان کی قربت بڑھی اور ان کی شرکت وہاں بھی ہونے لگی۔
 مولانا کی علالت کے زمانہ میں ایک بار ہوسپیٹل میں ان سے ملا اور دوسری بار ان کے گھر آرہ میں ملاقات کی سعادت ملی، یہ موقع تھا مولانا قاری علی انور کے مدرسہ کے جلسہ کا ، وقت فارغ ہوا تو میں ان کی عیادت کے لیے جا پہونچا، مولانا کی صحت وعافیت کے لیے اللہ سے دعا کرکے لوٹا، کئی سال ہو گیے، ادھر زمانہ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، انتقال کی خبر آئی تو میں سفر پر تھا، جنازہ اور تعزیتی مجلس میں حاضری سے بھی محروم رہا، دعا تو کہیں سے بھی کی جا سکتی ہے، سو دعاء مغفرت اور ایصال ثواب کا سلسلہ جاری ہے، اللہ مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین وصلی اللہ علی النبی الکریم وعلی اٰلہ وصحبہ اجمعین۔

گلزار احمد اعظمی یاد بن گئے

اج اتوار کی صبح جب فون کی گھنٹی بجی ، مجھے گلزار احمد اعظمی یاد آ گئے ۔ عام طور پر اتوار کو ان کے فون آتے تھے ، اور وہ اخبار میں شائع میرے کالموں پر تبصرہ کرتے تھے ۔ لیکن آج کا فون ان کے بیٹے انور اعظمی کا تھا ۔ انور نے گلوگیر لہجے میں اطلاع دی کہ ابا نہیں رہے ۔ یہ اطلاع کوئی اچانک نہیں تھی ، جب سے گلزار احمد اعظمی بے ہوشی کی حالت میں مسینا اسپتال میں بھرتی ہوئے تھے ، اور ان کی حالت بجائے بہتر ہونے کے بگڑتی جا رہی تھی ، یہ دھڑکا لگا تھا کہ اس بار شاید موت جیت جائے گی ۔ لیکن اس دھڑکے کے باوجود یہ خبر مجھے حیران کر گئی ! ایسا کیسے ہو سکتا ہے ! لیکن ہوا ایسا ہی تھا ۔ بھرتی ہونے کے چند دنوں بعد ہی انہوں نے اس فانی دنیا سے رشتہ توڑ لیا ، اناللہ واناالیہ راجعون ۔ گلزار احمد اعظمی سے میرا تعلق چار دہائیوں پر محیط ہے ۔ یہ چار دہائیاں یادوں سے بھری ہوئی ہیں ۔ میں نے انہیں جمعیتہ علماء مہاراشٹر کے ایک عام رکن کی حیثیت سے بھی کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مختلف امور کے ذمہ دار کی حیثیت سے بھی ان کے کام میری نظر میں ہیں ۔ مرحوم کا سب سے بڑا کارنامہ جمعیتہ علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی کو ایک شکل دینا ، اور اس کمیٹی کے سکریٹری کے طور پر دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کیے گئے مسلم نوجوانوں کی قانونی امداد کرنا ہے ۔ اس کمیٹی کے قیام کی کوشش میں مرحوم نے رات دن ایک کر دیے تھے ۔ کوئی کیس ، چاہے وہ سنگین سے سنگین کیوں نہ ہوتا ، مرحوم لینے سے ، لڑنے سے اور متاثرین کی ہمت بندھانے سے اور کامیابی کے لیے اپنے وکلاء کی ٹیم کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے سے پیچھے نہیں رہتے تھے ۔ مجھ سے کئی بار مرحوم نے کہا تھا کہ ان میں جب تک دم ہے وہ کسی بے قصور کو پھانسی چڑھنے نہیں دیں گے ۔ اور ایسا انہوں نے کر کے دکھایا ۔ ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک ہر اس ملزم کا ، جسے مجرم مان کر پھانسی اور عمر قید کی سزا سنائی گئی ہوتی ، مقدمہ لڑتے ۔ اب ان مقدمات کا کیا ہوگا ، پتہ نہیں ، لیکن یہ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جو بھی گلزار احمد اعظمی کی جگہ لے گا ، وہ مقدمات تو لڑے گا ، مگر مرحوم سا خلوص اور جذبہ نہیں لا سکے گا ۔ اب وہ نسل عنقا ہو رہی ہے جو مخلص تھی اور جذبہ رکھتی تھی ۔ نوے سال کی عمر میں گلزار احمد اعظمی اس نسل کی شاید آخری کڑی تھے ۔ میرا مرحوم سے ذاتی تعلق تھا ، اس تعلق کی وجہ ان کا خلوص ہی تھا ۔ میں مرحوم کے تعلق سے اپنی یادوں پر کچھ سطریں پھر کبھی لکھوں گا ، کہ اب ان کی یادیں ہی رہ گئی ہیں ، وہ اب ایک یاد بن گئے ہیں ۔ الله مرحوم کی مغفرت فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے اہل خانہ اور ان بے شمار متاثرین کو ، جن کی قانونی امداد وہ کر رہے تھے صبر جمیل عطا کرے ، آمین۔

آہ! جمعیت علماء ہند کے دیرینہ خادم الحاج گلزار احمد اعظمی کا انتقال

ہندوستان کی معروف تنظیم جمعیت علماء ہند مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری گلزار احمد اعظمی صاحب کا آج صبح ممبئی کے مسینا ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ گلزار احمد اعظمی صاحب گذشتہ ماہ سے اسی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

 جو 1956/سے جمعیت علماء ہند سے وابستہ تھے۔ گلزار احمد اعظمی صاحب نے بے لوث خدمات انجام دی ہیں۔ ان کا حالیہ کارنامہ پچاسوں بے قصوروں کی رہائی، اور دس سے زائد مظلومین کو سزائے موت سے بچانا ہے، 67/سال کی مدت میں نہ جانے اور کتنے کارہائے نمایاں انجام دےکر اپنے پروردگار کی جوار رحمت میں، مختصر علالت کے بعد آج 2 صفر المظفر 1445بروز اتوار صبح ساڑھے دس بجے حرکت قلب بند ہونے کے باعث پہنچ گئے۔ 

واضح رہے کہ تدفین کا وقت ابھی طئے نہیں کیا گیا ہے۔ آپ تمام مومنین ومومنات سے مرحوم کے ایصال ثواب کی گزارش ہے۔ خداوند کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے ان کے درجات کو بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عنایت فرمائے۔

Saturday, 19 August 2023

آہ....... مولانا گلزار احمد اعظمی بھی داغ مفارقت دے گئے

*مالیگاؤں (احرار نیوز نیٹ ورک) 20،اگست* مہاراشٹر کے مسلمانوں اور خصوصاً جمیعتہ العلماء ہند کے حلقوں میں یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ دی جاتی ہے کہ ہندوستان کی مشہور ومعروف شخصیت سابق خادم قوم وملت جناب گلزار اعظمی صاحب(سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء ہند) اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف رحلت فرماگئے۔ إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون
آپ گذشتہ چند روز سے سخت علیل تھے، ممبئی میں بائکلہ کے مسینا ہاسپٹل میں زیرعلاج تھے، علالت اور نقاہت حد درجے کو پہنچی ہوئی تھی، گذشتہ شب کے آخری ساعتوں میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث آپ کا وصال ہوگیا۔ 
ان للہ وانا الیہ راجعون 
 گلزار اعظمی صاحب نہ صرف قوم وملت کی خدمت میں ہمہ تن مصروف شخصیت تھی بلکہ بہت سارے رفاہی کام آپ ہی کے مرہون منت انجام پائے‌۔ آپ نے عرصۂ دراز تک جمعیت کے پلیٹ فارم سے قوم کی خدمت کی جمعیت کے لیگل سیل کے سربراہ کے طور پر اپنی فہ
* وفراست سے سیکڑوں مقدمات کو فیصل کر تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا، چنانچہ مسلم نوجوانوں کے تئیں آپ کے احساسات کے پیش نظر جمعیت کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہی بھی آپ ہی کے ذمہ دی گئی جسے آپ نے بخوبی انجام دیا، آج مشیتِ خداوندی کے تحت آپ نے ہم سب کو الوداع کہہ کر لقاءِ خداوندی کا شرف حاصل کیا اور ہزاروں لوگوں کی آنکھوں کو نمناک کردیا لیکن!
'رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی 
' تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
     اس غمناک موقعہ پر ادارہ احرار نیوز نیٹ ورک اور اہلیان شہر مالیگاؤں اپنے گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللّہ رب العزت جناب گلزار اعظمی صاحب کی کامل مغفرت فرمائے، خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے، سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ہم سب کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

دہلی کے جھنڈے والان میں مندر اور مزار کا حصہ کیا گیا

نئی دہلی: محکمہ تعمیرات عامہ نے اتوار کی صبح انسداد تجاوزات مہم کے ایک حصے کے طور پر جھنڈےوالان کے علاقے میں رانی جھانسی روڈ پر ایک مندر اور ایک مزار (جسے ماموں بھانجے کا مزار کہا جاتا ہے) کی سامنے کی دیوار کو منہدم کر دیا۔ انہدامی کارروائی کے وقت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کی تعیناتی کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سڑک کو چوڑا کرنے کے مجوزہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کے لیے تھی۔ ولیس نے بتایا کہ علاقے میں کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی اور آپریشن پرامن رہا۔ ذرائع نے بتایا کہ مندر کو قریبی علاقے میں منتقل کیا جائے گا۔

چندریان-3: لینڈر وکرم نئے مدار میں داخل

نئی دہلی: چندریان-3 کا دوسرا اور آخری ڈی بوسٹنگ آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سائنسدانوں نے بدھ کے روز خلائی جہاز کو چاند کی سطح پر اتارنے سے پہلے اہم مرحلے کی قریب سے نگرانی کی۔ لینڈر وکرم ایک ایسے مدار میں داخل ہو گیا ہے جہاں سے چاند کا قریب ترین نقطہ 25 کلومیٹر اور سب سے دور والا نقطہ 134 کلومیٹر ہے۔ اسرو نے کہا ہے کہ اس مدار سے وہ بدھ کو چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں سافٹ لینڈنگ کی کوشش کرے گا۔
اسرو نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا ’’دوسرے اور آخری ڈی بوسٹنگ آپریشن نے لینڈر ماڈیول کے مدار کو کامیابی کے ساتھ 25 کلومیٹر - 134 کلومیٹر تک کم کر دیا ہے۔ ماڈیول اندرونی جانچ سے گزرے گا اور طلوع آفتاب کے وقت نامزد لینڈنگ سائٹ پر رکھا جائے گا۔‘‘ اسرو نے بتایا کہ یہاں سے 23 اگست کو شام 5.45 بجے لینڈنگ کی کوشش کی جائے گی۔
جمعہ کو پہلے ڈی بوسٹنگ آپریشن کے دوران اسرو کے سابق سربراہ کے سیون نے این ڈی ٹی وی کو بتایا تھا کہ چندریان-3 لینڈر کا ڈیزائن وہی ہے جو پچھلے چندریان-2 مشن میں استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، "ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ چندریان-2 کے مشاہدے کی بنیاد پر مشن میں کی گئی تمام غلطیوں کو درست کر لیا گیا ہے۔‘‘

منی پور اسمبلی کا اجلاس پیر سے ہوگا شروع

نئی دہلی: اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے بڑے مطالبات کی وجہ سے بیرن سنگھ کی قیادت والی منی پور حکومت نے پیر (21 اگست) سے اسمبلی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن 10 کوکی زو ارکان اسمبلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

دریں اثنا، بی جے پی کے رکن اسمبلی پاولین لال ہاکیپ نے کہا کہ زعفرانی پارٹی کے سات ایم ایل اے اور تین دیگر بھی کوکی زو کمیونٹی کے خلاف ’سرکار کے زیر اہتمام‘ قتل عام میں ’مجرمانہ حملوں‘ کے خلاف احتجاج میں اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وادی امپھال نہ صرف کوکی-زو برادری کے لیے بلکہ دیگر تمام نسلی میزو لوگوں کے لیے بھی موت کی وادی میں تبدیل ہو گئی ہے۔
جن قانون سازوں نے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے وہ ہاؤ ہولیٹ کیپگن (آزاد)، کمنیو ہوکیپ ہینگشنگ (کے پی اے)، چن لونگتھانگ (کے پی اے)، اور ایل ایم کھوٹے، نیمچا کیپگن، نگرسنگلور سناٹے، لیٹپاو ہاکیپ، لیٹزمنگ ہوکیپ، پاولن لال ہوکیپ اور ونگجاگین والٹے سبھی بی جے پی کے ایم ایل اے ہیں۔ لیٹپاو ہاکیپ اور نیمچا کپگن بیرن سنگھ حکومت میں وزیر ہیں۔
کوکی زو قانون سازوں کی طرف سے کارروائی کے بائیکاٹ سے کیس نرم ہو جائے گا، حالانکہ اب تمام نظریں ناگا قانون سازوں پر ہوں گی۔ خیال رہے کہ تشدد زدہ منی پور کے چالیس ایم ایل ایز، بشمول آٹھ ناگا ممبران اسمبلی، نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے، جس میں کوکی باغی گروپوں کے ساتھ آپریشنز کی معطلی (ایس او او) معاہدے کو واپس لینے اور ریاست میں این آر سی کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوکی گروپوں کی جانب سے 'علیحدہ انتظامیہ' کا مطالبہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...